’سیاسی پارٹیوں کو اپنے لیڈران پر لگام لگانی چاہیے‘، ’ہیٹ اسپیچ‘ پر سپریم کورٹ کا سخت تبصرہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
سپریم کورٹ نے ’ہیٹ اسپیچ‘ (نفرت انگیز تقریر) کے خلاف داخل مفاد عامہ ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کے لیے سخت گائیڈلائن بنانے کے اشارے دیے ہیں۔ سی جے آئی سوریہ کانت، جسٹس ناگرتھنا اور جسٹس باغچی کی بنچ نے کہا کہ عوامی شخصیات اور آئینی افسران کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کے حلف کی پاسداری کریں۔
عدالت نے عرضی گزار کو مشورہ دیا کہ صرف ایک سیاسی پارٹی یا چنندہ افراد کو ہدف بنانے کے بجائے ایک نئی اور جامع عرضی داخل کریں۔ عدالت نے یہ تبصرہ اس عرضی پر کیا ہے جس میں ہیمنت بسوا سرما، پشکر سنگھ دھامی، یوگی آدتیہ ناتھ اور اجیت ڈووال جیسے لیڈران کے بیانوں کا حوالہ دیا گیا تھا۔ بنچ نے زور دے کر کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو اپنے لیڈران پر لگام لگانی چاہیے اور میڈیا کو بھی ایسی نفرت انگزیز تقاریر کو بار بار دکھانے سے بچنا چاہیے۔
سماعت کے دوران سی جے آئی سوریہ کانت نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عرضی میں صرف چنندہ لوگوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ ہم کسی ایک سیاسی پارٹی یا شخص کو ہدف بنانے والی عرضیوں پر غور نہیں کر سکتے، لیکن نفرت انگیز تقریر کا معاملہ انتہائی حساس اور سنگین ہے۔ عرضی گزار کے وکیل کپل سبل نے عدالت کو یقین دلایا کہ ان کا ارادہ کسی کو ہدف بنانے کا نہیں ہے اور وہ ان ناموں کو ہٹا دیں گے۔ عدالت نے مشورہ دیا کہ ایک نئی عرضی داخل کی جائے، جس میں صرف آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کے لیے گائیڈلائن کا مطالبہ ہو۔
جسٹس ناگرتھنا نے کہا کہ سیاسی لیڈران کا کام ملک میں بھائی چارہ کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عدالت گائیڈلائن بنا بھی دے تو کیا لیڈران اس پر عمل کریں گے؟ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ سیاسی پارٹیاں خود اپنے داخلی آئین میں نفرت انگیز تقاریر کے متعلق اصول کیوں نہیں بناتی ہیں؟ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے میڈیا کے کردار پر بھی سوال اٹھایا کہ وہ ایسی نفرتی تقاریر کو بار بار کیوں دوہراتے ہیں۔ جسٹس باغچی نے پرانے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ان پر عمل کیا جا رہا ہے؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ ہندوستان ایک ’پختہ جمہوریت‘ ہے اور یہاں اعلیٰ اور مناسب اصولوں کی توقع کی جاتی ہے۔ سرکاری ملازمین اور عوامی خادم ’آل انڈیا سروسز رولس‘ سے مربوط ہیں۔ جسٹس ناگرتھنا کے مطابق نفرت کی شروعات سوچ سے ہوتی ہے اور ہمیں اس سوچ کو ہٹانا ہوگا جو آئین کے خلاف ہے۔ عدالت نے یہ تسلیم کیا کہ وہ صرف احکامات جاری کر سکتی ہے، لیکن سیاسی اور جمہوری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین اور اپنے حلف کے تئیں وفادار رہیں۔
عدالت عظمیٰ کی بنچ نے عرضی گزار سے موجودہ عرضی واپس لینے اور ایک نئی عرضی داخل کرنے کو کہا ہے۔ عدالت نے یقین دلایا ہے کہ وہ ہیٹ اسپیچ پر ایک فعال اور مؤثر گائیڈلائن بنانے پر غور کرنے کے لیے مکمل طور سے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ عدالت کا یہ قدم ملک میں بڑھ رہے نفرت انگیز بیانات پر لگام لگانے اور آئینی وقار کو بحال کرنے کی سمت میں ایک اہم پہل مانا جا رہا ہے۔
گھر میں نماز پڑھنے سے روکنے کے معاملے میں بریلی کے ڈی ایم اور ایس ایس پی کو نوٹس، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مانگا جواب
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بریلی کے ڈی ایم اور ایس ایس پی انوراگ آریہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔ بریلی کے محمد گنج گاؤں میں 16 جنوری کو ریشما خان کے ذاتی گھر میں کچھ لوگ اجتماعی طور پر نماز پڑھ رہے تھے، جس ہندو خاندانوں کی شکایت کے بعد پولیس نے رکوا دیا تھا۔ جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن کی ڈویژن بنچ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے 12 فروری کو توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی۔
