خلیجی ممالک کی جنگ میں دوبارہ شامل نہیں ہوگا امریکہ، ایران کے تازہ ترین حملے کے بعد امریکی اخبار کی رپورٹ میں اہم انکشاف
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ فی الحال ایران کے خلاف پھر سے بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنا نہیں چاہتے۔ حالانکہ انہوں نے اپنے دوست ممالک سے کہا ہے کہ اگر ایران کی کسی کارروائی میں امریکی فوجی مارے جاتے ہیں تو پھر سے وہ فوجی کارروائی شروع کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ سے بچنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ چھوٹے موٹے حملوں اور کشیدگی کو کچھ وقت تک برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ وہ کئی ہفتوں یا مہینوں تک محدود تصادم کو برداشت کر سکتے ہیں۔ لیکن پورے خطے کو جنگ میں نہیں جھونکنا چاہتے۔ دوسری جانب یو اے ای سمیت خلیجی ممالک پر ایرانی حملے جاری ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو جنگ بندی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اس ہفتے سب سے زیادہ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں اور کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس میں ایک شخص کی موت ہو گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو لے کر بھی کشیدگی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ بدھ (3 جون) کو وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی نے ڈونالڈ ٹرمپ سے پوچھا تھا کہ آپ جنگ بندی کو کیسے دیکھتے ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ اس خطے میں جنگ بندی کا مطلب مکمل طور پر امن نہیں ہوتا، بلکہ کم سطح پر حملے جاری رہتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حالات ابھی کنٹرول میں نہیں ہیں اور بات چیت کا راستہ کھلا ہوا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے بات چیت کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ بات چیت اچھی چل رہی ہے اور ممکن ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک کوئی معاہدہ ہو جائے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دونوں فریق کسی حل تک پہنچ سکتے ہیں۔ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے بڑے معاہدے کی امید کر رہا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو پھر سے مکمل طور پر کھولا جائے، ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کیا جائے اور اس کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بھی ختم کیا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً 60 دنوں کی بات چیت کا خاکہ تیار کرنے کے لیے ایک ایم او یو بنانے پر کام چل رہا ہے۔ حالانکہ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کی نئی تجویز کو ٹھکرا دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتصادی ریلیف ملنے سے قبل ایران کو بڑے سمجھوتے کرنے ہوں گے اور مزید لچک دکھانی دینی ہوگی۔ جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ جوہری معاملے پر بات چیت تبھی آگے بڑھے گی جب امریکہ پہلے ایرانی اثاثوں پر عائد پابندی ہٹائے اور معاشی راحت فراہم کرے۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کو واپس لانے کی تیاری میں حکومت، ’کیپیٹل گین ٹیکس‘ کو ہٹانے کا لیا فیصلہ!
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ہندوستانی شیئر مارکیٹ سے سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نکلنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور ’فارن پورٹ فولیو انویسٹر‘ (ایف پی آئی) کی بھاری بکوالی کا دباؤ شیئر مارکیٹ میں صاف نظر آ رہا ہے۔ رواں سال صرف فروری کو چھوڑ دیں تو ہر مہینے ایف پی آئی نے بازار سے پیسے نکالے ہیں۔ اب ان سرمایہ کاروں کی واپسی کے لیے مودی حکومت نے بڑا فیصلہ لیا ہے، جس سے ان سرمایہ کاروں کے یو-ٹرن (ایف پی آئی یو-ٹرن) کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ دراصل غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے مقصد سے اٹھائے گئے ایک اہم قدم کے تحت مودی حکومت نے ہندوستانی سرکاری بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں پر کیپیٹل گین ٹیکس کو ہٹانے کا فیصلہ لیا ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر ذرائع کے حوالے سے ایک خبر شائع کی گئی ہے۔ اس کے مطابق کیش فلو کو بڑھانے، ہندوستانی کرنسی روپے کو سپورٹ کرنے اور ایران جنگ کے باعث خام تیل کی اونچی قیمتوں کے اثر سے معیشت کو بچانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے تحت مودی کابینہ نے بدھ کو اس کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے انکم ٹیکس ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لیے ایک آرڈیننس کو بھی منظوری دے دی ہے، جس سے ان تبدیلیوں کو نافذ کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ صدر جمہوریہ سے منظوری ملنے کے بعد یہ فیصلہ نافذ ہو جائے گا۔
مودی حکومت کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے، جبکہ ملک مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ریکارڈ بکوالی سے نبرد آزما ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ڈالر کے مقابلے روپے میں گراوٹ سے لے کر توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی مار بھی پڑی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان سب چیلنجز کے درمیان حکومت کا مقصد ہندوستانی بازاروں میں زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جس سے ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز کا کچھ حل نکالا جا سکے۔ اس قدم کے تحت حکومت ’فارن پورٹ فولیو انویسٹر‘ (ایف پی آئی) کے ذریعہ ہندوستانی سرکاری سیکیورٹیز (جی-ایس او سی ایس) میں کی گئی سرمایہ کاری پر کیپیٹل گین ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرے گی۔
غور طلب ہے کہ فی الحال غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کو 12 مہینے سے زائد وقت تک رکھے گئے بانڈ اور لسٹیڈ شیئرز پر 12.5 فیصد کا لانگ ٹرم کیپیٹل گینز (ایل ٹی سی جی) ٹیکس دینا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں سرکاری بانڈ سے ملے سود پر 20 فیصد کا وِدہولڈنگ ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس پر پہلے ملنے والی 5 فیصد کی رعایت کو حکومت نے 2023 میں ختم کر دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ ’فارن پورٹ فولیو انویسٹر‘ یعنی ایف پی آئی کا گزشتہ طویل عرصے سے ہندوستانی شیئر بازار کو لے کر موڈ خراب ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ 2026 میں فروری کو چھوڑ کر ہر مہینے بکوالی ہوئی ہے اور اب تک تقریباً 2.5 لاکھ کروڑ روپے نکالے ہیں۔ یہ سال غیر ملکی سرمایہ کاری کے لحاظ سے اب تک کے بدترین سالوں میں سے ایک بن گیا ہے۔
غیر محفوظ غذا سے ہر سال 15 لاکھ اموات، بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ: عالمی ادارۂ صحت
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
جنیوا: عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غیر محفوظ اور آلودہ غذا دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 15 لاکھ افراد کی جان لے رہی ہے۔ ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ اب بھی عالمی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر کم عمر بچوں پر پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں سن 2000 سے 2021 تک 194 ممالک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق ہر سال تقریباً 88 کروڑ 60 لاکھ افراد آلودہ یا غیر محفوظ غذا کے استعمال کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔
پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اس طرح کی بیماریوں کا خطرہ دیگر عمر کے افراد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ پایا گیا ہے، جس سے بچوں کی صحت پر اس مسئلے کے سنگین اثرات واضح ہوتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا کہ غذائی تحفظ صرف صحت کا معاملہ نہیں بلکہ ہر فرد اور ہر خاندان کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق محفوظ غذا تک رسائی ہر انسان کا حق ہے اور اس مقصد کے لیے حکومتوں، اداروں اور معاشروں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران خوراک سے پیدا ہونے والی بعض بیماریوں میں کمی ضرور آئی ہے، تاہم دنیا کے کئی خطوں میں صورت حال اب بھی تشویش ناک ہے۔ افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا ان خطوں میں شامل ہیں جہاں غذائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات کی شرح سب سے زیادہ دیکھی گئی۔ ان دونوں خطوں میں خوراک سے پھیلنے والی بیماریوں کے تقریباً 75 فیصد واقعات اور 60 فیصد اموات ریکارڈ کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق بیکٹیریا، وائرس اور دیگر حیاتیاتی عوامل ایسی بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں، جبکہ آرسینک اور سیسے جیسے مضر کیمیائی عناصر سے آلودہ غذا بھی متعدد جان لیوا بیماریوں اور اموات کا سبب بن رہی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور جراثیم کش ادویات کے خلاف بڑھتی مزاحمت اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے اور موسمی پیٹرن میں تبدیلی کے باعث خوراک کے آلودہ ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، جبکہ ادویات کی کم ہوتی تاثیر بیماریوں کے علاج کو مشکل بنا رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے نتیجے میں صرف 2021 میں عالمی معیشت کو تقریباً 647 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ادارے نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غذائی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں اور عوام کو محفوظ اور معیاری غذا کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
ریل، اسٹوریج سنٹر اور پائپ لائن کا جال، 5 خلیجی ممالک نے تیار کیے آبنائے ہرمز کے 4 متبادل
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
دنیا میں تیل کی سپلائی کے لیے ’آبنائے ہرمز‘ سب سے اہم سمندری راستوں میں سے ایک رہا ہے۔ دہائیوں سے خلیجی ممالک کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچتا تھا۔ لیکن ایران جنگ کے بعد اب خلیجی ممالک اس راستے پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب، یو اے ای، عراق، عمان اور کویت نئی تیل پائپ لائن، ریل کوریڈور اور بڑے انرجی اسٹوریج سنٹر بنانے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد ایسا نیٹورک تیار کرنا ہے، جس سے آبنائے ہرمز بند ہونے کی صورت میں بھی تیل اور دیگر سامان کی سپلائی جاری رہ سکے۔ آئیے ذیل میں جانتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے 4 متبادل راستے کیا ہیں۔
1. یو اے ای کی نئی ویسٹ-ایسٹ پائپ لائن
ابو ظہبی نے فجیرہ تک نئی ویسٹ ٹو ایسٹ کروڈ پائپ لائن بنانے کا منصوبہ تیز کر دیا ہے۔ یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز کے باہر واقع فجیرہ بندرگاہ تک تیل پہنچائے گی۔ اس سے یو اے ای کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت 2027 تک تقریباً دوگنا ہو سکتا ہے۔ یو اے ای ایک ایسی نئی پائپ لائن کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے، جس کے ذریعہ صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول جیسی مصنوعات بھی بھیجی جا سکیں گی۔
2. کویت-سعودی عرب-یو اے ای پائپ لائن کوریڈور
کویت، سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان بھی نئی پائپ لائن منصوبے پر بات چیت چل رہی ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ کویت کا تیل پائپ لائن کے ذریعہ سعودی عرب یا یو اے ای کی بندرگاہوں تک پہنچایا جائے۔ اس کے بعد وہاں سے تیل دنیا کے مختلف ممالک کو بھیجا جائے۔ فی الحال اس منصوبے کا حتمی روٹ طے نہیں ہوا ہے۔
3. عراق کے نئے برآمدی راستے
