’سناتن سنستھا‘ کی تقریب میں مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی، مودی حکومت نے دیے 63 لاکھ روپے، کانگریس حملہ آور

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو

’’فرقہ پرست تنظیم ’سناتن سنستھا‘ نے ’بھارت منڈپم‘ میں ’سناتن راشٹر شنکھ ناد مہوتسو‘ کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت، شریپد نایک، سنجے سیٹھ اور دہلی حکومت کے وزیر ثقافت کپل شامل ہوئے۔ اس میں مسلمانوں کی جبریہ اجتماعی مذہب تبدیلی، انھیں ملک سے بھگا دینے، آئین کو بدل دینے کی بات ہوئی۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ مودی حکومت کی وزارت ثقافت 63 لاکھ روپے ایسی فرقہ پرست تنظیم کو دیتا ہے۔‘‘ یہ بیان کانگریس ترجمان اور سینئر لیڈر راگنی نایک نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران دی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’سناتن سنستھا گوا کی وہی تنظیم ہے، جس پر کرناٹک پولیس گوری لنکیش اور ایم ایم کلبرگی کے قتل معاملہ میں جانچ کر رہی ہے۔‘‘

’سناتن سنستھا‘ کے ذریعہ منعقد کی گئی تقریب میں مسلمانوں کے خلاف ہوئی زہر افشانی کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے مودی حکومت کے سامنے کچھ تلخ سوالات رکھے ہیں۔ پریس کانفرنس میں راگنی نایک نے پوچھا کہ:

ایک ایسی تقریب میں، جہاں فرقہ ورانہ اور اشتعال انگیز نعرے لگے ہوں، وہاں بی جے پی حکومت نے 63 لاکھ روپے کیوں خرچ کیے؟

کیا نریندر مودی سماج میں فرقہ وارانہ پولرائزیشن چاہتے ہیں؟

کیا بی جے پی ہندوستان کی گنگا-جمنی تہذیب کو سرکاری پیسہ سے تار تار کرنا چاہتی ہے؟

کیا نریندر مودی اقلیتوں کے خلاف کام کر رہی تنظیموں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں؟

کیا نریندر مودی ملک میں ’تنوع میں اتحاد‘ کو پوری طرح سے تباہ کرنا چاہتے ہیں؟

راگنی نایک نے پی ایم مودی کے ملیشیا دورہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی حال ہی میں ملیشیا گئے تھے، جہاں ان کا استقبال رامائن پر مبنی پروگرام سے کیا گیا۔ یہ ہندوستان کے سیکولرزم کی طاقت ہے۔ لیکن اسی سیکولر ہندوستان میں بی جے پی کا ایک وزیر اعلیٰ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا ہے اور حکومت اسے آگے بڑھاتی ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر دراصل آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا ذکر کر رہی تھیں، جو کہ مستقل مسلمانوں کے خلاف زہریلے بیانات دے رہے ہیں۔

کانگریس ترجمان نے ملک میں پیدا نفرت انگیز حالات کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک میں 2014 کے بعد سے نفرت انگیز نظریات والی تنظیمیں پھل پھول رہی ہیں۔ یہ وہ تنظیمیں ہیں جو ہندوستانی آئین کو طاق پر رکھ کر ہندو راشٹر بنانے کی بات کرتی ہیں۔ اسی طرز پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے تمام لیڈران ہیٹ اسپیچ دیتے ہیں، جسے نریندر مودی اور ان کے ترجمان ’فرنج ایلیمنٹ‘ کہہ دیتے ہیں۔ لیکن ہیمنت بسوا سرما ’فرنج ایلیمنٹ‘ نہیں ہیں، بلکہ آئینی عہدہ پر فائز آسام کے وزیر اعلیٰ ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’جب ہیمنت بسوا سرما کو ایک ویڈیو میں مسلمانوں کو گولی مارتے ہوئے دکھایا جاتا ہے تو وہ گولی مسلمانوں پر نہیں، آئین پر چلتی ہے۔ ایسی ہی نفرتی گولی نے گاندھی جی کا سینہ بھی چھلنی کر دیا تھا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی اور ان کے لیڈران میں ایسی گھٹیا سوچ کا مظاہرہ کرنے کی ہمت اعلیٰ قیادت سے آتی ہے، جن کا انھیں تحفظ حاصل ہوتا ہے۔‘‘

