مشکل عالمی حالات کے درمیان روس نے ہوابازی ایندھن کی برآمدات پر لگائی روک، 30 نومبر تک نافذ رہے گی پابندی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
روس نے ہوا بازی ایندھن کی برآمد پر پوری طرح روک لگا دی ہے۔ یہ پابندی 30 نومبر تک نافذ رہے گی۔ روسی حکومت نے ملک کے اندر ایندھن کی سپلائی معمول پر برقرار رکھنے کے لیے یہ بڑا قدم اٹھایا ہے۔ کریملن نے پیر کو اس حکمت عملی کی جانکاری دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا واحد مقصد مقامی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے روس میں ڈیزل اور جیٹ فیول کی برآمد پر پابندی کے لیے بات چیت چل رہی تھی۔ اب حکومت نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ درحقیقت روس کے توانائی مراکز پر لگاتار ڈرون اور میزائل حملے ہوئے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے آئل ریفائنریوں میں کام کاج میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پیداوار کی یہ سطح کئی سالوں میں سب سے کم سطح ہے۔
قابل ذکر ہے کہ روس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو گزشتہ چند مہینوں میں بھاری نقصان پہنچا ہے۔ تیل صاف کرنے والی ریفائنریوں اور پائپ لائن نیٹ ورک کو بار بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان فضائی حملوں کی وجہ سے روس کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں ملک کے اندر ایندھن کی موسمی مانگ میں اضافہ ہونے والا ہے۔ اس کے پیش نظر حکومت کی اولین ترجیح مقامی مارکیٹ کو محفوظ بنانا ہے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ روس عالمی سطح پر ریفائنڈ پیٹرولیم کا بہت بڑا برآمد کنندہ ہے۔ یہ ہر سال بڑی مقدار میں ڈیزل اور جیٹ فیول دوسرے ممالک کو فروخت کرتا ہے۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس نئی پابندی سے موجودہ معاہدوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ 2 ممالک کی حکومتوں کے درمیان جو معاہدے ہوئے ہیں، ان کے تحت ایندھن کی سپلائی جاری رہے گی۔ اس سے قبل روس اپنے آٹو موبائل ایندھن کی برآمدات پر بھی ایسی ہی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔
ٹرین میں سیٹ کے لیے ہوئی خونی جھڑپ، بیتول میں ریلوے اسٹیشن پر نوجوان مسافر علی خان کا پیٹ پیٹ کر قتل
موت، علامتی تصویرi
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مدھیہ پردیش کے بیتول میں ٹرین میں سیٹ کے معاملے پر مسافروں کے درمیان شروع ہوا تنازع قتل کی واردات میں بدل گیا۔ اتوار کو دیر شب بوردہی ریلوے اسٹیشن پر پینچویلی ایکسپریس میں خونریز جھڑپ ہوئی۔ اس حملے میں چھندواڑہ کے رہنے والے 25 سال کے نوجوان علی خان کو پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر لاش ملنے کے بعد ریلوے پروٹیکشن پولیس نے نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تمام ملزمین فی الحال فرار ہیں اور پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے۔
متوفی علی خان کے دوست اور چشم دید جینت وشوکرما نے واردات کی پوری کہانی بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرین میں سیٹ کو لے کر شروع معمولی بحث اتنی بڑی واردات میں بدل جائے گی، اس کا کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا۔ چشم دید نے بتایا کہ ہم 4 لوگ تھے اور سبھی پینچویلی ایکسپریس سے بھوپال جا رہے تھے۔ پراسیا اسٹیشن پر ٹرین میں ایک نامعلوم شخص سوار ہوا۔ وہاں سیٹ کو لے کر ہمارے درمیان اس کے ساتھ بحث ہو گئی۔ اس کے بعد اس شخص نے بوردہی اسٹیشن پر اپنے 12-10 ساتھیوں کو پہلے سے ہی بلا لیا۔
وشوکرما نے مزید بتایا کہ جیسے ہی ٹرین بوردہی اسٹیشن پر رُکی تو وہاں پہلے سے موجود لوگوں نے علی خان کو زبردستی ٹرین سے نیچے اتارا اور بے رحمی سے پیٹنا شروع کر دیا۔ عینی شاہد کا کہنا تھا کہ حملہ اتنا خطرناک تھا کہ ہم لوگ کسی طرح اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق پراسیا اسٹیشن پر ہوئی ہنگامہ آرائی کے بعد ایک بار تو صورتحال پرامن ہو گئی، تاہم دوسرے فریق کے دل میں رنجش باقی تھی۔ گروپ نے بوردہی اسٹیشن پر علی خان کو گھیر کر لات، گھونسوں اور ہتھیاروں سے بری طرح زد و کوب کیا۔ شدید زخموں کی وجہ سے علی خان نے پلیٹ فارم پر ہی دم توڑ دیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی جی آر پی موقع پر پہنچی۔ پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیج دیا۔ پولیس نے ملزمین کی گرفتاری کے لیے اسٹیشن اور اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا تاہم تب تک ملزمین موقع سے فرار ہو چکے تھے۔ جی آر پی آملہ کے تھانہ انچارج پرمود پاٹل نے کہا کہ اس پورے معاملے میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ریلوے اسٹیشن پر لگے سی سی ٹی وی فوٹیج کی اچھی طرح سے جانچ کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ واقعہ کے وقت اسٹیشن پر موجود عینی شاہدین اور مقتول کے دوستوں کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ ملزمین کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں اور انہیں جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
