’پیپر لیک‘ کے نام پر طلبا کو دھوکہ دینے والے ریکیٹ کا پردہ فاش، یوپی ایس ٹی ایف نے ایک ملزم کو کیا گرفتار
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ملک میں سرکاری ملازمتوں کی تیاری کرنے والے لاکھوں طلبا ہر سال مسابقتی امتحانات میں شریک ہوتے ہیں۔ اسی بات کا فائدہ اٹھا کر کچھ لوگ انہیں آسان راستہ دکھانے کا لالچ دے کر ٹھگنے کی فراق میں رہتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک معاملہ اتر پردیش میں سامنے آیا ہے، جہاں ٹیلی گرام کے ذریعے مبینہ طور پر’پیپر لیک‘ فراڈ کیا جا رہا تھا۔
نیوز پورٹل ’آج تک‘ کی خبر کے مطابق مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک کرانے کا دعویٰ کرکے طلبا سے پیسے اینٹھنے والے ایک فرضی ریکیٹ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس سلسلے میں یوپی ایس ٹی ایف نے لکھنؤ سے اوم کمار نامی ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ ٹیلی گرام پر’پیپر لیک‘ جیسے چینل بنا کر امتحان سے ایک دن پہلے سوال نامے اور جوابی کاپی دینے کا جھانسہ دیتا تھا۔ اس کے بدلے ہر امیدوار سے تقریباً 2,000 روپے وصول کیے جاتے تھے۔
یوپی ایس ٹی ایف کے مطابق ملزم اوم کمار کو لکھنؤ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ مستقل طور سے بہار کے پٹنہ کا رہنے والا بتایا گیا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ملزم اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں منعقد ہونے والے مقابلہ جاتی امتحانات کے نام پر فرضی دعویٰ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ اس کے پاس امتحان کا سوالیہ پرچہ پہلے سے موجود ہے۔
خبر کے مطابق ملزم نے ٹیلی گرام پر کئی چینل بنا رکھے تھے۔ اس میں ’پیپر لیک‘ جیسے نام استعمال کئے جاتے تھے تاکہ طلبا کو بھروسہ ہوجائے۔ یو پی سی این ای ٹی امتحان کے حوالے سے بھی کچھ چینل بنائے گئے تھے۔ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ امتحان کے ایک دن پہلے اصل سوال نامہ اور اس کے جواب دیئے جائیں گے۔ اس کام کے لیے ملزم طلبا سے 2 ہزار روپئے لیتا تھا۔ ٹیلی گرام چینل پر کیو آر کوڈ بھیجے جاتے تھے، جن ہر پیسے ٹرانسفر کرائے جاتے تھے۔
ایس ٹی ایف کا کہنا ہے کہ کم رقم ہونے کی وجہ سے کئی طلبا جلد ہی جھانسے میں آجاتے تھے اور شکایت بھی کم کرتے تھے۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ امتحان والے دن چینل بند کر دیے جاتے تھے۔ اس کے بعد دوسرے امتحان کے نام پر نیا چینل بنا لیا جاتا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ 2022 سے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ایسا کر رہا تھا۔
اس معاملے کی خبر لگتے ہی ایس ٹی ایف نے تحقیقات شروع کی۔ اٹل بہاری واجپئی میڈیکل یونیورسٹی، لکھنؤ کی طرف سے شکایت بھی درج کرائی گئی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے تکنیکی جانچ اور موبائل فون سے برآمد شواہد کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس فی الحال یہ پتا لگانے میں مصروف ہے کہ اس ریکیٹ میں اور کون کون لوگ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایسے دوسرے گروہوں کی بھی تلاش کی جارہی ہے جو سوشل میڈیا پر پیپر لیک ہونے کی افواہ پھیلا کر طلبا کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
سورت: جیولری فیکٹری کے ای ٹی پی ٹینک کی صفائی کے دوران زہریلی گیس کی زد میں آنے کے سبب 4 افراد کی موت
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
سورت میں جیولری صاف کرنے والی ایک فیکٹری میں زہریلی گیس کی زد میں آنے کے سبب 4 افراد کی موت ہو گئی۔ مرنے والوں میں 3 ورکرز اور ایک سپروائزر شامل تھے۔ حادثہ اس وقت ہوا جب وہ زیر زمین بنے ای ٹی پی ٹینک کی صفائی کر رہے تھے۔ سب کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ زون-1 کے ڈی سی پی آلوک کمار نے ’آئی اے این ایس‘ کو بتایا کہ سورت شہر میں جیولری صاف کرنے کی ایک فیکٹری ہے۔ صفائی کے عمل کے بعد نکلنے والا کچرا ایک ٹینک میں جمع کیا جاتا ہے۔ اس ٹینک کی باقاعدگی سے صفائی کی جاتی ہے۔
