کیا بنگال میں ’ڈٹینشن سینٹر‘ کی طرح کام کریں گے ہولڈنگ سینٹر؟ دراندازوں سے متعلق وزیر اعلیٰ کے حکم پر اٹھے سوال
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مغربی بنگال میں سویندو حکومت نے ریاست میں غیر قانونی دراندازی کے نام پر کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی ’ڈیٹیکٹ، ڈیلیٹ اور ڈیپورٹ‘ پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے بنگلہ دیشی اور روہنگیا کے لئے ’ہولڈنگ سینٹر‘ بنائے جانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ اس کے تحت دراندازوں کو ریاست سے باہر نکالا جائے گا۔ بنگال حکومت نے ریاست کے سبھی ضلع مجسٹریٹوں کو مشتبہ غیرملکی شہریوں اور سزا پوری کر چکے غیر ملکی قیدیوں کے لئے ’ہولنڈنگ سینٹر‘ بنانے کا حکم دیا ہے جس کے بعد یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا یہ ہولڈنگ سینٹسر اصل میں ’ڈٹینشن سینٹر‘ کی طرح کام کریں گے؟
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی مانیں تو سرکاری احکامات کے مطابق یہ ہولڈنگ سینٹر ایک طرح سے عارضی ٹرانزٹ سہولت ہوں گے۔ ان کا کام کسی کو مستقل طور سے جیل میں رکھنا نہیں بلکہ قانونی عمل مکمل ہونے تک وہاں روکنا ہے۔ گائیڈ لائنس کے تحت غیر قانونی طور سے ہندوستان میں داخل ہونے والے مشتبہ افراد کو ان ہولڈنگ سینٹرس میں زیادہ سے زیادہ 30 دنوں تک رکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران ان کی شہریت اور دستاویزات کی تصدیق کی جائے گی۔ شہریت طے کرنے کا آخری فیصلہ ضلع مجسٹریٹ یا ان کے مساوی افسران کریں گے۔
ان سینٹروں میں رکھے گئے لوگوں کا بایو میٹرک ڈیٹا لیا جائے گا۔ ان معلومات کو ایک مرکزی پورٹل پر اپلوڈ کیا جائے گا۔ شناخت مکمل ہونے کے بعد ان غیرقانونی مہاجرین کو ملک سے واپس بھیجنے کے لئے سرحدی سیکورٹی افسران کو سونپ دیا جائے گا۔ اس سے یہ صاف ہے کہ یہ ہولڈنگ سینٹر کہیں نہ کہیں ڈٹینشن سینٹر کی طرح کام کریں گے جہاں سے ڈیپورٹیشن کی کارروائی کی جائے گی۔
اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے بتایا کہ اب ریاست کی پولیس غیر قانونی داراندازوں کو پکڑنے کے بعد طویل اور تھکا دینے والی قانونی کارروائیوں میں نہیں الجھائے گی۔ ریاستی پولیس ان پکڑے گئے دراندازوں کو سیدھے بی ایس ایف کو سونپ دے گی۔ اس کے بعد بی ایس ایف سیدھے ’بارڈر گارڈس بنگلہ دیش‘ کےساتھ تال میل بنا کر انہیں واپس بنگلہ دیش ڈیپورٹ کر ے گی۔
سویندو حکومت نے پناہ گزینوں اور غیرقانونی دراندازوں کے درمیان بھی فرق صاف کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ جو لوگ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے دائرے سے باہر ہیں، وہ سبھی غیر قانونی تارکین وطن مانے جائیں گے۔ انہیں ریاست کی پولیس گرفتار کرے گی اور سیدھے بی ایس ایف کے حوالے کر دے گی۔ بنگال سے پہلے آسام میں بھی غیر ملکی شہریوں اورمشتبہ در اندازوں کو رکھنے کے لئے ڈٹینشن سینٹر بنائے گئے تھے لیکن انسانی حقوق کے تنازعات اور سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد گولپارہ کے مٹیا میں ملک کا پہلا سب سے بڑا اور علیحدہ ’ٹرانزٹ کیمپ‘ (ہولڈنگ سینٹر) بنایا گیا۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ،
نئی دہلی 25 مئی (یو این آئی) راجیہ سبھا میں کانگریس کے نائب رہنما پرمود تیواری نے پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مرکز کی مودی حکومت پر زوردار حملہ بولا ہے انہوں نے کہا کہ متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے دوران پٹرول کی قیمت 71 روپے فی لیٹر تھی، جو اب بڑھ کر 102.12 روپے فی لیٹر پہنچ گئی ہے۔ طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مبارک ہو مودی جی، آپ نے پٹرول کی قیمتوں کی سنچری مکمل کر ہی لی۔
