یو پی آئی، اے ٹی ایم سے لے کر ٹیکس تک، یکم جون سے نافذ ہوئے کچھ بڑے مالیاتی اصول، جیب پر پڑے گا براہ راست اثر
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نیا مہینہ شروع ہونے کے ساتھ ہی یکم جون سے عام لوگوں کی روزمرہ کی مالیاتی سرگرمیوں سے منسلک کئی اہم تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ان میں یو پی آئی سے ادائیگی کے نظام کی سیکورٹی بڑھانے، اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کے قوانین میں تبدیلی، پین کارڈ سے متعلق التزامات میں ترمیم اور پیشگی ٹیکس (ایڈوانس ٹیکس) کی ادائیگی کی آخری تاریخ جیسی اہم باتیں شامل ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد ڈیجیٹل لین دین کو زیادہ محفوظ بنانا اور مالیاتی نظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
نئے اصول کے تحت 2026 میں یو پی آئی ادائیگی کے نظام کو مزید محفوظ بنایا جائے گا۔ اب صرف 4 یا 6 ہندسوں والے یو پی آئی پن کی بنیاد پر بڑے لین دین نہیں کیے جا سکیں گے۔ گوگل پے، فون پے اور پے ٹی ایم جیسے ایپس پر بڑی رقم کے لین دین کے لیے اضافی تصدیق کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس میں فنگر پرنٹ، فیس ریکگنیشن یا ڈیوائس پر مبنی 2 متبادل تصدیقی نظام (ٹو-فیکٹر آتھنٹیکیشن) شامل ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد آن لائن دھوکہ دہی کے معاملات کو کم کرنا ہے۔
ADVERTISEMENT
ٹیسک دہندگان کے لیے 15 جون ایک اہم تاریخ ہوگی۔ مالی سال 27-2026 کے لیے پیشگی ٹیکس (ایڈوانس ٹیکس) کی پہلی قسط اسی دن تک جمع کرانی ہوگی۔ جن لوگوں کی مجموعی ٹیکس 10 ہزار روپے سے زائد ہے، انہیں 15 جون تک اپنے متوقع ٹیکس کا 15 فیصد ادا کرنا ہوگا۔ مقررہ وقت پر ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں فی ماہ ایک فیصد سود کا جرمانہ لگ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ تمام لوگوں کی نظریں آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی میٹنگ پر ہوگی، جو 3 سے 5 جون کے درمیان ہونے والی ہے۔ مارکیٹ اس بات پر منقسم ہے کہ کیا مرکزی بینک ریپو ریٹ میں کوئی تبدیلی کرے گا؟ لیکن مہنگائی، معاشی ترقی اور مارکیٹ میں سرمائے کی دستیابی کی صورتحال پر آر بی آئی کا تبصرہ بھی اتنا ہی اہم ہوگا۔ مستقبل میں سود کی شرحوں میں کمی یا اضافے کے کسی بھی اشارے کا اثر آنے والے مہینوں میں ہوم لون کی ای ایم آئی، فکسڈ ڈیپازٹ پر ملنے والے ریٹرن اور قرض کی مجموعی لاگت پر پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ADVERTISEMENT
یکم جون کو کمرشیل ایل پی جی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا گیا ہے۔ پیر سے لاگو ہوئی نئی قیمتوں کے مطابق دہلی میں 19 کلو والے کمرشیل ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں 42 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 3113.50 روپے فی سلنڈر ہو گیا ہے۔ جبکہ کولکاتہ میں 53.50 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد قیمت بڑھ کر 3255.50 روپے فی سلنڈر ہو گیا ہے۔ قیمتوں میں یہ اضافہ ایندھن اور ٹرانسپورٹیشن کے بڑھتے اخراجات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 5 کلو والے فری ٹریڈ ایل پی جی (ایف ٹی ایل) سلنڈروں کی قیمت میں بھی 11 روپے کا اضافہ کیا ہے۔ دہلی میں 5 کلو والے ایف ٹی ایل سلنڈر کی قیمت اب 821 روپے ہوگی۔ حالانکہ گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، جس سے گھریلو صارفین کو کچھ راحت ملی ہے۔