عدالت نے حالیہ دنوں میں عیسائی گروپ سے متعلق دیے گئے ایک فیصلہ کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ذاتی احاطوں میں عبادت کے لیے حکومت کی اجازت کی ضروت نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ اصول نماز کے معاملے میں بھی نافذ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے عرضی گزار طارق خان کے خلاف کسی بھی قسم کی تعزیری کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 11 مارچ کو ہوگی۔
واضح رہے کہ بریلی کے محمد گنج گاؤں میں ریشما خان نے اپنے گھر کے اندر لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی۔ پولیس کے ذریعہ اس پر روک لگائے جانے کو عدالت نے شخص کے ذاتی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی شخص اپنے ذاتی احاطے میں مذہبی سرگرمی کو انجام دے رہا ہے تو اسے روکنا عدالت کے سابقہ احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
ڈویژن بنچ نے ’مراناتھ فل گاسپل منسٹریز‘ اور ’ایمانوئل گریس چیریٹیبل ٹرسٹ‘ کی عرضیوں پر دیے گئے فیصلے کا ذکر کیا۔ اس فیصلے میں عدالت نے واضح کیا تھا کہ ذاتی مقامات پر بغیر اجازت کے مذہبی سرگرمی انجام دیے جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ بریلی انتظامیہ نے اس قانونی صورتحال کو نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے افسران کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنا پڑا۔
ہائی کورٹ نے بریلی پولیس اور انتظامی سربراہوں کو نوٹس بھیج کر پوچھا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ عرضی گزار کے خلاف فی الحال کوئی دباؤ والی کارروائی نہ کی جائے۔ 11 مارچ کو ہونے والی آئندہ سماعت میں یہ طے ہوگا کہ انتظامیہ نے عدالت کے حکم کی تعمیل کیوں نہیں کی تھی۔
کرناٹک: قتل کیس میں بی جے پی رکن اسمبلی کو بڑا جھٹکا، عدالت نے سی آئی ڈی کی تحویل میں بھیجا
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کرناٹک کے کرشن راج پورم (کے آر پورم) سے بی جے پی کے 64 سالہ ایم ایل اے بارتھی بسوراج کو ریئل اسٹیٹ کاروباری بکلا شیو کے قتل معاملے میں 7 دن کی سی آئی ڈی حراست میں پولیس کو سونپ دیا گیا جہاں ان سے سی آئی ڈی ٹیم گہرائی پوچھ گچھ کرے گی اور قتل معاملے کی تمام کڑیاں ملانے کی کوشش کرے گی۔
بی جے پی کے ممبراسمبلی بسوراج کو بکلا شیو کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور پولیس چارج شیٹ میں ملزم نمبر5 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ چند دنوں سے گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ہفتہ کو سپریم کورٹ نے انہیں راحت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد احمد آباد سے واپسی پر سی آئی ڈی نے انہیں 12 فروری کو بنگلورو ایئرپورٹ پر گرفتار کیا۔
گرفتاری کے بعد بی جے پی ایم ایل اے کا بوورنگ اور لیڈی کرزن اسپتال میں طبی معائنہ کرایا گیا، جہاں بسوراج نے دل سے متعلق تکلیف کی شکایت کی۔ عدالت نے انہیں جے دیوا اسپتال میں دوبارہ معائنے کے لیے بھیجا، جہاں انہیں جمعہ کو داخل کیا گیا تھا اور میڈیکل رپورٹ میں انہیں فٹ قرار دے کر ڈسچارج کردیا گیا۔ اس کے بعد انہیں جج کی رہائش گاہ پر پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے بی جے پی ممبراسمبلی کو 7 دن کے لیے سی آئی ڈی کی تحویل میں دے دیا۔
سی آئی ڈی نے بی جے پی ایم ایل اے کوعدالت میں پیش کرنے کے بعد 9 دن کی تحویل مانگی تھی لیکن عدالت نے 7 دن کی حراست کو منظوری دی۔ سی آئی ڈی کے اسپیشل پراسیکیوٹر اشوک نائک نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل اے نے پہلے بنگلورو پولیس کو دیئے گئے بیان میں حقیقت سے روگردانی کی تھی اور جھوٹ بولا تھا۔ سی آئی ڈی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران پائے گئے شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بسوراج مرکزی ملزم جگدیش پدمنابھ عرف جگا (ملزم نمبر 1) اور اجیت کمار (ملزم نمبر 20) کو رئیل اسٹیٹ کاروبار میں مدد فراہم کر رہے تھے۔