مسٹر پرمود تیواری نے وزیر اعظم نریندر مودی کو "مہنگائی مین" بتاتے ہوئے کہا کہ عوام اب سمجھ چکی ہے کہ "اچھے دن" کا اصلی مطلب کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مسلسل پٹرول اور ڈیزل کے دام بڑھا کر عام لوگوں کی جیب پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 دنوں میں چوتھی بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تازہ اضافے میں پٹرول 2.61 روپے اور ڈیزل 2.71 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا ہے۔ اس کے بعد دہلی میں پٹرول کی قیمت 102.12 روپے اور ڈیزل 95.20 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
کانگریس نے بڑھتی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور عوام پر پڑ رہے اقتصادی بوجھ پر حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت عوام کو راحت دینے میں پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
یواین
ممبئی : باندرہ کی غریب نگر بستی زمین بوس، عید سے قبل ہزاروں افراد بے گھر
ممبئی، 25 مئی(یواین آئی) ممبئی کے باندرہ مشرق میں واقع غریب نگر، بہرام نگر، نرمل نگر، گھاس بازار اور نوپاڑہ جیسی قدیم مسلم اکثریتی بستیوں پر جاری مغربی ریلوے کی انسدادِ تجاوزات مہم نے ہزاروں غریب خاندانوں کو بے گھر کردیا ہے۔ پانچ روز تک جاری رہنے والی کارروائی میں تقریباً پانچ سو ڈھانچے منہدم کردیئے گئے، جب کہ ملبہ ہٹانے اور زمین صاف کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق یہاں مستقبل میں پانچویں اور چھٹی ریلوے لائن، باندرہ اسٹیشن کی توسیع اور ممبئی-احمد آباد بلٹ ٹرین منصوبے سے متعلق تعمیراتی کام انجام دیئے جائیں گے۔
انہدامی کارروائی کے بعد پورا علاقہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ جہاں کبھی تنگ گلیوں میں بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں، وہاں اب خاموشی، گرد اور بے گھر لوگوں کی آہیں سنائی دے رہی ہیں۔ عیدالاضحیٰ اور مانسون سے عین قبل ہزاروں خاندانوں کے بے گھر ہوجانے پر مقامی افراد میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں کے ساتھ ان کی پوری زندگی اجڑ گئی۔ کئی خاندانوں کے پاس اب نہ رہنے کی جگہ ہے اور نہ ہی متبادل انتظام۔ خواتین بچوں کے ساتھ سڑک کنارے بیٹھی نظر آئیں جب کہ بزرگ افراد ملبے میں اپنی ضروری اشیاء، دوائیں اور دستاویزات تلاش کرتے دکھائی دیئے۔
مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ غریب نگر اور بہرام نگر جیسی بستیاں ایک طویل عرصے سے فرقہ وارانہ سیاست اور انتظامی جانبداری کا شکار رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں کو مسلسل "غیر قانونی تجاوزات" اور "سیکورٹی خطرہ" کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے بعض سیاسی عناصر کی جانب سے ان بستیوں کے خلاف ماحول بنایا جارہا تھا۔
اس موقع پر کئی بزرگوں نے سابق رکن پارلیمان سنیل دت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد ان بستیوں کا کوئی حقیقی پرسان حال نہیں رہا۔ مقامی افراد کے مطابق سنیل دت نے نہ صرف غریب نگر اور بہرام نگر بلکہ باندرہ مغرب کی نرگس دت نگر جیسی بستیوں کو بھی کئی مرتبہ انہدام سے بچایا تھا۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سنیل دت غریبوں کے مسائل کو محض سیاسی معاملہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ سمجھتے تھے۔ وہ خود بستیوں میں پہنچتے، حکام سے بات کرتے اور غریب خاندانوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد آنے والے اراکین پارلیمنٹ، بشمول ان کی صاحبزادی پریہ دت، ان بستیوں کے مسائل پر وہ توجہ نہیں دے سکے جس کی یہاں کے لوگوں کو امید تھی۔
غریب نگر کی تاریخ تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہے۔ 1980 کی دہائی میں قائم ہونے والی یہ بستی وقت کے ساتھ ایک گنجان آباد محنت کش آبادی میں تبدیل ہوگئی تھی۔ یہاں رہنے والے بیشتر افراد یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، ٹیکسی ڈرائیور، گھریلو ملازمین اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ تھے۔