’سناتن‘ کے نام پر ملک میں نفرت والا ماحول پیدا کیے جانے کی راگنی نایک نے سخت مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’سناتن سنستھا جیسی تنظیموں نے ’سناتن‘ لفظ کی سب سے زیادہ بے حرمتی کی ہے اور اس کا غلط استعمال کیا ہے۔ سناتن کے بارے میں گوسوامی تلسی داس جی نے بہت پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ ’پَرہِت سرس دھرم نہیں بھائی/پر پیڑا سم نہیں ادھمائی‘۔ یعنی دوسروں کا بھلا کرنا ہی سب سے بڑا دھرم ہے اور دوسروں کو تکلیف پہنچانا سب سے بڑا گناہ ہے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں ’’جو لوگ مذہب کو سیاست میں دھنسانے کے لیے بیٹھے ہیں، وہ اس کی اہمیت نہیں سمجھ پائیں گے۔ دراصل سناتن سنستھا جیسی تنظیمیں نہ تو بھگوان شری رام کے ہیں، نہ سناتن مذہب کے ہیں اور نہ ہی عوام کے ہیں۔‘‘
ˆ

بی جے پی کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے راگنی نے کہا کہ ’’آر ایس ایس نے ہمیشہ ہی آئین کی مخالفت کی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ بی جے پی کا تجربہ ہے، جس میں وہ آئین کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کو پیسہ دے رہی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایسی تنظیمیں عوام کو ورغلانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آئین کو چھوڑ دو۔ لیکن وہ یاد رکھیں کہ جب تک کانگریس کے کارکنان موجود ہیں، یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘

راگنی نایک نے پی ایم مودی کو بھی براہ راست کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک میں بار بار اشتعال انگیز بیان دیے جاتے ہیں۔ پہلے نریندر مودی تو کہہ بھی دیتے تھے کہ ’من سے معاف نہیں کروں گا‘، لیکن اب تو وہ بولتے بھی نہیں۔‘‘ موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کانگریس لیڈر نے مطالبہ کیا کہ ملک میں ’ہیٹ اسپیچ‘ کو روکنے کے لیے ’پریونٹیو لیجسلیشن لایا جائے، تاکہ جب بھی تقریریں ہوں تو اس بات کا خیال رکھا جا سکے کہ اس میں اشتعال انگیزی نہ ہو۔


پاکستان کے لیے کھڑی ہونے والی ہے بڑی مشکل، سندھ ندی کے بعد ہندوستان راوی کا پانی روکنے پر کاربند

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو

سندھ آبی معاہدہ کی معطلی کے بعد ہندوستان اب پاکستان کے لیے مزید ایک بڑا سفارتی و آبی قدم اٹھانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت راوی ندی کے اُس پانی کو بھی پاکستان جانے سے روکنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو ہندوستان کے حصے میں آتا ہے۔ اگر یہ فیصلہ عملی صورت اختیار کرتا ہے تو گرمی کے موسم میں پاکستان کو شدید آبی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پنجاب اور جموں و کشمیر کی سرحد پر تعمیر ہو رہا شاہپور کنڈی باندھ اب اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیر جاوید احمد رانا نے اس سلسلے میں بتایا کہ سندھ آبی معاہدہ کے معطل ہونے کے بعد منصوبے کی رفتار میں نمایاں تیزی آئی ہے اور توقع ہے کہ یہ پروجیکٹ 31 مارچ تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باندھ کی تکمیل کے بعد راوی ندی کے ہندوستانی حصہ کے اضافی پانی کو پاکستان کی طرف بہنے سے روکا جا سکے گا۔ ان کے مطابق کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع خشک سالی سے متاثر ہیں اور اس پانی کو ان علاقوں کی جانب موڑنے کی تیاری ہے۔ وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان کو جانے والا اضافی پانی روکا جانا چاہیے کیونکہ راوی کے پانی پر ہندوستان کا حق ہے۔

شاہ پور کنڈی منصوبہ دراصل ایک طویل عرصہ سے زیر التوا پروجیکٹ ہے۔ اس کا تصور 1979 میں پیش کیا گیا تھا تاکہ راوی کے ہندوستانی حصہ کا پانی پاکستان جانے کے بجائے ملک کے اندر استعمال ہو سکے۔ 1982 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اس کی بنیاد رکھی تھی، لیکن پنجاب اور جموں و کشمیر کے درمیان تنازعہ کے باعث اس کی تعمیر رک گئی۔ بعد ازاں 2008 میں اسے قومی پروجیکٹ قرار دے کر دوبارہ فعال کیا گیا۔

تقریباً 3394 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والا یہ باندھ 55 میٹر اونچا اور 7.7 کلومیٹر لمبا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت پنجاب میں تقریباً 5000 ہیکٹیئر جبکہ جموں کے کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع میں 32 ہزار ہیکٹیئر سے زائد زرعی زمین کو آبپاشی کی سہولت ملے گی۔ مالیاتی حصہ داری میں پنجاب حکومت نے 2694 کروڑ روپے جبکہ مرکزی حکومت نے 700 کروڑ روپے فراہم کیے ہیں۔

