مشکل میں ممتا! ترنمول کا باغی گروپ خفیہ میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کے گھر پہنچا، سویندو ادھیکاری بھی موجود
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول سپریمو ممتا بنرجی کے لیے پھر ایک بری خبر سامنے آئی ہے۔ جب ممتا بنرجی انڈیا بلاک کی میٹنگ میں شریک تھیں، اسی وقت ان کے اراکین پارلیمنٹ کا ایک گروپ خفیہ میٹنگ کرنے کے بعد مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کے گھر پہنچ چکا تھا۔ اس میٹنگ میں راجیہ سبھا سے استعفیٰ دینے والے سکھیندو شیکھر رائے بھی موجود تھے۔ بھوپیندر یادو کے گھر ہوئی یہ میٹنگ بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی موجودگی میں ہوئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترنمول کانگریس کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ نے دہلی میں خفیہ میٹنگ کی۔ ان میں پرسون بنرجی، شتابدی رائے اور جگدیش بسونیا سمیت کئی لیڈران شامل ہیں۔ ترنمول اراکین پارلیمنٹ کا منصوبہ ہے کہ وہ یا تو اسپیکر کے دہلی لوٹنے پر اجتماعی طور پر اپنا استعفیٰ نامہ سونپیں گے، یا 20 اراکین پارلیمنٹ کے دستخط کے ساتھ اسپیکر سے ملاقات کریں گے۔ اب دیکھنا ہے کہ بھوپیندر یادو کے گھر پر میٹنگ کے بعد آگے کی حکمت عملی کیا ہوتی ہے۔
اس میٹنگ میں راجیہ سبھا سے استعفیٰ دینے والے سکھیندو شیکھر رائے بھی موجود ہیں۔ استعفیٰ کے بعد انھوں نے ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اقتدار کا نشہ ترنمول کے سر پر اس قدر چڑھ گیا تھا کہ انھیں لگتا تھا دنیا میں کوئی انھیں چھو بھی نہیں سکتا۔ رائے نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 15 سالوں میں اقتدار میں رہے وزراء، پنچایت لیڈران، کونسلرز، میئرز وغیرہ پہنچ سے باہر ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ بنگال کی تاریخ میں پہلی بار مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آئی، ووٹنگ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ پارٹی نے اس سلسلے میں کوئی تجزیہ نہیں کیا۔ ہمارے پارٹی کارکنان، جنھوں نے اپنے خون پسینے سے تنظیم کو مضبوط کیا، بایاں محاذ کے خلاف جنگ لڑی، انھیں درکنار کر دیا گیا اور بچولیے، چور، ڈاکو اور زانی سامنے آ گئے، کروڑوں کی لوٹ کی گئی۔
کیلیفورنیا میں انتخابی دھاندلی کا دعویٰ، صحافی نے ثبوت مانگے تو درمیان میں ہی انٹرویو چھوڑ بھاگے ٹرمپ!
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک بار پھر میڈیا کے ساتھ تلخ بحث کے لئے سرخیوں میں ہیں۔ اس بار انھوں نے ’این بی سی نیوز‘ کی صحافی کے ساتھ انٹرویو کے دوران نہ صرف تلخ بحث کی بلکہ انٹرویو بیچ میں ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ ٹرمپ نے صحافی اور میڈیا اداروں پر جانبدار اور بے ایمان ہونے کا الزام لگایا۔ اتوار کو نشر ہوئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کیلیفورنیا کے گورنر انتخابات کا معاملہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انتخابی نتائج آنے میں اس لئے تاخیر ہورہی ہے کیونکہ الیکشن میں دھاندلی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کے 4 دن بعد بھی نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا جو کہ ان کے مطابق انتخابی گڑبڑی کا اشارہ ہے۔
ٹرمپ نے 2020 میں امریکی صدارتی انتخابات کو لے کر اپنے پرانے الزامات بھی دہرائے۔ انہوں نے کہا کہ 2020 کا الیکشن دھاندلی سے بھرا تھا اور اب کیلیفورنیا میں بھی ویسا ہی ہو رہا ہے۔ جب صحافی کرسٹن ویلکر نے ان سے ان الزامات کی حمایت میں ثبوت مانگے تو ٹرمپ نے کہا کہ ’’مجھے صرف دیکھنا ہے، وہی کافی ہے‘‘۔ وہیں صحافی نے جب انہیں یاد دلایا کہ عدالتوں اور انتخابی افسران نے ایسے الزامات کی تصدیق نہیں کی ہے، تو ٹرمپ بھڑک گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سبھی بدعنوان ہیں، ٹھیک آپ کی طرح، آپ کا پریس بدعنوان ہے اور ’میٹ دی پریس‘ بھی بدعنوان ہے۔
اس دوران صحافی نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ بدعنوان نہیں ہیں، لیکن ٹرمپ نے کہا کہ ’’یا تو آپ بدعنوان ہیں یا پھر احمق ہیں۔‘‘ آپ جانتی ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہو رہی ہے اور آپ کا نیٹ ورک بھی جانتا ہے۔ بحث بڑھنے کے ساتھ ہی ٹرمپ نے این بی سی کے علاوہ اے بی سی، سی بی ایس اور سی این این جیسے مشہور امریکی میڈیا اداروں کو بھی ’یک طرفہ‘ اور ’بدعنوان‘ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ انتخابی انتظامات کے معاملے میں ’تیسری دنیا کا ملک‘ جیسا بن گیا ہے۔ کچھ دیر بعد ٹرمپ نے واضح طور سے کیا کہ اب وہ انٹرویو جاری رکھنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ’بس، اب بہت ہو گیا۔ یہیں ختم کرتے ہیں۔ شکریہ۔‘ اس کے بعد وہ انٹرویو چھوڑ کر چلے گئے۔