2017 میں سلنڈر دھماکے اور آگ لگنے کے ایک واقعہ کے بعد ریلوے حکام نے علاقے کو "سلامتی کے لئے خطرہ" قرار دیتے ہوئے بے دخلی کی کارروائی تیز کردی تھی۔ بعد ازاں معاملہ عدالتوں تک پہنچا۔ بمبئی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے حالیہ مہینوں میں انہدامی کارروائی کی راہ ہموار ہونے کے بعد ریلوے نے بڑے پیمانے پر مہم شروع کردی۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ممبئی کے مضافاتی ریل نیٹ ورک کو بہتر بنانے، بھیڑ کم کرنے اور مستقبل کے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے ضروری ہے۔ تاہم مقامی افراد سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ترقی کا مطلب صرف غریبوں کو بے گھر کرنا ہے؟
غریب نگر کے اجڑے ہوئے مکین آج بھی یہی سوال کررہے ہیں کہ اگر ان کے گھروں کو غیر قانونی سمجھا جاتا تھا تو دہائیوں تک انہیں پانی، بجلی، ووٹر شناختی کارڈ اور دیگر سہولیات کیوں فراہم کی جاتی رہیں؟
فی الحال غریب نگر کے بے گھر خاندان کھلے آسمان تلے اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں، جب کہ شہر ایک بار پھر ترقی اور انسانیت کے درمیان توازن کے سوال سے دوچار نظر آتا ہے۔
یواین۔ آئی۔ اے اے اے
مسلم رہنما ایران جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کریں: امریکی صدر
مسلم رہنما ایران جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کریں: امریکی صدر مسلم رہنما ایران جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کریں: امریکی صدر
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم رہنماؤں سے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے ساتھ ابراہم معاہدہ میں شامل ہوں۔
ایکسیوس نے دو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک کانفرنس کال کے دوران کئی عرب اور دیگر مسلم ممالک کے رہنماؤں سے کہا کہ اگر ایران جنگ کے خاتمے کا کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے ممالک اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کریں۔
امریکی صدر کی مسلم رہنماؤں سے گفتگو ہفتے کو ایک کانفرنس کال میں ہوئی، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران تنازع کے خاتمے کے بعد سفارتی پیش رفت پر زور دیا، ٹرمپ ابراہم معاہدے کی طرز پر اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں۔ کال کے دوران اسرائیل اور ابراہم معاہدوں میں ممالک کی شمولیت سے متعلق ٹرمپ کے ریمارکس اس اگلے بڑے قدم کی نشان دہی کرتے ہیں جو وہ جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں اٹھانا چاہتے ہیں۔
ان کی بنیادی توجہ ایک تاریخی سعودی-اسرائیل امن معاہدے پر ہے، لیکن خطے کی موجودہ سیاسی صورت حال اور اسرائیل کے آنے والے انتخابات کے تناظر میں کوئی بھی جلد پیش رفت انتہائی مشکل نظر آتی ہے۔
یاد رہے کہ ہفتے کے روز ٹرمپ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، اردن اور بحرین کے رہنماؤں کے ساتھ ایران سے ابھرتے ہوئے معاہدے پر بات چیت کے لیے فون کال کی تھی۔ متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان سمیت کئی رہنماؤں نے، جو ایران جنگ کے بارے میں زیادہ سخت مؤقف رکھتے ہیں، کہا کہ وہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔
پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب و دیگر ممالک کا اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کے خلاف مشترکہ بیان ایک امریکی عہدے دار نے کہا ’’سب نے کہا ہم اس معاہدے میں آپ کے ساتھ ہیں اور اگر یہ کام نہ بھی کرے تو بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔‘‘ گفتگو سے واقف ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ نے رہنماؤں کو بتایا کہ وہ اس کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نتین یاہو کو فون کریں گے، اور اس بات پر زور دیا کہ انھیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں اسرائیل کے رہنما بھی اسی کال کا حصہ ہوں گے۔
دو امریکی حکام کے مطابق، ٹرمپ نے رہنماؤں سے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد وہ توقع کرتے ہیں کہ وہ تمام ممالک جو اب تک ابراہم معاہدوں کا حصہ نہیں ہیں یا اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے نہیں رکھتے، وہ ان میں شامل ہوں گے اور یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں گے۔