ڈی سی پی آلوک کمار کے مطابق اتوار کو بھی 3 مزدور اور کمپنی کا ایک سپروائزر ٹینک صاف کرنے گئے۔ صفائی کے دوران ایک مزدور ٹینک میں گر گیا اور بے ہوش ہو گیا۔ باقی 2 مزدور اس کو نکالنے گئے اور وہ بھی بے ہوش ہو گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سپروائزر کی جانب سے فائر بریگیڈ کو کال کی گئی تھی، لیکن جب تک فائر بریگیڈ کی ٹیم پہنچی تک سپروائزر بھی ٹینک میں گر چکا تھا۔ اس حادثے میں 4 لوگوں کی موت کی بات سامنے آئی ہے۔ سیفٹی ایکوپمنٹ کا استعمال کیا گیا ہے یا نہیں اس کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتہ چلا ہے کہ کوئی بھی سیفٹی ایکوپمنٹ نہیں پہنا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد مزید دفعات شامل کی جائیں گی۔
ڈویژنل فائر آفیسر رنجیت سنگھ کھاڈیا نے ’آئی اے این ایس‘ کو بتایا کہ ہمیں صبح 10:22 بجے کال کر کے اطلاع دی گئی کہ ایک شخص ٹینک میں گر گیا ہے۔ حالانکہ موقع پر پہنچنے پر ہمیں معلوم ہوا کہ یہ ایک انڈسٹریل یونٹ تھی۔ وہاں ایک شخص کے بجائے 4 لوگ اندر موجود تھے۔ یونٹ میں ایک ای ٹی پی (افلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ) ہے، جس کا استعمال را مٹیریل کے ویسٹ کو صاف کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
مودی حکومت کے خلاف حکمت عملی پر غور کے لیے انڈیا اتحاد کا اجلاس کل، 23 جماعتوں کی شرکت متوقع
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی: مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے انڈیا اتحاد کا ایک اہم اجلاس کل 8 جون کو نئی دہلی کے کانسٹیٹیوشن کلب میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، حکومت کی پالیسیوں اور اپوزیشن کے آئندہ لائحۂ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے بتایا ہے کہ انڈیا اتحاد کے اس اجلاس میں 23 سیاسی جماعتوں نے شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کے مطابق بعض جماعتیں مختلف وجوہات کی بنا پر اس مخصوص اجلاس میں شریک نہیں ہو سکیں گی، تاہم وہ مودی حکومت کی پالیسیوں اور طرزِ عمل کی مخالفت میں اتحاد کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ہیں۔
اجلاس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو، شیو سینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے رہنما سنجے راؤت اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کی جانب سے سپریا سولے سمیت کئی اہم اپوزیشن رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔
سیاسی مبصرین کی توجہ خاص طور پر ممتا بنرجی پر مرکوز ہے، کیونکہ اپوزیشن کی سیاست میں ان کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان کی شرکت اور اجلاس کے بعد سامنے آنے والے موقف کو اپوزیشن اتحاد کے مستقبل کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
جے رام رمیش نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث جمہوری اداروں اور آئینی اقدار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا استعمال اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کیا جا رہا ہے اور ایسے اقدامات جمہوری نظام کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات نے عام لوگوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گھریلو اخراجات میں اضافہ کیا ہے جبکہ نوجوانوں کو روزگار کے مناسب مواقع نہیں مل رہے۔ کانگریس رہنما نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت کی بعض معاشی اور خارجہ پالیسیاں قومی مفادات اور سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں اور مختلف سیاسی نظریات کی نمائندگی کرنے والی جماعتیں عوامی مسائل کے حل اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کل ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن جماعتیں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور پارلیمانی و عوامی سطح پر مشترکہ اقدامات کے بارے میں اہم فیصلے کر سکتی ہیں۔
’یوپی میں منمانی اور سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کا کھیل عروج پر‘، افسران کے طریقہ کار سے الٰہ آباد ہائی کورٹ سخت ناراض
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اترپردیش پولیس کے لیے آئین نہیں، سیاسی آقاؤں کی خوشی بڑی ہے۔ ان کا واحد مقصد منافع بخش تعیناتی کے لیے انہیں خوش کرنا ہے خواہ اس کے لیے انہیں کسی کی غیر قانونی گرفتاری کرنی پڑے یا فرضی انکاؤنٹر، وہ کرنے سے نہیں گھبراتے۔ انہیں یقین ہے کہ ان کے آقا بچا لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ افسروں کی منمانی اور سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کا کھیل عروج پر ہے۔
