مہنگائی بڑھے گی اور شرح ترقی گھٹے گی، ریزرو بینک کے اندازوں نے عوام کو دیا دھچکا
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے آج ریپو ریٹ سے متعلق اپنے فیصلے کا اعلان کر دیا۔ ایک بار پھر آر بی آئی نے ریپو ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اسے 5.25 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ ساتھ ہی مرکزی بینک نے مالی سال 27-2026 کے لیے صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی- کنزیوم پرائس انڈیکس) پر مبنی افراطِ زر (مہنگائی) کے اپنے تخمینے کو 4.5 فیصد سے بڑھا کر 5.1 فیصد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ حقیقی جی ڈی پی شرحِ ترقی کے تخمینہ کو 6.9 فیصد سے کم کرکے 6.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ہندوستانی ریزرو بینک کے ذریعہ مہنگائی کے تخمینہ کو بڑھانے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، جن میں سب سے اہم خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دباؤ ہے۔ آئیے ذیل میں آر بی آئی کے فیصلے کی اہم وجوہات پر سرسری نظر ڈالیں۔
خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کا دباؤ:
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں، جس سے ہندوستان میں ایندھن اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
ڈالر کی مضبوطی:
امریکی ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپے کی حالیہ کمزوری کے سبب ضروری اشیا کی درآمد مہنگی ہو گئی ہے۔
موسم اور زرعی پیداوار:
شدید گرمی اور مانسون کے غیر یقینی حالات کی وجہ سے دالوں، سبزیوں اور دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اس درمیان آر بی آئی نے رواں مالی سال کی تمام سہ ماہیوں کے لیے شرحِ نمو کے تخمینوں میں تبدیلی کی ہے، جو اس طرح ہے:
پہلی سہ ماہی (کوارٹر 1 مالی سال 2027): 6.8 فیصد سے کم کر کے 6.6 فیصد
دوسری سہ ماہی (کوارٹر 2 مالی سال 2027): 6.7 فیصد سے کم کرکے 6.3 فیصد
تیسری سہ ماہی (کوارٹر 3 مالی سال 2027): 7.0 فیصد سے کم کرکے 6.5 فیصد
چوتھی سہ ماہی(کوارٹر 4 مالی سال 2027): 7.2 فیصد سے کم کرکے 6.8 فیصد
عام آدمی پر کیا اثر پڑے گا؟
مہنگائی میں اضافہ اور شرحِ سود کے بلند رہنے کا اثر ملک کی اقتصادی ترقی پر پڑتا ہے، کیونکہ اس سے ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آر بی آئی نے موجودہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی شرحِ ترقی کے اپنے اندازوں کو بھی کم کر دیا ہے۔ جب مہنگائی 4.5 فیصد سے بڑھ کر 5.1 فیصد ہو جائے گی تو کھانے پینے کی اشیا، پٹرول، ڈیزل اور روزمرہ استعمال کی دیگر ضروری چیزیں مہنگی ہو جائیں گی۔ عام لوگوں کو بنیادی ضروریات پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ خرچ کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بازار میں طلب کم ہو سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر اقتصادی سرگرمیوں اور شرحِ ترقی پر پڑے گا، اور ملک کی مجموعی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔
کئی ممالک کے سنٹرل بینکوں نے اپریل ماہ میں بڑھ چڑھ کر کی سونے کی خریداری، آر بی آئی نے بنائی دوری!