حالانکہ ویلکر نے انہیں روکنے اور بات چیت جاری رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس انٹرویو کے لئے خاص طور سے وسکونسن تک آئی ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ انہوں نے بارش میں ایک گھنٹے تک انٹرویو دیا ہے اور اب کافی وقت دے چکے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو سُدھرنے کی بھی صلاح دی۔ انٹرویو کے دوران 6 جنوری 2021 کو امریکی پارلیمنٹ ہاؤس (کیپیٹل) پر ہوئے حملے کا بھی معاملہ اٹھا۔ ویلکر نے پوچھا کہ کیا پولیس افسران پر حملہ کرنے کے الزام میں جرم قبول کرنے والے لوگوں کو ٹرمپ کے مجوزہ ’ اینٹی ویپنائزیشن فنڈ‘ سے فائدہ مل سکتا ہے۔ اس سوال پر بھی ٹرمپ گھبرائے نظر آئے اور انہوں نے سیدھا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ کئی لوگوں نے طویل جیل کی سزا کے ڈر سے جرم قبول کیا تھا۔
اس کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ کیا کسی نے کیلیفورنیا میں جاری اس دھاندلی والے الیکشن پر نظر رکھی ہے؟ 2 بڑْے ریپبلیکن امیدوارں کے ساتھ دھوکہ ہورہا ہے اور امریکہ کے ساتھ بھی۔ اگر ڈیمو کریٹس اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے تو بہت بڑی مصیبت اور افرا تفری مچ جائے گی۔ اس ’الیکشن‘ پر باریکی سے نظر رکھیں۔
انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں مودی حکومت پر شدید تنقید، کھڑگے نے معیشت اور خارجہ پالیسی پر اٹھائے سنگین سوالات
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
انڈیا اتحاد کی ایک انتہائی اہم میٹنگ آج دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں کانگریس سمیت تقریباً 2 درجن پارٹیوں کے نمائندے موجود رہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اپنے افتتاحی خطاب میں مرکزی حکومت کو مختلف محاذوں پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک اس وقت سیاسی، اقتصادی، سماجی اور خارجہ پالیسی کے متعدد چیلنجوں سے دوچار ہے، جن کا سبب مودی حکومت کی پالیسیوں اور طرز حکمرانی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔
میٹنگ کے آغاز میں انڈیا بلاک کے تمام لیڈران کا خیرمقدم کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ انڈیا بلاک تقریباً 3 سال قبل وجود میں آیا تھا اور اس نے اپوزیشن پارٹیوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ موجودہ حالات میں اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ کانگریس صدر نے 17 اپریل 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعہ مودی حکومت کے حد بندی (ڈی لمیٹیشن) سے متعلق متنازعہ بلوں کو شکست دی تھی۔ ان کے مطابق یہ اپوزیشن کی اجتماعی طاقت اور جمہوری عزم کا مظہر تھا، جسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
کھڑگے نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے نتیجے میں ملک کے کروڑوں شہریوں کے حق رائے دہی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کو ووٹنگ کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال جمہوری اقدار کے لیے تشویش ناک ہے۔ آئین پر مسلسل حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ملک کے آئینی اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے اور جمہوری روایات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی ایجنسیوں کا استعمال سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور دباؤ میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جس سے جمہوری نظام کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