اس سخت تبصرہ کے ساتھ جسٹس ونود دیواکر کی سنگل بنچ نے غازی آباد کے نند گرام تھانے میں ایک ہی خاندان کے باپ، بیٹے اور بہو کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت زیر التواء مجرمانہ کارروائی خارج کردی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ عرضی گزار راجندر تیاگی، ان کے بیٹے دیپک تیاگی اور بہو للیتا تیاگی کے خلاف جن 2 ایف آئی آر کو بنیاد بنا کر گینگسٹر ایکٹ لگایا گیا تھا، وہ زمین کے لین دین اور مالی تنازعات سے متعلق تھیں۔ ان کی بنیاد پر صرف دھوکہ دہی یا جعلسازی کے الزامات عائد کیے جاسکتے ہیں۔
ان بنیادوں پر انہیں کسی منظم گروہ کا رکن نہیں مانا جا سکتا۔ اس کے باوجود پولیس کی اس کارروائی کی وجہ سے خاتون کو غیر قانونی طور سے 80 دن تک جیل میں رہنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ 35 سالہ گھریلو خاتون للیتا تیاگی کو ایف آئی آر درج ہونے کے اگلے ہی دن گرفتار کر لیا گیا جب کہ ان کے خلاف گرفتاری کو صحیح ٹھہرانے والی کوئی بنیاد ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔ لہذا، عدالت نے اس گرفتاری کو بادی النظر میں غیر قانونی، من مانی اور خلاف قانون بتایا۔
عدالت نے غازی آباد کے اس وقت کے پولیس کمشنر اور فی الوقت پریاگ راج زون کے آئی جی اجے کمار مشرا کے کردار پر بھی تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ انہوں نے اپنے ماتحت افسران پر مناسب نظر نہیں رکھی اور گینگسٹر ایکٹ کی کارروائی کو منظوری دینے میں ضروری احتیاط نہیں برتی۔ اس لاپرواہ کارروائی کی وجہ سے ایک خاتون کو تقریباً 80 دنوں تک عدالتی حراست میں رہنا پڑا۔ پولیس کی اس کارروائی سے برہم عدالت نے اپنے 31 صفحات کے فیصلے میں یوپی پولیس اور اس کے سینئر افسران کے طریقہ کار پر سخت نکتہ چینی کی۔
عدالت نے کہا کہ افسران کا ایک بڑا طبقہ قانون کی حکمرانی کو آئینی ذمہ داری نہیں بلکہ اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ مانتا ہے۔ سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے جنون میں افسر قانون پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔ جب عدالت حکم دیتی ہے تو اس پر باضابطہ عمل کرتے ہیں لیکن آخر میں، وہ اسے بھی ناکام بنا دیتے ہیں۔ عدالت نے ٹھیکہ کلچر اور تقرری سے متعلق عمل پر بھی سخت ناراضگی ظاہر کی۔ اس دوران عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ افسران کی غیر جانبداری ختم ہو چکی ہے اور وہ اپنی کرسیاں بچانے کے لئے ٹارگٹڈ پراسیکیوشن چلا رہے ہیں۔ جب کہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پولیس کمشنر اور کپتان کے عہدے سیاست دانوں کی ذاتی دشمنی نبھانے یا ان کے سہولت کار نہیں ہیں۔
عدالت نے کہا کہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بکرو قتل معاملے میں پورے آپریشن کی نگرانی کرنے والے پولیس افسر کو محکمہ جاتی انکوائری کے نتائج کی بنیاد پر محض رسمی وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا تاہم واردات میں گینگسٹر اور اس کے ساتھیوں کو پکڑنے گئی پولیس ٹیم پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ ان سب کو نظر انداز کر کے ذمہ دار افسر کو بچانے کی سکاری فراخدلی سمجھ پانے میں عدالت پریشانی محسوس کرتی ہے۔ بڑے افسران کے تئیں دکھائی جانے والی یہ بہت زیادہ فراخدلی انصاف کے خلاف ہے۔ جب سنگین سے سنگین لاپرواہی پر بھی اعلیٰ افسران کی جوابدہی طے نہیں ہوتی تو ان میں یہ احساس بیٹھ جاتا ہے کہ ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔
ممتا بنرجی کو لگا ایک اور دھچکا، ریاستی اقلیتی سیل کے سکریٹری اجمل صدیقی نے ٹی ایم سی کو کہا الوداع
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ممتا بنرجی کی پارٹی میں اندرونی بحران مسلسل برقرار ہے۔ ایک کے بعد ایک کئی بڑے لیڈر پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ریاستی اقلیتی سیل کے سکریٹری اجمل صدیقی نے ہفتہ (6 جون) کو پارٹی سے استعفیٰ دینے کی اطلاع دی۔ صدیقی نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پارٹی کے اندرونی طریقہ کار اور اس کی قیادت کے اثرات کی وجہ سے لیا۔ انہوں نے ٹی ایم سی کے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر ’آمرانہ رویہ‘ اپنانے کا الزام بھی عائد کیا۔
