ایران کے خلاف اہدافی اسٹرائیک کی تیاری، امریکی حملے کے خفیہ بلیو پرنٹس سے مشرق وسطیٰ میں کھلبلی


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


ایران اورامریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھرجنگ کے حالات پیدا ہوتے نظرآرہے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش اندازہ لگایا جارہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس ممکنہ حملے کے حوالے سے بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ دوامریکی افسران نے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوج کا منصوبہ اب ایڈوانسڈ اسٹیج میں پہنچ چکا ہے۔ اس منصوبے میں انفرادی طورپرایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا متبادل شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر صدر ڈونالڈ ٹرمپ حکم دیتے ہیں تو تہران میں حکومت بدلنے تک کا منصوبہ تیار ہے۔


’روئٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ فوجی متبادل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو امریکہ ایران کے ساتھ سنگین لڑائی کے لیے تیار ہے۔ گزشتہ ہفتے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ایک ہفتے طویل آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کارروائی میں ایرانی سکیورٹی تنصیبات اور جوہری انفراسٹرکچر پر حملے کے منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔



نئے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے حتمی فیصلے سے قبل وسیع اور تفصیلی تیاریاں کر لی گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے عوامی سطح پر اسلامی جمہوریہ میں حکومت کی تبدیلی کا خیال پیش کیا ہے۔ حالانکہ حکام نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر کرنے سے انکار کیا اور یہ نہیں بتایا کہ کن رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ امریکہ بغیر بڑی زمینی فوج بھیجے کس طرح سے حکومت کی تبدیلی کی کوشش کرے گا۔


خبروں کے مطابق اگرایران میں حکومت تبدیلی کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ٹرمپ کے انتخابی وعدوں سے الگ قدم ہوگا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ سابقہ ​​حکومتوں کی پالیسیوں سے مختلف راستہ اختیار کریں گے۔ انہوں نے خاص طور پر افغانستان اور عراق میں حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے فوجی کارروائیوں کو ناکام بتایا تھا۔ فی الحال ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں بڑی مقدار میں ہتھیاراور فوجی طاقت تعینات کردی ہے۔ زیادہ تر جنگی صلاحیت وارشپ اور جنگی جہازوں میں موجود ہے۔ کسی بڑی بمباری مہم کے لیےامریکی اڈوں سے اڑنے والے بمباروں کا بھی سہارا لیا جاسکتا ہے۔




امریکہ نے اب 10 فیصد گلوبل ٹیرف کا کردیا اعلان، ہندوستان پر بھی پڑے گا اثر


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اپنے ایک اہم فیصلے میں صدرٹرمپ کے نافذ کردہ ٹیرف کو منسوخ کرنے کی خبروں کے درمیان امریکہ نے فوری طور پر 10 فیصد گلوبل ٹیرف نافذ کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے تصدیق کی ہے کہ یہ ٹیرف اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک کوئی دیگر قانونی اختیار نافذ نہیں کیا جاتا۔ ہندوستان بھی اس نئے نظام کے تحت 10 فیصد ٹیرف ادا کرنے والے ممالک میں شامل ہوگا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ہندوستان کو 10 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا اور کیا یہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت عائد کئے گئے پرانے ٹیرف کی جگہ لے گا توانہوں نے صاف طور پر کہا کہ’’ ہاں 10 فیصد تب تک نافذ رہے گا جب تک کوئی دوسرا اختیار نافذ نہیں ہوتا۔ افسر نے تمام تجارتی شراکت داروں کو مشورہ دیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں کی پابندی کریں۔


’اے این آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے 6-3 کی اکثریت سے ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا دھچکا دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ صدر کے پاس 1977 کے آئی ای ای پی اے ایکٹ کے تحت وسیع درآمدی ٹیرف لگانے کا واضح اختیار نہیں ہے۔ آئین کے مطابق یہ اختیار کانگریس کے پاس ہے۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے نیل گورسچ، ایمی کونی بیرٹ اور 3 دیگر ججوں نے اکثریت کی حمایت کی۔ وہیں جسٹس سیموئیل ایلیٹو، کلیرنس تھامس اور بریٹ کیوانا نے انتظامیہ کے اختیارات کو برقرار رکھتے ہوئے اختلاف کیا۔ اس فیصلے سے اربوں ڈالر کے باہمی محصوصلات اور ٹیرف باطل ہوگئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق حکومت کو 130 سے ​​175 ارب ڈالر تک کے ریفنڈ کلیمز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔




صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو خوفناک اور مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا کہن ا ہے کہ میں میں آئی ای ای پی اے کے تحت ایک ڈالر بھی نہیں لے سکتا، میں تجارت بند کر سکتا ہوں، ملک کا تجارتی نظام ختم کر سکتا ہوں لیکن میں ایک ڈالر فیس نہیں لے سکتا، یہ کتنا مضحکہ خیز ہے؟ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ عدالت غیر ملکی مفادات سے متاثر ہے اور کہا کہ دیگر ممالک اس فیصلے سے خوش ہیں لیکن وہ زیادہ دیر خوش نہیں رہیں گے۔






کرناٹک: 18 اے ٹی ایم سے 3 کروڑ روپے ہو گئے غائب، پرائیویٹ کمپنی کے 2 ملازمین پر لگا غبن کا الزام


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


کرناٹک واقع حسن ضلع کے کچھ اے ٹی ایم میں نقدی بھرنے والی ایک پرائیویٹ کمپنی نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی کا عمل انجام دیا ہے۔ معاملہ منی لانڈرنگ کا معلوم پڑتا ہے، جس کی تفتیش شروع ہو گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 3 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم غائب ہے، اور اس معاملے میں 2 لوگوں کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ 18 اور 19 فروری کو کمپنی میں کیے گئے ماہانہ آڈٹ کے دوران بے ضابطگی کا پتہ چلا، جس کے بعد حسن برانگائے پولیس نے ایف آئی آر درج کر معاملہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔


موصولہ اطلاع کے مطابق ایک پرائیویٹ کمپنی کے ملازمین نندیش بی ایل اور مدھو کمار ایم پی ’اے ٹی ایم‘ میں پیسہ بھرنے کے لیے ذمہ دار تھے۔ ان دونوں پر 3 کروڑ روپے سے زائد کے غبن کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے مجموعی طور پر 18 اے ٹی ایم میں پیسے جمع کرنے کا فرضی ریکارڈ تیار کیا، جن میں 11 کینرا بینک اے ٹی ایم، 3 ایس بی آئی اے ٹی ایم اور ایک بینک آف انڈیا اے ٹی ایم شامل ہیں۔ الزام ہے کہ ان اے ٹی ایم میں پیسہ جمع ہی نہیں کیا گیا۔




سی ایم ایس کی حسن شاخہ کے منیجر راجو نے حسن شہر کے مختلف اے ٹی ایم میں بغیر کوئی پیسہ جمع کیے پیسے نکالنے کے الزام میں حسن برانگائے پولیس اسٹیشن میں ملزمین کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے معاملہ درج کر ملزمین کے خلاف جانچ بھی شروع کر دی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کچھ ماہ قبل اے ٹی ایم میں پیسہ بھرنے والی گاڑی سے تقریباً 7.11 کروڑ روپے کی لوٹ کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اینووا کار میں سوار ایک گروپ نے جئے دیو ڈیری سرکل کے پاس اے ٹی ایم میں پیسہ جمع کرنے جا رہی ایک گاڑی کو روکا، نقدی چھین لی اور فرار ہو گئے۔ اسی طرح جنوری میں ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں کمپنی کے ملازمین نے خود ہی ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم کا غلط استعمال کیا، جسے بنگلورو کے کورمنگلا پولیس اسٹیشن کے حلقہ اختیار میں آنے والے اے ٹی ایم میں جمع کیا جانا تھا۔






’پی ایم مودی سمجھوتہ کر چکے ہیں، ان کا دھوکہ اب سامنے آ چکا ہے‘، ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر کانگریس کا تلخ تبصرہ


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


کانگریس نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی تجارتی معاہدہ پر امریکہ سے دوبارہ بات چیت نہیں کر سکتے، وہ پھر سے خود سپردگی کر دیں گے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی، دونوں نے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کر وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔


دراصل امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے گلوبل ٹیرف کو خارج کر دیا، جس سے ٹرمپ کے معاشی ایجنڈے کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ ججوں نے اکثریت سے سنائے گئے فیصلہ میں کہا کہ آئین بہت واضح طور سے امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) کو ٹیکس لگانے کی طاقت دیتا ہے، جس میں ٹیرف بھی شامل ہے۔ عدالت نے صدر ٹرمپ کے ذریعہ بغیر مشورہ کئی ممالک پر عائد کیے گئے ٹیرف کو غلط بتایا۔ حالانکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر ڈونالڈ ٹرمپ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔




اس تعلق سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور سابق کانگریس صدر راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ ان کا دھوکہ اب سامنے آ گیا ہے۔ وہ (تجارتی معاہدہ پر) دوبارہ بات چیت نہیں کر سکتے۔ وہ پھر سے خود سپردگی کر دیں گے۔‘‘ راہل گاندھی ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر قبل میں بھی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں اور اسے خاص طور سے ہندوستانی کسانوں کے لیے انتہائی مضر قرار دیا ہے۔


