اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اسرائیلی جیلوں میں عصمت دری، جنسی زیادتی اور جبری برہنہ ہونے کا الزام
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ نے اسرائیل اور اقوام متحدہ کے درمیان ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد اور ہراساں کرنے کے متعدد واقعات کیے۔ جس کے بعد اسرائیل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے دفتر سے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران فلسطینی قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد کے 31 تصدیق شدہ واقعات کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں عصمت دری، عصمت دری کی کوشش، پرائیویٹ پارٹس پر تشدد، جبری لباس اتارنے، ذلت آمیز تلاشی اور جنسی ہراسانی شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے معاملات میں مردوں اور لڑکوں کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ خواتین قیدیوں کو ریپ، جبری برہنہ کرنے اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات مختلف حراستی مراکز، جیلوں اور تفتیشی مراکز میں پیش آئے۔ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کچھ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو مناسب رسائی فراہم نہیں کی جس سے بہت سے معاملات میں آزادانہ تحقیقات میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد اور توہین آمیز سلوک کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد اسرائیل نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ ہم اب آپ کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حماس جیسی تنظیموں کی فہرست میں اسرائیلی فوجیوں کو شامل کرنا ناانصافی ہے۔
اقوام متحدہ نے اپنے نتائج کا دفاع کیا ہے۔ سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے واضح طور پر کہا، "سیکرٹری جنرل اپنی رپورٹ پر قائم ہیں اور کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔" یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کو غزہ جنگ اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اس کے سلوک پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر اسرائیل اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ (انپٹ بشکریہ نیوز پورٹل ’آج تک‘)
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ اہم نکات پر اتفاقِ رائے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کی شرط
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی اہم معاملات پر اتفاقِ رائے قائم ہو گیا ہے، تاہم حتمی منظوری سے قبل وہ وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں اعلیٰ حکام کے ساتھ مشاورت کریں گے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا جوہری بم حاصل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جانا چاہیے تاکہ دونوں سمتوں میں بحری جہازوں کی بلا رکاوٹ آمد و رفت ممکن ہو سکے اور کسی قسم کا محصول عائد نہ کیا جائے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں عائد امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جا رہی ہے اور وہ جہاز جو اس راستے میں پھنسے ہوئے تھے، اب واپسی کا سفر شروع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سمندری بارودی سرنگوں کے مسئلے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے اور باقی ماندہ سرنگوں کو ہٹانے یا تباہ کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق گزشتہ برس ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کے بعد زیرِ زمین دب جانے والا افزودہ جوہری مواد، جسے انہوں نے ’جوہری غبار‘ قرار دیا، نکال کر تباہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام ایران، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور امریکہ کے درمیان قریبی تعاون سے انجام پائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کوئی مالی لین دین نہیں ہوگا۔
