یوپی میں فرضی انکاؤنٹر کراتی ہے بی جے پی حکومت، ذات دیکھ کر چلتا ہے بلڈوزر: اکھلیش یادو
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے منگل (26 مئی) کو پریس کانفرنس میں بی جے پی پر جم کر حملہ بولا ہے۔ اس دوران انہوں نے بلڈوزر کارروائی سے لے کر فرضی انکاؤنٹر تک کے مسائل پر اپنی بات رکھی۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ اس حکومت میں انصاف ملنا مشکل ہے۔ یوپی میں بلڈوزر ذات دیکھ کر چلتا ہے۔ بی جے پی حکومت فرضی انکاؤنٹر کراتی ہے۔ ہاتھرس کی بیٹی کا ذکر کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ اس کے ساتھ 2020 میں جو ہوا اسی طرح کا واقعہ تقریباً 2026 میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکومت ہر چیز کو چھپانا بھی چاہتی ہے اور اپنے وسائل کی طاقت سے وہ عوام تک سچ بھی نہیں پہنچنے دینا چاہتی۔
اکھلیش یادو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ فرضی انکاؤنٹر پر بات ہو رہی ہے۔ کل بھی جو کچھ دیکھنے کو ملا اور اہل خانہ کے بیانات اور سامنے آنے والی خبروں سے یہی لگتا ہے کہ فرضی انکاؤنٹر کرنے کی سازش یہ حکومت مسلسل کرتی رہتی ہے۔ یوپی میں مرضی کے مطابق فرضی انکاؤنٹر ہو رہے ہیں۔ یہاں انکاؤنٹر دبدبہ قائم کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ کے مطابق انکاؤنٹر کو عام طور پر ’تصادم‘ کہتے ہیں۔ پرتشدد اور مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے تب تک کوئی جگہ نہیں جب تک کوئی اپنے مفاد کے لیے اس کا غلط استعمال نہ کرے۔ فرضی انکاؤنٹر کے ذریعہ سے مینٹل سافٹ ویئر کو سیٹ کیا جاتا ہے، لیکن اپڈیٹ یا اپگریڈ نہیں کیا جاتا۔ انکاؤنٹر سے ذہنوں میں تشدد بھرا جاتا ہے، قتل کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے اور جنسی امتیاز کے زمانے کی اس قدامت پسند ذہنیت کو واپس لایا جاتا ہے جو کہتی ہے کہ طاقت ہی حق ہے۔
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر نے کہا کہ فرضی انکاؤنٹر جمہوری نظام کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے۔ فرضی انکاؤنٹر آئین میں دیے گئے انصاف اور سماجی انصاف کی حکمرانی کو سرے سے مسترد کرتا ہے۔ حکومت میں لوگ اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ فرضی انکاؤنٹر کرنے والے حکومت نہیں، گنہگار ہیں۔ جس انکاؤنٹر کے پیچھے مرضی چلے، سمجھو وہ فرضی ہے۔ یوپی میں مرضی کے حساب سے انکاؤنٹر ہو رہے ہیں۔ بی جے پی انکاؤنٹر کے بہانے پی ڈی اے کو ڈرا رہی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ یوپی میں بی جے پی حکومت ذات اور مذہب دیکھ کر انکاؤنٹر کرواتی ہے۔ فرضی انکاؤنٹر ناکام حکومت کی پہچان ہے، جو حکومت ناکام ہو جاتی ہے وہ فرضی انکاؤنٹر کا راستہ اپناتی ہے۔ حکومت فرضی انکاؤنٹر سے عوام پر نفسیاتی دباؤ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرضی انکاؤنٹر سے لا اینڈ آرڈر نہیں سنبھلتا، بلکہ اور بگڑتا ہے۔
خطبۂ حج: ’قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے، آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے‘
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
سعودی عرب کے میدانِ عرفات میں اس وقت لاکھوں حجاج کرام کی موجودگی ایک روحانی فضا قائم کر رہی ہے۔ آج مسجد نبویؐ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے یہاں مسجد نمرہ میں خطبۂ حج کی سعادت حاصل کرتے ہوئے اس ماحول کو مزید روحانی بنا دیا۔ انھوں نے خطبہ میں کہا ہے کہ ’’تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو، اپنے عہد کی پاسداری کرو۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے جبکہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔‘‘