کانگریس صدر نے یہ بھی کہا کہ غیر بی جے پی ریاستی حکومتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور وفاقی ڈھانچے کی روح کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ریاستوں کے حقوق اور اختیارات کا احترام جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث عام آدمی شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کا مجموعی اقتصادی ماحول منفی سمت میں جا رہا ہے اور سرمایہ کاری کی رفتار مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ پا رہی، جس کی وجہ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں نجی اجارہ داریوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ملک کے چھوٹے، درمیانے اور خرد درجے کے کاروبار (ایم ایس ایم ای) سنگین بحران سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق یہ شعبہ ملک کی معیشت اور روزگار کا ایک اہم ستون ہے، لیکن حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اس کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
نوجوانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے امتحانات کے نظام میں بے ضابطگی پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل اور ان کی امیدوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور بار بار امتحانات میں بے ضابطگیوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے سماج کے کمزور طبقات پر ہونے والے مظالم کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ خاص طور پر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں محروم اور کمزور طبقات کو مختلف مسائل اور ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خارجہ پالیسی کے موضوع پر کانگریس صدر نے کہا کہ ہندوستان کی روایتی سفارتی پالیسی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے تاریخی مؤقف کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ملک نے طویل عرصے تک جن اصولوں اور اقدار کی حمایت کی، موجودہ حکومت انہیں برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ پر بھی پڑ رہے ہیں۔
جئے پور: نورانی مسجد پر چلا بلڈوزر، 4 دیگر مذہبی مقامات بھی زد میں، 22 جے سی بی مشینیں انہدامی کارروائی میں مصروف
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
راجستھانی کی راجدھانی جئے پور میں 4 منزلہ نورانی مسجد کو آج سرکاری بلڈوزروں کے ذریعہ زمین دوز کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔ بلڈوزر ایکشن صبح تقریباً 7 بجے شروع ہوا۔ اس دوران پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ مسجد کے ساتھ ہی 4 دیگر مذہبی مقامات پر بھی بلڈوزر چلایا جانا ہے۔ حالات کو بے قابو ہونے سے بچانے کے لیے جئے پور میں نصف شب سے ہی انٹرنیٹ خدمات کو 24 گھنٹوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذہبی مقامات پر انہدامی کارروائی شروع کرنے سے قبل جئے پور سمیت کئی اضلاع سے فوج منگوائی گئی ہے۔ معاملہ کرشنا مارگ کو چوڑا کرنے سے جڑا ہوا ہے، جہاں 5 مذہبی مقامات سڑک پر ہی موجود ہیں۔ اس انہدامی کارروائی کے لیے اتوار کو ہی سخت سیکورٹی انتظامات شروع کر دیے گئے تھے۔ انتظامیہ نے پورے علاقہ کو سیل کر دیا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے کثیر تعداد میں فورس کی تعیناتی کی گئی۔
آج صبح جب نورانی مسجد پر بلڈوزر چلایا گیا تو وہاں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کی انٹری پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ میڈیا اہلکاروں کو نورانی مسجد سے ایک کلومیٹر دور ہی روک دیا گیا۔ جن مقامات پر انہدامی کارروائی ہو رہی ہے، وہاں موجود مکانوں کی چھتوں پر بھی پولیس جوان تعینات کیے گئے ہیں تاکہ پورے علاقہ کی نگرانی کی جا سکے۔ انہدامی کارروائی تقریباً 22 جے سی بی مشینوں کے ذریعہ کیا جا رہا ہے۔ موقع پر موجود افسران کا کہنا ہے کہ جب تک پورے علاقہ سے تجاوزات کو ہٹا نہیں دیا جاتا، تب تک انہدامی کارروائی جاری رہے گی۔
قابل ذکر ہے کہ جئے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس سے قبل 22 مئی کو اسی سڑک پر مہم چلا کر 134 تجاوزات ہٹائے تھے۔ اس کے عبد سڑک کی سرحد میں آ رہے مذہبی مقامات کے انتظامیہ اور متعلقہ فریقین کو خود تعمیرات ہٹانے کے لیے وقت دیا تھا۔ مقررہ وقت پورا ہونے کے بعد اب انتظامیہ نے خود کارروائی شروع کی۔ افسران کے مطابق کئی مقامات پر کرشنا مارگ کی چوڑائی محض 25 سے 30 فیٹ رہ گئی ہے، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں اس کی چوڑائی 80 فیٹ درج ہے۔ تقریباً 1.5 کلومیٹر طویل یہ راستہ نند پوری انڈرپاس کو جگت پورہ سے جوڑتا ہے اور آس پاس کی درجنوں کالونیوں کے لیے رابطہ کا اہم راستہ ہے۔