اجمل صدیقی نے بتایا کہ ’’میں صرف 2 روز قبل حج سے واپس آیا ہوں۔ واپسی کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ یہ پارٹی بدنامی کے سوا کچھ نہیں دے رہی۔ اس کے بیشتر ارکان غیر مناسب سرگرمیوں میں ملوث ہیں، آئے دن اسکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں اور آئندہ بھی مزید سامنے آ سکتے ہیں۔ اس پارٹی میں رہنا ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہو گیا تھا اور یہ عوام کے لیے کوئی حقیقی کام بھی نہیں کر رہی تھی۔‘‘
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اجمل صدیقی نے کہا کہ ’’یہ صرف نام کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے، اس کے اندر رہ کر آپ کوئی بامعنی کام نہیں کر سکتے۔ یہاں صرف وہی لوگ آگے بڑھتے ہیں جو چاپلوسی کرتے ہیں۔ اسی لیے واپسی کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ استعفیٰ دینا ہی بہتر ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پارٹی آج صرف ایک شخص کی وجہ سے بکھر رہی ہے اور وہ ہیں ابھیشیک بنرجی۔ ان کے آمرانہ رویے کی وجہ سے ہمیں اس جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 12 یا 13 سال پہلے ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے، پیسوں کا مطالبہ کیا گیا اور ہمیں مسلسل ہراساں کیا گیا۔
جب اجمل صدیقی سے مستقبل کے سیاسی منصوبوں اور کیا وہ بی جے پی میں شامل ہونے پر غور کریں گے، کے بارے میں پوچھا گیا تو صدیقی نے کہا کہ ان کی ترجیح صرف مغربی بنگال کی ترقی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم نے اب تک اس بارے میں نہیں سوچا ہے۔ ہماری واحد خواہش بنگال میں ترقی دیکھنا ہے۔ صنعتیں قائم ہوں اور غریبوں کو نوکریاں ملیں۔
’اب بی جے پی کے لیڈران سڑکوں پر سلنڈر لے کر کیوں نہیں بیٹھ رہے؟‘ گھریلو سلنڈر کی قیمت میں اضافہ پر کھڑگے کا سخت ردعمل
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کانگریس نے اتوار کو گھریلو گیس کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’گھریلو ایل پی جی کی قیمتوں میں لگی آگ کی لپٹیں عوام کے باورچی خانے کو جھلسانے پر آمادہ ہیں!! مودی حکومت نے گزشتہ 4 مہینوں میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 89 روپے کا اضافہ کیا ہے۔‘‘
کانگریس صدر نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ ہمارے 3 سوال ہیں۔ پہلا سوال انہوں نے یہ کیا کہ ’’پارلیمنٹ میں مودی جی نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے کہ وہ مغربی ایشیا کی جنگ کے پیش نظر 41 ممالک سے ایندھن کی فراہمی کے ذرائع کو متنوع بنا رہے ہیں۔ اس کا کیا ہوا؟ دیہی علاقوں میں آج بھی ایل پی جی کی قلت کیوں ہے؟‘‘ دوسرا سوال یہ کیا کہ ’’26-2025 میں اجولا یوجنا کے تحت 5.56 کروڑ خاندانوں نے صرف ایک بار یا ایک بار بھی ایل پی جی سلنڈر ری فل نہیں کروایا۔ ان میں سے 3.30 کروڑ خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک بھی سلنڈر ری فل نہیں کروایا۔ یہ تو مغربی ایشیا کے بحران سے پہلے کی بات ہے۔ کیا یہ مودی حکومت کی لوٹ کھسوٹ کا نتیجہ نہیں ہے؟‘‘
تیسرا اور آخری سوال ملکارجن کھڑگے نے یہ کیا کہ ’’مودی جی اور بی جے پی کے لیڈران یو پی اے حکومت کے دوران مہنگائی کے خلاف خوب شور مچاتے تھے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مودی حکومت کے 12 برسوں میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 530 روپے کا اضافہ ہوا ہے؟ اب بی جے پی کے لیڈران سڑکوں پر سلنڈر لے کر کیوں نہیں بیٹھ رہے ہیں؟‘‘
قابل ذکر ہے کہ سرکاری تیل کمپنیوں نے ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ 14.2 کلوگرام والے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 29 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد دہلی میں اس کی قیمت 913 روپے سے بڑھ کر 942 روپے ہو گئی ہے۔ دہلی میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی یہ نئی قیمت آج یعنی 7 جون سے نافذ ہو گئی ہے۔ اس سے قبل یکم جون کو 19 کلوگرام والے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا تھا۔ تیل کمپنیوں نے کمرشیل ایل پی جی کی قیمت میں 42 روپے کا اضافہ کیا تھا۔
0 تبصرے