سعودی عرب کی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت
ریاض۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بحرین اور ریاست کویت کی خودمختاری کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں اور صریح خلاف ورزیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ نے زور دے کر کہا کہ یہ کارروائیاں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
خطے میں کشیدگی کے نتائج پر انتباہ
وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسلسل ایرانی حملوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی اور تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا، جو سکیورٹی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ امن کے فروغ اور علاقائی استحکام کی بحالی کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کو بھی نقصان پہنچائے گا۔
بحرین اور کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی
سعودی عرب نے بحرین اور ریاست کویت کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کی جانب سے اپنی خودمختاری، سکیورٹی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے، تاکہ ان کے قومی مفادات کا تحفظ اور ان کے عوام کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایران دو بار جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بہت قریب پہنچ چکا تھا:ٹرمپ
ریاض : العربیہ ڈاٹ نیٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا ہے کہ ایران نے اب تک امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ واشنگٹن کے مطالبات بہت زیادہ ہیں۔
انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے ''این بی سی نیوز'' کو انٹرویو میں کہا کہ ایران دو مرتبہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بہت قریب پہنچ چکا تھا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ سابقہ معاہدہ ایران کو پانچ سال کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے راستے پر لے جا رہا تھا۔
21 سے 22 فیصد میزائل
ٹرمپ کے مطابق: ان کے پاس کچھ میزائل اور کچھ ڈرونز موجود ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق ان کے پاس میزائلوں کا صرف 21 سے 22 فیصد حصہ باقی بچا ہے۔ یہ تعداد اب بھی بڑی ہے، لیکن اس سطح پر نہیں ہے جیسا کہ ہمارے پہلے حملے کے وقت تھی۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ زیادہ تر ڈرون فیکٹریاں تباہ کر دی گئی ہیں، زیادہ تر لانچنگ سائٹس ختم کر دی گئی ہیں، اور میزائل بنانے کے بیشتر مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ کو ایران کے باقی ماندہ میزائلوں اور ڈرونز کے مقامات کا علم ہے۔
اہم پیش رفت
یہ بیان اس وقت سامنے آیا، جب ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔انہوں نے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہم ایران کے ساتھ بہت اہم پیش رفت کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایران ایسی حالت میں نہیں کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کر سکے، اس حوالے سے ان کا مؤقف سخت برقرار ہے۔ یہ بات روسی خبر ایجنسی ''تاس'' کے مطابق رپورٹ کی گئی۔
مذاکرات جاری
اس سے قبل جمعے کے روز روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے بھی تصدیق کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے موقع پر خبر ایجنسی ''تاس'' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل اب بھی جاری ہے۔
روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی
روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی
جب ان سے مذاکرات کے موجودہ مرحلے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: سچ یہ ہے کہ اس وقت میرے پاس کوئی حتمی یا درست معلومات نہیں ہیں، ابھی تک مذاکرات کی پیش رفت کے بارے میں کوئی نئی اطلاع موجود نہیں ہے۔
پاکستانی کوششیں
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حال ہی میں کہا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی باضابطہ مذاکراتی عمل موجود نہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اب تک کسی حتمی سمجھوتے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب امریکی صدر نے ماضی میں ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہونے پر امید کا اظہار کیا تھا، تاہم جمعرات کے روز انہوں نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے صرف یہ کہا کہ آپ جلد جان لیں گے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کیا معاہدہ طے پا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے اور زور دے کر کہا کہ امریکہ یا تو ایران کے ساتھ معاہدے کے ذریعے یا فوجی طاقت کے ذریعے کامیابی حاصل کرے گا۔