یہ سن کر رہنما، خاص طور پر سعودی عرب، قطر اور پاکستان کے، جن کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، ٹرمپ کی اس درخواست پر حیران رہ گئے۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا ’’لائن پر خاموشی چھا گئی، اور ٹرمپ نے مذاق کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ اب بھی موجود ہیں؟‘‘ اس کے بعد ٹرمپ نے رہنماؤں سے کہا کہ اُن کے نمائندے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف آنے والے ہفتوں میں اس معاملے پر مزید بات کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ خیال بھی پیش کیا کہ ایک دن ایران بھی ابراہم معاہدوں میں شامل ہو سکتا ہے، اس کے لیے تہران کو اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا، جس سے وہ کئی دہائیوں سے انکار کرتا آیا ہے۔ موجودہ ایرانی حکومت اسرائیل کو دشمن سمجھتی ہے اور اس کی تباہی کے لیے پُرعزم ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کے ولئ عہد محمد بن سلمان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران وہ اس معاملے پر سرد مہری اختیار کر چکے ہیں۔ گزشتہ نومبر میں اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ٹرمپ نے بن سلمان سے ابراہم معاہدوں میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی۔ سعودی ولی عہد نے اس پر مزاحمت کی، اور ملاقات کشیدہ ہو گئی۔
سعودی حکام اب بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کو فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح وعدہ کرنا ہوگا، طے کرنا ہوگا کہ یہ عمل کب اور کیسے مکمل ہوگا، اسی صورت میں وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا، تاہم اسرائیلی حکومت اس شرط کو ماننے سے انکار کرتی ہے۔
’حکومت سوال پوچھنے والے نوجوانوں کو ڈراتی ہے‘، سی بی ایس ای معاملہ پر راہل گاندھی کا بیان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سی بی ایس ای کی بارہویں جماعت کے ’آن اسکرین مارکنگ‘ (او ایس ایم) نظام سے متعلق بے ضابطگیوں کو لے کر مرکزی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مودی-پردھان کی جوڑی نے ایک اور ادارے کو دھاندلی کی علامت بنا دیا۔ دہائیوں میں پہلی بار سی بی ایس بورڈ امتحان پر اتنے سنگین سوالات اٹھے ہیں۔ 18.5 لاکھ بچوں نے امتحان دیا – اور ایک ہفتے سے او ایس ایم، غلط مارکنگ اور جانچ میں گڑبڑی کی شکایتیں ان سنی کر دی گئی ہیں اور وزیر تعلیم اپنی کرسی سے چپکے ہوئے ہیں۔‘‘
راہل گاندھی اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ایک 17 سال کا بچہ، جس کی کاپی غلط جانچی گئی، انصاف کی امید میں سوشل میڈیا پر آیا۔ مگر اسے مدد نہیں گالیاں ملیں – بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے اسے اینٹی نیشنل کہا، سوروس کا ایجنٹ کہا اور ڈیپ اسٹیٹ کا حصہ کہا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ایک 17 سال کا بچہ اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھاتا ہے اور یہ بی جے پی اسے غدار قرار دیتی ہے۔ سچ یہ ہے – مودی حکومت نوجوانوں اور جین زی سے ڈرتی ہے، کیونکہ وہ اب سوال پوچھ رہے ہیں۔ اور جو سوال پوچھے، اسے یہ حکومت بدنام کرتی ہے، ڈراتی ہے اور کچلتی ہے۔ لیکن سن لیجیے مودی جی – یہی نوجوان، یہی جین زی آپ کا گھمنڈ توڑے گا۔‘‘
راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے بھی سی بی ایس ای معاملے کو لے کر مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’سی بی ایس ای نے بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے لیے آن اسکرین مارکنگ سسٹم (او ایس ایم) نافذ کیا، جس کی وجہ سے ملک بھر کے لاکھوں بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ بارہویں جماعت کا کامیابی کا فیصد غیر معمولی طور پر 3 فیصد گر گیا ہے (88 فیصد سے گھٹ کر 85 فیصد) اور پورا عمل بے ضابطگیوں سے بھرا رہا ہے - دھندلی اور نہ پڑھی جانے والی جوابی کاپیاں، غلط جانچ، طلبہ کو دوسرے بچوں کی کاپیاں الاٹ ہونا، ادائیگیوں میں تاخیر، اور طلبہ سے دوبارہ جانچ کے نام پر بھاری فیس کا مطالبہ۔‘‘
