پٹرول، ڈیزل اور اے ٹی ایف کی برآمد پر مرکز نے لگایا نیا چارج، نئی شرحیں یکم جون سے نافذ


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



مرکزی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی برآمد سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ یکم جون 2026 سے پٹرول، ڈیزل کے ساتھ ساتھ ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر لگنے والی برآمدی ڈیوٹی کم کر دی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ اس فیصلے سے ان کمپنیوں پر براہ راست اثر پڑے گا جو ہندوستان سے ریفائنڈ تیل بیرون ملک فروخت کرتی ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں استعمال ہونے والے ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پٹرول پمپس پر فروخت ہونے والے تیل کی قیمت میں کمی نہیں ہوگی۔ بلکہ یہ فیصلہ صرف اور صرف بین الاقوامی تجارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔



بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں کی بنیاد پر حکومت ہر 15 ویں دن ٹیکس کی شرحوں کا جائزہ لیتی ہے۔ ان نرخوں پر پچھلی بار 16 مئی 2026 کو نظر ثانی کی گئی تھی۔ تازہ ترین جائزے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یکم جون سے پٹرول کی برآمدات پر صرف 1.5 فی لیٹر کی خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی (ایس اے ای ڈی) عائد کی جائے گی۔ ڈیزل کی برآمد پر ڈیوٹی کو کم کر کے 13.5 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ ایوی ایشن فیول (اے ٹی ایف) پر یہ ڈیوٹی اب 9.5 فی لیٹر ہوگی۔ اہم بات یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل دونوں کی برآمد پر لگائے جانے والے روڈ اینڈ انفراسٹرکچر سیس (آر آئی سی) کو صفر پر رکھا گیا ہے۔




اس فیصلے کی جڑیں کچھ ماہ پرانی ہیں۔ رواں سال 27 مارچ 2026 کو حکومت نے پٹرول، ڈیزل سمیت ہوابازی کے ایندھن کی برآمد پر یہ خصوصی ٹیکس عائد کیا تھا۔ اس وقت مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھ رہی تھی اور جغرافیائی سیاسی بحران گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ ایسے میں گھریلوں بازار میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت نہ ہو جائے، یہ یقینی بنانے کے لیے حکومت یہ قدم اٹھایا تھا۔ اس ٹیکس کا بنیادی مقصد کمپنیوں کو تیل کی بڑی مقدار برآمد کرنے سے روکنا اور ملک کے اندر مناسب سپلائی برقرار رکھنا تھا۔


اگرچہ کمپنیوں کو برآمدات کے محاذ پر راحت ملی ہے، لیکن عام آدمی اس وقت مہنگائی سے دوچار ہے۔ 25 مئی کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ہوا تھا، جو گزشتہ 2 ہفتوں سے بھی کم عرصے میں لگاتار چوتھا اضافہ ہے۔ اس کے بعد دہلی میں پٹرول 100 روپے کے ہندسے کو عبور کردگیا ہے۔ تازہ ترین اضافے کے بعد راجدھانی دہلی میں پٹرول 2.61 روپئے مہنگا ہو گیا ہے، جو 102.12 روپئے فی لیٹر پر پہنچ گیا ہے، جب کہ ڈیزل 2.71 روپئے بڑھ کر 95.20 روپئے فی لیٹر پر فروخت ہو رہا ہے۔




پٹرول-ڈیزل قیمتوں کی دیگر میٹروپولیٹن شہروں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ کولکاتہ میں پٹرول کی قیمت 113.51 روپے اور ڈیزل کی قیمت 99.82 روپے فی لیٹر ہے۔ ممبئی میں صارفین کو ایک لیٹر پٹرول کے لیے 111.21 روپئے اور ڈیزل کے لیے 97.83 روپئے ادا کر کرنے پڑ رہے ہیں۔ چنئی میں پیٹرول 107.77 روپے اور ڈیزل 99.55 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔





انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن: ’تمباکو چھوڑنے سے ایک سال میں دل کی بیماری کا خطرہ نصف ہو جاتا ہے‘، ڈبلیو ایچ او کا پیغام


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



تمباکو اور تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے سنگین طبی خطرات کے متعلق لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے آج یعنی 31 مئی کو ’انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن‘ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک ہیلتھ ایڈوائزری جاری کر کے تمباکو چھوڑنے سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں بتایا ہے۔