اسی دوران پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے دو ملاقاتیں کی ہیں۔
اسلام آباد میں موجود ''العربیہ/الحدث ''کے نمائندے کے مطابق اصل بنیادی مسئلہ جوہری معاملے سے ہٹ کر—بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی ادائیگی کے طریقہ کار پر اختلاف ہے۔
یاد رہے کہ کئی ہفتوں سے ایران اور امریکہ غیر مستقیم مذاکرات میں مصروف ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ کیا جا سکے۔
گزشتہ ہفتے کچھ امید پیدا ہوئی تھی، تاہم بعد میں اطلاعات آئیں کہ ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے میں مزید سخت شرائط شامل کر دی ہیں، جبکہ ایران نے ابھی تک اس کا باضابطہ جواب نہیں دیا۔
مغربی بنگال میں تمام مدارس کا ریاست گیر سروے شروع
کولکاتہ، 6 جون (یواین آئی) مغربی بنگال حکومت نے ایک اہم پیش رفت کے تحت ریاست بھر کے تمام مدارس کا جامع سروے شروع کر دیا ہے اور ضلع مجسٹریٹوں کو ان اداروں کی موجودہ حالت، بنیادی ڈھانچے، تعلیمی سرگرمیوں اور طلبہ کی ساخت سے متعلق تفصیلی معلومات جمع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اس سروے میں تسلیم شدہ اور غیر تسلیم شدہ تمام مدارس کو شامل کیا گیا ہے۔ سروے 5 جولائی 2026 تک مکمل کیا جانا ہے اور اس کی ضلعی سطح کی جامع رپورٹیں نبنّا میں واقع محکمۂ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کے محکمہ کو پیش کی جانی چاہیے۔
محکمۂ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کی جانب سے 5 جون کو جاری کردہ سرکاری ہدایت کے مطابق، یہ سروے ریاست کے تمام بلاکس اور بلدیاتی علاقوں میں انجام دیا جائے گا۔
ضلع مجسٹریٹوں کو اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں چلنے والے ہر مدرسے کے بارے میں تازہ ترین معلومات جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سروے میں ملحقہ اور تسلیم شدہ مدارس، رجسٹرڈ ادارے، امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ ادارے غیر رجسٹرڈ ادارے، کمیونٹی کی جانب سے چلائے جانے والے مدارس، نجی مدارس اور مختلف انتظامی نظاموں کے تحت مدرسہ تعلیم فراہم کرنے والے دیگر تمام ادارے شامل ہوں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ عمل بنیادی طور پر انتظامی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد ریاست میں مدرسہ تعلیم سے متعلق ایک قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس تیار کرنا ہے۔
افسران کو اداروں کی نوعیت اور قانونی حیثیت، انتظامی انفراسٹرکچر، بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات، تعلیمی سرگرمیوں اور زیرِ تعلیم طلبہ کے سماجی و تعلیمی پروفائل سے متعلق معلومات جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سروے کے دوران مدرسوں کی عمارتوں، کلاس رومز، پینے کے پانی کی سہولت، صفائی ستھرائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر دستیاب سہولیات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اس کے علاوہ مدارس میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کی نوعیت اور مجموعی تعلیمی ماحول کا بھی معائنہ کیا جائے گا۔
ہدایت کے مطابق، اس سروے کے ذریعے تیار ہونے والا ڈیٹا بیس حکومت کو مستقبل کی تعلیمی منصوبہ بندی، بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقدامات اور تعلیمی ریکارڈ کی بہتر نگہداشت میں مدد فراہم کرے گا۔
حکومت کا ارادہ اس معلومات کو کسی بھی بے ضابطگی یا غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی اور مناسب اصلاحی اقدامات کے لیے بھی استعمال کرنے کا ہے۔
دوسری جانب نبنّا نے اس سروے کے حوالے سے اداروں اور طلبہ میں پائی جانے والی تشویش کو دور کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ سروے صرف انتظامی اور معلومات جمع کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔
اس میں خاص طور پر کہا گیا ہے کہ سروے کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تعزیری کارروائی، قانونی اقدام یا کسی مدرسے کو بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