جون سے یو پی آئی ایپس میں ایک نئی سہولت بھی شروع ہو رہی ہے، جس کے تحت ادائیگی کرنے سے پہلے وصول کنندہ کا تصدیق شدہ آفیشیل نام دکھائی دے گا۔ یہ معلومات محفوظ ڈیٹا بیس سے حاصل کی جائے گی۔ اس سے غلط کھاتے میں پیسے بھیجنے کا امکان کم ہوگا اور صارفین ادائیگی سے قبل پوری معلومات کی تصدیق کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ اب یو پی آئی پر مبنی کارڈ لیس اے ٹی ایم لین دین کو بھی بینک کی ماہانہ لین دین حد میں شامل کیا جائے گا۔ اگر صارف مقررہ مفت لین دین کی حد پار کر لیتے ہیں تو انہیں اضافی فیس دینی پڑ سکتی ہے۔ یہ اصول ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کی طرح لاگو ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) ایک نئے نظام کا تجربہ کر رہا ہے، جس کے تحت ملازم یو پی آئی کے ذریعہ اپنا پی ایف نکال سکیں گے۔ اگر یہ سہولت نافذ ہوتی ہے تو پی ایف کی رقم نکالنے کا عمل پہلے سے تیز اور آسان ہو جائے گا اور روایتی منظوری کے عمل پر انحصار کم ہوگا۔ نئے ٹیکس قوانین کے مطابق اب 50 ہزار سے زائد کے عام نقد رقم جمع کرنے کے لیے پین کارڈ لازمی نہیں ہوگا۔ حالانکہ اگر کسی شخص کے کل نقد جمع یا نکالنے کی رقم ایک مالی سال میں 10 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہو جاتے ہیں، تو پین سے متعلق اصول نافذ ہوں گے اور ضروری جانکاری دینی ہوگی۔
غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت کے لین دین میں پین نمبر بتانے کی حد بڑھا دی گئی ہے۔ پہلے 10 لاکھ روپے سے زیادہ کی جائیداد خرید یا فروخت پر پین ضروری تھا، لیکن اب یہ حد بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 45 لاکھ روپے سے زائد پراپرٹی کی ڈیل، گفٹ ڈیڈ اور جوائنٹ ڈیولپمنٹ ایگریمنٹس کے لیے رپورٹنگ ضروری کر دی گئی ہے۔
کرناٹک: راجیہ سبھا کی 4 اور قانون ساز کونسل کی 7 سیٹوں کے لیے انتخاب کا اعلان، 18 جون کو ووٹنگ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کرناٹک سے راجیہ سبھا کی 4 نشستوں اور قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی 7 نشستوں کے لیے انتخابی عمل پیر کے روز شروع ہو گیا۔ الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جبکہ ووٹنگ 18 جون کو ریاستی اسمبلی کے احاطے ’ودھان سودھا‘ میں کرائی جائے گی۔ ان انتخابات میں کرناٹک اسمبلی کے اراکین اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ راجیہ سبھا کے انتخابات بی جے پی کے ارنّا کڈاڈی اور نارائن کورگپا، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کی مدت کار 25 جون کو ختم ہونے کے باعث کرائے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب قانون ساز کونسل کی 7 نشستوں پر انتخابات متعلقہ اراکین کی مدت کار 30 جون کو ختم ہونے کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ ان میں کانگریس کے گووند راجو، نصیر احمد، ٹپنّاپّا اور بی کے ہری پرساد کے علاوہ بی جے پی کے این ناگ راج (ایم ٹی بی)، پرتاپ سمہا نائک اور سنیل والیاپور شامل ہیں۔
بہرحال، جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نامزدگی کا پرچہ داخل کرنے کی آخری تاریخ 8 جون ہے۔ نامزدگی فارموں کی جانچ 9 جون کو ہوگی، جبکہ امیدوار 11 جون تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔ ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی دونوں 18 جون کو انجام پائیں گی۔ ریاستی اسمبلی میں موجودہ عددی قوت کو دیکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ برسراقتدار کانگریس راجیہ سبھا کی 4 میں سے 3 اور قانون ساز کونسل کی 7 میں سے 5 نشستیں جیت سکتی ہے۔ تاہم، سیاسی حلقوں کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ بی جے پی اور جے ڈی (ایس) اتحاد ان انتخابات میں مشترکہ امیدوار میدان میں اتارتا ہے یا نہیں
ٹی ایم سی ارکانِ پارلیمنٹ پر حملوں کے بعد شیوسینا یو بی ٹی کا مغربی بنگال میں صدر راج کا مطالبہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ممبئی: ترنمول کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ پر حملوں کے معاملے پر شیوسینا ادھو بالاصاحب ٹھاکرے (یو بی ٹی) نے مغربی بنگال میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے اپنے ترجمان ’سامنا‘ کے اداریے میں ان واقعات کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں سیاسی تشدد خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