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
عالمی صرافہ بازار اور عالمی معیشت میں جاری اتھل پتھل کے درمیان دنیا کے کئی ممالک کے سنٹرل بینکوں کا رجحان ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری کے لیے سونے کی جانب بڑھ گیا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں بڑے پیمانے پر سونا فروخت کرنے کے بعد مرکزی بینک اپریل میں دوبارہ خالص خریدار بن گئے۔ اپریل کے دوران مختلف ممالک کے سنٹرل بینکوں نے مجموعی طور پر 17 ٹن خالص سونا خریدا۔ تاہم ہندوستانی سنٹرل بینک آر بی آئی نے سونے کی خریداری سے گریز کیا۔
نیشنل بینک آف پولینڈ دنیا کا سب سے بڑا خریدار رہا، جس نے تنہا 14 ٹن سونا خریدا۔ پیپلز بینک آف چائنا نے اپنے ذخائر میں 8 ٹن سونا شامل کیا۔ دسمبر 2024 کے بعد یہ چین کی سب سے بڑی ماہانہ خریداری ہے۔ چین مسلسل 18 ماہ سے سونا خرید رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا مجموعی ذخیرہ 2,322 ٹن تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری طرف چیک جمہوریہ نے مسلسل 38ویں ماہانہ خریداری کرتے ہوئے مزید 2 ٹن سونا اپنے ذخائر میں شامل کیا۔
موجودہ عالمی بحران کے دوران ایک جانب دنیا بھر کے مرکزی بینک مسلسل سونا خرید رہے ہیں، جبکہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے اپریل میں کوئی خریداری نہیں کی۔ آر بی آئی نے 2026 میں اب تک صرف مارچ کے مہینے میں 200 کلوگرام سونا خریدا ہے۔ اس سے قبل اس نے 2025 میں 4.2 ٹن اور 2024 میں ریکارڈ 72.6 ٹن سونا خریدا تھا۔ اس وقت آر بی آئی کے سونے کے ذخائر 880.52 ٹن پر مستحکم ہیں۔
بہرحال، جے پی مورگن کے مطابق چین ایک منظم اور طویل مدتی حکمت عملی کے تحت سونا خرید رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنا ہے تاکہ کسی بحران والی حالت، مثلاً جنگ یا شدید بین الاقوامی کشیدگی، کی صورت میں وہ امریکی پابندیوں سے محفوظ رہ سکے۔ روس-یوکرین جنگ کے بعد امریکہ نے جس طرح روس کے ڈالر ذخائر منجمد کیے تھے، اس سے چین مزید محتاط ہو گیا ہے۔
اس درمیان روس نے مسلسل چوتھے مہینے اپریل میں 6 ٹن سونا فروخت کیا اور رواں سال اب تک مجموعی طور پر 22 ٹن سونا بیچ چکا ہے۔ ازبکستان نے اپریل میں ایک ٹن سونا فروخت کیا، تاہم اس سال مجموعی خریداری (24 ٹن) کے لحاظ سے وہ پولینڈ کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر برقرار ہے۔ مارچ میں سب سے زیادہ سونا فروخت کرنے والے ترکیے کا رویہ اپریل میں تقریباً مستحکم رہا اور اس نے خرید و فروخت کے حوالے سے کوئی نمایاں تبدیلی نہیں دکھائی۔
کرناٹک حکومت میں قلمدانوں کی تقسیم، وزیر اعلیٰ نے محکمہ مالیات اپنے پاس رکھا، پریانک کھڑگے بنے وزیر داخلہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اپنی نئی 13 رکنی وزارتی کونسل میں قلمدانوں کی تقسیم کر دی ہے۔ گورنر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ شیوکمار نے محکمۂ مالیات، عملہ اور انتظامی اصلاحات اپنے پاس ہی رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ جن محکموں کی ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہے، وہ بھی وزیر اعلیٰ کے پاس رہیں گے۔ نائب وزیر اعلیٰ جی پرمیشور کو محکمۂ محصولات کے ساتھ نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور کھیل کے محکمہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پریانک کھڑگے کو محکمۂ داخلہ دیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت میں کے جے جارج کو محکمۂ توانائی کے ساتھ محکمۂ سیاحت کی اضافی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایم بی پاٹل کے پاس بڑے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا محکمہ برقرار رکھا گیا ہے۔ ستیش جارکیہولی محکمۂ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کی ذمہ داری بدستور سنبھالیں گے، جبکہ کے ایچ منیپّا کو محکمۂ خوراک و شہری رسد اور شرن پرکاش پاٹل کو محکمۂ طبی تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کرشن بائیرے گوڑا کو گریٹر بنگلورو اتھارٹی (جی بی اے) کے تحت بنگلورو شہری ترقی کا محکمہ دیا گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر رام لنگا ریڈی کو بڑے اور درمیانے آبپاشی کے محکمے کی ذمہ داری ملی ہے۔ بیراتھی سریش کو محکمۂ ٹرانسپورٹ دیا گیا ہے، جبکہ یو ٹی قادر کو محکمۂ صحت سونپا گیا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ سدھارمیا کے بیٹے اور قانون ساز کونسل کے رکن یتیندر سدھارمیا کو محکمۂ شہری ترقی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان کے محکمے کے تحت شہری آب رسانی و سیوریج بورڈ، شہری بنیادی ڈھانچہ ترقی و مالیاتی کارپوریشن اور کئی شہری ترقیاتی اتھارٹیز شامل ہیں۔ ایشور کھنڈرے کو محکمۂ دیہی ترقی کا قلمدان سونپا گیا ہے۔