مزید یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں کسی بھی طالب علم کو کسی ادارے سے خارج نہیں کیا جائے گا۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سروے میں شامل تمام مدارس کو جاری تعلیمی سیشن کے دوران بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی معمول کی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اس کام کو ’’انتہائی ضروری‘‘ قرار دیتے ہوئے نبنّا نے ضلع مجسٹریٹوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سروے کو اعلیٰ ترین ترجیح دیں اور فوری طور پر اس پر عمل شروع کریں۔
حتمی جامع رپورٹ محکمۂ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کو 5 جولائی 2026 یا اس سے قبل پیش کی جانی ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ایران کو داد دینی چاہیے کہ وہ متحد رہا: روسی صدر
ماسکو، 6 جون (یو این آئی) روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ایران کو اس بات پر داد دینی چاہیے کہ وہ اسرائیلی امریکی حملوں کے نتیجے میں اندرونی طور پر تقسیم نہیں ہوا بلکہ متحد رہا۔
روسی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی سوسائٹی مسلسل مضبوط ہو رہی ہے، ایرانی قیادت نے عوام سے اپیل کی تھی کہ ملک کے لیے جان قربان کریں اور 50 لاکھ افراد نے وطن پر جان قربان کرنے کے لیے لبیک کہا، یہ ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نہ توایران نے کبھی روس سے اسلحہ مانگا اور نہ روس نے ایران کو اسلحہ دیا۔
دریں اثنا، ترک نیوز ایجنسی کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کے روز سینٹ پیٹرزبرگ میں عالمی خبر رساں اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران کے گرد جاری تنازع ایک عالمی بحران بن چکا ہے، جس نے امریکہ کی توجہ یوکرین سے ہٹا دی ہے۔ انھوں نے کہا ’’یوکرین کا بحران مقامی نوعیت کا ہے، جب کہ ایران کے گرد پیدا ہونے والی صورت حال عالمی نوعیت اختیار کر چکی ہے۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن ’’بنیادی طور پر اسی مسئلے سے نمٹنے پر مجبور ہے۔‘‘ انہوں نے تنازع کے دوران ایرانی عوام کے اتحاد اور ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی تصفیے میں ان کے مفادات کو مدِنظر رکھا جانا چاہیے۔ روسی رہنما نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششیں اور ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی پالیسیاں کسی سمجھوتے کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
انھوں نے کہا ’’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کوشش مثبت نتیجے پر ختم ہوگی، تنازع رک جائے گا اور اس کا حل نکل آئے گا۔ اگر روس کے بس میں کوئی مدد ہوئی تو ہم ہمیشہ تعاون کے لیے تیار ہیں۔‘‘ پیوٹن نے ایران کو ایک دوست ملک قرار دیا جس کے ساتھ روس کے قریبی اور بااعتماد تعلقات ہیں، جب کہ اس تاثر کو مسترد کیا کہ روس توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے اس تنازع سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ’’جی ہاں، قیمتیں بڑھی ہیں اور ہماری کمپنیاں کسی حد تک فائدہ اٹھاتی ہیں، لیکن یہ عارضی اور مختصر مدت کا فائدہ ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ تنازع جلد از جلد ختم ہو۔‘‘ روسی صدر نے کہا کہ موجودہ بحران نے فلسطین کے مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا ایران اور آبنائے ہرمز کے گرد پیش آنے والے واقعات کے باعث فلسطین کا المیہ کسی حد تک فراموش کر دیا گیا ہے، مگر وہ کہیں گیا نہیں ہے۔
’اصلی دشمن پہچانیں آپ‘، لبنانی صدر کے ’سودے بازی‘ والے بیان پر ایران کی نصیحت
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنانی صدر جوزف عون کے ’سودے بازی‘ والے بیان پر طنز کسا ہے۔ انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے انہیں نصیحت کی کہ وہ اصل دشمن کو پہچاننے کی کوشش کریں۔ عراقچی نے عون کے انٹرویو کا ایک کلپ شیئر کیا، جس میں انہوں نے ایران پر سودے بازی کا الزام لگایا تھا۔ لبنانی صدر نے کہا تھا کہ ’’ایران لبنان کو سودے بازی کے لیے مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اسے ایسا کرنا بند کر کے بات چیت کرنی چاہیے۔‘‘
عراقچی نے طنز کستے ہوئے لکھا کہ ’’صدر عون کے بیانات کی بنیاد پر تو ایسا لگتا ہے جیسے لبنان کے پانچویں حصے پر ایران نے قبضہ کر رکھا ہو، لبنانی آبادی کے ایک چوتھائی حصے کو بے گھر کر دیا ہو، اور وہ روزانہ ان کے ملک پر بمباری کر رہا ہو۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اگر لبنان ایران کے لیے سودے بازی کا مہرہ ہوتا تو ہم بہت پہلے ہی کسی معاہدے تک پہنچ چکے ہوتے۔ مسٹر پریذیڈنٹ، لبنان کو اس کے اصل دشمن سے بچائیں۔‘‘
.
سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں جوزف عون نے کہا کہ ایران لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے اور الزام عائد کیا کہ امریکہ کے ساتھ اپنی بات چیت میں وہ لبنان کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے ایران سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’یہ آپ کا ملک نہیں ہے، یہ ہمارا ملک ہے۔ آپ ہمیں سودے بازی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو کہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حزب اللہ سے بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس تنازعہ کا خاتمہ تشدد یا جنگ نہیں بلکہ صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔ انہیں اسی راستے پر چلنا ہوگا۔‘‘
واضح رہے کہ اب لبنانی فوج بھی حملوں کا نشانہ بن رہی ہے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق لبنانی فوج نے بتایا کہ ہفتہ کو جنوبی لبنان میں خاردارلی-نباطیہ روڈ پر ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنا کر کیے گئے اسرائیلی حملے میں ایک افسر سمیت کئی لبنانی فوجی مارے گئے۔ لبنانی فوج حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تصادم میں شامل ہونے سے بچتی رہی ہے اور مسلسل خود کو اس سے الگ رکھنے کی کوشش کرتی ہوئی دکھائی دی ہے۔
دراصل ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو کیے گئے مشترکہ فضائی حملے کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل پر میزائل داغنے شروع کر دیے تھے۔ اس کے بعد 2 مارچ سے اسرائیل کی جوابی کارروائی کا آغاز ہوا۔ اس دوران جنوبی لبنان کو نشانہ بنایا جاتا رہا، جہاں 3500 سے زائد افراد کے مارے جانے کی تصدیق لبنانی وزارت صحت نے کی ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی پر بات بھی بنی، لیکن اس کے باوجود زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں۔
لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی ’این این اے‘ نے بتایا کہ جمعہ کو جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں تقریباً 21 افراد ہلاک ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں میونسپل کونسل کا ایک رکن، 2 شامی بچے اور امداد پہنچانے والا ایک پیرامیڈک بھی شامل ہے۔ لبنانی وزارت صحت نے بچاؤ کی سرگرمیوں میں مصروف کارکنوں کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
’ایسی حرکت برداشت نہیں‘، لندن میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے پروگرام میں ہنگامہ پر ہندوستان کا سخت ردعمل
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
لندن کی ایک یونیورسٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کے پروگرام میں جم کر ہنگامہ ہوا۔ یہاں ایک لیکچر کے دوران کچھ لوگوں نے ہندوستان میں ’اختلاف رائے کی آواز دبانے‘ اور ان کے پرانے بیانات پر سخت سوالات پوچھنے شروع کر دیے۔ اس بات کو لے کر وہاں بحث چھڑ گئی، جس کے بعد پروگرام میں خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ لندن میں موجود ہندوستانی ہائی کمیشن نے سامعین کے اس رویے کو پوری طرح سے غیر مہذب اور نامناسب قرار دیا۔ ہائی کمیشن نے سخت لہجے میں کہا کہ کسی بھی عوامی پلیٹ فارم پر ایسی حرکت قطعی برداشت نہیں کی جائے گی۔
دراصل سی جے آئی سوریہ کانت ان دنوں انگلینڈ کے 6 روزہ دورے پر ہیں۔ نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کے مطابق جمعرات (4 جون) کو وہ یونیورسٹی آف لندن برکبیک کالج میں آرٹیفیشیل انٹیلی جنس (اے آئی) اور انٹرنیشنل لا کے موضوع پر لیکچر دے رہے تھے۔ ان کی تقریر ختم ہونے کے بعد جب سوال و جواب کا دور شروع ہوا تب ماحول اچانک کشیدہ ہو گیا۔ پروگرام کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ ایک شخص نے ہندوستان کے جمہوری ماحول اور ’اختلاف رائے‘ کے متعلق سوال اٹھانے کی کوشش کی۔ اسی دوران سی جے آئی کے حالیہ ’کاکروچ‘ تبصرہ کا بھی ذکر کیا گیا۔ حالانکہ پروگرام کے منتظم نے سوال کو اصل موضوع سے ہٹ کر قرار دیتے ہوئے درمیان میں ہی روک دیا۔ اس کے بعد کچھ دیر کے لیے ماحول گرم ہو گیا۔
