کانگو میں ’ایبولا‘ کے تصدیق شدہ معاملے کی تعداد بڑھ کر ہوئی 452، اب تک 82 لوگوں کی ہو چکی ہے موت
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کانگو میں ایبولا کے معاملے میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ایبولا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 452 ہو گئی ہے۔ اس وائرس سے متاثرہ 82 افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ کانگو کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کے تصدیق شدہ معاملوں کی تعداد 452 ہو گئی ہے، جن میں سے 82 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صحت کے افسران نے 4 جون کو اتوری اور نارتھ کیوو صوبوں میں 71 نئے تصدیق شدہ معاملوں کی اطلاع دی تھی، جن میں 21 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ یہ وائرس کے بونڈی بوگیو اسٹرین سے پھیلی وباء کے درمیان تیزی سے اور مسلسل کمیونٹی ٹرانسمیشن کا اشارہ ہے۔ نیوز ایجنسی ’سنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 258 مریض آئسولیشن یا اسپتال کی نگرانی میں ہیں، جبکہ 8 لوگ صحت یاب ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنٹیکٹ ٹریسنگ (رابطہ میں آئے لوگوں کا پتہ لگانے) میں اب بھی بڑی کمی ہے۔ تینوں صوبوں میں جن 4766 لوگوں کے رابطے میں آنے کی نگرانی کی جا رہی تھی ان میں سے صرف 2755 لوگوں کو ہی دیکھا گیا ہے، جو کہ مجموعی طور پر 57.8 فیصد کا فالو اپ ریٹ ہے۔
ڈی آر سی کے صحت کے افسران نے اس صورتحال سے نمٹنے میں درپیش بڑی چیلنجوں کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران نمونے لینے کی مخالفت، ایبولا کے علاج کی ناکافی معیاری گنجائش، کمزور کانٹیکٹ ٹریسنگ، ضروری ادویات کی قلت، نارتھ کیوو میں انفیکشن سے بچاؤ کے سامان کی کمی، خراب الرٹ رپورٹنگ اور 21.5 ملین امریکی ڈالر کے فنڈز کی کمی نے معاملے کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ یوگانڈا کی وزارت صحت نے جمعہ (5 جون) کو بتایا کہ ’’یوگانڈا میں بھی ایبولا کے 3 نئے معاملوں کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد ملک میں مجموعی متاثرین کی تعداد 19 ہو گئی ہے۔‘‘
افریقہ سنٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمعہ کو پورے براعظم کے لیے ایبولا وباء کی تیاری اور اس سے نمٹنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ جون سے نومبر کے درمیان افریقی ممالک کو وباء کی تیاری، تیز رفتار تشخیص اور اس سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے 518 ملین امریکی ڈالر جمع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ افریقہ سی ڈی سی اور ڈبلیو ایچ او کے مطابق اب تک کل 34 ہیلتھ ورکرز ایبولا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 7 کی موت ہو چکی ہے اور 6 صحت یاب ہو گئے ہیں۔
افریقہ سی ڈی سی اور ڈبلیو ایچ او نے کئی بڑی آپریشنل چیلنجوں کا بھی ذکر کیا ہے، جن میں بونڈی بوگیو ایبولا اسٹرین کے لیے طبی اقدامات کی کمی، کمزور ہیلتھ انفراسٹرکچر، اور پہلے سے ہی کئی ہیلتھ ایمرجنسی کی صورتحال سے نبرد آزما ہیلتھ سسٹم پر دباؤ شامل ہے۔ وسائل کی کمی، لوگوں کی زیادہ نقل و حرکت، عدم تحفظ اور نقل مکانی، ہیلتھ ورکرز میں انفیکشن، اور غلط معلومات و عدم اعتماد نے صورتحال کو مزید مشکل بنا دیا ہے
کرناٹک میں سرکاری ملازمین کو صبح 10 بجے تک دفتر پہنچنا لازمی، ’کرتویہ‘ ایپ کے ذریعہ ہوگی حاضری