خبروں کے مطابق 15 جولائی 2025 کی شام کے وقت 44 سالہ رئیل اسٹیٹ کاروباری بکلا شیو کو مشرقی بنگلورو میں ان کے گھر کے باہر بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ قتل کی وجہ کتھاگنور میں اراضی کے حوالے سے جاری تنازعہ بتایا گیا تھا۔ سی آئی ڈی کے مطابق ایم ایل اے اس وقت گینگ کی مدد کررہے تھے جس نے اس قتل کوانجام دیا۔ تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا کہ متوفی نے اپنی موت سے چار سے پانچ ماہ قبل پولیس کو شکایت کی تھی کہ اسے ممبراسمبلی اور ان کے ساتھیوں سے جان کو خطرہ ہے۔
جنیوا مذاکرات سے قبل ڈونالڈ ٹرمپ کا محتاط امید کا اظہار، ناکامی کی صورت میں نتائج کی تنبیہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مجوزہ مذاکرات سے قبل خود کو بالواسطہ مگر باخبر شریک قرار دیتے ہوئے محتاط امید کا اظہار کیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اگر بات چیت ناکام رہی تو اس کے نتائج ہوں گے۔
فلوریڈا سے واپسی پر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو ’انتہائی سخت مذاکرات کار‘ قرار دیا، مگر امید ظاہر کی کہ ایرانی نمائندے مذاکرات کی میز پر زیادہ معقول رویہ اپنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور متبادل راستہ دونوں فریقوں کے لیے زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی اور ایرانی حکام تہران کے جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اثرات پر نئی بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ امریکی فوجی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار کے حصول کے قریب تھا۔ ان کے بقول اگر ایسا ہو جاتا تو صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔
داخلی امور پر بات کرتے ہوئے صدر نے معیشت میں بہتری کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی ہے اور ایندھن کی قیمتیں نیچے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی پیداوار میں اضافے کی پالیسی نے پٹرول سستا کیا جس سے مجموعی اخراجات میں کمی آئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کو ایک مشکل صورتحال ورثے میں ملی تھی، مگر اب وہ مضبوط انداز میں بحالی کی جانب گامزن ہے۔
صدر ٹرمپ نے جرائم کی شرح میں تاریخی کمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ قتل کی وارداتیں 1900 کے بعد کم ترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے اس کا سہرا سخت سرحدی نگرانی کو دیا اور کہا کہ ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن، جن میں ایسے افراد بھی شامل تھے جنہیں انہوں نے مجرمان قرار دیا، ملک سے نکالے گئے۔
کانگریس کے حوالے سے صدر نے کہا کہ وہ محکمہ برائے داخلی سلامتی کی فنڈنگ پر ڈیموکریٹس سے ملاقات کریں گے، تاہم انہوں نے حکومت کی ممکنہ بندش کا الزام بھی انہی پر عائد کیا۔ انہوں نے ووٹر شناخت اور شہریت کے ثبوت سے متعلق سخت تقاضوں کی مخالفت پر ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
جیفری ایپسٹین کے معاملے پر سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں اور وہ خود کو بے قصور سمجھتے ہیں۔ کیوبا کے بارے میں انہوں نے اسے ناکام ریاست قرار دیا اور کہا کہ وہاں انسانی مسائل پر بات چیت جاری ہے، جس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کی سفارتی کوششیں شامل ہیں۔
ایران کے ساتھ سفارت کاری ناکام ہونے کی صورت میں ممکنہ اقدامات کے بارے میں انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ کوئی بھی کارروائی زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ سے حالیہ گفتگو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ تائیوان کے لیے اضافی ہتھیاروں سے متعلق فیصلہ جلد کیا جائے گا۔
جنیوا مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب امریکہ اور ایران کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی، پابندیوں اور عسکری تناؤ کے سائے میں رہے ہیں، اور عالمی منظرنامے پر توانائی سلامتی اور جوہری عدم پھیلاؤ جیسے معاملات بدستور اہمیت رکھتے ہیں۔
