3 ماہ بعد سپردِ خاک ہوں گے آیت اللہ علی خامنہ ای، الوداعی تقریب میں شریک ہوں گے تقریباً 2 کروڑ لوگ!
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی 28 فروری کو موت ہو گئی تھی۔ 3 ماہ سے بھی زائد عرصے کے بعد اب انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ایرانی حکومت نے خامنہ ای کے جنازے کے لیے 3 روزہ سرکاری سوگ اور عوامی سطح پر آخری رسومات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں ہونے والی ان آخری رسومات کو لے کر ملک کے کئی بڑے شہروں میں تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ تہران کے ڈپٹی میئر محمد امین توکلی زادہ نے اس پورے پروگرام کے انتظامات کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی میئر توکلی زادہ نے بتایا کہ خامنہ ای کا آخری الوداعی سفر ملک کے کئی بڑے شہروں سے گزرے گا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کا یہ سوگ جلوس راجدھانی تہران کے ساتھ ساتھ ملک کے بڑے مذہبی مراکز ’قم‘ اور ’مشہد‘ میں نکالا جائے گا۔ ان تینوں ہی شہروں میں عام لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی ریلیاں اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس کے مطابق خامنہ ای کی آخری رسومات کا سب سے بڑا پروگرام راجدھانی تہران میں منعقد ہوگا۔ صرف تہران میں ہی اہم تقریب مسلسل کم از کم 24 گھنٹے تک چلے گی۔ اس تاریخی اور انتہائی جذباتی موقع پر تہران میں سیکورٹی اور انتظامات کو برقرار رکھنا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
میونسپل افسران کا اندازہ ہے کہ اپنے مرحوم سپریم لیڈر کو الوداع کرنے کے لیے تہران میں تقریباً 2 کروڑ لوگ جمع ہو سکتے ہیں۔ اتنے بڑے ہجوم کو سنبھالنے اور ان کے ٹھہرنے کے لیے بڑے پیمانے پر لاجسٹکس اور سیکورٹی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
آر بی آئی نے نہیں فروخت کیا 12 لاکھ کروڑ کا سونا، میڈیا رپورٹس کو بتایا غلط
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے سونے کی فروخت کی خبروں کو بدھ (3 جون) کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ فزیکل گولڈ ریزرو میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور یہ 880.52 ٹن پر مستحکم ہے۔ آر بی آئی نے ان خبروں کے بعد یہ وضاحت پیش کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے اثر سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی حفاظت کے لیے مرکزی بینک نے تقریباً 12 ارب ڈالر کی قیمت کا سونا فروخت کر دیا ہے۔
مرکزی بینک نے ایک بیان میں کہا کہ آر بی آئی زور دے کر کہتا ہے کہ یہ خبریں صحیح نہیں ہیں۔ اس نے عام لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ ایسے معاملات میں آر بی آئی کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی سرکاری معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔ اس درمیان ’پی آئی بی‘ نے بھی ان خبروں پر فیکٹ-چیک رپورٹ جاری کر دی ہے۔ آر بی آئی کے مطابق ہندوستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں سونے کی حصہ داری ستمبر 2025 کے آخر میں 13.92 فیصد سے بڑھ کر 31 مارچ 2026 کو 16.70 فیصد اور 22 مئی 2026 تک 16.85 فیصد ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ آر بی آئی کی جانب سے یہ ردعمل ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے بعد آیا ہے، جس میں بلومبرگ اکنامکس کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ہندوستان کے سنٹرل بینک نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مضر اثرات سے اپنے غیر ملکی کرنسی کے اثاثوں کو بچانے کے لیے اپنے سونے کے ذخائر کا ایک حصہ فروخت کر دیا ہوگا۔ بی ای کے سینئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے لکھا کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے 22 مئی تک کے 2 ہفتوں میں ممکنہ طور پر تقریباً 12 ارب ڈالر کی مالیت کا سونا فروخت کیا، جبکہ 7.5 ارب ڈالر کے غیر ملکی کرنسی اثاثوں کی خریداری کی۔ یہ گراوٹ اس قیمتی دھات پر امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے کے باوجود آئی، جس سے بینک کے سونے اور ڈالر کی مالیت میں اضافہ ہونا چاہیے تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آر بی آئی سونا فروخت کر رہا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ مبینہ فروخت ان خدشات کو ظاہر کرتی ہے جن کا سامنا ہندوستان کو مسلسل کیپٹل آؤٹ فلو اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آر بی آئی لیکویڈ فاریکس کو ترجیح دے رہا ہے، جس کی بڑی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث روپے پر مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارچ کے آخر تک، مرکزی بینک کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا، جس میں سے 77 فیصد ملک کے اندر ہی رکھا گیا تھا۔ 6 ماہ قبل، اس نے اپنے سونے کا 66 فیصد ہندوستان میں ہی رکھا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ آر بی آئی نے اپریل میں اپنی ششماہی فاریکس رپورٹ میں بتایا کہ اس کے غیر ملکی ذخائر کا زیادہ تر حصہ بینک آف انگلینڈ اور بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس ہے۔ آر بی آئی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 31 مارچ 2026 تک ریزرو بینک کے پاس کل 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا، جبکہ 31 مارچ 2025 تک یہ 879.58 میٹرک ٹن تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رواں سال سونے کی مقدار میں 0.94 میٹرک ٹن کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آر بی آئی نے مالیاتی سال 26 کے دوران اپنے سونے کے ذخائر کو کم کرنے کے بجائے ان میں مزید اضافہ کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مرکزی بینک کے پاس موجود کل 880.52 میٹرک ٹن سونے میں سے 312.32 میٹرک ٹن سونا ’ایشو ڈپارٹمنٹ‘ کے اثاثے کے طور پر رکھا گیا تھا، جبکہ باقی 568.20 میٹرک ٹن سونا ’بینکنگ ڈپارٹمنٹ‘ کے تحت رکھا گیا تھا۔
ڈی کے شیوکمار بنے کرناٹک کے 25ویں وزیر اعلیٰ، جی پرمیشور نے لیا نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
سدارمیا کے استعفیٰ کے بعد ڈی کے شیوکمار نے بدھ کے روز کرناٹک کے 25ویں وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لے لیا۔ ’لوک بھون‘ میں انھوں نے اپنے دادا گنگا دھر کے نام پر حلف برداری کی۔ اس تقریب میں جی پرمیشور نے نائب وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا، اور اس طرح کرناٹک میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔
حلف برداری سے قبل ڈی کے شیوکمار نے اسٹیج پر موجود سبھی لیڈران سے ملاقات کی۔ انھوں نے کانگریس صدر کھڑگے، راہل گاندھی اور دیگر لیڈران کا شال اور پھولوں کے گلدستہ سے استقبال کیا۔ اس حلف برداری تقریب کی خاص بات یہ رہی کہ پہلے لوک بھون میں ہونے والی تقاریب کا اسٹیج ہمیشہ مغرب کی سمت میں ہوتا تھا، لیکن اس بار نجومی کے مشورہ پر اسٹیج شمال کی سمت میں تیار کیا گیا۔ اس تقریب کی پوری ذمہ داری شیوکمار کے بھائی ڈی کے سریش نے سنبھالی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی کے شیوکمار کے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف برداری کی تقریب شروع ہوتے ہی ان کے شیدائی اور کانگریس کارکنان لوک بھون کی طرف امنڈنے لگے۔ اس وجہ سے اسمبلی کے آس پاس پوری طرح سے ٹریفک جام ہو گیا۔ شیوکمار نے وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے سے قبل اپنی ماں سے دعائیں بھی لیں۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف برداری سے قبل ہی شیوکمار کی رہائش پر خصوصی پوجا بھی ہوئی۔ 5 سے زیادہ پجاری پوجا کے سامانوں کے ساتھ ان کی رہائش پر پہنچے اور پھر پوجا کا عمل شروع ہوا۔
بہرحال، ڈی کے شیوکمار کی حلف برداری تقریب میں کئی معزز شخصیات موجود رہے۔ پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے علاوہ پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، کرناٹک کانگریس انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا، سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا، کیرالہ کے وزیر اعلیٰ ستیسن، ہری پرساد، محمد اظہر الدین، راجیو شکلا کے ساتھ ساتھ کئی فلمی ستارے بھی اس تقریب میں شرکت کرتے نظر آئے۔
سعودی عرب میں پہلی بار کسی ہندو افسر کو بنایا گیا سفیر، سہیل اعجاز خان کے جانشین ہوں گے وپُل
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