ادھر ذرائع کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو مزید 60 دن تک بڑھانے کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ طے پایا ہے تاکہ باضابطہ مذاکرات کے لیے وقت فراہم کیا جا سکے۔ تاہم امریکی صدر نے ابھی تک اس مجوزہ سمجھوتے کی حتمی منظوری نہیں دی ہے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے مذاکرات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو یقین دہانیوں یا الفاظ پر بھروسہ نہیں بلکہ صرف عملی اقدامات قابلِ قبول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں اصل پیمانہ عمل درآمد ہے، نہ کہ وعدے۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے مذاکراتی ٹیم سے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ فریم ورک کے متن میں حالیہ دنوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اسے ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔ اس لیے معاہدے کو مکمل اور منظور شدہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی حساس امور پر پیش رفت ہوئی ہے۔ ایران طویل عرصے سے آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، جبکہ امریکہ جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت شرائط پر زور دیتا آیا ہے۔
امریکی عدالت نے کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کے لئے کہا
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک بڑا قانونی جھٹکا لگا ہے۔ واشنگٹن میں ایک وفاقی عدالت نے جان ایف کینیڈی سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس سے صدر ٹرمپ کا نام ہٹانے کا حکم دیا ہے، جو ملک کے سب سے باوقار ثقافتی مراکز میں سے ایک ہے۔ اپنے تاریخی فیصلے میں عدالت نے واضح طور پر کہا کہ امریکی پارلیمنٹ (کانگریس) کی منظوری کے بغیر ادارے کا نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج کرسٹوفر کوپر نے ٹرمپ انتظامیہ کو 14 دن کے اندر اندر ڈونالڈ ٹرمپ کے نام والے تمام سائن بورڈز کو احاطے سے ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے سرکاری دستاویزات اور تشہیری مواد میں ’ٹرمپ کینیڈی سینٹر‘ کا نام استعمال کرنے پر بھی فوری پابندی لگا دی ہے۔
عدالت نے کہا کہ کینیڈی سینٹر کا قانونی ڈھانچہ واضح طور پر اسے سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی یاد میں بنائے گئے ادارے کے طور پر بیان کرتا ہے۔ ایسے میں نام بدلنے کا اختیار صرف ان کے پاس ہے۔ جج کوپر کے حکم نے بڑی تزئین و آرائش کے لیے کینیڈی سینٹر کو دو سال کے لیے بند کرنے کے ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبے کو بھی روک دیا۔ تاہم، جج نے کہا کہ خستہ حال عمارت کی انتہائی ضروری مرمت جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے فیصلے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ مرکز کو کیسے چلایا جائے۔
عدالت کے حکم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ انہوں نے امریکی محکمہ تجارت کو ہدایت کی ہے کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر ادارے کی مکمل منتقلی کے لیے تمام ضروری انتظامات کرے، اس کی نگرانی، دیکھ بھال اور انتظام کی ذمہ داری قانون سازوں کو سونپی جائے۔
جمعہ کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ اگلے ماہ شروع ہونے والی بڑی تزئین و آرائش مرکز کو بند کیے بغیر ممکن نہیں ہو گی اور کوپر کا سینٹر کو کھلا رکھنے کا حکم خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسی صورتحال کا حصہ نہیں بن سکتا جہاں عوامی تحفظ کھلے عام اور واضح طور پر خطرے میں ہو۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ ڈیموکریٹک پارٹی کی کانگریس وومن جوائس بیٹی نے دائر کیا تھا۔ اس نے کینیڈی سینٹر بورڈ کے نام تبدیل کرنے کے فیصلے کی قانونی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کیا۔ اس عدالتی دھچکے پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
تنازعہ گزشتہ سال اس وقت شروع ہوا جب ڈونالڈ ٹرمپ کی سربراہی میں بورڈ نے (جس میں ان کے کئی قریبی ساتھی بطور ٹرسٹیز شامل ہیں) نے تاریخی ثقافتی ادارے کا نام بدل کر "ڈونالڈ جے ٹرمپ اور جان ایف کینیڈی میموریل سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس" رکھنے کی قرارداد منظور کی۔ قرارداد کی منظوری کے فوراً بعد، ڈونالڈ ٹرمپ کا نام عمارت کے مرکزی اگواڑے پر براہ راست جان ایف کینیڈی کے اوپر کندہ کر دیا گیا۔ اس اقدام کی کینیڈی خاندان کی اولاد اور بورڈ کے کچھ دیگر ارکان نے سختی سے مخالفت کی، جنہوں نے اس فیصلے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا۔
ظلم و بربریت کے بھیانک اثرات: اسرائیل میں نفسیاتی مسائل، خودکشی کے واقعات میں اضافہ
یو این آئی
یو این آئی