سابق وزیر آبپاشی تاج محی الدین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ سندھ آبی معاہدہ باندھ کے آپریشن کو محدود نہیں کرتی کیونکہ راوی ندی کے پانی پر ہندوستان کا مکمل اختیار ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر راوی کے اضافی پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے تو پاکستان کے لیے خاص طور پر گرمیوں میں پانی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ہندوستان کے سرحدی اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کو اس منصوبے سے خاطر خواہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ شاہ پور کنڈی باندھ کی تکمیل کو نہ صرف ایک تکنیکی کامیابی بلکہ ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔


بنگلہ دیش: ہندوستان کے سیکرٹری خارجہ کی امیر جماعت اسلامی سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو

بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمان کی تقریب حلف برداری کے موقع پر ہندوستان کے سیکرٹری خارجہ وکرم مصری نے ڈھاکہ میں جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے اخلاقی ملاقات کی۔ یہ معلومات بنگلہ دیش میں ہندوستانی ہائی کمیشن نے ایک سرکاری فیس بک پوسٹ میں دی ہے۔

خارجہ سکریٹری نے ڈاکٹر رحمان کو ان کی نئی ذمہ داری کے لیے مبارکباد دی اور بنگلہ دیش کے لیے ہندوستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کوعوام پر مبنی قرار دتے ہوئے مزید تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے تہذیبی تعلقات کا بھی ذکر کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی امید ظاہر کی۔

تقریب حلف برداری میں لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے بھی ہندوستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے وزیر اعظم طارق رحمان سے ملاقات کرکے وزیر اعظم نریندر مودی کی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ہندوستان کے دورے کی دعوت دی۔ برلا نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری، ترقی پسند اور جامع ملک کی تعمیر کی کوششوں میں بنگلہ دیش کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

ہندوستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ریاض حمید اللہ نے لوک سبھا اسپیکراوم برلا کے دورے کی تعریف کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خط میں طارق رحمان کو ہندوستان آنے کی دعوت دی ہے اور ان کی اہلیہ زبیدہ رحمن اور بیٹی زائمہ کو بھی ان کے ساتھ آنے کی درخواست کی۔ خط میں انہوں نے بنگلہ دیش کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔


ایپسٹین فائلز پر سیاست گرم، ہلیری کلنٹن نے ٹرمپ انتظامیہ پر کور اپ کا الزام لگایا

یو این آئی
یو این آئی

امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ ایپسٹین فائلز کے معاملے میں لیپا پوتی کی کوشش کر رہی ہے۔ ہلیری کلنٹن نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ عوام کو اس معاملے سے متعلق تمام مواد دیکھنے کا حق ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دستاویزات جاری کرنے کا عمل سست کیا جا رہا ہے ۔ مکمل شفافیت برتی جانی چاہیے۔

وائٹ ہاؤس نے کلنٹن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے غیر معمولی شفافیت دکھائی ہے اور ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کئے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس ماہ کے آغاز میں امریکی محکمۂ انصاف نے 'ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ' منظور ہونے کے بعد لاکھوں نئے دستاویزات جاری کیں۔ تاہم نائب اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تقریباً 30 لاکھ اضافی صفحات حساس طبی ریکارڈ، بچوں کے استحصال سے متعلق تفصیلات اور جاری تحقیقات سے جڑی معلومات کی وجہ سے روکے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ مرحوم سرمایہ کار اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تفتیشی فائلوں کے عام ہونے کے بعد امریکہ میں ڈیموکریٹس اور برسرِ اقتدار ریپبلکن پارٹی کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ان فائلوں میں دونوں جماعتوں کی کئی بااثر شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں، تاہم کسی فائل میں نام کا ذکر ہونا بذاتِ خود کسی غلط کام کا ثبوت نہیں سمجھا جاتا۔

کینٹکی کے ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے محکمۂ انصاف سے ایپسٹین اور اس کے ساتھیوں کے خلاف سابق استغاثہ فیصلوں سے متعلق اندرونی یادداشتیں جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