کانگریس لیڈر جے رام رمیش اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’اب وزیر تعلیم، جو پورے ادارہ جاتی نظام کی تباہی کی قیادت کر رہے ہیں، اس سانحے کے سامنے آنے کے ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزر جانے کے بعد بالاآخر جاگ گئے ہیں۔ وہ اب آئی آئی ٹی کانپور کو ان تکنیکی مسائل کے حل کے لیے شامل کر کے خود کو کسی نجات دہندہ کی طرح پیش کر رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اصل سوال یہ ہے کہ ان مسائل کا پہلے سے اندازہ کیوں نہیں لگایا گیا؟ او ایس ایم نظام کو اپنانے سے پہلے سی بی ایس ای اور وزارت نے احتیاط کے ساتھ منصوبہ بندی کیوں نہیں کی؟ اس مسئلے پر ردعمل دینے میں وزیر کو اتنا وقت کیوں لگا؟‘‘
جے رام رمیش کے مطابق وزیر تعلیم پردھان پر ملک کا ان کا استعفیٰ ادھار ہے اور وزیر اعظم پر یہ جواب واجب الادا ہے کہ ’’آخر ان وزیر صاحب کو – جو اپنی نااہلی سے کھلے عام ہندوستان کے طلبہ کا مستقبل برباد کر رہے ہیں – اتنی طویل مدت تک عہدے پر برقرار رہنے کی اجازت کیوں دی گئی؟‘‘
کانگریس کی گارنٹی اسکیموں کی تعریف ملک ہی نہیں اقوام متحدہ میں بھی ہوئی: ڈی کے شیوکمار
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بنگلورو: کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت گارنٹی اسکیموں کے تحت فائدہ حاصل کرنے والوں کے ریکارڈ کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سرکاری سہولتیں حقیقی مستحقین تک پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ معاملات میں غلط معلومات دی گئی ہیں جبکہ بعض جگہوں پر اسکیموں کے غلط استعمال کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
ڈی کے شیوکمار نے وزیر اعلیٰ سدارمیا اور کرناٹک کانگریس کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کو معلوم ہوا ہے کہ بعض ایسے نام بھی فہرستوں میں موجود ہیں جن کے حامل افراد کا انتقال ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسکیموں کے غلط استعمال کی وجہ سے تقریباً 100 کروڑ روپے ایسے لوگوں تک پہنچ گئے جنہیں اس کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ معاملات میں غلط فون نمبر بھی درج کیے گئے ہیں، اس لیے حکومت تمام معلومات کی جانچ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ہر تعلقہ میں فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ریکارڈ جمع کرنے کے عمل پر بھی بات چیت جاری ہے۔
انّا بھاگیہ اسکیم کے تحت چاول کی تقسیم میں گزشتہ دو ماہ سے سامنے آ رہی بے ضابطگیوں کے الزامات پر ڈی کے شیوکمار نے مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے چاول فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورت حال صرف کرناٹک تک محدود نہیں بلکہ کانگریس کے زیر اقتدار دیگر ریاستوں میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت مہنگائی میں اضافہ کر کے عوام پر معاشی بوجھ ڈال رہی ہے، جبکہ کرناٹک میں کانگریس حکومت اپنی گارنٹی اسکیموں کے ذریعے عوامی مشکلات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اسکیمیں نہ ہوتیں تو عام لوگوں کو مزید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا۔
ڈی کے شیوکمار نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کی گارنٹی اسکیموں کی تعریف نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے ہندوستان میں ہوئی ہے، بلکہ اقوام متحدہ نے بھی ان اقدامات کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی قیمتوں اور آمدنی میں کمی نے عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرناٹک حکومت پانچ گارنٹی اسکیموں پر سالانہ تقریباً 51 ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے تاکہ عوامی فلاح کو یقینی بنایا جا سکے۔
0 تبصرے