اداریے میں دعویٰ کیا گیا کہ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور رکنِ پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے حملہ انتہائی سفاکانہ اور بزدلانہ تھا۔ پارٹی کے مطابق گزشتہ دو دن کے دوران کولکاتا میں پیش آنے والے واقعات نے نہ صرف مغربی بنگال بلکہ پورے ملک کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔
شیوسینا یو بی ٹی نے کہا کہ مغربی بنگال کو طویل عرصے تک ملک کی مہذب اور سیاسی طور پر بیدار ریاستوں میں شمار کیا جاتا رہا لیکن موجودہ حالات میں وہاں تشدد، نفرت اور ہجوم کی سیاست کو فروغ مل رہا ہے۔ اداریے میں بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے بجائے سیاسی انتقام کی سیاست میں مصروف ہے۔
پارٹی نے دعویٰ کیا کہ اگر ایسے ہی واقعات ممتا بنرجی کی حکومت کے دوران پیش آئے ہوتے تو گورنر فوری طور پر مرکز کو صدر راج کی سفارش کر دیتے۔ اداریے کے مطابق ابھیشیک بنرجی پر پتھراؤ کیا گیا اور وہ ہیلمٹ پہننے کی وجہ سے محفوظ رہے، جبکہ رکنِ پارلیمنٹ کلیان بنرجی بھی حملے کا نشانہ بنے۔ شیوسینا یو بی ٹی نے ابھیشیک بنرجی کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے حملے کو پہلے سے تیار کی گئی سازش اور قتل کی کوشش قرار دیا تھا۔
اداریے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مغربی بنگال صدر سمک بھٹاچاریہ کے اس موقف کو بھی مسترد کیا گیا جس میں انہوں نے ان واقعات کو عوامی غصے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے پارٹی کے کسی کردار سے انکار کیا تھا۔ شیوسینا یو بی ٹی کے مطابق یہ دلیل ناقابلِ یقین ہے اور واقعات منظم سیاسی غنڈہ گردی کی عکاسی کرتے ہیں۔
پارٹی نے مزید الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس کو کمزور کرنے یا ریاست میں سیاسی غلبہ قائم کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اداریے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر ماضی میں بنگلہ دیشی دراندازی کو جرائم کے فروغ کی وجہ قرار دیا جاتا تھا تو موجودہ دور میں تشدد کے ذمہ دار عناصر کون ہیں۔
شیوسینا یو بی ٹی نے ریاستی حکومت اور گورنر کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ترنمول کانگریس کے دو ارکانِ پارلیمنٹ پر قاتلانہ حملوں کے باوجود اعلیٰ حکام کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پارٹی کے مطابق اس خاموشی سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں اور ان واقعات کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔
اداریے کے آخر میں شیوسینا یو بی ٹی نے مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور بدانتظامی جیسے عوامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر عوامی ناراضی کے بجائے سیاسی تشدد کے واقعات سامنے آنا تشویش کا باعث ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ حکمراں جماعت عوامی غصے کے رخ اور ریاست میں بڑھتی کشیدگی کے بارے میں جواب دے۔
’آبنائے ہرمز میں عارضی ٹول لینا ضروری‘، ایران کی حمایت میں کھل کر سامنے آیا قطر
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
آبنائے ہرمز میں ایرانی ٹول کے نظام کو قطر نے جائز ٹھہرایا ہے۔ شانگری-لا ڈائیلاگ میں بولتے ہوئے قطر کے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ عارضی طور پر جو ٹول کا نظام ہے اسے غلط نہیں کہا جا سکتا ہے۔ قطر کے مطابق عارضی طور پر ٹول لینا ایران کی مجبوری ہے۔ وہاں کا انتظام چلانے میں جو پیسے خرچ ہو رہے ہیں اسے ایران کیسے وصولے گا؟ قطر کے نائب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ میں مستقل ٹول نظام کے خلاف ہوں اور قطر ہر جگہ اس کی مخالفت کرے گا۔
’بلومبرگ‘ کے مطابق قطر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھولنے کو لے کر بات چیت چل رہی ہے۔ قطر پردے کے پیچھے سے اس معاہدہ کی قیادت کر رہا ہے۔ قطر کے وزیر اعظم الثانی معاہدہ کے لیے ایران اور امریکہ کے اہم مذاکرات کاروں سے براہ راست رابطے میں ہیں۔