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ: ’اے آئی کا استعمال عوامی مفاد اور سب کے فائدے کے لیے ہو‘، وزیر اعظم مودی کا بیان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں جاری پانچ روزہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوسرے دن وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو عوامی بہبود اور سب کے فائدے کے لیے بروئے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ذہانت، استدلال اور فیصلہ سازی کی صلاحیت ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کو عوام کے لیے کارآمد بناتی ہے، اور اس سمٹ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اے آئی کو ہمہ گیر ترقی کے لیے استعمال کرنے کے امکانات تلاش کیے جائیں۔
پیر سے شروع ہونے والی اس عالمی کانفرنس میں ہندوستان سمیت دنیا بھر کے رہنما، وزرا، ٹیکنالوجی ماہرین، محققین اور صنعت سے وابستہ نمائندے شریک ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت پر عالمی سطح کی کانفرنس گلوبل ساؤتھ میں منعقد ہو رہی ہے۔ سمٹ میں سو سے زائد سرکاری نمائندے موجود ہیں جن میں بیس سے زیادہ سربراہان مملکت، ساٹھ وزرا اور نائب وزرا شامل ہیں، جبکہ پانچ سو سے زائد عالمی اے آئی رہنما بھی شرکت کر رہے ہیں۔
انیس فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی افتتاحی خطاب کریں گے جس میں وہ جامع اور ذمہ دار اے آئی کے لیے ہندوستان کے وژن کو پیش کریں گے۔ سمٹ کے نمایاں پہلوؤں میں تین عالمی اثر انگیز چیلنجز شامل ہیں جن کا مقصد ایسے قابلِ توسیع اور مؤثر اے آئی حل سامنے لانا ہے جو قومی ترجیحات اور عالمی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہوں۔ ان مقابلوں کے لیے ساٹھ سے زائد ممالک سے چار ہزار چھ سو پچاس سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے سخت جانچ کے بعد ستر ٹیموں کو فائنلسٹ منتخب کیا گیا ہے۔
18 فروری کو بھارتیہ ٹیکنالوجی سنستھان حیدرآباد کے اشتراک سے ایک اہم تحقیقی سمپوزیم بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔ حیدرآباد سے منسلک اس ادارے کے تعاون سے ہونے والے اس پروگرام میں افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ سمیت مختلف خطوں سے تقریباً ڈھائی سو تحقیقی مقالے موصول ہوئے ہیں۔ اس موقع پر الار کارِس، صدر ایسٹونیا، اور مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی اشونی ویشنو بھی شریک ہیں۔
سمٹ میں اے آئی سے چلنے والی سائنسی دریافتوں، سلامتی اور حکمرانی کے ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے تک مساوی رسائی اور گلوبل ساؤتھ میں تحقیقی تعاون جیسے موضوعات پر سنجیدہ تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کو پائیدار اور منصفانہ ترقی کا مؤثر ذریعہ بنایا جا سکے۔
امریکہ ایران کشیدگی: ایرانی وزیر خارجہ کی آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ اومان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی سے بھی ملاقات کریں گے جو منگل کو جنیوا میں امریکہ ایران مذاکرات کی میزبانی کر رہے ہیں عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ "میں ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے کے حصول کے لیے حقیقی خیالات کے ساتھ جنیوا میں ہوں۔"
ایران کے پاسداران انقلاب نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور سے ایک روز قبل پیر کو آبنائے ہرمز میں بحریہ کی مشق بھی کی۔ خبر رساں ادارے ’تسنیم ‘کے حوالے سےخبر ہے کہ اس مشق کا نام "اسمارٹ کنٹرول آف ہرمز" ہے، جس کا مقصد "ممکنہ سیکورٹی اور فوجی خطرات" کے پیش نظر آپریشنل فورسز کی تیاری کو جانچنا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ ان کے درمیان ایران نے امریکہ کو حملے کے خلاف خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن کے تہران پر حملے کے فیصلے کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں اس کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
0 تبصرے