خراب سڑکوں اور ٹریفک جام کے لیے بدنام بنگلورو کی حالت بدلنے کے لیے وزیر اعلیٰ شیوکمار نے اٹھایا بڑا قدم
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کرناٹک کے نئے وزیر اعلیٰ بننے کے کچھ ہی دیر بعد ڈی کے شیوکمار نے بنگلورو اور ریاست کے نوجوانوں کے لیے کئی بڑے اور اہم فیصلے کیے۔ خاص بات یہ ہے کہ جس مسئلے کی وجہ سے بنگلورو پوری دنیا میں بدنام ہے، اس کے حل کے لیے ڈی کے شیوکمار نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ بنگلورو کو ملک کی ’آئی ٹی راجدھانی‘ کہا جاتا ہے، لیکن یہاں کی خستہ حال سڑکیں، گڈھے اور ٹریفک جام ایک سنگین مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ ان مسائل کے حل اور سڑکوں کی بہتری کے لیے ڈی کے شیوکمار حکومت نے اپنے پہلے فیصلے میں 2000 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ اس کے علاوہ روزگار کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
دراصل بنگلورو میں بہت سے مکانات اور عمارتیں مناسب منصوبہ بندی کے بغیر یا سرکاری ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے (مقررہ حد سے زیادہ اونچائی تک) تعمیر کی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ایسے مکانات کے بجلی اور پانی کے کنکشن منقطع کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عوام کو اس بحران سے بچانے کے لیے حکومت ایک نئی اسکیم لانے جا رہی ہے، جس کے ذریعے ان غیر مجاز مکانات کو باقاعدہ حیثیت دی جا سکے گی۔
وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ بنگلورو میں مناسب منصوبہ بندی کے بغیر مکانات تعمیر کیے گئے ہیں۔ ایسے مکانات کو بجلی اور پانی کے کنکشن فراہم کرنے پر عدالتی پابندی عائد ہے۔ حکومت نے 30 سے 40 سائٹس کے لیے کمپلیشن اور آکیوپینسی سرٹیفکیٹ (سی سی/او سی) جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2500 مربع فٹ تک کی جائیدادوں کے لیے ایک مرتبہ تصفیہ (ون ٹائم سیٹلمنٹ) اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے پہلے ہی اس سہولت کے لیے درخواست دے رکھی ہے، انہیں اس کا براہ راست فائدہ ملے گا۔ شیوکمار نے نوجوانوں کے لیے بھی ایک بڑی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ریاست میں 50 ہزار نئی اسامیاں پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ اگلی کابینہ میٹنگ تک ملازمتوں سے متعلق نوٹیفکیشن اور ایک کیلنڈر جاری کرنے کے بارے میں غور کیا جائے گا۔
شیوکمار نے کہا کہ روزگار کے شعبہ میں ہم نے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ پرائیویٹ شعبے میں ملازمت تلاش کرنے والے افراد کے لیے حکومت ایک پرائیویٹ ایمپلائمنٹ ایکسچینج پروگرام شروع کرے گی۔ اس کے تحت ملازمت کے خواہش مند نوجوانوں کا اندراج کیا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس نوعیت کی ملازمت چاہتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں تربیت دی جائے گی، تیار کیا جائے گا اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ انہیں مطلوبہ شعبے میں روزگار حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں ایک شرط ہوگی، اور وہ یہ کہ ملازمت کے متلاشی کرناٹک کے نوجوانوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے علاوہ طلبا کو مفت بس پاس بھی فراہم کیے جائیں گے۔
ڈی کے شیوکمار نے ایک اور ایسی اسکیم کا اعلان کیا جسے انہوں نے اپنے دل کے بہت قریب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریاست بھر میں 10 ہزار ’بھارت جوڑو یُووک سنگھ‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت ہر یونٹ کو 10 لاکھ روپے فراہم کرے گی۔ یہ نوجوانوں کے کلبوں کی طرح ہوں گے، جہاں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ نوجوان کھیل، ثقافت اور تاریخ سے جڑیں اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دیں۔
واضح رہے کہ ڈی کے شیوکمار نے 3 جون کو کرناٹک کے 25ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا تھا۔ انہوں نے 13 وزراء کے ساتھ حلف اٹھایا، جن میں سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا کے بیٹے یتیندر سدارمیا بھی شامل ہیں۔ جی پرمیشور کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ کافی عرصے سے کرناٹک میں اقتدار کی تبدیلی کو لے کر سیاسی کشمکش جاری تھی۔ 28 مئی کو اس معاملے کا اختتام اس وقت ہوا جب سدارمیا نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
ایران جنگ معاملہ میں ٹرمپ کو لگا جھٹکا، امریکی پارلیمنٹ سے فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور، ریپبلیکن نے بھی کی حمایت
