راجیہ سبھا انتخابات: کانگریس نے کیا 7 امیدواروں کا اعلان، کھڑگے اور پون کھیڑا کرناٹک سے میدان میں

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو


کانگریس نے آئندہ راجیہ سبھا انتخابات اور ضمنی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کی منظوری کے بعد جاری ہونے والی اس فہرست میں کئی ایسے نام شامل ہیں جنہیں تنظیمی وفاداری، سیاسی تجربے اور قیادت کے اعتماد کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر کرناٹک سے تین اہم رہنماؤں کو میدان میں اتار کر کانگریس نے واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے مضبوط گڑھ کو مزید مستحکم بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

کرناٹک سے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ ان کے ساتھ پارٹی کے قومی ترجمان پون کھیڑا اور سینئر رہنما منصور علی خان کو بھی راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ پون کھیڑا کی نامزدگی کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ وہ پہلی بار پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں پہنچنے کے قریب ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے پارٹی کا مؤثر اور توانا چہرہ رہے ہیں اور قومی سطح پر کانگریس کے موقف کو مضبوط انداز میں پیش کرتے رہے ہیں۔

منصور علی خان کو اقلیتی طبقے کی ایک اہم آواز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی نامزدگی کو سماجی نمائندگی اور مختلف طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی کانگریس کی پالیسی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔





مدھیہ پردیش سے سابق رکن پارلیمنٹ میناکشی نٹاراجن کو راجیہ سبھا کا امیدوار بنایا گیا ہے۔ وہ راہل گاندھی کی قریبی ساتھیوں میں شمار کی جاتی ہیں اور تنظیمی و سیاسی سطح پر طویل تجربہ رکھتی ہیں۔ ان کی نامزدگی کو خواتین قیادت کے فروغ اور مدھیہ پردیش میں پارٹی کی مضبوطی کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

راجستھان سے موجودہ راجیہ سبھا رکن نیرج ڈانگی پر ایک بار پھر اعتماد ظاہر کیا گیا ہے۔ پارٹی قیادت نے انہیں دوبارہ امیدوار بنا کر ان کی سیاسی خدمات اور تنظیمی کردار کو سراہا ہے۔


تمل ناڈو سے پروین چکرورتی کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ وہ کانگریس کے اعداد و شمار اور تجزیاتی شعبے کی قیادت کرتے رہے ہیں اور پالیسی سازی کے معاملات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جھارکھنڈ سے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری پرنو جھا کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ تنظیمی امور اور ذرائع ابلاغ کے شعبے میں ان کی سرگرم موجودگی کو دیکھتے ہوئے اس فیصلے کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ راجیہ سبھا کی 24 نشستوں کے لیے مختلف ریاستوں میں 18 جون کو انتخابات ہوں گے، جبکہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 8 جون مقرر کی گئی ہے





امریکہ-ایران کشیدگی کا حل جنگ نہیں بلکہ سفارت کاری ہے، ہندوستانی عوام کے شکر گزار ہیں: ڈاکٹر محمد فتح علی

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو


نئی دہلی: ہندوستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا پائیدار حل جنگ یا طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ہمیشہ سیاسی اور پرامن حل کا حامی رہا ہے اور مستقبل میں بھی اسی راستے کو ترجیح دے گا۔

آئی اے این ایس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا کہ ایران نے کبھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا اور نہ ہی وہ خطے میں عدم استحکام چاہتا ہے۔ ان کے مطابق تہران ہر اس کوشش کا خیر مقدم کرتا ہے جو تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ اور امن دونوں صورت حال کے لیے تیار ہے، تاہم اس کی اولین ترجیح سفارت کاری اور سیاسی حل ہے۔

ایرانی سفیر نے حالیہ دنوں میں بار بار ٹوٹنے والے جنگ بندی معاہدوں پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی کی کئی مرتبہ خلاف ورزی کی گئی، جس کے بعد ایران نے اپنے دفاع کے حق کے تحت اقدامات کیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اب بھی جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل کا پابند ہے لیکن ملک کی سلامتی اور خودمختاری اس کے لیے سرخ لکیر کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کیے گئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا جس میں ایران سے متعلق تنازعہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ڈاکٹر فتح علی نے کہا کہ وہ امریکہ کے اندرونی سیاسی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے، لیکن ہر وہ قدم مثبت ہے جو کشیدگی میں کمی اور جنگ کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ہو۔



کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملوں کے الزامات کے بارے میں ایرانی سفیر نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے فوجی ماہرین کی ابتدائی جانچ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ ایرانی میزائل ہوائی اڈے کی طرف داغا گیا تھا۔ ان کے مطابق بعض نقصانات ممکنہ طور پر دفاعی نظام کی تکنیکی خرابی کے باعث ہوئے ہوں گے۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر فتح علی نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے میں دیرپا امن اسی وقت ممکن ہے جب بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جائے اور شہری آبادی کو تشدد سے محفوظ رکھا جائے۔

اس موقع پر ایرانی سفیر نے ہندوستانی عوام کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کے نقصان کے بعد غم کی اس گھڑی میں ہندوستان کے عوام نے بھرپور ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان کے بقول ہندوستانیوں نے ایران کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا، جس پر ایرانی عوام ہمیشہ ان کے شکر گزار رہیں گے۔




ہندوستان کے پڑوس میں نیا ملک بنانے کی کوششیں تیز، رخائن کے 17 میں سے 14 علاقوں پر باغیوں کا قبضہ

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو


ہندوستان کے پڑوسی ملک میانمار سے ریاست رخائن کی آزادی کا اعلان کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ اراکان آرمی، یعنی باغیوں نے رخائن کو الگ کرنے کی جدوجہد انتہائی تیز کر دی ہے۔ راجدھانی ستوے کا اراکان کے جنگجوؤں نے محاصرہ کر لیا ہے اور اس جنگ کو آخری بڑی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر راجدھانی ستوے پر اراکان آرمی کا قبضہ ہو جاتا ہے تو باغی گروپ رخائن کو ایک الگ ملک بنانے کا اعلان کر دے گا۔

مقامی اخبار ’دی اراوادی‘ کے مطابق اراکان آرمی پہلے ہی 17 میں سے 14 علاقوں پر قبضہ کر چکی ہے۔ اب باقی 3 علاقوں پر قبضے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اراکان آرمی نے ستوے کے اطراف اپنے محاذ بھی قائم کر لیے ہیں اور اس کی پوری توجہ ستوے پر کنٹرول حاصل کرنے پر ہے۔



قابل ذکر ہے کہ 2009 میں اراکان نسل (بدھ مت کے پیروکار) نے رخائن کو زیادہ انتظامی اختیارات دینے کے مطالبے کے ساتھ تحریک شروع کی۔ اسی سال اراکان آرمی کی تشکیل بھی کی گئی۔ رخائن بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد کے قریب واقع ایک صوبہ ہے۔ یہاں 2016 کے بعد بغاوت نے شدت اختیار کر لی۔ اراکان آرمی سے وابستہ افراد نے ابتدا میں یہاں کی روہنگیا برادری کے خلاف قتل عام کی مہم شروع کی۔ آبادی کے اعتبار سے روہنگیا اس علاقے میں اقلیت میں تھے۔

اراکان آرمی کی کارروائیوں کے باعث روہنگیا برادری کو یہاں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ اسی دوران میانمار کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور فوج نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے بعد اراکان آرمی نے اپنی بغاوت کو مزید تیز کر دیا۔ ابتدا میں فضائی حملوں کی وجہ سے اراکان آرمی جنٹا فوج کے مقابلے میں کمزور دکھائی دے رہی تھی، لیکن بعد میں اس نے علاقے میں اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ اب اراکان آرمی کا مطالبہ رخائن کو ایک الگ ریاست بنانا ہے۔



اراکان آرمی کے کمانڈر ان چیف تُن میات نائنگ نے 2027 تک ’مکمل طور پر آزاد اراکان‘ کا ہدف مقرر کیا ہے۔ نائنگ کا کہنا ہے کہ تب تک ان کی فوج اتنی مضبوط ہو جائے گی کہ میانمار کی فوج کو یہ علاقہ چھوڑ کر بھاگنا پڑے گا۔ مقامی اخبار ’اراوادی‘ کے مطابق اراکان آرمی نے ستوے کے اطراف فوجی ٹینکرس اور رسد کی سپلائی روکنے کے لیے بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔

واضح رہے کہ 29 مئی سے یکم جون کے درمیان ستوے کے قریب جُنٹا فوج اور اراکان آرمی کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں جُنٹا فوج کے 40 اہلکار مارے گئے۔ اب تک اراکان آرمی میانمار کی فوج کے فضائی حملوں کے سامنے نسبتاً کمزور ثابت ہو رہی تھی، لیکن حالیہ مہینوں میں جنگجوؤں نے ڈرونز اور کندھے پر رکھ کر داغے جانے والے میزائل حاصل کر لیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں میانمار کی جنٹا فوج کو فضائی حملے کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی لیے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ریاست رخائن کی آزادی کا اعلان کسی بھی وقت ممکن ہے۔





امریکی کانگریس میں ایران جنگ کی لاگت اور نتائج پر سخت بحث، ڈیموکریٹس نے ٹرمپ انتظامیہ سے مانگا جواب