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کرناٹک حکومت نے ریاست میں تمام سرکاری افسران اور ملازمین کے لیے وقت کی پابندی یقینی بنانے کے لیے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ تازہ اقدام کے تحت اب تمام ملازمین کو صبح 10 بجے تک اپنے دفتر پہنچنا اور ’کرتویہ‘ موبائل ایپ کے ذریعے حاضری لگانا لازمی کردیا گیا ہے۔ اس نئے ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چیف سکریٹری ڈاکٹر شالنی رجنیش کی طرف سے جاری حکم میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ ہدایت وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار کی جانب سے 4 جون کو منعقدہ اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران دیئے گئے سخت احکامات کی بنیاد پر جاری کی گئی ہے۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نے سرکاری دفاتر میں بے قاعدگیوں اور تاخیر سے پہنچنے کے مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔
حکم کے مطابق ایڈیشنل چیف سکریٹری سے لے کر ضلعی سطح کے تمام افسران اور ملازمین کو روزانہ ’کرتویہ‘ ایپ پر چیک ان اور چیک آؤٹ درج کرنا ہوگا۔ ایپ کے ذریعے ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جائے گی۔ ای گورننس ڈپارٹمنٹ نے ایک جدید ترین اے آئی پر مبنی نظام تیار کیا ہے جو خود ان ملازین کی ضلع اور آفس وار رپورٹ تیار کرے گا جنہوں نے صبح 10 بجے تک حاضری نہیں لگائی۔ یہ رپورٹ متعلقہ محکموں کے سربراہوں کو آٹو میٹک بھیج دی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی جو آفیسر سرکارے دورے یا فیلڈ ڈیوٹی پر جاتے ہیں، انہیں ایپ میں ’’آؤٹ آف آفس ڈیوٹی‘‘ (او او ڈی) آپشن کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ان کی حاضری کی تصدیق متعلقہ سپروائزری افسر کریں گے۔ محکمہ کے سربراہوں کو ’کرتویہ‘ ڈیش بورڈ کے ذریعہ روزانہ حاضری کی رپورٹس کا جائزہ لینے اور قانون پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی یقینی بنانی ہوگی
سرکاری ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد ریاستی حکومت کے کاموں میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار کچھ عرصے سے سرکاری مشینری کو زیادہ فعال اور جوابدہ بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ ’کرتویہ‘ ایپ پہلے سے ہی کچھ محکموں میں تھا لیکن اب اسے ریاست بھر میں لازمی کر دیا گیا ہے۔
امریکہ نے برطانیہ، ڈنمارک اور کویت کو تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکہ نے برطانیہ، ڈنمارک اور کویت کو تقریباً 3 ارب ڈالر کے ممکنہ غیر ملکی فوجی سودوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، طیاروں کا دفاعی نظام اور ڈرون مخالف پلیٹ فارم شامل ہیں۔ اس کا اعلان امریکی محکمہ خارجہ نے کیا ہے۔ سب سے بڑا پیکج کویت کے لیے ہے، جسے بغیر پائلٹ کے ہوائی نظام (یو اے ایس) کے پلیٹ فارم اور متعلقہ آلات خریدنے کی منظوری مل گئی ہے، جس کی تخمینی لاگت 1.98 ارب ڈالر ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ (5 جون) کو کہا کہ مجوزہ فروخت سے کویت کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں بہتری آئے گی، کیونکہ اس سے اسے بغیر پائلٹ کے ہوائی نظام کے خلاف الیکٹرانک اور کائنٹک اسٹرائیک کی صلاحیتیں حاصل ہوں گی۔ اس پیکج میں روڈ-رنر میونیشن اور اینول-کائنٹک پلیٹ فارمز، لانچ باکسز، کمانڈ-اینڈ-کنٹرول سسٹمز، سنٹری ٹاورز، بحری سنٹری ٹاورز، الیکٹرو میگنیٹک وارفیئر سسٹمز، ٹیکٹیکل آپریشنز سنٹرز، جنریٹرز، ٹریننگ، سافٹ ویئر کی تیاری اور لاجسٹک سپورٹ شامل ہیں۔
کویت کو ہونے والی اس فروخت کی مرکزی ٹھیکیدار کیلیفورنیا کے کوسٹا میسا میں واقع اندورل کمپنی ہوگی۔ ایک الگ نوٹیفیکیشن میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ اس نے ڈنمارک کو 200 اے جی ایم-158 جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائلوں (جے اے ایس ایس ایم-ای ایم) اور متعلقہ آلات کی 842 ملین ڈالر کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ مجوزہ فروخت ڈنمارک کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھائے گی، جس سے رائل ڈینش ایئر فورس (آر ڈی اے ایف) کو طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے والے حملوں کی صلاحیت ملے گی اور آر ڈی اے ایف کے ایف-35 طیاروں کی صلاحیت مضبوط ہوگی۔ فلوریڈا کے اورلینڈو میں واقع لاک ہیڈ مارٹن ڈنمارک کو ہونے والی اس فروخت کا مرکزی ٹھیکیدار ہوگا۔ برطانیہ کو بھی تقریباً 160 ملین ڈالر کی تخمینی لاگت پر بڑے طیاروں کے انفرا ریڈ کاؤنٹر میزر اور متعلقہ آلات خریدنے کی منظوری مل گئی ہے۔