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپرزنٹیٹیو) نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو روکنے سے متعلق جنگی اختیارات (وار پاورس) قرار داد کو منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے بڑا سیاسی جھٹکا مانا جا رہا ہے کیونکہ کچھ ریپبلیکن اراکین نے بھی ڈیمو کریٹس کا ساتھ دیا۔ بدھ کے روز ہوئی ووٹنگ میں قرار داد 215 کے مقابلے 208 ووٹوں سے پاس ہوگئی۔ نتائج کا اعلان ہوتے ہی ایوان میں موجود اراکین پارلیمنٹ نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس دوران ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفریز نے کہا کہ یہ مہنگی اور خطرات سے پُر جنگ اب ختم ہونی چاہئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ پر امریکی ٹیکس دہندگان کے 100 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوچکے ہیں اور امریکہ کی حالت کمزور ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ نے جنگ مسلط کی، مجبور کیا گیا تو لڑیں گے بھی: ایرانی وزارت خارجہ
یہ بھی پڑھیں : ایران اور امریکہ میں بن گئی بات، بغیر کسی ٹیکس کے آبنائے ہرمز پوری طرح کھولنے کا راستہ صاف!
یہ چوتھی بار تھا جب ایوان نمائندگان نے ایران جنگ کو محدود کرنے کی کوشش کی اور پہلی بار ایسی قرار داد پاس ہوسکی۔ اس سے پہلے امریکی سینیٹ بھی اسی طرح کی قرار داد کو آگے بڑھا چکی ہے جہاں کچھ ریپبلیکن اراکین نے پارٹی لائن سے الگ رخ اختیار کیا تھا۔ ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن نے قرار داد کی مخالفت کی اور کہا کہ صدر ٹرمپ گھریلو مسائل پر پوری طرح توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ عالمی ساتھیوں کے ساتھ مل کر تیل کی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو پھر سے پوری طرح کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ کے ایران کے خلاف فوجی مہم میں شامل ہونے کے بعد تیل سپلائی متاثر ہوئی ہے جس سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کا دباؤ بڑھا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کی تجارت کی اہم آبی گزر گاہ مانی جاتی ہے۔ اس درمیان امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر کانگریس اس طرح کی قرار داد کو منظوری دیتی ہے تو ایران یہ سمجھ سکتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے ہاتھ بندھ گئے ہیں اور وہ اس کے خلاف کوئی مؤثر قدم نہیں اُٹھا سکے گا۔ اس سے کسی ممکنہ سمجھوتے کا امکان بھی کمزور ہوسکتا ہے۔
حالانکہ یہ قرارداد فوری جنگ ختم نہیں کرے گی لیکن اسے صدر کی پالیسی کے خلاف کانگریس کی مضبوط سیاسی وارننگ مانا جا رہا ہے۔ اب یہ معاملہ سینیٹ میں آگے بڑھے گا جہاں حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ وہیں امریکہ میں جنگ اور امن سے متعلق معاملوں میں صدر اور کانگریس کے اختیارات کو لے کر بحث بھی تیز ہوگئی ہے۔
ہفتے کے آخر تک معاہدہ ہوسکتا ہے! ٹرمپ کا امن مذاکرات پر دعویٰ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر امن مذاکرات کے حوالے سے مثبت نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس ہفتے کے آخر تک معاہدہ ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا، ایران نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس کے رابطے منقطع نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم ایران نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
امریکہ ایران مذاکرات کے بارے میں ایک اہم اپ ڈیٹ فراہم کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ بات چیت بہت اچھی جا رہی ہے اور دونوں ممالک ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بہت قریب ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ہفتے کے آخر تک کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور لبنان میں تشدد کے معاملات کو الگ الگ حل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ دریں اثنا، ایران کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کچھ اپ ڈیٹس فراہم کی ہیں۔ ایران کی فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے ابھی تک امریکہ کے تازہ مسودے کا جواب واشنگٹن کو نہیں بھیجا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ابھی تک جاری ہیں اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ بیان میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی کی بڑی وجہ ایران کا جوہری مذاکرات میں شرکت سے واضح انکار تھا۔ عہدیدار نے بتایا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کو حتمی شکل دی جاتی ہے تو اس معاہدے کو چار مراحل پر مشتمل نظام کے تحت نافذ کیا جائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس ہفتے کے آخر میں معاہدہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اچھی طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر امن مذاکرات کے حوالے سے مثبت نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس ہفتے کے آخر تک معاہدہ ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا، ایران نے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس کے رابطے منقطع نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم ایران نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
