غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں رمضان کی رونق! ٹوٹے گھروں، بکھرے خاندان کے درمیان سڑکوں پر افطاری
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
غزہ کے پھٹے پُرانے بوسیدہ پناہ گزین کیمپوں میں اسرائیلی بمباری کے شکار اور درد کے مارے فلسطینی خاندان رمضان المبارک کا شایان شان استقبال کر رہے ہیں۔ ماہ مقدس کے آغاز کے ساتھ ہی غزہ شہر کی سڑکوں پرچھوٹی چھوٹی لالٹینیں اوراسٹرنگ روشن ہوگئی ہیں، جو کبھی منہدم عمارتوں اور ملبے کے ڈھیروں سے بکھری ہوئی تھی۔ جنگ کی تباہ کاریوں میں اپنے بچپن سے محروم غزہ کے بچوں کے چہروں پرخوشی اور کچھ راحت بھی کیونکہ گزشتہ سال اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد یہ ان کا پہلا رمضان ہے۔
خبروں کے مطابق غزہ میں گزشتہ 2 سال سے جاری اسرائیلی جارحیت اور بربریت، جنگ و جدل اور مایوس کن غیر یقینی حالات نے زندگی کو سخت اذیت ناک بنا رکھا ہے۔ س کے باوجود جیسے ہی ہلال صوم آسمان پر نمودار ہوا، مظلوم فلسطینیوں کی نگاہیں چمک اور چہرے خوشی سے کھلکھلا اُٹھے۔ غربت، گھرسے محرومی اور بھوک کے باوجود وہ آج بہت شاداں ہیں۔ وہ خیمے جو موسم کی سختیاں جھیلنے کی سکت نہیں رکھتے، ان میں بھی رمضان کی آمد پر سادہ لیکن خوشنما سجاوٹ کی جا رہی ہے۔ بچے اپنے ہاتھ سے پینٹنگز بناکر خیموں پر لگا رہے ہیں۔
تاریک ماحول کو خصوصی طور پر تیار کی گئی رمضان لالٹین سے روشن کیا جا رہا ہے۔ خیمہ گاہوں کی کچی پکی ایک ایک گلی رنگ و نور سے بھر گئی ہے۔ خیموں سے اللہ اکبر کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ صاف نظرآ رہا ہے کہ اسرائیل غزہ کے شہریوں کے گھروں کو تو مسمار کرچکا ہے لیکن ایک ایک شخص کا جذبۂ ایمانی پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور مضبوط ہوچکا ہے۔ غزہ کے لوگوں کے لیے رمضان المبارک کے یہ دن امید، صبر اور اجتماعات کی اہمیت کا پیغام بھی رکھتے ہیں حالانکہ اب بھی جنگ، بحران اور قربانیوں کا دکھ پوری شدت کے ساتھ تازہ ہے۔
’اے ایف پی‘ کے مطابق بدھ کے روز رمضان المبارک کی پہلی صبح درجنوں نمازیوں نے عمری مسجد میں فجر کی نماز ادا کی۔ قالین پر ان کے پاؤں ننگے تھے لیکن انہوں نے سردی سے بچاؤ کے لیے بھاری جیکٹ پہن رکھی تھیں۔ اس موقع پر غزہ شہر کے رہنے والے ابو آدم بھی نماز پڑھنے آئے تھے۔ انہوں نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ قبضے، مساجد اور اسکولوں کی تباہی اور ہمارے گھروں کو زمیں دوز کئے جانے کے باوجود، ہم ان مشکل حالات سے گزرے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بھی جب اس علاقے کو نشانہ بنایا گیا تب بھی ہم اللہ کی عبادت کے لیے مسجد جانے کے اپنے عزم پر ثابت قدم رہے۔ غزہ کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے بدھ کے روز ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ مشرقی غزہ شہر پر توپوں سے حملے کئے گئے تھے۔ ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ وسطی غزہ میں ایک پناہ گزین کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بتادیں کہ اسرائیل بین الاقوامی صحافیوں کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔
’جنگ زوروں پر تھی، طیارے گرائے جا رہے تھے، تب میں نے بات کی‘، ٹرمپ نے پھر ہند-پاک جنگ بندی کا لیا کریڈٹ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ لیا ہے۔ حالانکہ اس مرتبہ انداز کچھ مختلف دکھائی دے رہا ہے۔ ’بورڈ آف پیس‘ تقریب میں ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’’پاکستانی وزیر اعظم نے ہمارے چیف آف اسٹاف کے سامنے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہمارے اور ہندوستان کے درمیان جنگ روک کر 25 ملین جانیں بچائیں۔ وہ جنگ زوروں پر تھی۔ طیارے گرائے جا رہے تھے۔‘‘