حکومت ہند کی جانب سے سینئر سفارتکار وپل کو سعودی عرب میں ہندوستان کا نیا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ سعودی عرب میں ہندوستان کے سفیر کے طور پر مقرر ہونے والے پہلے ہندو آئی ایف ایس افسر ہیں، ان سے پہلے ڈاکٹر سہیل اعجاز خان اس عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ڈاکٹر سہیل نے 16 جنوری 2023 کو سعودی عرب میں ہندوستان کے سفیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
وزارت خارجہ نے نئی تقرری کا اعلا ن کرتے ہوئے کہا کہ وپل جلد ہی سعودی عرب میں اپنا چارج سنبھالیں گے۔ فی الحال وہ قطر میں ہندوستان کے سفیر ہیں اور خلیجی ممالک میں کام کرنے کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ وپل 1998 بیچ کے انڈین فارین سروس (آئی ایف ایس) افسر ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی ممالک میں ہندوستان کی نمائندگی کی ہے۔
وپل کی تقرری ایسے وقت ہوئی ہے جب مغربی ایشیا میں مسلسل کشیدگی پائی جارہی ہے اور سعودی عرب کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ اپنے طویل سفارتی کیریئر کے دوران وپل نے مصر کی راجدھانی قاہرہ، سری لنکا کی راجدھانی کولمبو، سوئٹزر لینڈ کے جنیوا اور متحدہ عرب امارات کے دبئی میں ہندوستانی مشنوں میں کام کیا ہے۔ ان مقامات پر انہوں سفارتی تعلقات، تجارت، ترقیاتی تعاون، بین الاقوامی سلامتی، تخفیف اسلحہ اور میڈیا امور جیسے مختلف شعبوں کی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔
وزارت خارجہ میں بھی وپل کا اہم کردار رہا ہے۔ وہ 2014 سے 2017 تک وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری رہے۔ اس دوران انہوں نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی سےمتعلق کئی اہم معاملات پر کام کیا۔ اس کے بعد 2017 سے 2020 تک وہ دبئی میں ہندوستان کے قونصل جنرل رہے۔ دبئی اور خلیجی ممالک میں ان کے تجربے کو ان کی بڑی طاقت مانا جاتا ہے۔
ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ کچھ برسوں میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع اور اسٹریٹیجک تعاون میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب میں بڑی تعداد میں ہندوستانی بھی رہتے اور کام کرتے ہیں۔ ایسے میں وپل کی تقرری کو کافی اہم مانا جارہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہندوستان اور سعودی عرب کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے میں ان کے تجربے کا فائدہ ملے گا۔
کویت ایئرپورٹ پر ایران نے میزائل سے کیا حملہ، ٹرمینل-1 پر تباہی کا منظر، ایمرجنسی نافذ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مشرقی وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر خوفناک حملہ کی خبر نے عالمی سطح پر فکر میں اضافہ کر دیا ہے۔ افسران کے مطابق ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کو نشانہ بنا کر میزائل اور ڈرون سے حملے کیے گئے ہیں۔ حملے میں کئی افراد زخمی بھی ہو گئے ہیں اور ایئرپورٹ کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس واقعہ کے بعد سبھی پروازوں کی آمد و رفت فوری اثر سے روک دی گئی ہے۔
کویت کی پبلک اتھارٹی فار سول ایویشن (پی اے سی ای) کے ترجمان عبداللہ الراجہی نے کہا کہ مسافروں، ملازمین اور ایئرپورٹ فیسلٹی کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے سبھی مقررہ پروٹوکول نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ’گلف نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق کویت کی وزارت دفاع نے بھی حملہ کی تصدیق کر دی ہے۔ وزارت کے ترجمان بریگیڈیر جنرل سعود عبدالعزیز العتیبی نے اسے ’ایران کی مجرمانہ جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’حملہ سے ایئرپورٹ احاطہ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوراً طبی امداد فراہم کرائی گئی ہے۔‘‘