مسجد نمرہ میں لاکھوں حجاج کرام کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے شیخ علی الحذیفی نے کہا کہ ’’جو اللہ سے ڈرتا ہے، اُس کے لیے اللہ نے دوہری جنت رکھی ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اللہ نے ابراہیمؑ کو کہا حج کے لیے منادی کریں اور اللہ تعالیٰ دور دراز تک یہ آواز پہنچائیں گے۔ دور دراز سے لوگ حج کے لیے آئے ہیں تاکہ دنیا و اخرت میں وہ کامیاب ہوں۔ یہاں جھگڑا نہیں کرنا اور گناہ نہیں کرنا اور تمام چیزیں جن کا وعدہ اللہ نے کیا انھیں پورا کیا جائے۔ اور جو بھی شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے یہ تقویٰ کی نشانی ہے۔‘‘
خطبۂ حج کے دوران ڈاکٹر شیخ علی الحذیفی نے اپنے خطاب میں سبھی کو سچ بولنے کی تلقین کی اور غلط بیانی سے سخت منع کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیشہ سچ بولیے اور غلط بیانی سے گریز کیجیے، بدعت اور غیبت سے دور رہیے، حجاج عرفات سے فارغ ہونے کے بعد منیٰ تشریف لے جائیں گے، حجاج کرام مناسک بہترین انداز میں ادا کریں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی تلقین کی کہ ’’حجاج کرام ہر لمحہ مغفرت کی دعا کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عبادات میں مصروف رہیں، نماز قائم کریں، اللہ تعالیٰ ہی دعائیں قبول کرنے والا ہے۔‘‘
شیخ علی الحذیفی نے خطبۂ حج میں دنیا کے مختلف ممالک سے عرفات میں جمع ہوئے لوگوں پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا بھر سے مختلف رنگوں کے لوگ یہاں آئے ہیں، جو اللہ کی طرف سے ایک بڑا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں حاجیوں پر فخر کر رہا ہے جو آج جمع ہوئے اور عبادات کیں۔‘‘ انھوں نے حجاج کرام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’عازمین حج یہاں عرفات میں قیام کریں گے پھر اگلے دن مزدلفہ جائیں گے جس کے بعد عازمین حج منی میں تشریف لے کر جائیں گے، اور منیٰ میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ آپ یہاں منی میں رہتے ہوئے 11، 12 کی راتیں گزاریں گے اور اپنے گھروں کو لوٹنے سے پہلے طواف کریں گے۔‘‘ آخر میں انھوں نے دعا کی کہ ’’یا اللہ! تمام عازمین کو بہ حفاظت اور سلامتی کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو لوٹا اور ان کے دلوں میں حق کو جمع کر دے اور ان کے حج کے تمام مناسک کو قبول فرما۔‘‘
کیا ایران کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی مل رہی سزا؟ تلسی گبارڈ کے استعفیٰ کے بعد الگ تھلگ پڑے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ کے استعفیٰ کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس الگ تھلگ پڑ گئے ہیں۔ تلسی کی طرح وینس بھی ایران جنگ کے خلاف تھے، جو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی وجہ سے وینس کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اس پر کوئی آفیشیل ردعمل نہیں دیا ہے۔ ’دی ڈیلی میل‘ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ ویسٹ ونگ میں جے ڈی وینس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وینس کے مقابلے میں ویسٹ ونگ میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کا دبدبہ بڑھ گیا ہے۔
’دی ڈیلی میل‘ کے مطابق نائب صدر وینس کی ایران کے حوالے سے نرم پسند خارجہ پالیسی نے انہیں ٹرمپ کے ساتھ تصادم کی راہ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ٹرمپ کے جنگی لیڈر کے طور پر اپنی شبیہ کو اپنانے کے ساتھ ہی یہ دراڑ مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے ایک موقع پر کھل کر کہہ دیا تھا کہ وینس ہی وہ واحد شخص تھے، جو ایران پر حملے کے حوالے سے تھوڑے ہچکچائے ہوئے تھے۔ حالانکہ وینس نے کبھی بھی کھل کر ایران حملے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ واضح رہے کہ وینس ہی کی طرح تلسی گبارڈ بھی ایران پر حملے کے خلاف تھیں۔ آخر کار انہیں اپنا استعفیٰ دینا پڑا۔ تلسی گبارڈ نے ایک خط جاری کر کے ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دینے کی بات کہی۔
