ٹرمپ کا ایران کو الٹی میٹم معاہدہ نہ ہوا تو سنگین نتائج بھگتنے کے لئے رہے تیار
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی اطلاعات کے درمیان صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ امریکی صدر نے ایرانی جوہری رہنما خامنہ ای کو الٹی میٹم جاری کرتے ہوئے تہران کو بامعنی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کا انتباہ دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور یہ بات ان پر واضح کر دی گئی ہے۔
ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت رہے ہیں اور بامعنی سمجھوتہ ہونا ضروری ہے ورنہ اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دس دنوں میں ایران کے حوالے سے تصویر واضح ہو جائے گی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد ایران کو 10 دن کے اندر اپنے جوہری پروگرام پر معاہدہ کرنے کا الٹی میٹم جاری کیا ہے۔ ایران میں ممکنہ امریکی فوجی آپریشن طویل ہو سکتا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ نے ایران کو F-22 اور F-35 جیسے مہلک لڑاکا طیاروں سے گھیر لیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، دو امریکی کیریئر جنگی گروپ، یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس ہفتے، کم از کم 50 اضافی لڑاکا طیارے، ہوا سے ہوا میں ایندھن بھرنے والے ٹینکرز اور دیگر طیاروں کے ساتھ، مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے جمعرات (19 فروری) کو ایران کو خبردار کیا کہ اگر ایران نے حملہ کیا تو اسرائیل اس کا سخت جواب دے گا۔ ایک فوجی تقریب میں ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای غلطی کرتے ہیں اور ہم پر حملہ کرتے ہیں تو انہیں ایسا جواب ملے گا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے جمعرات یعنی19 فروری کو اپنے شہریوں سے ایران چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔ دریں اثنا، ایران نے ممکنہ امریکی حملے کے پیش نظر الرٹ موڈ پر چلا گیا ہے، ملک میں نوٹم نافذ کر دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران کے پورے علاقے میں نو فلائی زون نافذ ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای بھی امریکی حملے کی قیاس آرائیوں پر سخت موقف اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ یکم فروری کو ایک بیان میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو یہ جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ خامنہ ای نے کہا کہ "ایران پہلے کسی ملک پر حملہ نہیں کرے گا، لیکن اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔"
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے سات بلین ڈالر جمع کئے
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کی زیر صدارت ہوا۔ ملاقات میں غزہ کی بحالی اور وہاں امن و استحکام لانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ چالیس سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی اور غزہ کے لیے خاطر خواہ فنڈنگ پر بھی اتفاق کیا گیا۔
چالیس سے زائد ممالک کے نمائندوں اور تقریباً ایک درجن مبصرین بشمول مشرق وسطیٰ، یورپ، ایشیا اور سفارت کاروں نے غزہ کی بحالی کے لیے بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کی۔ بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی، حماس کے تخفیف اسلحہ کو یقینی بنانا اور جنگ کے بعد کی ترقی کے لیے ایک بین الاقوامی فریم ورک قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے اجلاس میں تعمیر نو کے فنڈ کے لیے مجموعی طور پر 7 بلین ڈالر جمع کرنے پر اتفاق ہوا۔ نو ممالک نے اس پر اتفاق کیا۔ مزید برآں، خود امریکہ نے اس اقدام کے لیے تقریباً 10 بلین ڈالر کے عزم کا اعلان کیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ رقم براہ راست غزہ کی تعمیر نو پر کس طرح خرچ کی جائے گی۔
ٹرمپ نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ بورڈ امن و استحکام کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے اور غزہ کے شہریوں کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے شراکت دار ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہر تعاون استحکام میں سرمایہ کاری اور ایک نئی امید ہے۔
تاہم، اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ موجودہ رقم غزہ کی تعمیر نو کے لیے درکار اندازے کے مطابق ستر بلین ڈالر صرف ایک حصہ ہے۔ غزہ کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے اہم سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ میٹنگ نے یہ بھی اشارہ کیا کہ بورڈ کا کردار وقت کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی تنازعات سے نمٹنے کے لیے وسیع ہو سکتا ہے، جس سے اس کے عزائم کو وسیع کیا جا سکتا ہے۔