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو


واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان کی مسلح خدمات کمیٹی میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے معاملے پر شدید سیاسی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ مالی سال 2027 کے قومی دفاعی اختیارات ایکٹ پر غور کے دوران جنگ کی لاگت، اس کے اسٹریٹجک نتائج اور امریکی مفادات پر اس کے اثرات موضوعِ بحث رہے۔ اجلاس میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن اراکین کے درمیان اس معاملے پر واضح تقسیم دیکھنے میں آئی۔

ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر ہونے والے اخراجات اور ان کے نتائج کے بارے میں مکمل اور شفاف معلومات کانگریس کے سامنے پیش کی جائیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ عوام اور منتخب نمائندوں کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اس جنگ پر قومی خزانے سے کتنی رقم خرچ ہو رہی ہے اور اس کے طویل مدتی اثرات کیا ہوں گے۔

ڈیموکریٹ رکن سیٹھ مولٹن نے اجلاس کے دوران زور دے کر کہا کہ کانگریس کو جنگ کی اصل مالی لاگت سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مکمل مالی تفصیلات کے بغیر کانگریس اپنی نگرانی اور جواب دہی کی آئینی ذمہ داری مؤثر انداز میں ادا نہیں کر سکتی۔ انہوں نے ایک ترمیمی تجویز پیش کی جس کے تحت محکمہ دفاع کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر آنے والے اخراجات کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا پابند بنایا جانا تھا۔



جیسن کرو نے بھی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کے استعمال کے بارے میں مکمل شفافیت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ معلوم کرے کہ جنگی کارروائیوں پر کتنی رقم خرچ ہو رہی ہے اور اس کے بدلے میں کیا نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

کمیٹی میں ڈیموکریٹک رکنِ اعلیٰ ایڈم اسمتھ نے بھی پینٹاگون سے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اخراجات اور حکمت عملی کے بارے میں واضح معلومات کے بغیر مؤثر نگرانی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ایران کے حوالے سے انتظامیہ کے وسیع تر مقاصد بھی ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہیں۔


دوسری جانب ریپبلکن اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کا بھرپور دفاع کیا۔ کمیٹی کے چیئرمین مائیک ڈی راجرز نے اس جنگ کو ’’پسند سے چنی گئی جنگ‘‘ قرار دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ فوجی کارروائیوں نے ایران کی اہم عسکری صلاحیتوں کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے ذریعے ایران کی روایتی فوجی طاقت کو کمزور کیا گیا ہے اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکمت عملی ایسے معاہدے کی راہ ہموار کر رہی ہے جو ایران کے جوہری عزائم سے پیدا ہونے والے خطرات کو مستقل طور پر ختم کر سکتا ہے۔


ریپبلکن رکن جو ولسن نے بھی انتظامیہ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران طویل عرصے سے امریکی مفادات اور خطے کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے، اس لیے فوجی کارروائی ناگزیر تھی۔ بحث کے اختتام پر سیٹھ مولٹن کی ترمیمی تجویز کو ووٹنگ میں مسترد کر دیا گیا۔ کمیٹی کے 30 اراکین نے اس کے خلاف جبکہ 27 اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد اخراجات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرنے کی یہ کوشش ناکام ہو گئی





راجستھان میں ایبولا وائرس کا پہلا مشتبہ معاملہ، یوگانڈا سے آئی خاتون کو آئسولیشن میں رکھا گیا

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو


راجستھان کی راجدھانی جے پور میں ایبولا وائرس کا پہلا مشتبہ معاملہ سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت چوکس ہو گیا ہے۔ یوگانڈا سے سیاحت کی غرض سے ہندوستان آنے والی ایک غیر ملکی خاتون میں ایبولا جیسی علامات پائے جانے کے بعد اسے جے پور کے راجستھان یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اسپتال میں داخل کر کے آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق خاتون جے پور ہوائی اڈے پر پہنچی تو طبی جانچ کے دوران اس میں ایبولا وائرس سے مشابہ علامات دیکھی گئیں۔ اس کے بعد اسے مزید معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اسے الگ نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ خاتون کا نمونہ لے کر پونے کی خصوصی تجربہ گاہ بھیج دیا گیا ہے اور آئندہ دو روز میں رپورٹ موصول ہونے کی توقع ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال خاتون میں ایبولا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ صرف بعض ایسی علامات سامنے آئی ہیں جو اس بیماری سے مشابہ ہو سکتی ہیں۔ حتمی نتیجہ تجربہ گاہ کی رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ اسی وجہ سے احتیاطی طور پر مریضہ کو مسلسل نگرانی میں رکھا گیا ہے اور طبی عملہ تمام ضروری حفاظتی اقدامات پر عمل کر رہا ہے۔