عراق بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے وہ اردن، شام اور ترکیہ کے راستے بحیرہ روم تک پہنچنے والے پائپ لائن کے نئے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔ پہلا مجوزہ روٹ بصرہ سے اردن کی عقبہ بندرگاہ تک جائے گا۔ اس کی صلاحیت تقریباً 10 لاکھ بیرل روزانہ بتائی جا رہی ہے۔ دوسرا مجوزہ روٹ بصرہ سے عمان کی دقم بندرگاہ تک جائے گا۔ اس سے عراق کا تیل براہ راست بحیرہ احمر تک پہنچ سکے گا۔ عراق اور ترکیہ کے درمیان موجود کرکوک-جیہان پائپ لائن کو بھی پھر سے فعال کیا جا رہا ہے۔
4. عمان میں اسٹوریج اور ایکسپورٹ ہب
کویت اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے باہر آئل اسٹوریج فیسیلٹی بنانے پر بھی بات چیت چل رہی ہے۔ عمان اپنی بندرگاہوں کو تیل اور گیس کے بڑے اسٹوریج اور ایکسپورٹ ہب کے طور پر تیار کرنا چاہتا ہے۔ اس سے خلیجی ممالک کو بحران کے وقت ایک متبادل سہولت مل سکے گی۔
واضح رہے کہ نیچرل گیس کے لیے ابھی کسی نئی پائپ لائن کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ خلیجی ممالک کے درمیان طویل عرصے سے مجوزہ ’گلف ریلوے پروجیکٹ‘ کو تیزی سے آگے بڑھانے پر بات چیت ہو رہی ہے۔ اس سے پٹرولیم مصنوعات اور توانائی کا کچھ سامان ریل کے ذریعہ بھی بھیجا جا سکے گا۔ قطر سے سعودی عرب، اردن اور مصر تک گیس کوریڈور بنانے بات چیت چل رہی ہے۔ اس کے علاوہ قطر سے سعودی عرب، اردن اور ترکیہ تک گیس پائپ لائن کا تصور بھی طویل عرصے سے موجود ہے۔ یہ منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں خلیج کی گیس براہ راست یورپ تک پہنچ سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ فی الحال سب سے زیادہ بحث ان 4 اہم متبادلات پر ہو رہی ہے، لیکن اس کے علاوہ سعودی عرب اپنی موجودہ ایسٹ-ویسٹ (پائپ لائن) کو توسیع دینے پر غور کر رہا ہے۔ خلیجی ممالک ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جس سے تیل اور گیس کو آبنائے ہرمز کے باہر واقع بندرگاہوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ مستقبل میں خلیجی ممالک کے درمیان نئی پائپ لائن اور ریل کوریڈور پروجیکٹ سامنے آ سکتے ہیں۔
مالویہ نگر حادثہ: ریاض الدین اور افضل جیسے کئی ’ریئل لائف ہیروز‘ نے دوسروں کی جان بچانے کے لیے خود کی نہیں کی پرواہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
یہ کہانی دہلی کے مالویہ نگر آتشزدگی میں لوگوں کی جان بچانے والے جاں باز ریئل ہیروز کی ہے۔ انہوں نے دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی۔ ’فلرش اسٹے ہوٹل‘ آگ کی لپٹوں میں گھرا ہوا تھا، چاروں طرف دھواں پھیلا تھا اور اندر پھنسے لوگ مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہے تھے۔ حالات اتنے ہولناک تھے کہ آس پاس کھڑے لوگ بھی سہمے ہوئے تھے، لیکن اسی افراتفری کے درمیان کچھ بہادر لوگ آگے آئے۔ انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ہوٹل کے اندر داخل ہو کر لوگوں کو باہر نکالا، زخمیوں کی مدد کی اور کئی زندگیاں بچائیں۔
اس اندوہناک حادثے میں 21 لوگوں کی دردناک موت ہو گئی اور کوئی لوگ اب بھی اسپتالوں میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا اگر ریاض الدین، عامر اور محمد وسیم جیسے بہادر لوگو وقت رہتے مدد کے لیے آگے نہ آتے۔ انہوں نے آگ کی لپٹوں کے سامنے بھی انسانیت کا دامن نہیں چھوڑا۔ حادثے کے دوران ہوٹل کے سامنے گدوں کی دکان چلانے والے ریاض الدین منصوری اور ان کے بیٹے ارمان سب سے پہلے مدد کے لیے آگے آئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ کئی لوگ اوپری منزلوں پر پھنسے ہوئے ہیں اور کھڑکیوں سے مدد کے لیے آواز لگا رہے ہیں، تو انہوں نے بلا تاخیر اپنی دکان سے درجنوں گدے اور رضائیاں نکال کر ہوٹل کے باہر بچھا دیں۔ گدوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر انہوں نے ایک عارضی حفاظتی ڈھال تیار کیا تاکہ لوگ اوپر سے کود کر اپنی جان بچا سکیں۔