ڈبلیو ایچ او نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’آج انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن ہے۔ تمباکو کا استعمال کرنے والوں میں سے تقریباً 60 فیصد لوگ اسے چھوڑنا چاہتے ہیں۔ شاید آپ بھی ان میں سے ایک ہوں۔ دنیا بھر میں یہ تعداد 75 کروڑ ہے۔ آپ باہمی تعاون اور مدد سے اپنے اس خواب کو سچ کر سکتے ہیں۔‘‘ عالمی ادارہ صحت نے مزید لکھا کہ ’’تمباکو چھوڑنے سے آپ کی صحت کو متعدد فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ صرف 20 منٹ میں آپ کے دل کی دھڑکن معمول پر آ جاتی ہے۔ 2 سے 12 ہفتوں میں آپ کے پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک سال میں دل کی بیماری کا خطرہ نصف رہ جاتا ہے۔ آپ اس لت سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ مدد دستیاب ہے، آج ہی چھوڑیں!‘‘




اس سے قبل 29 مئی کو ڈبلیو ایچ او نے ایک آفیشیل بیان میں بتایا تھا کہ دنیا بھر میں 13 سے 15 سال کی عمر کے کم از کم 4 کروڑ بچے تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں۔ نوجوانوں میں ای سگریٹ اور نیکوٹین پاؤچ کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت دنیا بھر کی حکومتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ نئی نسل کو تمباکو اور نیکوٹین کی مصنوعات کی لت سے بچائیں۔ ساتھ ہی ڈبلیو ایچ او نے وارننگ دی ہے کہ تمباکو اور نیکوٹین بنانے والی کمپنیاں جان بوجھ کر اپنی مصنوعات کو زیادہ پرکشش، استعمال میں آسان اور چھوڑنے میں مشکل بنانے کے لیے ان میں تبدیلیاں کر رہی ہیں۔



ڈبلیو ایچ او کے ہیلتھ ڈیٹرمیننٹس، پروموشن اینڈ پریوینشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایٹین کروگ نے کہا کہ تمباکو لاکھوں لوگوں کی جانیں لے رہا ہے، اس کے باوجود بڑی تمباکو کمپنیاں اپنے بزنس ماڈل کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ وہ جان لیوا سگریٹ سے منافع کمانا جاری رکھے ہوئے ہیں، ساتھ ہی اگلی نسل کو لت لگانے کے مقصد سے فلیورڈ ای-سگریٹ، نیکوٹین پاؤچ اور دیگر نیکوٹین مصنوعات کو جارحانہ انداز میں فروغ دے رہی ہیں۔





اپنے ہی افسران کی تجویز پر ٹرمپ کو بھروسہ نہیں! 2 نئے مطالبات کے ساتھ مجوزہ ایران معاہدے کا مسودہ واپس


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے حوالے سے گزشتہ کئی دنوں سے کہا جا رہا تھا کہ اس پر اب صرف ٹرمپ کے دستخط ہونا باقی ہیں۔ اب امریکہ نے ایک نیا پیچ پھنسا دیا ہے۔ ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران اپنے ہی افسران کے تیار کردہ مسودے میں تبدیلی کا مطالبہ کردیا ہے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک اور دور کی بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ امریکی افسران کے مطابق ٹرمپ ڈیل چاہتے ہیں اور اسے جلد حتمی شکل بھی دینا چاہتے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ کچھ اہم نکات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ سب سے بڑا تنازعہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور آبنائے ہرمز سے متعلق ہے۔


جمعہ کے روز ٹرمپ نے خود کہا تھا کہ وہ سیچویشن روم میں ہونے والی میٹنگ کے دوران ڈیل پر ’حتمی فیصلہ‘ کرنے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران معاہدے کے لیے تیار ہے اور صرف ٹرمپ کی منظوری باقی ہے۔ تاہم میٹنگ کے دوران ٹرمپ نے معاہدے کے مسودے کے بعض حصوں پر اعتراض کردیا۔ رپورٹس کے مطابق موجودہ مسودے میں ایران نے صرف اتنا وعدہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ اس کے علاوہ 60 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، جس کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔




ٹرمپ کی سب سے بڑی فکر ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ ایک سینئر امریکی افسر نے بتایا کہ صدر جاننا چاہتے ہیں کہ امریکہ کو یہ یورینیم کب، کیسے اور کس مدت میں ملے گا۔ موجودہ مسودے میں اس معاملے پر خاطر خواہ وضاحت کا فقدان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ صرف وعدہ نہیں بلکہ یورینیم ہٹانے کے لیے ایک مکمل بلیو پرنٹ چاہتے ہیں۔ حال ہی میں ٹرمپ نے ایران کی افزودہ یورینیم کو ’’جوہری خاک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے نکال کر تلف کیا جانا چاہیے۔ اس معاملے پر قازقستان کا بھی ذکر کیا گیا ہے جہاں آئی اے ای اے کی نگرانی میں یورینیم ذخیرہ کرنے کے آپشن پر بات ہو رہی ہے۔


رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی مسودے کی زبان بدلنے کو کہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا رہے اور جہازوں کی آمد ورفت پر کوئی محصول یا اضافی کنٹرول نے ہو۔ حالانکہ ایران پہلے ہی اشارے دے چکا ہے کہ وہ ہرمز میں سکیورٹی اور نگرانی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب نظرثانی شدہ تجویز ایران کو بھیجی گئی ہے۔ جواب آنے میں تقریباً 3 دن لگ سکتے ہیں۔ ایک سینئر اہلکار نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’’وہ سچ میں غاروں میں بیٹھے ہیں اور ای میل استعمال نہیں کر رہے ہیں۔‘‘ وائٹ ہاؤس کا خیال ہے کہ ایک معاہدہ بالآخر طے پا جائے گا لیکن وقت ابھی تک واضح نہیں ہے۔





لبنان کے ’بیوفورٹ قلعہ‘ پر لہرایا اسرائیلی جھنڈا، وزیر دفاع کاٹج نے اسے ’اسٹریٹجک فتح‘ قرار دیا


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے اتوار (31 مئی) کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب واقع بیوفورٹ قلعے پر اسرائیل اور گولانی بریگیڈ کا جھنڈا لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے ’اسٹریٹجک جیت‘ قرار دیا ہے۔ آئی ڈی ایف کے ترجمان نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ کے ذریعے علاقے میں موجود اپنے فوجیوں کی تصاویر بھی جاری کیں اور کہا کہ ہماری فوج اب لیطانی ندی کے شمال میں حزب اللہ کے خلاف مسلسل حملے کر رہی ہے۔ ایک تفصیلی پوسٹ میں انہوں نے اب تک کی کامیابیوں کو قابل تعریف قرار دیا۔



اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے تصویر شیئر کرتے ہوئے ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ ’’اسرائیلی فوج نے، گولانی بریگیڈ کی قیادت میں، جنوبی لبنان کے بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ کارروائی لیطانی ندی کے پار آپریشن کو وسعت دینے کے بعد کی گئی۔‘‘ کاٹز نے پوسٹ میں مزید کہا کہ وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو کی ہدایت اور ان کی اپنی رہنمائی میں اسرائیلی فوج نے لبنان میں فوجی مہم کو وسعت دی، لیطانی ندی کو عبور کیا اور بیوفورٹ پہاڑی سلسلے پر قبضہ کر لیا۔




اسرائیل کاٹز نے یہ بھی کہا کہ اس مہم میں رازداری برتی گئی تھی۔ کاٹز کے مطابق لڑائی اب بھی جاری ہے اور اسرائیل حزب اللہ کو کمزور کرنے اور شمالی سرحد کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ دراصل اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے 1982 میں اس قلعے پر قبضہ کیا تھا۔ اس دوران گولانی بریگیڈ کے 6 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ 1982 سے 2000 تک جنوبی لبنان پر 18 سالہ قبضے کے دوران اسرائیل نے اس قلعے کے علاقے کو اپنے کنٹرول میں رکھا تھا۔ بعد میں وہاں سے فوجیوں کو واپس بلا لیا گیا تھا۔






امریکی فوج نے خلیج عمان میں ناکہ بندی توڑنے پر جہاز کو روکا، جہاز کے خلاف فوجی کارروائی کی


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



امریکی فوج نے خلیج عمان میں گیمبیا کے جھنڈے والے تجارتی جہاز کو روکا۔ ناکہ بندی کی خلاف ورزی کے بعد جہاز مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا تھا۔ تجارتی جہاز ایرانی بندرگاہ کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔امریکی سنٹرل کمانڈ نے پوری فوجی کارروائی کی اطلاع دی ہے۔