موہن بھاگوت نے ہندوؤں کو دی نصیحت اور چین و امریکہ کو دھمکی

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے منگل کو لکھنؤ میں ایک بیان دیا اور ان کا بیان ویسا ہی تھا جیسا ہوا کرتا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ گھر واپسی کریں اور ہندوؤں  کو نصیحت دی کہ وہ تین بچے پیدا کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یو جی سی کا اصول کسی کے خلاف نہیں ہے۔ لکھنؤ کے نرالا نگر میں واقع سرسوتی شیشو مندر میں سماجی ہم آہنگی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ہندو سماج کو منظم اور بااختیار بنانے کی ضرورت کو دہرایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں کسی سے خطرہ نہیں ہے لیکن ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کی گھٹتی ہوئی آبادی تشویشناک ہے اور انہوں نے زبردستی اور حوصلہ افزائی کی تبدیلی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "گھر واپسی" کے عمل کو تیز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ہندو مذہب میں واپس آنے والوں کا خیال رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے دراندازی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ دراندازوں کا پتہ لگانا، ان کا خاتمہ اور ملک بدر کرنا ضروری ہے۔ ہندوؤں کے کم از کم تین بچے ہونے چاہئیں۔ سائنسدانوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اوسطاً تین بچوں والا معاشرہ مستقبل میں تباہ ہو جاتا ہے۔ یہ ہمارے خاندانوں میں نوبیاہتا جوڑے کو سمجھایا جانا چاہئے۔ بھاگوت نے کہا کہ شادی کا مقصد دنیا کو آگے بڑھانا ہونا چاہیے نہ کہ ہوس کی تسکین۔ یہ احساس فرض کے احساس کو پروان چڑھاتا ہے۔

آر ایس ایس سربراہ نے یو جی سی ایکٹ پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سب کو قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔ اگر قانون غلط ہے تو اسے بدلنے کے طریقے موجود ہیں۔ ذاتیں تنازعات کی وجہ نہیں بننی چاہئیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے میں اپنائیت کا جذبہ ہوگا تو ایسے مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا تنازعات سے نہیں بلکہ ہم آہنگی سے ترقی کرتی ہے۔ ایک شخص کو دبانے اور دوسرے کو بلند کرنے کا جذبہ نہیں ہونا چاہیے۔ موہن بھاگوت نے امریکہ اور چین جیسے ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ہماری خیر سگالی کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ ہمیں چوکنا رہنا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہیے


وزیر اعظم مودی نے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمٰن کو ہندوستان کے دورے کی دعوت دی

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو

وزیر اعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمٰن اور ان کے اہل خانہ کو ہندوستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی ہے۔ نریندر مودی نے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمٰن کو باہمی طور پر متفقہ وقت پر دورہ ہند کی دعوت دی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اوم برلا کے ذریعہ طارق رحمٰن کو ایک خط سونپا۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے 17 فروری کو ڈھاکہ میں اپنی حلف برداری کی تقریب کے بعد طارق رحمٰن سے ملاقات کی اور انہیں وزیر اعظم مودی کا خط سونپا۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد طارق رحمٰن نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ حال ہی میں ختم ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بی این پی نے 297 میں سے 209 نشستیں حاصل کیں۔

اپنے خط میں مودی نے لکھا، "میں اس موقع پر آپ کو، ڈاکٹر زبیدہ رحمٰن اور آپ کی بیٹی زائمہ کے ساتھ ہندوستان آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہندوستان میں آپ کا پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے۔" طارق رحمٰن کو ان کی انتخابی جیت پر مبارکباد دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ان کی جیت بنگلہ دیش کے عوام نے ان کی قیادت پر کیے گئے اعتماد کا ثبوت ہے۔ یہ ملک کو امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے ان کے وژن کے لیے ان کے مینڈیٹ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

اپنے خط میں مودی نے لکھا، "میں اس موقع پر آپ کو، ڈاکٹر زبیدہ رحمٰن اور آپ کی بیٹی زائمہ کے ساتھ ہندوستان آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہندوستان میں آپ کا پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے۔" طارق رحمٰن کو ان کی انتخابی جیت پر مبارکباد دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ان کی جیت بنگلہ دیش کے عوام نے ان کی قیادت پر کیے گئے اعتماد کا ثبوت ہے۔ یہ ملک کو امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے ان کے وژن کے لیے ان کے مینڈیٹ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دو قریبی پڑوسیوں کے طور پر، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہری دوستی ہے، جو مشترکہ تاریخ، ثقافتی رشتوں اور امن اور خوشحالی کے لیے ہمارے لوگوں کی امنگوں پر مبنی ہے۔ ہماری متعلقہ ترقیاتی ترجیحات کے درمیان مضبوط ہم آہنگی ہمارے مستقبل کے تعاون کے لیے رہنما اصول کے طور پر کام کرے گی۔

بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے کہا، "میں آپ کے ساتھ مل کر اپنے کثیر جہتی تعلقات کو مضبوط بنانے، خطے میں تعاون کو بڑھانے اور کنیکٹیویٹی، تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم، مہارت کی ترقی، توانائی، صحت کی دیکھ بھال جیسے وسیع شعبوں میں اپنے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں۔