ارمان کے مطابق لوگوں کی جان بچانے کے دوران انہیں خود بھی چوٹیں آئیں اور ان کی دکان کا تقریباً 2 لاکھ روپے کا سامان نقصان میں چلا گیا۔ ریاض الدین کا کہنا ہے کہ کسی کی جان بچانے کے سامنے یہ نقصان کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ان کے الفاظ تھے کہ ’’ہندو مسلمان سے اوپر انسانیت ہوتی ہے۔ ہم سب ہندوستانی ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔‘‘
مقامی نوجوان محمد افضل بتاتے ہیں کہ ہوٹل کے اندر حالات بے حد ہولناک تھے۔ دھوئیں کے باعث سانس لینا مشکل ہو رہا تھا، آنکھوں میں شدید جلن تھی اور سیڑھیاں تک گرم ہو چکی تھیں۔ کئی لوگ کمروں کے باہر بے ہوشی کی حالت میں پڑے ملے۔ ایسے میں نوجوانوں نے اپنے منہ پر کپڑا باندھا اور ایک ایک منزل پر جا کر پھنسے ہوئے لوگوں کو باہر نکالنا شروع کیا۔ کئی لوگوں کو کندھوں پر اٹھا کر نیچے لایا گیا۔ کچھ لوگ گھبراہٹ میں رو رہے تھے تو کچھ پوری طرح بے ہوش تھے۔
اسرار خان بتاتے ہیں کہ ’’جب ہم نے ہوٹل سے دھواں نکلتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ اندر پھنسے لوگوں کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ اوپر سے لوگ مدد کے لیے آواز لگا رہے تھے۔ ہم چند ساتھی فوراً ہوٹل کے اندر گھس گئے۔ دھوئیں کی وجہ سے سانس لینا مشکل تھا، لیکن لوگوں کی جان بچانا زیادہ ضروری تھا۔ کئی لوگ بے ہوش پڑے تھے، جنہیں کندھوں پر اٹھا کر باہر نکالا گیا۔‘‘ وقار کے مطابق ہوٹل کی اوپری منزلوں پر پھنسے لوگ بری طرح گھبرائے ہوئے تھے۔ کئی لوگ کھڑکیوں سے جھانک کر مدد مانگ رہے تھے۔ ہم نے آس پاس کے گھروں اور دکانوں سے گدے اکٹھے کیے اور نیچے بچھا دیے، تاکہ اگر کوئی کودے تو اس کی جان بچ سکے۔ کچھ لوگوں نے تیسری اور چوتھی منزل سے چھلانگ لگائی، جنہیں ہم سنبھالتے رہے۔
محمد افضل بتاتے ہیں کہ ’’جب ہم اندر پہنچے تو چاروں طرف صرف دھواں ہی دھواں تھا۔ کئی کمروں کے دروازے بند تھے۔ ہم لوگوں کو آواز دے کر باہر نکلنے کا راستہ بتاتے رہے۔ کئی غیر ملکی شہری زبان نہیں سمجھ پا رہے تھے، اس لیے انہیں اشاروں سے باہر آنے کے لیے کہتے رہے۔ باہر لانے کے بعد کئی لوگوں کی حالت بے حد تشویشناک تھی۔‘‘ محمد شعیب خان کہتے ہیں کہ ’’جب کچھ لوگوں کی سانسیں رکتی ہوئی دکھائی دیں تو میں نے فوراً انہیں سی پی آر دینا شروع کیا۔ کئی لوگ پوری طرح بے ہوش تھے۔ ان کے اہل خانہ گھبرائے ہوئے تھے۔ ہم ایک طرف فرسٹ ایڈ دے رہے تھے تو دوسری طرف لوگوں کو ہمت بھی بندھا رہے تھے۔
حادثے کے وقت میکس اسپتال میں ملازم وسیم راجا بھی جائے وقوعہ پر پہنچے۔ اسپتال میں ملنے والی ایمرجنسی ٹریننگ کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ہوٹل کے اندر اور باہر کئی لوگوں کو سی پی آر دیا۔ وسیم نے بتایا کہ آگ جیسی ہنگامی صورتحال میں لوگوں کی جان بچانے کے لیے انہیں خصوصی تربیت دی جاتی ہے اور اسی تربیت کی بنیاد پر انہوں نے زخمیوں کی مدد کی۔ انہوں نے کئی لوگوں کو باہر نکال کر ایمبولینس تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
محمد انیس نے بتایا کہ میں کمرے میں سو رہا تھا کہ میری کرایہ دار نے آگ کے بارے میں بتایا۔ میں نے دیکھا کہ ہوٹل میں آگ لگی ہوئی تھی۔ کھڑکیاں کسی طرح سے توڑیں۔ پھر ہم نے گدے بچھائے، جس پر کچھ لوگوں نے کود کر اپنی جان بچائی۔ توصیف خان نے بتایا کہ میرا گھر پیچھے ہی تھا۔ ہم مدد کے لیے پیچھے سے گئے اور باتھ روم کے راستے اندر داخل ہوئے۔ وہاں ہم نے لوگوں کو اوپر سے ہی نیچے پڑے گدوں پر کودنے میں مدد کی۔
قابل ذکر ہے کہ اس ریسکیو آپریشن میں پولیس اہلکاروں نے بھی غیر معمولی ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ حادثے کے دوران لوگوں کو محفوظ باہر نکالنے کی کوششوں میں مصروف دہلی پولیس کے 10 جوان بھی زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں ہیڈ کانسٹیبل کرتار، ہرگیان، پریم چند، جتیندر اور دنیش کے ساتھ ساتھ کانسٹیبل روی رنجن، سندیپ، وکرم، دیپک اور رام پال شامل ہیں۔ یہ جوان آگ کی لپٹوں سے جھلس گئے، لیکن انہوں نے اپنی مہم نہیں روکی
0 تبصرے