غزہ میں ظلم اور بربریت کے بعد ایران، لبنان اور دیگر خطوں میں جاری فوجی کارروائیوں نے اسرائیلی معاشرے کو نفسیاتی بحران نے لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مختلف سروے رپورٹس، حکومتی اعداد و شمار اور ماہرین کے مطابق اسرائیل میں ذہنی امراض، پوسٹ ٹراماٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی)، خودکشی کے واقعات اور سماجی تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
قطری نشتریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دو سال سے زائد عرصے سے جاری تنازعات نے نہ صرف اسرائیلی فوجیوں کی ذہنی صحت کو تباہ کر دیا ہے بلکہ عوام کو بھی گہرے نفسیاتی صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔حال ہی میں اسرائیل کے طبی ادارے ’مکابی ہیلتھ کیئر سروسز‘ کے سروے میں بتایا گیا کہ تقریباً ایک تہائی اسرائیلی شہریوں کا خیال ہے کہ انہیں پیشہ ورانہ ذہنی صحت کے حوالے سے مدد کی ضرورت ہے۔ حاضر سروس فوجیوں اور ریزرو اہلکاروں میں یہ صورت حال مزید سنگین ہے۔
اسرائیلی وزارت دفاع نے جنوری میں رپورٹ کیا تھا کہ ستمبر 2023 کے بعد فوجیوں میں ’پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر‘ (پی ٹی ایس ڈی) کے کیسز میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ 2028 تک اس میں 180 فیصد اضافے کا خدشہ ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت نے اس عرصے میں ذہنی مسائل کے باعث فوج سے فارغ کیے گئے اہلکاروں کی تعداد تاحال جاری نہیں کی، حالانکہ وہ قانوناً اس کی پابند ہے۔
اسی ماہ اسرائیل کی ہنگامی طبی سروس ’میگن ڈیوڈ آدوم‘ نے ذہنی صحت سے متعلق خصوصی ایمرجنسی سروس شروع کی ہے، کیوں کہ اسے موصول ہونے والی کالز میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق زیادہ تر کالز کا تعلق جنگوں کے مسلسل دباؤ سے متعلق تھا۔ذہنی صحت کی بگڑتی صورت حال کا ایک بڑا ثبوت خودکشیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہے، جس میں زیادہ تر فوجی اہلکار شامل ہیں۔اخبار ’دی یروشلم پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2024 میں فوجیوں کی خودکشی کے واقعات میں 78 فیصد براہِ راست غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور لبنان میں جاری جنگی آپریشنز سے جڑی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی، ڈپریشن، شدید تناؤ اور گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اکتوبر 2023 کے بعد سے تیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران اس تلخ حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی آباد یہودیوں کے فلسطینیوں پر حملوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خطرناک عمل ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے میں بھی پھیل رہا ہے۔ یہ بہت خطرناک ہے اور اسے روکنا ضروری ہے۔سابق اسرائیلی فوجی اور ماہر نفسیات ٹولی فلنٹ نے کہا کہ 7 اکتوبر کے حملوں نے اسرائیلیوں کے تحفظ کے احساس کو مکمل طور پر توڑ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلیوں کو اپنی فوجی برتری پر جو گھمنڈ تھا. حالیہ واقعات نے اسے غرور کو توڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب اپنی حکومت اور اداروں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ایک اسرائیلی نیوز ویب سائٹ ’این 12‘ کے سروے کے مطابق 18 سے 21 سال کے نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ 7 اکتوبر کا حملہ ’اندرونی غداری‘ کا نتیجہ تھا، جب کہ یہ نسل اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ مذہبی اور دائیں بازو کی حامی نسل بن کر سامنے آ ئی ہے۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی معاشرے میں تشدد اور خوف کا رجحان صرف 7 اکتوبر کے بعد پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں اسرائیل کے قیام سے جڑی ہوئی ہیں۔معروف اسرائیلی سماجیات دان یہودا شینحاو شہرابانی کا کہنا کہ اسرائیلی معاشرہ شروع سے ہی تشدد کے عناصر کے ساتھ تشکیل پایا، جب کہ حالیہ واقعات نے ان رجحانات کو مزید نمایاں اور ’نئی شروعات‘ کے تصور کو فروغ دیا ہے۔شہرابانی کے مطابق اسرائیلی معاشرے میں پہلے بھی فاشسٹ رجحانات موجود تھے لیکن ماضی میں نسبتاً لبرل حلقے ان پر پردہ ڈال دیتے تھے، لیکن حالیہ جنگ کے بعد نام نہاد لبرل ازم کے پردے ہٹ گئے ہیں اور صیہونیت کا فاشسٹ چہرہ اب ہر جگہ واضح نظر آ رہا ہے۔تل ابیب یونیورسٹی کی پروفیسر زہاوا سلیمان گزشتہ 40 برس سے اجتماعی صدمے پر تحقیق کر رہی ہیں۔ اس معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے صدمات نے اسرائیلی معاشرے میں خود کو ہمیشہ ’مظلوم‘ تصور کی سوچ پیدا کی۔