کانگریس کے موجودہ صدر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے بھی اس معاملہ میں اپنی شدید فکر کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ ’’بغیر سر اور پیر والی خارجہ پالیسی یا یکطرفہ خودسپردگی؟ جس ’ٹریپ ڈیل‘ نے ہندوستان سے بھاری رعایتیں لیں، مودی حکومت نے اس میں پھنسنے سے پہلے ٹیرف پر امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کیوں نہیں کیا؟‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’مشترکہ بیان میں ہندوستان کو ہونے والے کئی امریکی برآمدات پر صفر ٹیکس کی بات کہی گئی ہے، جس سے ہندوستانی زرعی شعبہ کا دروازہ امریکی سامانوں کے لیے کھل جائے گا۔ ساتھ ہی 500 ارب امریکی ڈالر قیمت کے امریکی سامان درآمد کرنے کا منصوبہ، ہماری توانائی سیکورٹی کو نقصان پہنچانے والے روسی تیل کی خرید پر روک لگانے کا عزم اور ڈیجیٹل محاذ پر کئی ٹیکس رعایتوں کی باتیں مشترکہ بیان میں کہی گئی ہیں۔‘‘




ملکارجن کھڑگے نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو ہندوستان کے لیے محض خسارہ بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کو بتانا چاہیے کہ ہندوستان کے قومی مفاد اور اسٹریٹجک خود مختاری سے سمجھوتہ کرنے کے لیے ان پر کس نے دباؤ ڈالا؟ کیا یہ ایسپٹین فائلیں تھیں؟‘‘ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا حکومت ہند اپنی گہری نیند سے جاگے گی اور ایک غیر جانبدار تجارتی معاہدہ کرے گی، جو 140 کروڑ ہندوستانی شہریوں کے وقار اور ہمارے کسانوں، مزدوروں، چھوٹے کاروباریوں و تاجروں کے مفادات کی حفاظت کرے گا؟





ہندوستان اور برازیل کے رشتوں میں نئے باب کا اغاز، دونوں ممالک نے تجارتی معاہدہ پر کیا دستخط، پی ایم مودی کا اظہارِ خوشی


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


ہندوستان اور برازیل کے رشتوں میں آج ایک نئے باب کا آغاز دیکھنے کو ملا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان اہم تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے مثبت نتائج آنے والے دنوں میں دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور برازیل کے صدر لوئز ایناسیو لولا دا سلوا کے درمیان ہونے والی دوطرفہ ملاقات میں کچھ ایسے اہم امور پر اتفاق قائم ہوا، جو دونوں ممالک کی معیشت کو نئی رفتار دے سکتے ہیں۔


وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور برازیل کے درمیان تجارتی معاہدہ پر ہوئے دستخط کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انھوں نے برازیلی صدر لولا اور ان کے وفد کا ہندوستان میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے صدر لولا اور ان کے وفد کا ہندوستان میں استقبال کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ ان کے ویژن اور متاثر کن قیادت سے ہندوستان-برازیل تعلقات کو طویل عرصے سے فائدہ پہنچا ہے۔‘‘




وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور ہر بار ہندوستان کے تئیں صدر لولا کی گہری دوستی اور اعتماد کو واضح طور پر محسوس کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر لولا کا یہ دورہ تاریخی اے آئی امپیکٹ سمٹ کو بھی نئی توانائی دیتا ہے اور دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرتا ہے۔


پی ایم مودی نے بتایا کہ برازیل کئی طرح سے لاطینی امریکہ میں ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک آئندہ 5 برسوں میں دوطرفہ تجارت کو 20 ارب ڈالر سے آگے لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہماری تجارت محض ایک عدد نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی عکاسی ہے۔ صدر لولا کے ساتھ آیا بڑا تجارتی وفد اسی اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔‘‘ پی ایم مودی مزید کہتے ہیں کہ ’’ٹیکنالوجی اور اختراع میں تعاون صرف ہندوستان اور برازیل کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے گلوبل ساؤتھ کے لیے اہم ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم میں شراکت داری سے ترقی پذیر ممالک کو بھی نئی سمت مل سکتی ہے۔‘‘