امریکہ ایران مذاکرات کے بارے میں ایک اہم اپ ڈیٹ فراہم کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ بات چیت بہت اچھی جا رہی ہے اور دونوں ممالک ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بہت قریب ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ہفتے کے آخر تک کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور لبنان میں تشدد کے معاملات کو الگ الگ حل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ دریں اثنا، ایران کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کچھ اپ ڈیٹس فراہم کی ہیں۔ ایران کی فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے ابھی تک امریکہ کے تازہ مسودے کا جواب واشنگٹن کو نہیں بھیجا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ابھی تک جاری ہیں اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ بیان میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی کی بڑی وجہ ایران کا جوہری مذاکرات میں شرکت سے واضح انکار تھا۔ عہدیدار نے بتایا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کو حتمی شکل دی جاتی ہے تو اس معاہدے کو چار مراحل پر مشتمل نظام کے تحت نافذ کیا جائے گا۔
کویت کے ہوائی اڈے پر حملے کی ہندوستان نے کی مذمت، ہندوستانی شہری کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی: کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ہندوستان نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ حملے میں ایک ہندوستانی شہری کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارتِ خارجہ نے متاثرہ خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مشکل گھڑی میں حکومت پوری طرح ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران ہندوستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ عام شہریوں اور شہری تنصیبات کو کسی بھی صورت میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ہندوستان نے ایک بار پھر تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی ہے۔
کویت میں موجود ہندوستانی سفارت خانے نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے حملے میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی شہری کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ سفارت خانے کے مطابق وہ متاثرہ خاندان کے رابطے میں ہے اور کویتی حکام کے ساتھ مل کر زخمیوں اور متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سفارت خانہ زخمی ہندوستانی شہریوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور انہیں طبی سہولتوں، ضروری دستاویزی کارروائی اور دیگر درکار امداد کی فراہمی کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ہندوستانی حکام مقامی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ متاثرین کو بروقت مدد پہنچائی جا سکے۔
کویت کے حکام کے مطابق بدھ کی صبح کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے کے مسافر ٹرمینل نمبر ایک کو میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ کویت کی وزارتِ صحت کے مطابق زخمیوں کی تعداد تریسٹھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ متعدد افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ کئی ہنگامی جراحی کارروائیاں بھی انجام دی گئی ہیں۔
کویت کی وزارتِ خارجہ نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے خطے میں اپنی سلامتی سے متعلق خدشات کے تناظر میں کارروائی کی، تاہم کویت نے ایران کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ اس کی سرزمین یا فضائی حدود کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کی جا رہی ہیں۔
ہندوستانی حکومت نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں موجود تمام ہندوستانی سفارتی مشنوں اور سفارت خانوں کو چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت نے یقین دلایا کہ خطے میں مقیم ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور ضروری مدد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے ڈی کے شیوکمار اور نئی کابینہ کو دی مبارکباد، کہا- ’کرناٹک کے عوام کا بھروسہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری‘
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کرناٹک کے نئے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور ان کی نئی وزارتی کونسل کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے عوام کا کانگریس پر اعتماد ہی پارٹی کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوام کی امیدوں اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کرے گی۔
راہل گاندھی نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ کرناٹک کے عوام نے کانگریس پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس اعتماد کو برقرار رکھنا پارٹی کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور ان کی وزارتی کونسل کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ نئی حکومت ریاست کے عوام کی امنگوں کو آگے بڑھائے گی۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ پارٹی عوام کی آواز سنتی رہے گی اور ان کی خدمت کے لیے مسلسل کام کرتی رہے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کانگریس کی جانب سے عوام کے سامنے پیش کی گئی ضمانتیں اچھی حکمرانی اور سماجی انصاف کے عزم کی بنیاد ہیں اور ان وعدوں کو ہر صورت پورا کیا جائے گا۔