اس واقعہ کے بعد لندن میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے سخت اعتراض کا اظہار کیا۔ ہائی کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ پروگرام میں موجود لوگوں کا اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ناقابل قبول ہے۔ عوامی پلیٹ فارمز پر بات چیت ہمیشہ احترام کے دائرے میں ہی ہونی چاہیے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے ایک فطری امر ہے، لیکن اسے مہذب اور باوقار انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ اس تنازعہ سے قبل چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ٹیکنالوجی اور عدالتی نظام کے باہمی تعلق پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ٹیکنالوجی بذات خود نہ اچھی ہوتی ہے اور نہ بری، بلکہ اس کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ معاشرہ اسے کس طرح استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کا کام نئی ٹیکنالوجی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ تکنیکی طاقت ہمیشہ آئینی اقدار اور انسانی وقار کے سامنے جوابدہ رہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس واقعے کے بعد بھی سی جے آئی سوریہ کانت برطانیہ میں اپنے طے شدہ پروگراموں میں شریک ہو رہے ہیں، جہاں جمعہ کے روز انہوں نے ہندوستان اور برطانیہ کی اقتصادی شراکت داری سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے بھی خطاب کیا تھا۔
لیڈروں کے خرید و فروخت سے ناراض سپریا سولے نے اس پر روک کے لیے بل لانے کا کیا اعلان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے ہفتہ (6 جون) کو کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کریں گی، جس میں ان انتخابات میں مزید شفافیت لانے کا مطالبہ کیا جائے گا جہاں خرید و فروخت کے الزامات لگتے ہیں۔ ان کا یہ بیان مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے انتخابات سے قبل امیدواروں کو لالچ دینے اور دباؤ ڈالنے کے الزامات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
سپریا سولے نے کہا کہ یا تو موجودہ شکل میں ایسے انتخابات بند کر دیے جانے چاہئیں یا پھر ان میں ’اوپن ووٹنگ‘ کا نظام نافذ کیا جانا چاہئے۔ ایک پروگرام کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میں انتخابی عمل میں ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کے لیے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کروں گی۔ انتخابات میں خرید و فروخت کے الزامات بند ہونے چاہئیں۔ سرپنچ سے لے کر لوک سبھا تک تمام انتخابات شفاف ہونے چاہئیں۔‘‘
واضح رہے کہ 18 جون کو ہونے والے قانون ساز کونسل کی 16 سیٹوں کے انتخاب سے قبل مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے کچھ امیدواروں نے اپنے نام واپس لے لیے تھے۔ سپريا سولے نے اس فیصلے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’تمام اتحادی جماعتوں کے لیڈران سے بات چیت کے بعد یہ فیصلہ اجتماعی طور پر لیا گیا تھا۔ خرید و فروخت کے خدشات کو لے کر بڑے پیمانے پر تشویش پائی جا رہی تھی۔ ہر جگہ خرید و فروخت کے بارے میں باتیں ہو رہی تھیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ’’اس فیصلے سے قبل ہوئی میٹنگوں میں این سی پی (شرد پوار)، کانگریس اور شیو سینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے رہنما موجود تھے۔‘‘
امیدواروں کے نام واپس لینے پر ہونے والی تنقید کے جواب میں سپریا سولے نے کہا کہ ’’ہر علاقے کی سیاسی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سیاسی پارٹیوں کو خرید و فروخت کی سیاست کی اجازت دی جانی چاہیے؟ انتخابی اصلاحات کے اپنے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بارامتی سے رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا کہ ’’ایک شہری اور عوامی نمائندے کی حیثیت سے میں یہ بل پیش کروں گی۔ ایسے انتخابات میں خرید و فروخت کے الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے اور سیاسی عمل پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے انتخابی نظام میں زیادہ شفافیت ضروری ہے۔
رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے یہ بھی تصدیق کی کہ ان کی پارٹی 8 جون کو ہونے والی ’انڈیا بلاک‘ کی میٹنگ میں شرکت کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے انہیں ذاتی طور پر اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ سپریا سولے نے الزام عائد کیا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) اور محکمۂ انکم ٹیکس جیسی مرکزی ایجنسیوں کا استعمال اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔
0 تبصرے