افسران نے بتایا کہ ٹرمینل-1 پر ڈرون اور میزائلوں کے حملے کے بعد ایئر ٹریفک پوری طرح معطل کر دیا گیا ہے۔ کئی پروازوں کو آس پاس کے دوسرے ایئرپورٹ کی طرف ڈائیورٹ کیا گیا ہے۔ تکنیکی اور سیکورٹی ایجنسیاں نقصان کا اندازہ کر رہی ہیں۔ اس درمیان امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج خطہ میں ایران کی طرف سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام کر دیا۔ امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اس خطہ کے ممالک اور امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے والے کئی ایرانی بیلسٹک میزائل حملے اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکے۔ سینٹ کام نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج نے جوابی کارروائی میں ایران کے قشم جزیرہ پر ’سیلف ڈیفنس‘ کے تحت حملے کیے۔ ساتھ ہی امریکی فوجی افسران نے ایران کے اس دعویٰ کو بھی خارج کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ ہیڈکوارٹر اور علاقہ کے ایک دیگر ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
گلوبل ٹریڈ وار کی سرگوشی! ’سیکشن 301‘ کے تحت ہندوستان سمیت کئی ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری میں امریکہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
یونائیٹڈ اسٹیٹس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو (یو ایس ٹی آر) نے بدھ (3 جون) کو سیکشن 301 کی 60 فائنڈنگز جاری کیں۔ اس میں ہندوستان کے ساتھ ساتھ 53 ایسے ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو جبریہ مزدوری سے بنے سامان کی درآمد پر روک لگانے اور اسے مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کے اہم مذاکرات کار نئی دہلی میں اپنے ہندوستانی ہم منصبوں کے ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 3 روزہ بات چیت کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ میں ایک افسر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ نئی دہلی مذاکرات کا بنیادی زور ’سیکشن 301‘ کے فائنڈنگز سے راحت پانے اور اپنے حریفوں کے مقابلے میں کم ٹیرف حاصل کرنے پر رکھے گا۔ افسر نے کہا کہ ہندوستان اس ڈیل کو حتمی شکل دینے کی کوشش کرے گا، بشرطیکہ اسے ’منصفانہ، مساوی اور متوازن شرائط‘ ملیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک بار معاہدے کا بنیادی ڈھانچہ طے ہو جانے کے بعد یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو جیمیسن گریر ہندوستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔
’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے جبریہ مزدوری والے التزام کے تحت عائد کیے گئے الزامات سے انکار کیا ہے اور واشنگٹن سے ان تحقیقات کو ختم کرنے کو کہا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ ان مسائل کو یکطرفہ اقدامات کے بجائے، جاری تجارتی مذاکرات کے دائرہ کار میں ہی حل کیا جانا چاہیے۔
یو ایس ٹی آر نے ایک نوٹس میں کہا کہ جن ممالک نے جبریہ مزدوری سے بنے سامان کی درآمد پر روک لگائی ہے، یا جنہوں نے ’باہمی تجارتی معاہدے‘ کے ذریعہ ایسی روک لگانے اور اسے نافذ کرنے کا وعدہ کیا ہے، یا پھر جن معیشتوں نے ایک ایسا جزوی انتظام نافذ کیا ہے جس سے جبریہ مزدوری سے بنے کچھ خاص سامان کی درآمد رک جاتی ہے، ان کے لیے یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو نے اضافی ڈیوٹی کی شرح 10 فیصد رکھنے کی تجویز دی ہے۔
دوسرے ممالک کے لیے یو ایس ٹی آر نے اضافی ڈیوٹی کی شرح 12.5 فیصد رکھنے کی تجویز دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک ’ٹیکسٹائل میکانزم‘ کی بھی تجویز ہے، جس کے تحت کچھ مخصوص معیشتوں سے امریکہ میں آنے والے کپڑوں اور ٹیکسٹائل کی ایک مقررہ مقدار پر سیکشن 301 کے تحت لگنے والا ٹیرف کم شرح پر لگایا جائے گا۔ اس تجارتی ادارے نے ان تحقیقات کے سلسلے میں جوابی کارروائی کی تجاویز دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
سیکشن 301، جو یو ایس ٹریڈ ایکٹ 1974 کا حصہ ہے، ایک ٹریڈ انفورسمنٹ ٹول ہے۔ یہ یو ایس ٹی آر کو غیر ملکی حکومتوں کے کاموں، پالیسیوں اور طور طریقوں کی جانچ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ طے کرتا ہے کہ کیا وہ کام، پالیسیاں اور طریقے غیر منصفانہ یا امتیازی ہیں، اور کیا وہ امریکی تجارت پر بوجھ ڈالتے ہیں یا محدود کرتے ہیں۔ اگر حکومتی تحقیقات میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ غیر منصفانہ تجارتی طریقے موجود ہیں، تو یہ دفعہ یو ایس کو متعلقہ ملک پر اضافی ٹیرف یا دیگر تجارت سے متعلق اقدامات کے ذریعہ جوابی کارروائی کی اجازت دیتی ہے۔ بدھ کو اعلان کردہ یہ قدم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اس کوشش میں ایک بڑا قدم ہے، جس کے تحت وہ ان ملک وار ٹیرف کو پھر سے نافذ کرنا چاہتے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنے دور اقتدار کے پہلے سال میں لگایا تھا، لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے انہیں غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔
امریکی سرکاری ایجنسی نے مطلع کیا کہ یہ نئے ٹیکس فوری طور پر نافذ نہیں ہوں گے۔ انہیں نافذ کرنے سے قبل ان پر عوام کی آراء لی جائیں گی اور ان کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں کوئی بھی ٹیکس باقاعدہ طور پر نافذ ہونے سے قبل ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ نوٹس کے مطابق تحریری آراء 6 جولائی تک جمع کی جانی ہیں اور سیکشن 301 پینل کی جانب سے 7 جولائی سے عوامی سماعت شروع کرنے کی امید ہے۔
یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو جیمیسن گریر نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے سب سے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبریہ مزدوری سے بنے سامان کی درآمد روکنے میں ناکامی ناقابل قبول ہے۔ اس سے ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جہاں امریکی مزدوروں کو عالمی سطح پر ایک غیر مساوی مقابلے کے ماحول میں مقابلہ کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب اس عدم مساوت کو برداشت نہیں کریں گے۔ گریر نے یہ بھی کہا کہ اس کا مقصد تجارت سے متعلق تحقیقات کے ایک سلسلے کو مکمل کرنا ہے، تاکہ ٹرمپ، موجودہ اقدامات کی مدت ختم ہونے کے بعد جلد از جلد نئے ٹیرف نافذ کر سکیں۔
یو ایس ٹی آر کی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نئی دہلی جبریہ مزدوری سے بنے سامان کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اسے مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایجنسی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس پابندی کو عائد کرنے اور اسے مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکامی ’غیر مناسب‘ ہے اور یہ امریکی تجارت پر بوجھ ڈالتی ہے یا اسے محدود کرتی ہے۔ گریر نے تمام تجارتی شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ تجارت، عالمی سطح پر جبریہ مزدودی کو غلط طریقے سے فروغ نہ دے اور نہ ہی اسے مزید مضبوط کرے۔
خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، گارڈ کی پٹائی، کوچنگ سینٹر کو اڑانے کی دی دھمکی
قومی آواز بیورو
پٹنہ میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ ہوئی ہے۔ خان سر کوچنگ سینٹر پٹنہ کے مصلّہ پور ہاٹ علاقے میں واقع ہے۔ دو کوچنگ سینٹرز کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے فائرنگ کی اطلاع ہے۔ پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور تحقیقات کر رہی ہے۔ پانچ سے چھ راؤنڈ فائرنگ کی اطلاع ہے۔ سڑک کنارے لگے خان صاحب کے پوسٹرز اور بینرز بھی پھاڑ دیے گئے۔ واقعے سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا، مقامی لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔
پولیس نے قریبی گلی کے دکانداروں اور عینی شاہدین سے پوچھ گچھ کی ہے۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کر رہی ہے۔ پٹنہ کا مصلّہ پور ہاٹ علاقہ اپنے مختلف کوچنگ سینٹرز کے لیے مشہور ہے۔ یہاں متعدد کوچنگ سینٹرز اور متعدد طلبہ کے ہاسٹل ہیں۔ پولیس ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے۔
اس واقعے پر خان سر کا بیان بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، "کچھ سماج دشمن عناصر آئے اور کہا کہ وہ کوچنگ سنٹر کو دو دن کے اندر اڑا دیں گے۔ انہوں نے گارڈ کو مارا پیٹا اور اسے خون بہا کر چھوڑ دیا، اور اسے داخل کر دیا گیا ہے۔ یہاں ایک دو سماج دشمن عناصر موجود ہیں۔"
جب خان سر سے واقعے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ آپ اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں یہ سوچ کر کہ آپ کے اتنے اچھے نتائج آئیں گے؟ اصل بات اتنی کم فیسوں پر اتنے لوگوں کو پڑھانا نہیں ہے، ہم انتظامیہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سیکیورٹی کا بھی خیال رکھیں، غریبوں کو بھی یہاں پڑھنے کا حق ہے، جب ہزاروں طلباء اپنے نتائج حاصل کرتے ہیں تو یہ سماج دشمن عناصر ان کو دبانے کا سوچتے ہیں کہ وہ اگلے دروازے سے دفتر کو تباہ کر رہے ہیں۔
0 تبصرے