جہاز کو دیکھنے کے بعد امریکی سکیورٹی فورسز نے نہ صرف ایک یا دو نہیں بلکہ 20 سے زیادہ سخت وارننگ جاری کیں جہاز کے عملے کو ریڈیو کے ذریعے مطلع کیا گیا کہ ان کا یہ اقدام امریکی ناکہ بندی کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ بار بار کی وارننگ کے باوجود ’لیان اسٹار‘ نامی جہاز کے عملے نے امریکی احکامات کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے جہاز کو نہ روکا اور ایران کی طرف بڑھتے رہے۔ جس کے بعد امریکی فوج نے جوابی کارروائی کی۔ امریکی فضائیہ کے ایک لڑاکا طیارے نے جہاز کے انجن روم کو نشانہ بنایا۔




طیارے نے ہیل فائر میزائل براہ راست جہاز کے انجن روم پر فائر کیا۔ میزائل حملے کے بعد جہاز کا انجن مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا۔ جہاز اب ناکارہ ہے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ ایران کے ساتھ اس وقت جنگ بندی نافذ ہے۔ امریکی فوج جنگ بندی اور ناکہ بندی کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے جامع سمندری نگرانی کر رہی ہے۔ اس مشن کے ایک حصے کے طور پر، امریکی فوج نے اب تک مجموعی طور پر پانچ تجارتی جہازوں کو ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر غیر فعال کر دیا ہے۔


اس کے علاوہ ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے 116 جہازوں کو روک کر موڑ دیا گیا ہے۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس سمندری راستے پر پابندیوں میں نرمی کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔





کولکاتہ میں 3000 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی، کسی بھی وقت مسماری کا امکان


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



کولکاتہ میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے محکمہ عمارت نے شہر بھر میں تقریباً 3000 غیر قانونی تعمیرات کی شناخت کی ہے۔ اس بات کی جانکاری میونسپل کارپوریشن کے ایک افسر نے اتوار کو دی۔ افسر نے بتایا کہ ان ہزاروں رہائش گاہوں میں کی جانے والی تعمیرات اور توسیع پوری طرح سے غیر قانونی ہیں اور انہیں کسی بھی وقت مسمار کیا جا سکتا ہے۔ مشرقی کولکاتہ میں ای ایم بائی پاس کے آس پاس ایسے کئی غیر قانونی ڈھانچے بن گئے ہیں۔


کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے مختلف علاقوں میں سے بیلیا گھاٹا، تانگرہ، تلجالا، بُرابازار، ٹوپسیہ، کسبہ، گارڈن ریچ، مٹیا برج، کوسی پور اور چت پور جیسے علاقوں میں سب سے زیادہ غیر قانونی تعمیرات ہوئی ہیں۔ کے ایم سی کے بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کچھ علاقوں کو ’ریڈ زون‘ قرار دیا گیا ہے۔ افسران کے مطابق ان ریڈ زونز کی درجہ بندی ایسے مقامات کے طور پر کی گئی ہے جہاں بڑی تعداد میں غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں۔ تحقیقات کے دوران کے ایم سی کے افسران نے پایا کہ ان غیر قانونی تعمیرات کو مقامی پروموٹرز اور گروہوں کے ذریعے سہولت فراہم کی گئی تھی۔




’آئی اے این ایس‘ پر کے ایم سی کے ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی پروموٹر یا تعمیراتی کمپنی میونسپل کارپوریشن سے ’جی پلس فور‘ عمارت کی تعمیر کی منظوری تو لے لیتی ہے، لیکن بعد میں ’جی پلس فائیو‘ عمارت تعمیر کر دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف اضافی غیر قانونی منزل کے ذریعے منافع بڑھانے کا موقع ملتا ہے، بلکہ تعمیراتی مواد کی خریداری سے وابستہ اخراجات میں بھی بھاری اضافہ ہوتا ہے۔ اس منافع کو گروہوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔


ایک افسر نے کہا کہ کچھ ایسی عمارتیں جہاں غیر قانونی طور پر ایک اضافی منزل تعمیر کی گئی ہے، وہاں پوری عمارت کو مسمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ صرف اسی اضافی منزل کی جانچ کی جائے گی۔ کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے بلڈنگ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ کولکاتہ کے جن علاقوں کو غیر قانونی تعمیرات کے لیے ریڈ زون قرار دیا گیا ہے، وہاں غیر قانونی تعمیرات کے لیے گروہوں کے ذریعے گاؤں یا کچی آبادیوں (جھگی-جھونپڑی) والے علاقوں کو منہدم کیے جانے کا امکان ہے۔