امریکہ کے سامنے کناڈا نے ڈالے ہتھیار، 7 دنوں میں 5 بڑے فیصلوں پر لیا یو-ٹرن


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد کناڈا نے بہت کم وقت میں کئی بڑے فیصلوں پر یو-ٹرن لے لیا ہے۔ ٹیرف، دفاعی اخراجات، طیارہ سرٹیفکیشن اور جنگی طیاروں کی خرید جیسے معاملوں پر 7 دنوں کے اندر نرمی دکھائی گئی ہے، جس سے صاف ہو گیا ہے کہ کناڈا کسی بھی طرح امریکہ کے دباؤ کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ آئیے یہاں ان 5 بڑے فیصلوں پر نظر ڈالیں، جو گزشتہ 7 دنوں کے اندر بدلے گئے ہیں۔


1. امریکہ سے تجارتی مذاکرات کے لیے کناڈا راضی

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کو منسوخ کر دیا۔ ان ٹیرف میں کناڈا پر عائد کیا گیا فینٹانائل ٹیرف بھی شامل تھا۔ کناڈا کے تجارتی وزیر ڈومینک لیبلانک نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ٹیرف غیر منصفانہ تھے۔ تاہم مکمل راحت نہیں ملی ہے۔ اسٹیل، ایلومینیم اور آٹوموبائل پر ٹیرف اب بھی نافذ ہیں۔ اس سلسلے میں کناڈا اب امریکہ سے بات چیت کرنے والا ہے۔ امریکہ-کناڈا-میکسیکو کے درمیان یو ایس ایم سی اے تجارتی معاہدے کا جائزہ ہونے والا ہے، جو 500 ملین سے زیادہ افراد کی منڈی کا احاطہ کرتا ہے۔ اس لیے کناڈا اب بھی دباؤ میں ہے۔




2. ناٹو کے لیے دفاعی اخراجات بڑھانے کا وعدہ

ڈونالڈ ٹرمپ طویل عرصہ سے ناٹو ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ کو جی ڈی پی کے 2 فیصد تک بڑھائیں۔ اب کناڈا نے کہا ہے کہ وہ اسی مالی سال میں 2 فیصد کا ہدف حاصل کر لے گا۔ حکومت کے مطابق کناڈائی آرمڈ فورسز (سی اے ایف) میں بھرتی کے درخواستوں میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کناڈا نے کہا ہے کہ وہ اپنی خود مختاری اور سلامتی مضبوط کرنے کے لیے دفاعی سرمایہ کاری کا طریقہ بھی بدلے گا۔


3. گلف اسٹریم جیٹ کو منظوری

30 جنوری کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا کہ کناڈا نے گلف اسٹریم جی 500، جی 600، جی 700 اور جی 800 جیٹ کو سرٹیفائی نہیں کیا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر فیصلہ نہیں بدلا گیا تو کناڈا میں بنے تمام طیاروں کو ڈی-سرٹیفائی کر دیں گے اور 50 فیصد ٹیرف لگا دیں گے۔ اس کے بعد 15 فروری کو ٹرانسپورٹ کناڈا نے گلف اسٹریم ایرو اسپیس کے جی وی آئی آئی-جی 500 اور جی وی آئی آئی-جی 600 کو سرٹیفکیٹ دے دیا۔ جی 700 اور جی 800 کے سلسلے میں ابھی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن سے بات چیت جاری ہے۔ گلف اسٹریم، امریکی کمپنی جنرل ڈائنامکس کارپوریشن کی ذیلی کمپنی ہے۔




4. کناڈا کی ’بائی کناڈیائی پالیسی‘

وزیر اعظم مارک کارنی نے شہریوں سے ’بائی کناڈائی‘ یعنی ملکی سامان خریدنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بیرونی ملک سے معیشت کو خطرہ ہو تو ملک کو وہی کرنا چاہیے جو اس کے اختیار میں ہو۔ نئی پالیسی کے تحت کناڈائی کمپنیوں اور مزدوروں کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔


5. ایف-35 جنگی طیاروں کی ڈیل، رقم پیشگی ادا

کناڈا نے امریکہ سے 14 اضافی ایف-35 جنگی طیاروں کے لیے خاموشی سے پیشگی ادائیگی کر دی۔ تاہم عوامی طور پر یہ اشارے بھی دیے گئے کہ اس معاہدے کو منسوخ کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اندرون خانہ رقم کی ادائیگی صاف ظاہر کرتی ہے کہ کناڈا اب امریکہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ یہ قدم بتاتا ہے کہ دفاعی معاملات میں بھی کناڈا اب سختی دکھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔




قابل ذکر ہے کہ کناڈا کی 75 فیصد سے زیادہ برآمدات امریکہ کو جاتی ہیں۔ ایسے میں 25 سے 50 فیصد ٹیرف اس کی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کناڈا نے تیزی سے فیصلے بدلے اور امریکہ کے ساتھ ٹکراؤ کم کرنے کی کوشش کی۔