ٹرمپ نے اپنی تقریر کے دوران ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میری دونوں (وزرائے اعظم) سے فون پر بات ہوئی۔ میں انھیں (پی ایم مودی) بہت اچھے سے جانتا ہوں۔ میں نے انھیں فون کیا اور کہا کہ اگر تم لوگ اسے سلجھا نہیں پائے تو میں تم دونوں کے ساتھ ٹریڈ ڈیل نہیں کروں گا۔ پھر اچانک ہم نے ایک ڈیل کر لی۔ میں نے کہا اگر تم لڑو گے تو میں دونوں ممالک پر 200 فیصد ٹیرف لگا دوں گا۔‘‘ امریکی صدر آگے کہتے ہیں کہ ’’وہ دونوں (ہندوستان اور پاکستان) لڑنا چاہتے تھے۔ جب بہت سارے پیسہ کا نقصان دیکھا تو انھوں نے کہا، مجھے لگتا ہے کہ ہم لڑنا نہیں چاہتے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’11 طیارے گرائے گئے، بہت مہنگے طیارے۔‘‘
اس تقریب سے خطاب کے دوران امریکی صدر نے کچھ دیگر باتیں بھی سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’امریکہ ’بورڈ آف پیس‘ کو 10 بلین ڈالر کی امداد دینے جا رہا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے ساتھ بہت قریب سے کام کرنے جا رہے ہیں۔ ہم انھیں واپس لائیں گے۔ 8 جنگیں، میں نے ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی ان سے بات نہیں کی اور مجھے ان سبھی کے بارے میں ان سے بات کرنی چاہیے۔‘‘ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ مجھے لگتا ہے اقوام متحدہ بہت زیادہ مضبوط ہوگا۔ ’بورڈ آف پیس‘ اقوام متحدہ پر نظر رکھے گا اور یہ پختہ کرے گا کہ یہ ٹھیک سے چلے، لیکن ہم اقوام متحدہ کو مضبوط کرنے جا رہے ہیں۔ ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ اس کی سہولتیں اچھی ہوں۔ انھیں مدد کی ضرورت ہے، ہمیں پیسہ کے معاملے میں ان کی مدد کرنی ہے۔
’روزگار کے مواقع پیدا کریں، سب کو مفت سہولیات بانٹنا غلط‘، مفت کے منصوبوں پر سپریم کورٹ کا سخت تبصرہ
قومی آواز بیورو
سپریم کورٹ نے تمل ناڈو بجلی بورڈ کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ دراصل تمل ناڈو بجلی بورڈ صارفین کو مفت بجلی دینے کا وعدہ کر رہا ہے۔ اس دوران عدالت نے کہا کہ ریاستوں میں اپنائی گئی مفت سہولیات کی ثقافت معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ جس میں چیف جسٹس سوریا کانت سمیت دیگر جج شامل ہیں، نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر ریاستیں پہلے ہی خسارے میں ہیں، پھر بھی وہ ترقی کو چھوڑ کر مفت سہولیات بانٹ رہی ہیں۔
عدالت نے واضح طور پر کہا کہ جو لوگ ادائیگی نہیں کر سکتے انہیں امداد دینا سمجھ میں آتا ہے، لیکن امیر اور غریب میں فرق کیے بغیر سب کو مفت دینا غلط پالیسی ہے۔ اس دوران عدالت نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر صبح سے شام تک مفت کھانا، سائیکل اور بجلی ملتی رہی تو لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ کم ہو جائے گا۔‘‘
سپریم کورٹ نے ریاستوں کو مشورہ دیا کہ مفت چیزیں تقسیم کرنے کے بجائے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس دوران چیف جسٹس سوریا کانت نے پوچھا کہ ہندوستان میں ہم کیسی ثقافت بنا رہے ہیں؟ کیا یہ ووٹ حاصل کرنے کی پالیسی نہیں بن جائے گی؟ فی الحال سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اب اگلی سماعت میں طے ہوگا کہ ایسی مفت بجلی کے منصوبوں پر کس طرح کے قوانین نافذ ہوں گے۔