قطر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں زیر زمین بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں، اسے ہٹانے میں کافی خرچ آئے گا۔ اگر معاہدے کے تحت 30 دن میں ایران اسے ہٹاتا ہے تو اسے کافی پیسے خرچ کرنے ہوں گے۔ یہ پیسے ایران کو کون دے گا؟ قطر کے نائب وزیر اعظم کے مطابق ایران اس کے لیے آبنائے ہرمز سے عارضی ٹول لے سکتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ سے جنگ کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز کو بلاک کر دیا۔ ہرمز خلیج فارس کا داخلی دروازہ ہے۔ 34 کلومیٹر کے اس تنگ راستے سے جہاز خلیج فارس سے نکل کر خلیج عمان میں داخل ہوتا ہے۔ اندازے کے مطابق ہرمز کے راستے پوری دنیا کی 20 فیصد تیل سپلائی کی جاتی ہے۔ ایران نے جنگ کے دوران یہاں پر ٹول بوتھ بنانے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد ایران نے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے 10-10 لاکھ ڈالر ٹرانزٹ فیس کے طور پر وصول کیے۔ ایران نے ٹول نظام کو آگے برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ میں ایک محکمہ بھی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس محکمہ کو آئی آر جی سی کے تحت رکھا گیا ہے۔ حالانکہ امریکہ نے اس کی مخالفت کی ہے، اس کا کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ ایران قدرتی راستوں سے پیسہ نہیں وصول سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے عمان کو بھی دھمکی دی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جو معاہدے کی تجویز تیار کی جا رہی ہے۔ اس میں ہرمز ٹول کا ذکر نہیں ہے۔ معاہدے کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں ٹول نہیں وصول سکتا ہے۔ اس کے بدلے ایران کے اوپر سے معاشی پابندیاں ہٹائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ امریکہ نے جو ایران کو تجویز پیش کی ہے، اس میں یورینیم افزودگی کو ختم کرنے کی بھی بات کہی گئی ہے
اے آئی کا بلبلہ پھوٹنے لگا! لاکھوں ملازمین کو فارغ کرنے والی کمپنیاں اخراجات کے بوجھ سے پریشان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
دنیا بھر میں گزشتہ 2 سالوں کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے پیدا ہوا ماحول کسی ’ٹیک انقلاب‘ سے کم نہیں ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ انٹرنیٹ کے بعد یہ سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔ ہر کمپنی اپنے نام کے ساتھ ’اے آئی‘ جوڑ کر فخر محسوس کر رہی ہے۔ لیکن اب کچھ رپورٹس کے مطابق گوگل، مائیکروسافٹ، اوبر سے لے کر اوپن اے آئی تک نے شاید یہ مان لیا ہے کہ اے آئی تیزی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ مائیکروسافٹ نے کلاؤڈ کے کئی لائسنس تک منسوخ کر دیے ہیں کیونکہ یہ بہت مہنگا پڑ رہا تھا۔
ایک کمپنی کو چند ماہ میں ہی اے آئی کی جانب سے 500 ملین ڈالر کا بل موصول ہوا۔ اسی طرح اوبر کا بھی سبسکرپشن بجٹ مقررہ وقت سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ ہر اسٹارٹ اپ سرمایہ کاری بڑھا رہا تھا۔ ہر ٹیک سی ای او کہہ رہا تھا کہ دنیا بدلنے والی ہے لیکن اب 2026 میں پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ اس کہانی کی چمک پھیکی پڑنے لگی ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک نہیں ہے۔ اے آئی پر بڑھتے ہوئے اخراجات، ریونیو کے واضح ماڈل کی کمی، روزگار کے بڑھتے ہوئے خدشات، عام لوگوں کی مخالفت اور خود ٹیک کمپنیوں کے بدلتے ہوئے بیانات، یہ سب مل کر ایک نیا سوال اٹھا رہے ہیں کہ ’’کیا اے آئی کا بلبلہ آہستہ آہستہ پھوٹنے لگا ہے؟‘‘
یہ سوال اس لیے بھی بڑا ہے کیونکہ تاریخ میں ٹیک دنیا پہلے بھی ایسا دیکھ چکی ہے۔ 1990 کی دہائی میں انٹرنیٹ کے حوالے سے بھی ایسا ہی ماحول تھا۔ ہر کمپنی اپنے آپ کو انٹرنیٹ کمپنی بتا رہی تھی۔ سرمایہ کار بغیر ضروری سوال پوچھے پیسہ لگا رہے تھے۔ پھر اچانک، ڈاٹ کام کا بلبلہ پھوٹ گیا اور ہزاروں کمپنیاں ختم ہوگئیں۔