بہرحال، آج جب انہدامی کارروائی شروع ہوئی تو پورے شہر میں بی این ایس کی دفعہ 163 نافذ کر دی گئی۔ نورانی مسجد میں تو گزشتہ شب عشا کی نماز کے بعد ہی تالا بند کر دیا گیا تھا۔ آج صبح کارروائی کے دوران مسجد سے منسلک کوئی بھی شخص وہاں موجود نہیں تھا۔ مسجد کمیٹی کے ساتھ ہی کانگریس کے 2 اراکین اسمبلی نے بلڈوزر ایکشن پر سوال اٹھائے ہیں اور اسے غلط قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کارروائی منمانے طریقے سے کی جا رہی ہے۔
اسرائیل نے ٹرمپ کی اپیل کو کر دیا خارج، ایران کے کئی شہروں پر داغیں میزائلیں، تہران ایئرپورٹ بند
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ایران پر جوابی حملہ نہ کرنے کی اپیل کی تھی، لیکن نیتن یاہو نے اس اپیل کو خارج کر دیا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق اسرائیل نے کئی ایرانی علاقوں پر میزائلوں سے حملہ کیا ہے، جس کے سبب کشیدگی میں شدید اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ایرانی حملہ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ نیتن یاہو کو فون کر کے کہیں گے کہ ایران پر کسی بھی طرح کا نیا حملہ نہ کیا جائے۔ دراصل ایران نے اتوار کی شب اسرائیل کی طرف 11 میزائلیں داغی تھیں۔ یہ 8 اپریل کو جنگ بندی کے بعد سے ایران کا پہلا براہ راست حملہ تھا۔ اس حملہ کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ وہ فوراً نیتن یاہو کو فون کر بتائیں گے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے ضروری ہے حالات کو پُرامن کیا جائے اور کسی بھی طرح کی نئی جنگ شروع نہ ہو۔ حالانکہ ٹرمپ کی اپیل کے باوجود اسرائیل نے ایران کے کئی شہروں پر حملے کیے ہیں۔
سامنے آ رہی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے وسطی اور جنوبی ایران پر حملے کیے ہیں۔ تہران میں مہر آباد ایئرپورٹ پر بھی اسرائیل نے بیلسٹک میزائل داغی ہے۔ ساتھ ہی نجف آباد میں ڈرون پروڈکشن یونٹ پر حملہ کیا گیا۔ اس درمیان ایران نے تہران واقع امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر سبھی آنے والی پروازوں کو آئندہ اطلاع تک روک دیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔ یہ ایئرپورٹ حال ہی میں اپریل میں کچھ وقت کے لیے بند رہنے کے بعد دوبارہ کھولا گیا تھا۔
فلپائن میں ایک گھنٹے کے اندر 3 بار ڈولی زمین، ریکٹر اسکیل پر 7.7 شدت کا زلزلہ درج، 5 افراد ہلاک
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
فلپائن میں آج صبح 8 جون کو ایک طاقتور زلزلہ آیا۔ ایک گھنٹے میں تین بار زمین ہلی۔ ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.7 ریکارڈ کی گئی۔ اس زلزلے نے فلپائن کے جزیرے منڈاناؤ کو مارا، جس سے فلپائن اور انڈونیشیا کے کچھ حصوں کے لیے سونامی کا ایلرٹ جاری کر دیا گیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زلزلہ کی وجہ سے مختلف مقامات پر کم از کم 5 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اموات کی تعداد میں گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق فلپائن میں ایک گھنٹے کے اندر تین جھٹکے محسوس کیے گئے۔ پہلا زلزلہ صبح 5:07 پر آیا اور اس کی شدت 7.7 تھی۔ دوسرا جھٹکا صبح 5:18 پر آیا اور ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 6.4 تھی۔ تیسرا زلزلہ شام 6:25 پر آیا، جس کی شدت 6.6 تھی۔
الجزیرہ کے مطابق فلپائن کے قریب آنے والے شدید زلزلے کے بعد جاپان نے اپنے بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ محکمہ موسمیات کا اندازہ ہے کہ ایک میٹر تک اونچی لہریں جاپان کے کچھ علاقوں تک پہنچ سکتی ہیں۔
زلزلے کے بعد امریکی سونامی وارننگ سینٹر نے سونامی کی وارننگ جاری کرتے ہوئے سونامی کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق خطرناک لہریں ساحلی جزائر کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس کے بعد انڈونیشیا کی جیو فزیکل ایجنسی نے بھی ملک کے شمال مشرقی ساحلی علاقوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں سے ہوشیار رہنے اور ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
وارننگ میں کہا گیا ہے کہ طاقتور زلزلہ اہم نقصان پہنچا سکتا ہے اور آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں شدید آفٹر شاکس آ سکتے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو ہندوستان سمیت کئی ممالک میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ہندوستان، نیپال، چین اور بھوٹان میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.3 تھی۔ اس زلزلے کا مرکز بھوٹان تھا۔
0 تبصرے