برطانیہ کی درخواست میں 36 گارڈین لیزر ٹریٹ اسمبلیاں اور 18 اے این/اے اے کیو 24 (وی) این بڑے طیاروں کے انفرا ریڈ کاؤنٹر میزر سسٹم پروسیسر کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ میزائل وارننگ سنسرز، امدادی آلات، سافٹ ویئر، اسپیئر پارٹس اور لاجسٹک سپورٹ شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ مجوزہ فروخت سے بڑے ہوائی پلیٹ فارمز کو جدید ترین تحفظ فراہم کر کے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی برطانیہ کی صلاحیت میں بہتری آئے گی اور رائل ایئر فورس کی آپریشنل تیاری یقینی ہو سکے گی۔
برطانیہ کو اس فروخت کے لیے بنیادی ٹھیکیدار بوئنگ کمپنی ہوگی، جو ارلنگٹن، ورجینیا میں واقع ہے۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ مجوزہ فروخت سے متعلقہ خطوں میں بنیادی فوجی توازن میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور امریکی دفاعی تیاریوں پر بھی کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ امریکی غیر ملکی فوجی فروخت کے عمل کے تحت یہ نوٹیفیکیشنز بیورو آف پولیٹیکل-ملٹری افیئرز کی جانب سے جاری کیے گئے۔ کانگریس کو نوٹیفیکیشن ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حتمی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، لیکن اس سے اس عمل کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہو جاتا ہے۔
ہماچل پردیش کے کانگڑا ضلع میں زلزلہ، ریکٹر اسکیل پر شدت 4.3 تھی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ہماچل پردیش کے کانگڑا ضلع میں جمعہ کی رات 10:04 بجے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز دھرم شالہ سے تقریباً 18 کلومیٹر کے فاصلے پر بتایا گیا ہے۔
زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ کئی علاقوں میں چند سیکنڈ کے لیے زمین ہل گئی جس سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا۔ رات گئے تک لوگوں کو کھلی جگہوں پر کھڑے دیکھا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق زلزلے کا اثر صرف کانگڑا تک محدود نہیں تھا۔ آس پاس کے کئی اضلاع اور ریاستوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
چمبا، ڈلہوزی، بھرمور اور ہولی کے علاقے میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اس کے علاوہ ہریانہ کے پنچکولہ، چندی گڑھ اور آس پاس کے علاقوں میں بھی لوگوں نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے۔نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ رات کے وقت اچانک پنکھے اور دیگر اشیاء لرزنے لگیں جس سے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنا پڑا۔ بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر زلزلے کے اپنے تجربات بھی شیئر کیے۔
اطمینان بخش بات یہ ہے کہ کسی کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ مقامی انتظامیہ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے زلزلے کے بعد صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے تاہم تفصیلی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ سرکاری اداروں کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے ہوشیار رہنے اور افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطہ زلزلہ کے لحاظ سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور آس پاس کے علاقوں میں اکثر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ سائنسدان اس خطے میں زلزلہ کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔
خان سر کی کسی بھی وقت گرفتاری ممکن!