اسی طرح کی بے چینی آج اے آئی کے بارے میں محسوس کی جا رہی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اس کے اخراجات ہیں۔ جب چیٹ جی پی ٹی متعارف کرایا گیا تھا تو عام لوگوں کو صرف اس کا جادو دکھائی دے رہا تھا۔ لوگ سوال پوچھ رہے تھے، تصاویر بنا رہے تھے، کوڈ لکھوا رہے تھے لیکن اس کے پیچھے کتنا پیسہ جل رہا ہے، اس بارے میں کم ہی بات چیت ہوئی۔ در اصل اے آئی کوئی عام سافٹ ویئر نہیں ہے۔ یہ بہت بڑے انفراسٹرکچر پر چلتا ہے۔ ہر سوال کے پیچھے بڑے ڈیٹا سینٹر کام کرتے ہیں۔ ہزاروں مہنگے جی پی یو چپس بجلی کھاتے ہیں، سرور مسلسل چلتے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اے آئی کو چلانے کے خرچ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ میں کچھ یونیورسٹی پروگراموں میں ٹیک لیڈرس کو طلباء کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ گوگل کے سابق سی ای او ایرک شمٹ کو بھی اے آئی پر بات کرتے وقت ہوٹنگ جھیلنی پڑی۔ خود سندر پچائی سے بواسٹریٹجی یعنی مخالفت سے نپٹنے کی حکمت عملی کے بارے میں سوال پوچھے گئے۔ یہ صرف مذاق یا انٹرنیٹ ٹرولنگ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے حقیقی خوف ہے۔ لوگوں کو ڈر لگ رہا ہے کہ اے آئی ان کی نوکریاں کھا جائے گا۔ نئی نسل کو ڈر ہے کہ جس سیکٹر میں وہ کیرئیر بنانا چاہتے ہیں، وہاں مشینیں پہلے پہنچ چکی ہیں، اور یہ ڈر پوری طرح بے بنیاد بھی نہیں ہے۔
کئی کمپنیوں نے حال ہی میں برطرفی کو نافذ کرتے وقت اے آئی کا حوالہ دیا۔ کچھ نے کہا کہ آٹومیشن سے کم لوگوں میں زیادہ کام ہو سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک اے آئی نے اتنی پیداوار بھی نہیں دکھائی جتنا وعدہ کیا گیا تھا۔ نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ کے ایک مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ 90 فیصد کمپنیوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی پیداور یا روزگار پر اے آئی کا ابھی تک کوئی خاص اثر نہیں نظر آیا، اس کے باوجود کمپنیاں مستقبل کی امیدوں میں اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔
ملیشیا میں بھی چھوٹے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد، 16 سال کے بچے ہی چلا پائیں گے فیس بک-انسٹاگرام
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ملیشیا نے یکم جون سے اپنے ملک میں ایک نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔ اب 16 سال سے کم عمر کے بچے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا سکیں گے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے سے پہلے عمر کی تصدیق (ایج ویریفکیشن) کرنا لازمی ہوگا۔ 16 سال سے کم عمر والے بچوں کو اکاؤنٹ بنانے سے روکنا ان پلیٹ فارمز کی ذمہ داری ہوگی۔ حکومت کے اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر 25 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس نئے قانون کے مطابق اگر بچے کسی طرح اکاؤنٹ بنا بھی لیتے ہیں تو ان کے والدین کو سزا نہیں دی جائے گی۔
حکومت نے یہ فیصلہ 16 سال سے کم عمر والے بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کے لیے کیا ہے۔ حکومت کا مقصد بچوں کو خراب مواد، سائبر بُلنگ اور زیادہ دیر تک آن لائن رہنے کی عادت کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہم بچوں کو انٹرنیٹ سے مکمل طور پر دور نہیں کر رہے بلکہ انہیں محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اب ایسی سہولتیں اور نظام تیار کرنے ہوں گے جو بچوں کو نقصاندہ مواد اور سرگرمیوں سے بچا سکیں۔ اس قانون پر عمل درآمد کے لیے انہیں کچھ وقت بھی دیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا پر دستیاب مواد کی وجہ سے 16 سال سے کم والے عمر بچوں کی ذہنی نشو و نما مختلف انداز میں متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی سے محدود کرنے کے حوالے سے دنیا میں سب سے پہلے آسٹریلیا نے یہ قدم اٹھایا۔ وہاں 10 دسمبر 2025 سے 16 سال سے کم عمر والے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی۔ آسٹریلیا میں اس عمر کے بچوں کے انسٹاگرام، فیس بک، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر موجود تمام اکاؤنٹس بند کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ برازیل اور انڈونیشیا میں بھی 16 سال سے کم عمر والے بچوں کے لیے اسی طرح کی سخت پالیسیاں نافذ کی گئی ہیں۔ فرانس میں بھی 15 سال سے کم عمر والے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کی گئی تھی، تاہم ابھی تک اس پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ فرانسیسی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے اس تجویز کو منظور کر لیا ہے، جبکہ ایوان بالا نے بھی کچھ ترامیم کے ساتھ اسے منظوری دی ہے۔ البتہ اس کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔
اس معاملے میں میٹا کا کہنا ہے کہ ملیشیا اور دیگر ممالک کی جانب سے اٹھائے گئے اس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں بچے محفوظ اور نگرانی والے پلیٹ فارمز کو چھوڑ کر دوسری جگہوں پر اپنے اکاؤنٹس بنا سکتے ہیں۔ میٹا کے مطابق امکان ہے کہ بچے سوشل میڈیا کا استعمال مکمل طور پر ترک نہیں کریں گے بلکہ غیر منظم اور غیر نگرانی شدہ پلیٹ فارمز کا رخ کریں گے۔ ایسی صورت میں آن لائن خطرات کم ہونے کے بجائے ان کے لیے مزید بڑھ سکتے ہیں
ایرانی عوام کے حقوق محفوظ ہوئے بغیر امریکہ سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: محمد باقر قالیباف
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور سینئر سیاسی رہنما محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ اپنے تنازع کے خاتمے کے لیے کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایرانی عوام کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کی واضح ضمانت موجود نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایران صرف زبانی وعدوں پر بھروسا نہیں کرے گا بلکہ کسی بھی سمجھوتے سے قبل عملی اور ٹھوس نتائج کو ترجیح دے گا۔
محمد باقر قالیباف نے یہ بات ایک ورچوئل پارلیمانی اجلاس کے دوران کہی، جہاں انہوں نے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد اسپیکر کے طور پر اپنے عہدے کا حلف بھی لیا۔ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے اصل معیار یہ ہے کہ کسی بھی فریق کی جانب سے وعدوں کی تکمیل سے پہلے اس کے عملی نتائج سامنے آئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دشمن کے بیانات اور وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے مختلف دعوے اور بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکہ ایران میں موجود افزودہ یورینیم کو اپنے قبضے میں لے گا، تاہم ایران نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ ایران اس بات پر رضامند ہو گیا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے مختلف پہلوؤں پر رابطے جاری ہیں، لیکن ابھی کئی معاملات زیر غور ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ایران کی توجہ کشیدگی اور ممکنہ تنازع کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق موجودہ مرحلے میں یورینیم کی افزودگی یا افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق تفصیلات پر بات نہیں کی جا رہی۔
آبنائے ہرمز کے مستقبل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام اور اس سے متعلق فیصلوں کا تعلق صرف ایران اور عمان سے ہے۔ ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ ایران کو اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا جوہری بم حاصل نہیں کرے گا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے باوجود دونوں ممالک کے مؤقف میں اب بھی نمایاں اختلافات برقرار ہیں۔
0 تبصرے