’ہاتھ یا پیر کاٹ دیں گے، تبھی شاید لوگوں کو سمجھ آئے گا‘، کرناٹک ہائی کورٹ نے مسلم ممالک میں ’اسلامی سزا‘ کی تعریف کی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مشرقِ وسطیٰ میں کئی مسلم ممالک جرائم کرنے پر سزا کے لیے اسلامی اصول پر عمل کرتے ہیں۔ حالانکہ دنیا کے بیشتر ممالک ’اسلامی سزا‘ کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں اور سخت سزاؤں کو ظلم سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس درمیان کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے ’اسلامی سزا‘ کی تعریف کی ہے، اور کہا ہے کہ سختی نہ ہونے سے لوگوں میں اصلاح کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق کرناٹک ہائی کورٹ نے مشرق وسطیٰ کی طرح سخت سزا دینے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ جمہوری نظام کے تحت ملنے والے حقوق اور آزادی کا تیزی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جسٹس آر نٹراج کا یہ تبصرہ عصمت دری کے ملزم 23 سالہ ایک شخص کی ضمانت عرضی کو خارج کرتے ہوئے سامنے آیا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت جرائم پیشوں سے سختی کے ساتھ نمٹا نہیں جا رہا ہے، جس سے سزا کا روکنے والا اثر کمزور ہو گیا ہے۔
بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے کہا کہ ’’قانون نے اپنی طاقت گنوا دی ہے، کیونکہ ہم جرائم پیشوں سے سختی کے ساتھ نہیں نمٹتے۔ اسی لیے مشرق وسطیٰ کے برعکس جرم کرنا اتنا آسان ہو گیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’اگر آپ ہاتھ یا پیر کاٹ دیں گے، تبھی شاید لوگوں کو قانون ماننا سمجھ آئے گا۔ ہمارے یہاں جمہوریت ہے، اس لیے ہر کوئی اسے ہلکے میں لیتا ہے۔‘‘
بہرحال، کرناٹک ہائی کورٹ نے 23 سالہ نوجوان کی ضمانت عرضی پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور معاملہ کی آئندہ سماعت 8 جون تک ملتوی کر دی۔ ملزم کی طرف سے پیش وکیل اینتیکا منڈل نے دلیل دی کہ ان کا موکل تقریباً 2 ماہ سے عدالتی حراست میں ہے اور کوئی جرم نہیں ہوا ہے۔ منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں 23 سال کے طالب علم پر اس کی ایک ہم جماعت نے مرضی کے خلاف جنسی استحصال کا الزام عائد کیا ہے۔ شکایت کے مطابق دونوں کچھ وقت تک رشتہ میں تھے، لیکن بعد میں خاتون نے اس کے کیریکٹر پر شبہ ہونے کے بعد اس سے دوری اختیار کر لی۔
ایرانی دھمکی کے بعد ٹرمپ نے نیتن یاہو سے فون پر بات کی، اسرائیلی فوجیں لبنان نہیں جائیں گی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات اور ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کے لیے خلیجی ممالک پر امریکا کے دباؤ کے درمیان صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ فون پر اپنی بات چیت کے بارے میں اہم معلومات شیئر کی ہیں۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’دی ٹروتھ‘ پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ نتیجہ خیز گفتگو ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ بیروت میں کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی۔ مزید برآں، جو فوجی راستے پر تھے، ان کو واپس بلا لیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ذریعہ حزب اللہ کے ساتھ بھی ایسی ہی اچھی بات چیت کی۔ انہوں نے مکمل جنگ بندی پر اتفاق کیا، یعنی اسرائیل ان پر حملہ نہیں کرے گا۔ نہ ہی وہ اسرائیل پر حملہ کریں گے۔
امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ آپریشن شروع کیا۔ اس کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی۔ اس کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ امن مذاکرات ایک بار ناکام ہو چکے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں مذاکرات کے دوسرے دور تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران حقیقی معنوں میں معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ امریکہ اور ہمارے ساتھ کھڑے ہونے والوں کے لیے ایک اچھی ڈیل ہوگی۔ ڈیموکریٹس، اور کچھ ریپبلکن جو غیر محب وطن نظر آتے ہیں، یہ نہیں سمجھتے کہ ان کے لیے اپنا کام صحیح طریقے سے کرنا اور گفت و شنید کرنا کتنا مشکل ہے جب کچھ سیاسی شخصیات مسلسل منفی باتیں کرتی رہتی ہیں۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان، روزمرہ اشیا مزید مہنگی ہونے کا خدشہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کریسل کی رپورٹ کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے خوراک، کپڑے، الیکٹرانکس اور دیگر اشیا مہنگی ہونے کا اندیشہ ہے۔