تاہم محکموں کی تقسیم کو لے کر کانگریس کے اندر کچھ ناراضگی بھی سامنے آئی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بعض وزراء اپنے حصے میں آنے والے محکموں سے مطمئن نہیں تھے، جس کی وجہ سے محکموں کی تقسیم میں تاخیر ہوئی۔ خاص طور پر بنگلورو کے بی ٹی ایم لے آؤٹ سے رکن اسمبلی رام لنگا ریڈی بنگلورو ترقی کا محکمہ چاہتے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ شیوکمار یہ محکمہ کرشنا بائیرے گوڑا کو دینا چاہتے تھے۔ اسی معاملے پر ریڈی نے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔
بہرحال، وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ قلمدانوں کی تقسیم کانگریس قیادت کی ہدایات کے مطابق کی گئی ہے اور تمام کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی داخل کرنے کے موقع پر راہل گاندھی بنگلورو آئیں گے۔ اس کے علاوہ کانگریس کے 4 امیدوار جمعہ کو قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کریں گے، جبکہ پانچویں امیدوار کے نام پر پارٹی کے اندر ابھی بھی صلاح و مشورہ جاری ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 10 جون کے آس پاس کابینہ میں توسیع کا دوسرا مرحلہ بھی ہو سکتا ہے، تاہم کانگریس قیادت نے ابھی اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
روسی صدر کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کی پی ایم مودی کی تعریف، تجارتی معاہدہ کا بھی کیا ذکر
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
روسی صدر ولادمیر پوتن کے ذریعہ ہندوستان اور ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کیے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی ہندوستانی وزیر اعظم کی تعریف کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے پی ایم مودی کو اپنا اچھا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں اور تجارتی مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم معاہدے تک پہنچ جائیں گے، کیونکہ مجھے آپ کے وزیر اعظم بہت پسند ہیں۔ وہ میرے اچھے دوست ہیں۔ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ہم ایک تجارتی معاہدہ کریں گے۔‘‘
اس سے قبل روسی صدر ولادمیر پوتن نے امریکہ پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہندوستان پر کچھ معاملوں میں دباؤ ڈال رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ’’امریکہ یقیناً روس اور ہندوستان کے تعلقات کو لے کر ہندوستان پر دباؤ بنانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے ایسی کوششیں بے اثر ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ لگاتار روس کے ساتھ تعاون سمیت کئی معاملوں میں ہندوستان پر دباؤ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ہندوستان ایسی کوششوں کی مخالفت کرے گا۔
اب وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی صدر ہندوستان کے ساتھ امریکہ کے تجارتی معاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے نظر آئے۔ انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی معاہدے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کئی برسوں تک ہندوستان نے امریکہ پر بلند درآمد ٹیکس عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان امریکی مصنوعات پر بھاری ٹیرف وصول کرتا تھا، جبکہ امریکہ کو اس کے مساوی فائدہ حاصل نہیں ہوتا تھا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اب صورتحال بدل گئی ہے اور امریکہ کو ہندوستان کے ساتھ تجارت سے بہتر آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم ایک معاہدے تک پہنچ جائیں گے، کیونکہ مجھے وزیر اعظم مودی بہت پسند ہیں۔ وہ میرے اچھے دوست ہیں اور ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔‘‘
ممتا کیسے الگ تھلگ ہو گئیں؟ ارکان اسمبلی کے بعد اب ارکان پارلیمنٹ کی بغاوت کا بھی خطرہ!
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اپنے سب سے بڑے سیاسی بحران کا سامنا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اارکان اسمبلی کے درمیان پھوٹ اور بغاوت کی خبروں کے درمیان، اب ارکان پارلیمنٹ میں بھی عدم اطمینان کا اندیشہ ہے، جس سے پارٹی کے مستقبل پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ ٹی ایم سی انڈیا الائنس میں دوسری سب سے بڑی پارٹی ہے اور تقریباً ڈیڑھ دہائی سے بنگال کی سیاست پر غلبہ رکھتی ہے۔ پارٹی کی کمزوری قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد کو بھی متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر چونکہ ممتا بنرجی بی جے پی اور قومی جمہوری اتحاد کی حکومت کی نمایاں نقاد رہی ہیں۔
اب سبھی کی نظریں 8 جون کو ہونے والی انڈیا الائنس میٹنگ پر ہیں، جہاں ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی شرکت متوقع ہے۔ یہ میٹنگ اس بات کا تعین کرے گی کہ ٹی ایم سی اپنے اندرونی بحران کے باوجود کس حد تک مؤثر طریقے سے اپوزیشن کی سیاست میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ ٹی ایم سی کا مستقبل دو عوامل پر منحصر ہوگا: پہلا، اندرونی تقسیم کتنی جلدی ہوتی ہے، اور دوسرا، قومی اپوزیشن کے ساتھ اس کا ہم آہنگی کتنا مضبوط رہتا ہے۔