برطانیہ، فرانس اور کناڈا جیسے ممالک نے غزہ کے حوالے سے بورڈ آف پیس کے اس پہلے اجلاس میں شرکت نہیں کی جس پر ٹرمپ پریشان نظر آئے۔ ملاقات کے دوران، ٹرمپ نے یہ مسئلہ اٹھایا، اور کہا کہ برطانیہ، فرانس اور کناڈا جیسے کئی ممالک نے ابھی تک ان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول نہیں کی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ کچھ ممالک اس معاملے میں انہیں پیچھے چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایسی چالیں ان کے ساتھ کام نہیں آئیں گی۔ ٹرمپ نے بورڈ کو اب تک کا سب سے باوقار اور طاقتور گروپ قرار دیا۔ ملاقات کے دوران، ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ غزہ کی دیرپا تعمیر نو صرف اسی صورت میں ممکن ہوگی جب حماس اپنے ہتھیار پھینک دے، اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کے کام کی تکمیل کرے گا۔
تین ریاستوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی، مدھیہ پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ میں واقعات
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مدھیہ پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ میں مذہبی تقاریب کے دوران کشیدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ تینوں مقامات پر انتظامیہ نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے حالات کو قابو میں رکھا اور عوام سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
مدھیہ پردیش کے ضلع جبل پور کی تحصیل سیہورا کے وارڈ نمبر پانچ آزاد چوک علاقے میں جمعرات کو مندر میں آرتی اور قریبی مسجد میں نماز تقریباً ایک ہی وقت پر ادا کی جا رہی تھی کہ اسی دوران کسی بات پر تنازع شروع ہوا جو ہاتھا پائی اور پتھراؤ تک جا پہنچا۔ اطلاع ملتے ہی ضلع ہیڈکوارٹر سے اضافی پولیس فورس روانہ کی گئی۔
سیہورا تھانہ پولیس کے ساتھ دیگر تھانوں کا عملہ بھی موقع پر پہنچا اور علاقے میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ کلکٹر راگھویندر سنگھ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سمپت اپادھیائے نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ پولیس کے مطابق کسی مذہبی مقام کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع ہے۔
کرناٹک کے ضلع بگل کوٹ میں شیواجی جینتی جلوس کے دوران ایک مسجد کے سامنے سے گزرنے پر تنازع پیدا ہوا۔ بعض ہندو تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ مسجد کی سمت سے پتھر پھینکا گیا۔ پولیس نے دونوں جانب جمع ہجوم کو منتشر کر کے حالات کو قابو میں کر لیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ جاری ہے اور امن برقرار ہے۔
ادھر حیدرآباد کے علاقے امبرپیٹ میں جامع مسجد کے قریب شیواجی جینتی جلوس اور رمضان کی نماز کے دوران ہلکی کشیدگی دیکھی گئی۔ جلوس میں تیز موسیقی اور نعرے بازی پر دونوں فریقوں کے درمیان تکرار ہوئی، تاہم پولیس کی فوری مداخلت سے صورتحال جلد معمول پر آ گئی۔ کسی نقصان یا تشدد کی اطلاع نہیں ملی۔ تینوں مقامات پر پولیس نے افواہوں سے گریز کرنے اور بھائی چارہ قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔
حملے کی صورت میں امریکی اڈے جائز ہدف ہوں گے، ایران کا اقوامِ متحدہ کو انتباہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نیویارک: ایران نے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو ارسال کیے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اپنی فوجی دھمکیوں پر عمل کرتا ہے تو خطے میں موجود اس کے فوجی اڈے، تنصیبات اور دیگر اثاثے ایران کے لیے “جائز اہداف” تصور ہوں گے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید اراوانی نے اپنے خط میں کہا کہ تہران خطے میں کسی بھی ممکنہ فوجی جارحیت کے سنگین نتائج سے آگاہ کر رہا ہے اور کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
یہ پیش رفت اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری مسئلے پر واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے محدود مدت کا عندیہ دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ ناکامی کی صورت میں برے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ایران کے مستقل مشن نے امریکی بیان بازی کو فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کا اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی غیر متوقع اور بے قابو نتائج کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سکریٹری جنرل فوجی طاقت میں اضافے اور جنگی سرگرمیوں پر فکر مند ہیں اور ایران و امریکہ دونوں کو عمان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور 17 فروری کو جنیوا میں منعقد ہوا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس اراغچی نے بات چیت میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فریقین ایک ایسے مسودے پر کام کریں گے جو ممکنہ معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ادھر امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں عندیہ دیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل بھی خطے میں کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا چکی ہیں، جس کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔
بنگلہ دیش کا وزیر اعظم بنتے ہی طارق رحمن نے ہندوستان کے حق میں اٹھایا بڑا قدم، ویزا خدمات بحال
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیر اعظم طارق رحمن نے ہندوستان کے ساتھ رشتوں میں شیرینی گھولنے کے مقصد سے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ دہلی واقع بنگلہ دیش ہائی کمیشن نے 20 فروری کو ہندوستانیوں کے لیے ویزا خدمات پھر سے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ محمد یونس کی حکومت نے تقریباً 2 ماہ قبل ویزا خدمات کو معطل کر دیا تھا، جس سے ہند-بنگلہ دیش تعلقات میں کچھ حد تک تلخی آ گئی تھی۔
بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کے لیے سبھی زمروں کے ویزے بحال کر دیے گئے ہیں، جن میں میڈیکل اور سیاحتی ویزے بھی شامل ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں بزنس اور وَرک ویزا کو چھوڑ کر بقیہ ویزوں پر روک لگا دی گئی تھی۔ یونس حکومت کے اس فیصلہ کو پلٹتے ہوئے جمعہ کی صبح سبھی ویزا خدمات بحال کر دی گئیں۔ بی این پی کی قیادت والی حکومت بننے کے 3 دنوں بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رشتوں میں بہتری کا اشارہ ہے۔
بنگلہ دیش کے سلہٹ میں ہندوستان کے سینئر قونصلر افسر انیرودھ داس نے 19 فروری کو بتایا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے بھی سبھی ویزا خدمات پوری طرح بحال کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ’بی ڈی نیوز 24‘ کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’’میڈیکل اور ڈبل انٹری ویزا حال میں جاری کیے جا رہے ہیں۔ سیاحتی ویزا سمیت دیگر زمروں کے ویزے پھر سے شروع کرنے کے لیے قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات آپسی احترام اور مشترکہ مفادات پر مرکوز ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ طارق رحمن کے وزیر اعظم بننے کے بعد بنگلہ دیش نئے سیاسی دور میں قدم رکھ چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں شدت پسند سیاسی کارکن شریف عثمان بن ہادی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ دسمبر 2025 میں سفارتی کشیدگی کے مدنظر دونوں ممالک کے درمیان قونصلر اور ویزا خدمات روک دی گئی تھیں۔ سنگاپور میں علاج کے دوران ہادی کی موت کی خبر ملنے کے بعد 18 دسمبر کی رات مظاہرین کے ایک گروپ نے چٹگاؤں میں ہندوستانی اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرہ کیا اور پتھر پھینکے تھے۔ اس کے بعد ہندوستان نے وہاں 21 دسمبر سے آئندہ حکم تک دفتری کام کو معطل کر دیا۔
’بی جے پی کا دباؤ بڑھتا جا رہا، جبراً ہاتھ ملانے کے لیے سی بی آئی بھیج رہے‘، تمل سپراسٹار وجئے کی پارٹی کا بڑا بیان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
تمل سپراسٹار تھلاپتی وجئے کی پارٹی ’تملگا ویتری کژگم‘ (ٹی وی کے) نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا عزم کئی بار ظاہر کیا ہے، اور اب ایک بار پھر بیان دے کر واضح کیا ہے کہ چاہے کتنا بھی دباؤ بنایا جائے، بی جے پی کے ساتھ اتحاد قائم نہیں ہوگا۔ ٹی وی کے پارٹی کے جنرل سکریٹری ارون راج نے اس تعلق سے جمعہ کے روز واضح لفظوں میں کہا کہ پہلی کانفرنس میں ہی وجئے نے صاف لفظوں میں بی جے پی کو ایک نظریاتی حریف بتایا تھا۔ اس پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ارون راج کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو میں برسراقتدار پارٹی اور مرکز میں برسراقتدار پارٹی، دونوں کو حریف کہنا ہمت کی بات ہے، اور وجئے نے اس ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ راج نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے دباؤ ڈالا تھا، لیکن وجئے نے جو فیصلہ لیا ہے، اس پر قائم ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی طرح سے، یونین سطح پر بھی برسراقتدار پارٹی نے دباؤ ڈالا، لیکن ہمارے لیڈر کا اسٹینڈ بہت واضح ہے۔