کریسل کی تازہ رپورٹ نے ملک میں مہنگائی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں آنے والے مہینوں میں اشیائے ضروریہ سمیت مختلف شعبوں میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر عام صارفین کے بجٹ پر پڑے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15 مئی کے بعد سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً ساڑھے سات روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر خام تیل کی عالمی قیمتیں موجودہ بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں تو مستقبل قریب میں یہ اضافہ 10 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے سب سے پہلے نقل و حمل کے شعبے پر دباؤ بڑھتا ہے، کیونکہ ملک میں زیادہ تر مال برداری سڑکوں کے ذریعے ہوتی ہے اور اس کا انحصار بڑی حد تک ڈیزل پر ہے۔
کریسل کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں ساڑھے سات روپے فی لیٹر اضافے سے خوردہ مہنگائی کی شرح میں تقریباً 0.36 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ اگر قیمتیں 10 روپے فی لیٹر تک بڑھ جاتی ہیں تو مہنگائی میں 0.48 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت پوری معیشت میں نقل و حمل کے اخراجات بڑھائے گی، جس کے نتیجے میں خوراک اور دیگر اشیا کی قیمتیں بھی اوپر جا سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سڑک کے ذریعے مال برداری کی لاگت کا تقریباً 42 فیصد حصہ ایندھن پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر اسی شعبے پر پڑے گا۔ چونکہ ملک میں تقریباً 71 فیصد مال برداری سڑکوں کے ذریعے انجام دی جاتی ہے، اس لیے اس کے اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
کریسل نے خبردار کیا ہے کہ دودھ، پھل، دالیں، چائے، کافی، مصالحے، انڈے، گوشت اور مچھلی جیسی غذائی اشیا کی قیمتوں میں تیزی آ سکتی ہے کیونکہ ان کی ترسیل نقل و حمل کے وسیع نظام پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ کپڑا، صارفین کی الیکٹرانک مصنوعات، لکڑی کی اشیا، سیمنٹ، سیرامک، کیمیکل، کوئلہ اور دھاتوں سے متعلق صنعتیں بھی بڑھتی لاگت سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں اشیا و خدمات ٹیکس کی بعض شرحوں میں کمی سے کچھ حد تک ریلیف ضرور مل سکتا ہے، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران خام تیل کی اوسط قیمت 112 ڈالر فی بیرل رہی، جو پورے سال کے لیے متوقع 95 ڈالر فی بیرل سے کہیں زیادہ ہے۔
اگرچہ موجودہ مہنگائی ابھی ریزرو بینک کے چار فیصد ہدف سے نیچے ہے، تاہم آئندہ مہینوں میں اس میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریزرو بینک مہنگائی کے رجحانات کے ساتھ ساتھ کمزور مانسون اور ال نینو جیسے موسمی عوامل پر بھی نظر رکھے گا، کیونکہ یہ عوامل غذائی مہنگائی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
ایبولا بحران: ہندوستان نے افریقہ کو طبی سامان اور حفاظتی کٹس کی دوسری کھیپ روانہ کر دی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ہندوستان نے منگل (2 جون) کو افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (افریقہ سی ڈی سی) کو طبی امداد کی دوسری کھیپ روانہ کی۔ اس کھیپ میں حفاظتی سامان، جانچ اور نگرانی کے آلات، ادویات اور غذائی سپلیمنٹس شامل ہیں، جن کا مقصد ایبولا کی وبا سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید بڑھانا ہے۔ ہندوستان کو یقین ہے کہ 43 ٹن کی یہ امدادی کھیپ افریقہ میں عوامی صحت کی تیاریوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ایبولا سے نمٹنے کی صلاحیت کو بھی بڑھائے گی۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہندوستان نے افریقہ سی ڈی سی کو طبی امداد کی دوسری کھیپ روانہ کی ہے، جس میں حفاظتی سامان، جانچ اور نگرانی کے آلات، ادویات اور سپلیمنٹس شامل ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ 43 ٹن کی یہ کھیپ افریقہ میں عوامی صحت کی تیاریوں کو مزید مضبوط کرے گی اور ایبولا سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو فروغ دے گی۔‘‘