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی 28 سالہ تاریخ میں یہ پہلی بڑی تقسیم ہے، جس سے پارٹی قیادت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ نتیجتاً سیاسی حلقوں میں یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ آیا ممتا بنرجی اپنے ممبران اسمبلی اورارکان پارلیمنٹ کو متحد رکھ پائیں گی۔
ادھر باغی لیڈر نے قیادت کو کھلا چیلنج دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ٹی ایم سی کے 80 ایم ایل اے میں سے 58 ریتابرت بنرجی کی حمایت کرتے ہیں، جنہیں اپوزیشن لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ پورا اقدام قانونی طریقہ کار کے مطابق اٹھایا گیا ہے اور اب اس پر سوال اٹھانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ریتابرت بنرجی کی حمایت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جہاں انہوں نے تسلیم کیا کہ ممتا بنرجی کو اب بھی پارٹی کا لیڈر مانا جاتا ہے، وہیں ابھیشیک بنرجی کو لیڈر تسلیم کرنے پر اختلاف ہے۔ ابھیشیک بنرجی اور ان کے قریبی رہنماؤں پر "باس کلچر" کا الزام ہے، جس نے پارٹی کے اندر عدم اطمینان کو ہوا دی ہے۔یہ پیش رفت ترنمول کے اندر گہرے ہوتے ہوئے قیادت کے بحران اور اندرونی اختلاف کی عکاسی کرتی ہے، جو مستقبل میں پارٹی کی سمت اور طاقت دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں کراری شکست کے بعد ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اپنے اب تک کے سب سے بڑے سیاسی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ ارکان اسمبلی کے درمیان پھوٹ کی خبروں کے دوران، اب ارکان پارلیمنٹ کے درمیان ممکنہ تقسیم کا خطرہ ہے، جس سے پارٹی کے مستقبل پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی صدر ممتا بنرجی نے ابھیشیک بنرجی اور دیگر سینئر لیڈروں کے ساتھ ایک طویل میٹنگ کی تاکہ مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
آئندہ مانسون سیشن ٹی ایم سی ارکان پارلیمنٹ کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے، جس سے انہیں اپنی سیاسی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلی کے طور پر لگاتار تین بار کام کرنے کے بعد، ممتا بنرجی آل انڈیا اتحاد کی ایک مضبوط رہنما رہی ہیں، لیکن بنگال کی شکست سے ان کے سیاسی اثر کو کم کرنے کی امید ہے۔
ہم ہندوستان کو ایک بہت ہی قابل اعتماد پارٹنر سمجھتے ہیں: پوتن
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کھل کر ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے ماسکو کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی پر دباؤ ڈالنے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ پوتن نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیر اعظم مودی پر دباؤ ڈالنے کی امریکی کوششیں نقصان دہ ہوں گی۔
پوتن نے یہ باتیں جمعرات کو سینٹ پیٹرزبرگ میں اہم عالمی خبر رساں اداروں کے سربراہان سے ملاقات کے دوران کہیں۔ انہوں نے ہندوستان کو روس کے لیے انتہائی قابل اعتماد پارٹنر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تعاون کو دو طرفہ تعلقات کے لیے خطرہ نہیں سمجھتا۔ پوتن کے اس بیان کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خام تیل کی خریداری کے حوالے سے ہندوستان پر دباؤ کے جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بات چیت کے دوران پوتن نے کہا، "امریکہ کچھ معاملات پر ہندوستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر، روس کے ساتھ بعض شعبوں میں تعاون کے بارے میں۔ ہر کوئی سمجھ گیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک میں نریندر مودی پر دباؤ ڈالنا بین الاقوامی تعلقات اور دو طرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے۔"
پوتن نے کسی خاص امریکی اقدامات کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے تبصرے توانائی، تجارت اور دفاع کے شعبوں میں روس کے ساتھ ہندوستان کی مسلسل مصروفیت کے بارے میں مغربی خدشات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پوتن نے زور دے کر کہا کہ اس بیرونی دباؤ کا روس ہندوستان تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔
امریکہ کے ساتھ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کے باوجود، پوتن روس اور ہندوستان کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں پراعتماد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ دباؤ کہاں سے آتا ہے۔ ہمیں کوئی منفی نتیجہ نظر نہیں آتا۔ ہم ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترقی دے رہے ہیں اور آگے بھی جاری رکھیں گے۔ ہم ہندوستان کو ایک بہت ہی قابل اعتماد پارٹنر سمجھتے ہیں۔"
روسی صدر نے ہندوستان اور روس کے اقتصادی تعلقات کے مستقبل پر بھی گہرا اعتماد ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 100 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ پوتن نے کہا کہ ہندوستان ایک عظیم ملک اور ایک بڑی جمہوریت ہے، جو ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرتا ہے۔
0 تبصرے