واضح رہے کہ جے ڈی وینس کے پاس فی الحال ایران جوہری معاہدے کی کمان ہے۔ امریکہ کی طرف سے جے ڈی وینس ہی اس ڈیل کی قیادت کر رہے ہیں۔ وینس کی وجہ سے ہی اس ڈیل میں قطر کی انٹری کرائی گئی۔ حالانکہ ٹرمپ جس قسم کا معاہدہ چاہتے ہیں، ویسا نتیجہ اب تک سامنے نہیں آ سکا ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران معاہدے کے تحت امریکہ کو افزودہ یورینیم سونپ دے، جس کا استعمال وسط مدتی انتخابات کی مہم میں کیا جا سکے۔ ایران نے کسی بھی صورت میں امریکہ کو افزودہ یورینیم نہ دینے کی بات کہی ہے۔
’دی ڈیلی میل‘ کے مطابق جے ڈی وینس آئندہ صدارتی انتخاب سے دور رہ سکتے ہیں۔ وینس نہیں چاہتے کہ ایران میں جو نقصان ہوا ہے، اس کا ٹھیکرا ان پر پھوٹے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں 2028 میں صدارتی انتخاب ہونا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی طرف سے جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو اس عہدے کے مضبوط دعویدار ہیں۔
’ہند-بحرالکاہل خطے میں قابل اعتماد اور شفاف شراکت داری کی ضرورت‘، کواڈ میٹنگ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا بیان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل (26 مئی) کو کواڈ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کہا کہ ہند-بحرالکاہل خطے کو عالمی ترقی اور استحکام انجن بنے رہنا چاہیے۔ ساتھ ہی کہا کہ کواڈ کو اس خطے میں سمندری سیکورٹی کو یقینی بنانے اور معاشی متبادلات کو فروغ دینے کی سمت میں کام کرنا چاہیے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ جن خطوں میں کواڈ مل کر کام کر رہا ہے، وہ حال ہی میں رونما ہونے والے کئی واقعات کی وجہ سے اور بھی زیادہ متعلقہ ہو گئے ہیں۔
دہلی میں منعقدہ کواڈ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اپنے ابتدائی خطاب کے دوران وزیر خارجہ نے خاص طور پر ہند-بحرالکاہل خطے میں امن اور خوشحالی لانے کے لیے قابل اعتماد اور شفاف شراکت داریوں پر زور دیا۔ اس اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، آسٹریلیائی وزیر خارجہ پینی وانگ اور جاپانی وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی نے حصہ لیا۔ اجلاس کی صدارت وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کی۔
واضح رہے کہ کواڈ کا یہ اہم اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب ہند-بحرالکاہل خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کو لے کر عالمی سطح پر مسلسل خطرات بڑھ رہے ہیں۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ ’’ہماری توجہ واضح طور پر ہند-بحرالکاہل خطے پر ہوگی جو کہ کواڈ کی مخصوص حد ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’عالمی سطح پر ہمیں سپلائی چین کی مضبوطی، کنیکٹیویٹی چوک پوائنٹس، مینوفیکچرنگ اور وسائل کے ارتکاز کے ساتھ ساتھ اہم بنیادی ڈھانچے میں موجود خامیوں جیسے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ ان میں سے ہر ایک مسئلہ مزید شراکت داریوں کے لیے ایک نئی دلیل پیش کرتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اپنے خطاب میں ہند-بحرالکاہل خطے میں موجود کچھ مخصوص خدشات کے بارے میں تفصیل سے بتائے بغیر ہی کہا کہ ’’اس کے لیے اسٹریٹجک اعتماد کو بڑھانے، سمندری سیکورٹی کو یقینی بنانے، معاشی متبادلات کو فروغ دینے اور باہمی تعاون کے گہرے جذبے کو فروغ دینے کی ضرورت ہوگی۔ یہ سب قابل اعتماد اور شفاف شراکت داریوں کو فروغ دے کر ہی بہترین طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔‘‘ ایس جے شنکر کے مطابق گزشتہ کچھ مہینوں میں ہمارے افسران نے میری ٹائم سیکورٹی، ضروری ٹیکنالوجی، اقتصادی لچک اور ایچ اے ڈی آر جیسی انتہائی اہم چیزوں پر تعاون کو آگے بڑھایا ہے۔ ہم نے کئی کوششوں میں اچھی ترقی بھی کی ہے۔ میری ٹائم ڈیموکریسی، کثیر الجہتی معاشرے اور مارکیٹ اکانومی کے طور پر، ہم ایک آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل کی ذمہ داری کا اشتراک کرتے ہیں۔ اس خطے کو عالمی ترقی اور استحکام کے لیے ایک محرک بن کر رہنا چاہیے۔ ہم آج اپنی بات چیت کے ذریعے اس نکتے پر زور دیں گے، جس کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ یہ نتیجہ خیز اور مفید ثابت ہوگا۔
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وانگ نے کواڈ کو جتنا ممکن ہو سکے مضبوط اور مؤثر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کواڈ کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطہ چاہتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے میں آبنائے ہرمز کے بحران سے کیا مشکلات پیش آ رہی ہیں وہ ہم دیکھ رہے ہیں، اسی لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی بہت ضروری ہو گئی ہے۔ ہند-بحرالکاہل میں ہم اسے یقینی بنانے میں لگے ہوئے ہیں، تمام رکن ممالک مل کر بحری نگرانی کے ذریعے یہ کام کر رہے ہیں۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ’’جب ہم ساتھ ہیں تو مضبوط ہیں۔‘‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ جن خطوں میں کواڈ مل کر کام کر رہا ہے، وہ دنیا بھر میں حال ہی میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے اور بھی زیادہ متعلقہ ہو گئے ہیں. انہوں نے کہا کہ کواڈ دنیا کے سامنے موجود کچھ انتہائی اہم مسائل کا حل تلاش کر سکتا ہے، جن میں توانائی کی سیکورٹی، جہاز رانی کی آزادی اور اہم معدنیات جیسے شعبے شامل ہیں۔
مغربی بنگال میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو بکھراؤ کا سامنا، 101 کونسلرز نے دیا استعفیٰ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس میں بکھراؤ شروع ہو گیا ہے۔ ریاست کی الگ الگ نگر پالیکاؤں سے ترنمول کانگریس کے 101 کونسلرز نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ استعفیٰ اسمبلی انتخاب کے نتائج کے بعد پارٹی میں اندرونی خلفشار، پارٹی چھوڑنے کا معاملہ اور بغاوت بہت بڑھ گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں، بدعنوانی اور ناجائز وصولی جیسے سنگین الزامات کے سبب پارٹی کے 17 کونسلرز اور مقامی لیڈران کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی زمینی سطح پر ایک بڑے سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔
جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس کے مطابق کم از کم 6 نگر پالیکاؤں کے ترنمول کونسلرز نے الگ الگ موقع پر استعفے دیے ہیں۔ ان میں شمالی بیرک پور سے 15 ترنمول کونسلرز، گارولیا سے 18 ترنمول کونسلرز، کونٹائی سے 14 ترنمول کونسلرز، ہالسہار سے 16 ترنمول کونسلرز، بھٹپارا سے 30 ترنمول کونسرلز اور ڈائمنڈ ہاربر سے 8 ترنمول کونسلرز نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ڈائمنڈ ہاربر نگر پالیکا میں پیر کے روز ترنمول کانگریس کے 8 کونسلرز نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا۔ یہ علاقہ ترنمول کانگریس کا قلعہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں سے ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھشیک بنرجی رکن پارلیمنٹ ہیں۔ جس طرح ریاست بھر میں ترنمول کانگریس کو مشکلات کا سامنا ہے، ممتا بنرجی کے لیے پارٹی کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کچھ دن قبل سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’جن لیڈران کو پارٹی چھوڑنی ہے، وہ چھوڑ سکتے ہیں۔ میں پارٹی پھر کھڑی کر لوں گی۔‘‘ ممتا نے یہ بیان اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد پارٹی لیڈران کے ساتھ ہوئی ایک میٹنگ میں دیا تھا۔ ممتا نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ جو لیڈران پارٹی چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں، وہ جا سکتے ہیں۔ انھیں کسی کے جانے کی فکر نہیں ہے۔ وہ تنہا پارٹی کو پھر سے کھڑا کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔
جنگ بندی کے درمیان امریکہ نے ایران پر کیا حملہ، آبنائے ہرمز کے قریب میزائل لانچر اور جہاز تباہ
قومی آواز بیورو
امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی نافذ ہے، پھر بھی رہ رہ کر حملوں کی خبر سے کشیدگی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جنگ بندی سے متعلق جاری مذاکرہ کے درمیان پیر کے روز امریکی فوج نے جنوبی ایران میں آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے میزائل لانچر ٹھکانوں اور جہازوں پر حملہ کر دیا۔ امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کے خلاف یہ کارروائی اپنی حفاظت میں کی گئی ہے۔
سینٹ کام کے ترجمان ٹموتھی ہاکنس نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کو ایرانی فوج سے خطرہ تھا، اس لیے جنوبی ایران میں کارروائی کی گئی۔ امریکی حملوں میں ان مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں سے میزائلیں داغی جا سکتی تھیں۔ اس کے علاوہ ان ایرانی جہازوں پر بھی حملہ ہوا جو سمندر میں مائنس بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے دوران صبر سے کام لے رہا ہے، لیکن اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لیے ضروری قدم اٹھاتا رہے گا۔
اس سے قبل بھی جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کئی بار کشیدگی اور فوجی کارروائی ہو چکی ہے۔ مئی کے آغاز میں بھی امریکہ نے ایران کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔ امریکہ کا الزام تھا کہ ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزر رہے امریکی جنگی جہازوں پر بغیر کسی اکساوے کے میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں سے حملے کیے تھے۔ اس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کو جوابی کارروائی کی اجازت دی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک اہم بیان بھی دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ شدہ یورینیم کو یا تو امریکہ کے حوالے کرنا ہوگا، یا پھر اسے تباہ کرنا ہوگا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یورینیم کو ایران میں ہی ختم کیا جا سکتا ہے یا پھر کسی دوسری جگہ محفوظ طریقے سے لے جا کر تباہ کرنا مناسب ہوگا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا ہے کہ اس پورے عمل کی نگرانی ایٹامک انرجی کمیشن یا کسی یکساں ادارہ کی موجودگی میں ہوگی۔ گزشتہ ہفتہ بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو امریکہ یہ یورینیم اپنے پاس رکھنے نہیں دے گا۔ امریکی افسر اب ’نو ڈَسٹ، نو ڈالرس‘ کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جب تک ایران تقریباً 1000 پاؤنڈ (تقریباً 453 کلو) افزودہ یورینیم نہیں ہٹاتا، تب تک اسے کسی معاشی راحت یا معاہدہ کا فائدہ نہیں ملے گا۔
0 تبصرے