اس سے قبل 24 مئی کو ہندوستان نے افریقہ سی ڈی سی کو ایمرجنسی طبی سامان اور حفاظتی کٹس کی پہلی کھیپ روانہ کی تھی۔ اس وقت جے شنکر نے ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ ’’ہندوستان نے آج افریقہ سی ڈی سی کو ایمرجنسی طبی سامان اور حفاظتی کٹس کی پہلی کھیپ بھیجی ہے۔ ہندوستان ایبولا سے متعلق ابھرتی ہوئی عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں افریقہ کا تعاون کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘
29 مئی کو ہندوستان نے متاثرہ ممالک اور افریقہ سی ڈی سی کو اس طبی آفت سے نمٹنے میں آئندہ بھی امداد جاری رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ نئی دہلی میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ افریقہ سی ڈی سی کو بھیجی گئی طبی امداد یوگانڈا میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اپیندر سنگھ راوت نے وہاں قائم اس کے دفتر کے حوالے کی۔ اس سے قبل 31 مئی کو افریقہ سی ڈی سی نے ڈیموکریٹک ریپبلک آف دی کانگو میں ایبولا کی وبا سے نمٹنے کی کوششوں میں ہندوستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی ایمرجنسی طبی امداد کا خیرمقدم کیا تھا اور عوامی صحت کے اس بحران کے دوران نئی دہلی کی حمایت پر شکریہ ادا کیا تھا۔
واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 17 مئی کو ایبولا کو بین الاقوامی تشویش کی حامل عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا۔ ایبولا ایک سنگین اور اکثر مہلک بیماری ہے، جو متاثرہ جسمانی رطوبتوں، آلودہ اشیاء یا متاثرہ جانوروں کے براہ راست رابطے سے پھیلتی ہے۔ اس کی علامات میں بخار، الٹیاں، اسہال اور سنگین معاملات میں اندرونی و بیرونی خون بہنا شامل ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ حالیہ سالوں میں ہندوستان نے افریقی ممالک کے لیے طبی امداد میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر کووڈ-19 کی وبا جیسی عوامی صحت کی آفتوں کے دوران ہندوستان نے ادویات اور ویکسینز فراہم کی ہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد تشدد کے خلاف ممتا بنرجی کا دھرنا، کہا- ’ہمیں اسٹیج اور مائیک کے استعمال سے بھی روکا گیا‘
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ترنمول کانگریس کی سربراہ اور مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں پر حملوں کے خلاف وسطی کولکاتا میں ایک روزہ دھرنا شروع کیا۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی کامیابی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جمہوری آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ممتا بنرجی اس وقت دھرنا گاہ پہنچیں جب کولکاتا پولیس نے ترنمول کانگریس کو رانی رشمونی روڈ پر احتجاجی پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد جماعت نے ایسپلینیڈ کے وائی چینل علاقے میں دھرنے کا اہتمام کیا۔ وہاں موجود کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے ان کے پروگرام پر مختلف پابندیاں عائد کیں۔
انہوں نے میگا فون کے ذریعے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسٹیج لگانے اور مائیکروفون استعمال کرنے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق یہ اقدامات سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے اور احتجاج کی آواز کو محدود کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ان کی جماعت جمہوری طریقے سے اپنی بات عوام تک پہنچاتی رہے گی۔
دھرنے کے دوران کچھ وقت کے لیے افراتفری کا ماحول بھی دیکھنے میں آیا۔ ممتا بنرجی کی تقریر کے دوران ترنمول کانگریس کے کارکن مسلسل نعرے بازی کرتے رہے، جس سے اجتماع میں خاصا جوش و خروش نظر آیا۔ دھرنے میں جماعت کے کئی سینئر رہنما بھی شریک ہوئے جن میں فرہاد حکیم، مدن مترا، ڈیرک اوبرائن، کلیان بنرجی اور ڈولا سین شامل تھے۔
تاہم اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے بیشتر نئے اراکین اسمبلی اس پروگرام میں نظر نہیں آئے، جس پر سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود جماعتی قیادت نے دھرنے کو بھرپور قرار دیا اور کہا کہ کارکن بڑی تعداد میں شریک ہوئے ہیں۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ احتجاج صرف انتخابی نتائج کے بعد تشدد کے خلاف نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے اور فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے افراد کو ہٹانے کی کارروائیوں کے خلاف بھی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ طے شدہ پروگرام کے مطابق دھرنا شام تک جاری رہے گا اور جماعت اپنے مطالبات پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
0 تبصرے