انہوں نے کہا کہ اس سوچ کے فلسطینیوں کے لیے انتہائی بھیانک اور تباہ کن نتائج برآمد ہو رہے ہیں تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ ذہنی بحران اسرائیل کے مستقبل کو کس طرح متاثر کرے گا۔ذہنی صحت کے ماہر ٹولی فلنٹ کا کہنا ہے کہ اس اجتماعی صدمے کا مکمل علاج ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف بحالی کے عمل سے گزرنے سے بہتر ہوسکتا ہے، کیوں کہ جب لوگ ایک بار اس مرحلے سے گزر جائیں تو پھر وہ پہلے جیسے نہیں رہتے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اتحادی ملک عمان کو تباہ کرنے کی دھمکی دی
یو این آئی
یو این آئی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ہی اتحادی ملک عمان کو تباہ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتحادی ملک عمان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمان کو دیگر ممالک کی طرح برتاؤ کرنا ہوگا ورنہ اسے تباہ کر دیں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران معاہدے کیلیے بے تاب ہے لیکن ابھی ڈیل فائنل نہیں ہوئی۔ اگر یہ معاہدہ بہترین نہیں ہوگا تو ہم کریں گے ہی نہیں۔ امریکی صدر نے ایران معاہدے کو سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونے کی ہماری بات ماننے کے پابند ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو جائیں۔ دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملے تیز کر دیے ہیں، اور عید الاضحیٰ کے دن بھی صہیونی فوج نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں 31 افراد جاں بحق ہو گئے۔
سدارمیا کی تجویز پر ڈی کے شیوکمار کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر منتخب، وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بنگلورو میں منعقدہ کانگریس قانون ساز پارٹی کے میٹنگ میں ڈی کے شیوکمار کو متفقہ طور پر کانگریس قانون ساز پارٹی کا نیا لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کرناٹک میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل بھی تیز ہو گیا ہے۔ اجلاس میں کانگریس کے تمام اہم اراکین اسمبلی اور پارٹی لیڈران موجود تھے۔ طویل عرصہ سے جاری سیاسی مشاورت کے بعد بالآخر پارٹی نے ڈی کے شیوکمار کے نام پر مہر لگا دی۔ قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب ہونے کے بعد اب شیوکمار کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ بھی ہموار ہو گیا ہے۔ ڈی کے شیوکمار کے اس عہدے پر انتخاب کو کرناٹک کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ عہدہ کے مضبوط دعویدار سمجھے جانے والے شیوکمار اب ریاست کی قیادت سنبھالنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اجلاس کے بعد بتایا کہ کانگریس ہائی کمان نے قانون ساز پارٹی کے لیڈر کے لیے ڈی کے شیوکمار کے نام کی سفارش کی تھی۔ اس کے بعد سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے میٹنگ میں ڈی کے شیوکمار کے نام کی تجویز پیش کی، جس کی تائید کانگریس کے سینئر لیڈر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کی۔ اجلاس میں موجود تمام اراکین اسمبلی نے اس تجویز کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ کسی بھی رکن نے اس کی مخالفت نہیں کی، جس کے بعد ڈی کے شیوکمار کو کانگریس قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا گیا۔
اس بارے میں کے سی وینوگوپال نے کہا کہ انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ کانگریس قانون ساز پارٹی نے متفقہ طور پر ڈی کے شیوکمار کو اپنا لیڈر منتخب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ پارٹی ہائی کمان کی سفارش اور تمام اراکین اسمبلی کی رضامندی سے کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ڈی کے شیوکمار طویل عرصہ سے کرناٹک کانگریس کے اہم لیڈران میں شمار ہوتے ہیں اور انہوں نے پارٹی کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اب قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب ہونے کے بعد ان کے وزیر اعلیٰ بننے کے امکانات کافی مضبوط سمجھے جا رہے ہیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی کا عمل آگے بڑھ گیا ہے۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ نئی حکومت ریاست کی ترقی، انتظامی امور اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جلد ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔
0 تبصرے