خاتون میں مشتبہ علامات ملنے کے بعد ریاستی محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے الرٹ ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ تصدیق ابھی باقی ہے، لیکن کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات پہلے ہی کر لیے گئے ہیں۔


دریں اثنا، ملک کے دیگر حصوں میں بھی افریقی ممالک سے آنے والے بعض افراد کو احتیاطی طور پر الگ رکھا گیا ہے۔ حیدرآباد کے راجیو گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سوڈان کے ایک شہری میں مشتبہ علامات نظر آنے کے بعد اسے بھی مزید جانچ کے لیے آئسولیشن میں بھیجا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ حال ہی میں جنوبی سوڈان اور یوگانڈا کے سفر سے واپس آیا تھا۔

ادھر چھتیس گڑھ کے ضلع درگ میں ایبولا سے متاثرہ افریقی ممالک سے واپس آنے والے تین افراد کو اکیس دن کے لیے گھروں میں ہی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق ان افراد میں بیماری کی کوئی علامت نہیں پائی گئی اور نہ ہی ان کے ایبولا سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے کا کوئی ریکارڈ ملا ہے۔


ایک خاتون 31 مئی کو کانگو سے درگ پہنچی تھی، جبکہ دو دیگر افراد دو جون کو ایتھوپیا اور یوگانڈا سے بھلائی واپس لوٹے تھے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری اطلاعات پر بھروسہ کریں۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور رپورٹ آنے کے بعد ہی خاتون کی بیماری کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جا سکے گا




تمل ناڈو: انّاملائی نے بی جے پی سے علیحدگی کے بعد نئی پارٹی بنانے کا کیا اعلان

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو


تمل ناڈو بی جے پی کے سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والے لیڈران میں سے ایک کے انّاملائی نے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے جب استعفیٰ دیا تو ریاست میں بی جے پی کی جڑیں کمزور ہوتی ہوئی نظر آئیں، اور اب تو اناملائی نے ایک نیا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے اپنی ایک نئی پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ریاست میں سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کئی دنوں سے جاری قیاس آرائیوں کے بعد بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے جمعہ کو اناملائی کا استعفیٰ قبول کر لیا۔ اس استعفیٰ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے تمل ناڈو بی جے پی کے صدر نینار ناگیندرن نے کہا کہ اناملائی کے جانے سے پارٹی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین نے تمل ناڈو کے سابق ریاستی صدر اناملائی کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔



بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا جب انّاملائی سوشل میڈیا پر عوام کے ساتھ کھلی بات چیت کرنے والے تھے۔ اناملائی کے استعفے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے نینار ناگیندرن نے کہا کہ ’’بی جے پی کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ بی جے پی دنیا کی ایک بڑی پارٹی ہے۔‘‘ ان کے اس بیان کو پارٹی کے آفیشیل موقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب آندھرا پردیش بی جے پی کے صدر پی وی این مادھو نے امید ظاہر کی کہ اناملائی مستقبل میں دوبارہ پارٹی میں واپس آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو میں پارٹی کو مضبوط بنانے میں اناملائی کا اہم کردار رہا ہے اور ان کی واپسی کی امید برقرار ہے۔

واضح رہے کہ اپنے استعفی نامہ میں اناملائی نے لکھا تھا کہ قومی پارٹیاں اکثر تمل ناڈو کے عوام کی زبان اور جذبات کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں انہوں نے اس تاثر کو بدلنے کی کوشش کی اور اس میں کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کی۔ اناملائی نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے سامنے اپنے اختلافات رکھے، لیکن تمل ناڈو کے بارے میں ان کی سوچ اور پارٹی قیادت کی سوچ میں ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکی۔



بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی اور ایڈپڈی کے پلانی سوامی کی قیادت والی اے آئی اے ڈی ایم کے میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اتحاد کے بعد اختلافات بڑھ گئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اناملائی چاہتے تھے کہ بی جے پی تنہا انتخابات لڑ کر اپنا عوامی بنیاد مضبوط کرے، جبکہ مرکزی قیادت اتحاد کے حق میں تھی۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حامی سمجھے جانے والے اناملائی نے 2020 میں سول سروس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ کچھ ہی عرصہ میں انہیں ریاستی نائب صدر بنایا گیا اور 2021 میں وہ تمل ناڈو بی جے پی کے صدر بن گئے۔ تاہم اب تک انہیں کوئی انتخابی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے 2021 کے اسمبلی انتخاب اور 2024 کے لوک سبھا انتخاب میں قسمت آزمائی کی تھی، لیکن انھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