قابل ذکر ہے کہ مفت منصوبہ کا معاملہ اس لیے بڑا ہے کہ کئی ریاستوں میں انتخاب سے قبل مفت اسکیموں کا اعلان ہوتا ہے اور اس سے سرکاری اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے معاشی توازن بگڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے صاف پیغام دیا ہے کہ غریبوں کی مدد ضروری ہے، لیکن سوچے سمجھے بغیر سب کو مفت سہولیات دینا ملک کی ترقی کے لیے درست نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سپریم کرٹ نے کہا کہ ہم صرف تمل ناڈو کے تناظر میں ہی بات نہیں کر رہے ہیں۔ ہم اس حقیقت پر غور کر رہے ہیں کہ انتخاب سے عین قبل ہی کیوں منصوبوں کا اعلان کیا جا رہا ہے؟ تمام سیاسی جماعتوں اور ماہرین سماجیات کو اپنے نظریات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کب تک چلتا رہے گا؟
’بغیر اجازت نہیں چھوڑوں گا ملک‘، 40 ہزار کروڑ روپے کے بینک فراڈ معاملے میں انل امبانی نے سپریم کورٹ میں دیا حلف نامہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بزنس مین انل امبانی نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا ہے کہ عدالت کی اجازت کے بغیر ملک نہیں چھوڑیں گے۔ 4 فروری کو ان کے وکیل نے عدالت سے زبانی طور پر یہ بات کہی تھی، اب باقاعدہ تحریری حلف نامہ داخل کر دیا گیا ہے۔ معاملہ ریلائنس اے ڈی اے جی گروپ پر عائد تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کے بینک قرض گھوٹالے کے الزامات سے متعلق ہے۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے سی بی آئی اور ای ڈی کی تحیقات میں ہو رہی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے یقین دلایا تھا کہ دونوں ایجنسیاں ضروری قدم اٹھائیں گی۔
انل امبانی نے عدالت سے کہا کہ وہ 25 جولائی کے بعد سے ملک سے باہر نہیں گئے ہیں اور نہ ہی فی الحال باہر جانے کا کوئی منصوبہ ہے۔ انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ اگر بیرون ملک جانے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ پہلے عدالت سے اجازت لیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اس سلسلے کو برقرار رکھیں گے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سمن جاری کرتے ہوئے انل امبانی کو 26 فروری کو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
سابق آئی اے ایس افسر ای اے ایس سرما نے عرضی داخل کر کے عدالت کی نگرانی میں معاملے کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عرضی گزار نے اسے ہزاروں کروڑ روپے کے عوامی فنڈز کے غلط استعمال کا معاملہ قرار دیا ہے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ہیرا پھیری 2007 سے جاری ہے لیکن اس پر اب جا کر ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ اب بھی تحقیقات صحیح طریقے سے نہیں چل رہی ہے۔
عرضی گزار کا کہنا ہے کہ 2013 سے 2017 کے درمیان اے ڈی اے جی کی ذیلی کمپنیوں ریلائنس انفراٹیل اور ریلائنس ٹیلی کام نے اسٹیٹ بینک کی قیادت والے بینکوں کے گروپ سے 31580 کروڑ روپے کا قرض لیا، لیکن اس رقم کا غلط استعمال ہوا۔ ہزاروں کروڑ روپے کا غبن کر لیا گیا
پرینکا گاندھی نے بی جے پی حکومت کے خلاف ’فرد جرم‘ کیا جاری، بدعنوانی میں غرق ہونے کا عائد کیا الزام
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جمعرات کو گواہاٹی میں بی جے پی کی قیادت والی آسام حکومت کے خلاف آسام کانگریس کا 20 نکاتی ’فرد جرم‘ جاری کیا۔ اس میں حکومت پر بدعنوانی میں ملوث ہونے اور اقلیتوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔
اپوزیشن پارٹی نے اسمبلی انتخاب سے قبل یہ ’فرد جرم‘ جاری کیا ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک دہائی کی حکومت کے باوجود بی جے پی حکومت 6 قبائلی طبقات کو درج فہرست قبائل کا درجہ دلوانے اور چائے باغان کے مزدوروں کی دِہاڑی بڑھا کر 351 روپے کرنے کے اپنے وعدہ کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔
کانگریس نے جاری فرد جرم میں بی جے پی کی قیادت والی آسام حکومت پر ’وسیع بدعنوانی‘ میں غرق ہونے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی نے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور ان کے قریبی وزراء کے ساتھ ساتھ ان کی فیملی کے اراکین پر ’ناجائز طریقے سے ملکیت جمع کرنے‘ کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس نے ان الزامات پر بی جے پی اور ہیمنت بسوا سرما سے جواب بھی طلب کیا ہے۔
اس دوران آسام اسمبلی انتخاب کے پیش نظر کانگریس امیدوار کے اعلان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ابھی میں سب سے مل رہی ہوں اور ان کے مشورے لے رہی ہوں۔ آئندہ 2 دنوں تک ہم الگ الگ جتنے لوگوں سے مل سکتے ہیں، اُن سے ملیں گے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی مطلع کیا کہ ’’آسام اسکریننگ کمیٹی کے اراکین بھی گزشتہ 5-4 دنوں سے ہر ضلع میں جا رہے ہیں۔ پورا فیڈ بیک لینے کے بعد ہماری کوشش یہی رہے گی کہ اچھے سے انتخاب کے ٹکٹ تقسیم کیے جائیں اور پھر مضبوطی سے انتخاب لڑیں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ آسام اسمبلی انتخاب کے پیش نظر کانگریس امیدوار سلیکشن کمیٹی کی چیف پرینکا گاندھی جمعرات کو 2 روزہ دورے پر گواہاٹی پہنچیں۔ یہاں پہنچنے پر انھوں نے سب سے پہلے ماں کامکھیا دیوی کے دَرشن کر ان کا آشیرواد لیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کچھ تصویریں بھی شیئر کی ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’آسام میں ماں کامکھیا دیوی کا دَرشن کر آشیرواد لیا اور آسام و پورے ملک کے فلاح کے لیے دعا کی۔ ہمارے ہر ہندوستانی باشندہ بھائی-بہن پر ماں کی رحمت بنی رہے۔‘‘ اس دوران کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی ماتا کی چنری اوڑھے، مالا لٹکائے اور پیشانی پر ٹیکا لگائے دکھائی دیں۔ ان کے ساتھ لوک سبھا رکن گورو گگوئی بھی نظر آئے۔
ماں کامکھیا کا دَرشن کرنے کے بعد پرینکا گاندھی ’راجیو بھون‘ پہنچیں، جو آسام پردیش کانگریس کمیٹی کا ہیڈکوارٹر ہے۔ وہاں انھوں نے امیدواروں کے انتخاب سے متعلق کئی اہم میٹنگوں کی صدارت کی۔ کانگریس کے سینئر لیڈران نے کہا کہ پرینکا گاندھی آسام میں امیدواروں کے انتخاب کے عمل پر قریب سے نظر رکھ رہی ہیں۔ پارٹی کے عہدیدار بتا رہے ہیں کہ اس بار امیدواروں کا انتخاب کرنے کے لیے ایسا وسیع اور منظم طریقہ اختیار کیا گیا ہے، جس میں زمینی سطح کے کارکنان اور ضلع سطح کے لیڈران سے تفصیلی مشورے اور جانکاریاں لی جا رہی ہیں۔
آسام کانگریس کے لیڈران نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ پرینکا گاندھی آنے والے مہینوں میں ریاست کے مزید کئی دورے کر سکتی ہیں۔ ان دوروں کا مقصد زمین پر ہو رہی پیش رفت پر نظر رکھنا، الگ الگ علاقوں سے سیاسی مشورے لینا اور انتخابی مہم تیز ہونے پر مرکزی قیادت و ریاستی یونٹ کے درمیان قریبی بات چیت بنائے رکھنا ہوگا۔ کانگریس چاہتی ہے کہ امیدوار کے انتخاب کا کام جلد از جلد مکمل ہو جائے۔ اس لیے سیاسی سرگرمیاں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت سے صلاح و مشورہ کے بعد فروری کے آخر تک آسام اسمبلی انتخاب کے لیے کانگریس امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی جا سکتی ہے۔