راہل گاندھی نے سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سدارمیا کی قیادت میں ریاستی حکومت نے کرناٹک کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ انہوں نے سدارمیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت اور عوامی خدمت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ادھر ڈی کے شیوکمار نے بدھ کے روز کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ ان کے ساتھ 13 وزراء نے بھی اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔ نئی حکومت میں جی پرمیشور کو نائب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ حلف برداری کے بعد ریاست میں نئی حکومت نے باضابطہ طور پر کام سنبھال لیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس قیادت کی جانب سے نئی حکومت پر عوامی وعدوں کو پورا کرنے اور سماجی انصاف کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر خاص زور دیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی کے بیان کو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے عوام کے اعتماد کو حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری قرار دیا ہے۔
’شکست کے بعد منعقدہ پہلی میٹنگ میں ہی بغاوت کی رکھ دی گئی تھی بنیاد‘، ٹی ایم سی سے نکالے گئے سندیپن ساہا کا اہم انکشاف
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو اپنا وجود بچانے کا چیلنج درپیش ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹی ایم سی کے 80 اراکین اسمبلی میں سے 60 نے پارٹی سے بغاوت کر دی ہے۔ بنگال انتخاب میں ملنے والی شکست کے بعد اراکین اسمبلی کی بغاوت کی آخر کیا وجہ رہی، اس کا انکشاف اب پارٹی سے نکالے گئے لیڈر سندیپن ساہا نے کر دیا ہے۔ سندیپن ساہا نے بتایا کہ ٹی ایم سی میں باقاعدہ طور پر بغاوت کی بنیاد انتخابی نتائج آنے کے بعد 6 مئی کو ہونے والی پارٹی میٹنگ میں ہی پڑ گئی تھی۔ انہوں نے پارٹی کے اندرونی طریقۂ کار اور قیادت پر سنگین سوالات اٹھائے۔
ٹی ایم سی سے نکالے گئے رکن اسمبلی سندیپن ساہا نے بتایا کہ اس پورے واقعہ کا ’ٹریگر پوائنٹ‘ انتخاب میں پارٹی کی شکست کے بعد آیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ پارٹی کی میٹنگ میں شامل ہوئے تو تمام اراکین اسمبلی کو ہدایت جاری کی گئی کہ ابھیشیک بنرجی کے بارے میں کوئی بھی تنقیدی لفظ کہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اس کے بجائے انہیں ہدایت دی گئی کہ ابھیشیک بنرجی نے غیر معمولی طور پر شاندار کاکردگی کیا ہے اور سب کو کھڑے ہو کر تالیاں بجانی ہوں گی۔ اس میں ایسے اراکین اسمبلی بھی شامل تھے جو تب سے اسمبلی میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جب شاید ابھیشیک بنرجی اسکول میں پڑھ رہے تھے۔ انہیں بھی کھڑے ہو کر تالیاں بجانے پر مجبور کیا گیا۔‘‘
سندیپن ساہا نے مزید کہا کہ ’’فطری طور پر ایسے واقعات دل میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ آج جب لوگوں کو اس رویے کو خارج کرنے کا موقع ملا ہے تو وہ بالکل وہی کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے پارٹی کے 60 باغی اراکین اسمبلی کے متعلق کہا کہ کچھ ایسے اراکین اسمبلی تھے جو اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے وقت موجود نہیں تھے، لیکن ان کے نام جلی حروف میں درج کر دیے گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اگر اسے اخلاقیات کے نظریہ سے دیکھا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ جب آپ کے پاس پہلے سے ہی ضروری تعداد تھی تب بھی آپ نے اپنے اس طرح کا طریقۂ کار کیوں اپنایا۔ اس سے ہم تمام کے دلوں میں شک پیدا ہوا۔‘‘ سندیپن کے مطابق جب انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اس پر اعتراض کیا تو اسپیکر کو ایک باضابطہ خط سونپا گیا۔ اس کے بعد اسپیکر نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔
ٹی ایم سی سے نکالے گئے سندیپن ساہا نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’جیسے ہی تحقیقات شروع ہوئی ایسے ثبوت سامنے آنے لگے جو ان الزامات کی تصدیق کرتے تھے۔ اس کے بعد دیگر اراکین اسمبلی بھی ہم سے رابطہ کرنے لگے۔ باہمی مشورے کے بعد باغی اراکین اسمبلی نے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر انہیں اسمبلی کے اندر مؤثر طریقے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں اور اپنے اپنے انتخابی حلقوں کے لوگوں کی خدمت کرنی ہے تو انہیں ایک الگ گروپ بنانا ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے یہ بھی طے کیا کہ یہ گروپ مرکزی اپوزیشن کے طور پر کام کرے گا اور اپوزیشن کے لیڈر کا انتخاب بھی اسی گروپ کے اندر سے کیا جائے گا، تاکہ ہم اسمبلی میں اپنا کردار پوری سنجیدگی اور اثر انگیزی کے ساتھ ادا کر سکیں۔‘‘
0 تبصرے