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بہار کی راجدھانی پٹنہ میں خان سر کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ پر مبینہ حملے کا تنازعہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ دریں اثنا، پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ویڈیو میں فائرنگ کرتے نظر آنے والے دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے ہتھیار ضبط کر لیے گئے ہیں اور انہیں جانچ کے لیے غیر ملکی سب ڈویژنل مجسٹریٹ(ایف ایس ایل) کے پاس بھیجا جا رہا ہے۔ ایس ایس پی نے کہا کہ مزید تفتیش میں ملنے والے شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔
نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق ایف آئی آر کے بعد خان کو گرفتاری کا خطرہ ہے۔ اسے کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق خان کا مقام واضح نہیں ہے۔ پولیس اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار سکتی ہے۔ فیظل خان عرف خان سر کب گرفتار ہو ں گے؟ اس سوال کے جواب میں ایس ایس پی نے کہا کہ 'تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی'۔ امن و امان کی خلاف ورزی یا جرم میں جو بھی قصوروار پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔"
انہوں نے کہا کہ اگر مزید تحقیقات ہوتی ہیں تو ہم آپ کو مطلع کریں گے۔ خان سر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان کے خلاف پٹنہ کے کدمکوان پولیس اسٹیشن میں قتل کی کوشش اور اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پٹنہ پولیس نے فائرنگ کے واقعہ میں ایک گارڈ کی گرفتاری اور پوچھ گچھ کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی ہے۔
پولیس کے مطابق، خان گلوبل اسٹڈیز کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی گئی اور منگل کی رات دیر گئے (2 جون) کیمپس پر پتھراؤ کیا گیا۔ اس کے بعد جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے خان گلوبل اسٹڈیز کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے دو سیکیورٹی گارڈز کو مبینہ طور پر گولیاں چلانے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ پولیس نے گیان بندو کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر روشن آنند سمیت تین لوگوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ جمعرات (4 جون) کو طلباء نے پٹنہ میں کینڈل لائٹ مارچ نکال کر روشن آنند کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس پر احتجاج کیا۔
خان سرکے کوچنگ سینٹر کے قریب پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ پورے علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ طلباء کو نکال لیا گیا ہے۔ گیان بندو کوچنگ بھی اسی کیمپس میں واقع ہے۔ شام کے اوائل میں دونوں کوچنگ سنٹروں کے طلباء آپس میں لڑ پڑے۔ پولیس نے یہ قدم مزید واقعات کو روکنے کے لیے اٹھایا ہے
پاکستان سرحد پار دہشت گردی بند کرے، تبھی سندھ طاس معاہدہ بحال ہوگا: ہندوستان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی: ہندوستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے مکمل اور قابل اعتماد خاتمے تک سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا۔ وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ معاہدے کی بحالی کا انحصار پاکستان کے رویے میں مستقل اور قابل اعتماد تبدیلی پر ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نئی دہلی میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران یہ موقف دہرایا۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے چناب۔بیاس لنک سرنگ منصوبے اور سلال ڈیم کے ذخیرے سے گاد نکالنے کے ہندوستانی منصوبوں پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ ہندوستان پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر رکھا ہے اور یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات صرف اعلانات تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان کے عملی اور پائیدار نتائج بھی نظر آنے چاہئیں۔
جموں و کشمیر کے دورے پر موجود سوئٹزرلینڈ کے سفیر کے بارے میں پاکستان کے تبصروں پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور کسی بھی ملک کے سفیر کو وہاں جانے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
ہندوستان نے گزشتہ ماہ بھی سندھ طاس معاہدہ 1960 کے تحت قائم کی گئی مبینہ ثالثی عدالت کے ایک فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور بے اثر قرار دیا تھا۔ وزارت خارجہ کے مطابق 15 مئی 2026 کو جاری کیا گیا فیصلہ معاہدے کی تشریح اور آبی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت سے متعلق تھا، تاہم ہندوستان اس پورے عدالتی عمل کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے کبھی اس نام نہاد ثالثی فورم کے قیام کو قانونی حیثیت نہیں دی، اس لیے اس کے فیصلے، احکامات اور کارروائیاں ہندوستان کی نظر میں کوئی قانونی اہمیت نہیں رکھتیں۔
واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدے پر 19 ستمبر 1960 کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دستخط ہوئے تھے۔ یہ معاہدہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ دریاؤں کے پانی کے استعمال اور تقسیم کے اصول طے کرتا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد اس نے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے خودمختار حقوق استعمال کرتے ہوئے معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ جب تک پاکستان دہشت گردی کی حمایت کو مستقل اور قابل اعتماد انداز میں ختم نہیں کرتا، اس وقت تک معاہدے کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
0 تبصرے