بہار-یوپی سمیت 13 ریاستوں کے بعد اب پورے ملک میں ہوگا ’ایس آئی آر‘، الیکشن کمیشن نے جاری کیا نوٹیفکیشن
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بہار میں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور یوپی سمیت ملک کی 12 ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام خطوں میں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔ اب ان 13 ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام خطوں کے علاوہ ملک کی بقیہ ریاستوں میں بھی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کا عمل کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے بتایا کہ رواں سال اپریل ماہ سے پورے ملک میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہو جائے گا۔ بہار میں یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور 12 ریاستوں میں فی الحال یہ عمل جاری ہے، لہٰذا باقی بچ جانے والی ریاستوں میں بھی ایس آئی آر کا عمل شروع کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق صاف ہو جاتا ہے کہ دہلی، ہریانہ اور ہماچل پردیش سمیت 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں اپریل سے ایس آئی آر شروع ہو سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان ریاستوں کے چیف الیکٹورل آفیسرز کو تیاریاں کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ کمیشن نے اپنے نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ تمام ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے ایس آئی آر سے وابستہ تمام ابتدائی تیاریاں جلد از جلد مکمل کر لیں۔ تاکہ اپریل کے مہینے میں یہ مہم بغیر کسی رکاوٹ کے شروع کی جا سکے۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی، ہریانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، مہاراشٹرا، کرناٹک، آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، چنڈی گڑھ، دادرا اور نگر حویلی و دمن اور دیو، جموں اور کشمیر، لداخ، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، اوڈیشہ، پنجاب، سکم، تریپورہ، تلنگانہ اور اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کا عمل شروع کیا جائے گا۔ ایس آئی آر عمل کے تحت بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) گھر گھر جا کر ووٹر لسٹ میں درج فرد کے بارے میں جانچ کرتے ہیں، جس میں یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ رجسٹرڈ شخص اب بھی وہاں رہتا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ جن افراد کا انتقال ہو چکا ہے، ان کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نام، عمر، خراب کوالٹی کی تصویر اور پتے کی غلطیوں کو اس مہم کے ذریعے درست کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ جب بی ایل او آپ کے گھر آئیں تو خاندان کے افراد کے آدھار کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹ اور رہائشی سرٹیفکیٹ کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کے خاندان میں کسی ممبر کی عمر 18 سال ہو گئی ہے، تو اس کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگر خاندان کا کوئی رکن کسی دوسری جگہ منتقل ہو گیا ہے، تو اس کا نام وہاں سے ہٹا کر نئی جگہ شامل کرایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر آپ کے ووٹر آئی ڈی کارڈ میں تصویر پرانی یا دھندلی ہو چکی ہے، تو آپ صاف تصویر دے کر اسے تبدیل کروا سکتے ہیں
0 تبصرے