ارون راج نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’آپ جانتے ہیں وجئے نے مملاپورم میں کیا کہا تھا۔ انھوں نے صاف کہا تھا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔ اس سے صاف لفظوں میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے جب لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے بی جے پی کے خلاف کچھ نہیں کہا، تو یہ بات نہیں مانی جا سکتی۔‘‘ راج نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اب بی جے پی کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ سی بی آئی پوچھ تاچھ، فلم سے جڑے معاملے، جو کچھ ہو رہا ہے، سبھی جانتے ہیں۔ ان سبھی دباؤ کے باوجود وجئے نے صاف کہا ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔ اس کے بعد کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اداکار سے لیڈر بنے وجئے پہلی بار اپنی سیاسی پارٹی تمل ویتری کژگم کے ذریعہ انتخاب لڑیں گے۔ تمل ناڈو میں بی جے پی اور اے آئی اے ڈی ایم کے نے 2026 کے اسمبلی انتخاب کے لیے اتحاد کیا ہوا ہے۔ ان کے خلاف ٹی وی کے مضبوطی سے میدان میں اترنے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے۔ حالانکہ بی جے پی اتحاد کے لیڈران نے کئی بار یہ دعویٰ کیا کہ وجئے آئندہ انتخاب میں این ڈی اے کا ہاتھ تھام لیں گے۔ لیکن وجئے نے بھی بار بار یہی وضاحت پیش کی کہ وہ کسی بھی اتحاد کا حصہ نہیں ہوں گے۔
بی جے پی حکومت میں یوپی سے لے کر ایم پی اور بہار تک کروڑوں روپے کی بربادی، کانگریس نے شیئر کی نیوز رپورٹ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بی جے پی حکمراں ریاستوں میں الگ الگ منصوبوں کے تحت کام کے نام پر کروڑوں روپے خرچ تو کر دیے گئے، لیکن اس کا فائدہ عوام کو نہیں مل رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو منصوبے ٹھیک طرح نافذ نہیں کیے گئے، یا پھر کام میں کچھ اس طرح گھوٹالہ ہوا کہ عوام کو بھنک بھی نہیں لگی۔ مثلاً اتر پردیش میں ایک پانی کی ٹنکی پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے، لیکن کوئی اس ٹنکی کو تلاش کرے تو نظر ہی نہیں آئے گی۔ کانگریس نے اس ٹنکی کو ’مسٹر انڈیا والی ٹنکی‘ کہا ہے، جو دکھائی نہیں دیتی۔
دراصل ’آج تک‘ نے اس ٹنکی سے متعلق ایک رپورٹ نشر کی ہے، جس کی ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ’جَل جیون مشن‘ کے تحت پانی کی ٹنکی تیار کرنے میں خاطر خواہ رقم خرچ ہوئے، لیکن لوگ اس ٹنکی سے پانی کی ایک بوند تک حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے ’’یوپی میں ’مسٹر انڈیا‘ والی پانی کی ٹنکی۔ ’جَل جیون مشن‘ کے تحت بستی کے ایک گاؤں میں تقریباً 2 کروڑ روپے خرچ کر ایک ٹنکی بنائی گئی۔ پھر ٹھیک اسی کے بغل میں دوسری ٹنکی کھڑی کر دی گئی۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ٹنکی صرف کاغذ پر ہے، زمین پر نہیں۔‘‘
اس پوسٹ میں کانگریس نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’دراصل ’جَل جیون مشن‘ جیسے تمام منصوبے بی جے پی حکومت میں بدعنوانی کا ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں۔ بی جے پی لیڈران ٹنڈر اور کام کے نام پر ہزاروں-کروڑوں روپے ہضم کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔‘‘ کانگریس نے صرف یوپی کا معاملہ ہی سامنے نہیں رکھا ہے، بلکہ ’آج تک‘ کی رپورٹ پر مبنی مزید ایک ویڈیو ’ایکس‘ پر شیئر کی ہے، جس میں ایم پی (مدھیہ پردیش) کے بھوپال اور بہار کے بھاگلپور کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ بھوپال اور بھاگلپور میں ’اسمارٹ سٹی‘ کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے جانے کا ذکر ویڈیو رپورٹ میں موجود ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ سینکڑوں سائیکل خریدے گئے جو اب کباڑ بن چکے ہیں۔ سائیکل چلانے کے لیے راستہ بھی تیار کیا گیا، جہاں کوڑے بکھرے ہوئے دکھائی پڑ رہے ہیں۔
کانگریس نے شیئر کردہ ویڈیو کے ساتھ لکھا ہے کہ ’’بی جے پی حکومت نے اسمارٹ سٹی کے نام پر بھوپال سے بھاگلپور تک لاکھوں کروڑوں روپے کا گھوٹالہ کر ڈالا۔ بھوپال میں اسمارٹ سٹی کے نام پر 1400 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ شہر میں پروجیکٹ کے تحت اسمارٹ سائیکلیں خریدی گئیں، جو اب کباڑ خانہ میں جنگ کھا رہی ہیں۔ اسمارٹ سائیکلوں کے لیے ٹریک بنائے گئے اور سولر پینل لگائے گئے، لیکن اب سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔‘‘ کانگریس نے آگے لکھا ہے کہ ’’بہار کے بھاگلپور کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے، جہاں اسمارٹ سٹی کے نام پر 1309 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اس پروجیکٹ کے تحت شہر میں سائیکل ٹریک اور ای-ٹوائلٹ بنائے گئے، لیکن دونوں چیزیں پوری طرح سے تباہ ہو چکی ہیں۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’یہ سب دکھاتا ہے کہ بی جے پی نے اسمارٹ سٹی کا خواب دکھایا اور پھر ان کے وزراء و لیڈران نے گھوٹالہ کر موٹی ملائی کاٹی۔ تبھی تو کہتے ہیں، جہاں بی جے پی وہاں بدعنوانی۔‘‘
0 تبصرے