نئی دہلی-چنئی ایکسپریس کے سلیپر کوچ میں لگی آگ، تمام مسافر محفوظ

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو

نئی دہلی سے چنئی جا رہی ٹرین نمبر 12616 کے سلیپر کوچ میں منگل (17 فروری) کو آگ لگ گئی۔ یہ واقعہ سنٹرل ریلوے کے ناگپور ڈویژن میں سندھی اور تُلاجپور اسٹیشنوں کے درمیان پیش آیا۔ رپورٹس کے مطابق جب ٹرین چل رہی تھی اسی دوران سلیپر کوچ سے دھواں نکلتا دیکھا گیا۔ دھواں دیکھتے ہی ٹرین کو سیکورٹی کے پیش نظر فوری طور پر روک دیا گیا۔ تمام مسافر محفوظ ہیں اور کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

ریلوے اسٹاف نے تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ کوچ کو ٹرین سے الگ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی مقامی فائر بریگیڈ کو بھی بلایا گیا۔ مقامی ریلوے ملازمین نے ابتدائی طور پر کوچ میں موجود فائر ایکسٹنگوئشر کا استعمال کر کے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں آگ لگنے کی اصل وجہ اب تک واضح نہیں ہو سکی ہے۔ ریلوے افسران معاملے کی مزید تحقیقات میں مصروف ہیں۔

سنٹرل ریلوے کے ترجمان سنجے مولے نے ’پی ٹی آئی-بھاشا‘ کو بتایا کہ ٹرین 12616 نئی دہلی-چنئی (تمبرم) گرانٹ ٹرنک ایکسپریس صبح ناگپور سے روانہ ہوئی تھی۔ وردھا کے سندھوی ریلوے اسٹیشن کی جانب جاتے وقت صبح 11:09 بجے ٹرین کے آخری گارڈ کوچ میں دھواں دیکھا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ٹرین کو سندھی-تلجاپور سیکشن پر روک دیا گیا، متاثرہ ڈبے کو فوری طور پر الگ کیا گیا اور فائر بریگیڈ کے عملے کو بلایا گیا۔ ریلوے افسر کے مطابق ٹرین اور اس کوچ میں سوار تمام مسافر محفوظ ہیں۔ تفصیلی تحقیقات کے بعد ہی آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم ہو سکے گی۔



کیا جموں و کشمیر کو جلد ملنے والا ہے مکمل ریاست کا درجہ؟ مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال کے بیان نے جگائی نئی امید

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو

مرکزی وزیر برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے منگل (17 فروری) کو کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے بارے میں جلد ہی فیصلہ لیا جائے گا۔ میگھوال نے سری نگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے سے متعلق معاملہ بہت حساس ہے۔ مرکزی حکومت اس پر بہت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے بار بار کہا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا اور یہ پورا عمل مکمل طور سے آئینی طریقہ کار کے تحت کام کیا جائے گا۔

ارجن رام میگھوال نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی پارلیمنٹ میں یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ان کا حق ضرور ملے گا۔ ہمارے وزیر داخلہ نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کا جو بھی حق ہے وہ دیا جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اس بارے میں بہت جلد کوئی فیصلہ سنیں گے۔ واضح رہے کہ اگست 2019 میں ہندوستانی حکومت نے آئین کی دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی ریاست کا درجہ ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی ریاست کی بحالی کا مسئلہ زیر بحث ہے۔

مرکزی وزیر کے تازہ بیان نے سیاسی حلقوں اور جموں و کشمیر کے لوگوں میں نئی امید جگا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ریاست کی بحالی کا فیصلہ جلد ہوتا ہے تو یہ گزشتہ کئی سالوں میں ہونے والی بڑی سیاسی پیش رفت ہوگی۔ مرکزی حکومت نے پہلے بھی اشارہ کیا تھا کہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کا فیصلہ اسمبلی انتخاب کے بعد لیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ آج کے بیان میں مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال کے ذریعہ وقت کی حد واضح نہیں کی گئی ہے، پھر بھی ’بہت جلد‘ جیسے الفاظ سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ بیان اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ مرکز نے اس بارے میں کوئی بڑا قدم اٹھانے کی تیاری کر لی ہے۔ اگر آنے والے دنوں یا ہفتوں میں کوئی باضابطہ فیصلہ ہوتا ہے تو یہ 2019 کے بعد سب سے بڑی آئینی تبدیلی ہوگی۔ دوسری جانب جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں کئی سیاحتی مقامات کو پھر سے کھولنے کے فیصلہ کا استقبال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مقامی باشندوں کو راحت ملے گی اور سیاحت پر منحصر ذریعۂ معاش کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ عمر عبد اللہ نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں ان کی ملاقات مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ہوئی تھی، اس دوران انہوں نے گزشتہ سال بند کیے گئے سیاحتی مقامات کو کھولنے کی درخواست کی تھی۔



طارق رحمن نے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم عہدہ کا لیا حلف، 50 وزراء میں 41 نئے چہرے شامل

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو

بنگلہ دیش میں نئی حکومت کی تشکیل ہو گئی ہے۔ بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) کے صدر طارق رحمن نے وزیر اعظم عہدہ کا حلف لے لیا ہے۔ انھیں صدر محمد شہاب الدین نے حلف دلایا۔ یہ تقریب قومی پارلیمنٹ ہاؤس کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہوئی۔ طارق رحمن کی حلف برداری کے بعد وزراء اور وزرائے مملکت نے بھی حلف لیا۔ صدر نے ہی سبھی کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔

حلف برداری کے ساتھ ہی طارق رحمن کی قیادت میں نئی حکومت کی رسمی شروعات ہو گئی ہے۔ تقریباً 2 دہائی بعد بی این پی کی قیادت والی حکومت پھر سے برسراقتدار ہوئی ہے۔ 12 فروری کو ہوئے انتخاب میں بی این پی نے 209 سیٹیں جیتی ہیں، جبکہ اس کی اتحادی پارٹیوں نے 3 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ نئی حکومت کی کابینہ 50 اراکین پر مشتمل ہے۔ اس میں طارق رحمن سمیت 25 وزراء اور 24 وزرائے مملکت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 3 تکنیکی ماہر (ٹیکنوکریٹ) بھی کابینہ کا حصہ ہیں۔


اس کابینہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کئی نئے چہروں کو شامل کیا گیا ہے۔ 25 وزراء میں سے 17 پہلی بار وزیر بنے ہیں۔ اسی طرح 24 وزرائے مملکت میں سبھی نئے چہرے ہیں۔ وزیر اعظم طارق رحمن بھی پہلی بار کابینہ کے رکن بنے ہیں۔ پہلی بار وزیر بننے والوں میں طارق رحمن، اے زیڈ ایم زاہد حسین، خلیل الرحمن (ٹیکنوکریٹ)، عبدالاول منٹو، میزان الراشد (ٹیکنوکریٹ)، افروزہ خانم ریتا، شاہد الدین چودھری عینی، محمد اسدالزماں، ذکریا طاہر سمن، دیپین دیوان، فقیر محبوب انعم سوپن، سردار سخاوت حسین بکل اور شیخ ربیع العالم شامل ہیں۔ اسی طرح پہلی بار وزرائے مملکت بننے والوں میں ایم رشید الزماں ملت، انند اسلام امت، محمد شریف العالم، شمع عبید اسلام، سلطان صلاح الدین ٹوکو، قیصر کمال، فرہاد حسین آزاد، امین الحق (ٹیکنوکریٹ)، میر محمد ہلال الدین، حبیب الرشید، محمد راجیب احسن، محمد عبدالباری، میر شاہِ عالم، جنید ساقی، اشراق حسین، فرزانہ شرمن، شیخ فرید الاسلام، نورالحق یاسر خان چودھری، اقبال حسین، ایم اے مہتھ، احمد سہیل منظور، بابی حجاج اور علی نواز محمود خیام شامل ہیں۔



امریکی ٹیرف کے جواب میں کناڈا نے نیا ’تجارتی اتحاد‘ بنانے کا کیا فیصلہ، 40 ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی تیاری

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو

کناڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ایک بڑا ’تجارتی اتحاد‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کا جواب تصور کیا جا رہا ہے۔ دراصل ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ڈنمارک نے گرین لینڈ کو امریکہ کے حوالہ نہیں کیا، تو اس کے یوروپی ساتھیوں پر ٹیرف بڑھا دیے جائیں گے۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے یوروپی یونین اور انڈو-پیسفک خطہ کے 12 ممالک کے گروپ ’سی پی ٹی پی پی‘ (کمپری ہنسیو اینڈ پروگریسیو ایگریمنٹ فار ٹرانس-پیسفک پارٹنرشپ) نے آپسی تعاون بڑھانے پر بات چیت شروع کی ہے۔ اس مجوزہ اتحاد سے تقریباً 1.5 ارب لوگ جڑ سکتے ہیں اور تقریباً 40 ممالک ایک معاشی پلیٹ فارم پر آ سکتے ہیں۔

کناڈا کے وزیر اعظم کارنی نے داووس میں ہوئی ورلڈ اکونومک فورم کی میٹنگ میں دنیا کے لیڈران اور بڑے صنعت کاروں سے کہا ہے کہ کناڈا سی پی ٹی پی پی اور یوروپی یونین کے درمیان ایک پُل بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مقصد دونوں فریقوں کی سپلائی چین کو جوڑنا ہے۔ اس سے کناڈا، سنگاپور، میکسیکو، جاپان، ویتنام، ملیشیا اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی تجارت یوروپ کے ساتھ مزید آسان ہو سکے گی۔

اس بات چیت کا اہم ایشو ’رولس آف آریجن‘ ہے۔ یہ اصول طے کرتے ہیں کہ کسی پروڈکٹ کو کس ملک کا مانا جائے گا۔ اگر اس پر معاہدہ ہو جاتا ہے تو یوروپین یونین اور انڈو-پیسفک گروپوں کے ممالک کم ٹیرف میں سامان اور اس کے پرزوں کی تجارت کر سکیں گے۔ اس عمل کو کیومولیشن کہا جاتا ہے، جس سے تجارت زیادہ آسان اور سستی ہو جاتی ہے۔

کناڈا کے وزیر اعظم نے اپنے خصوصی نمائندہ جان ہینافورڈ کو سنگاپور بھیج کر علاقائی لیڈران سے اس سمجھوتہ پر رائے لی۔ کناڈا کے ایک افسر کے مطابق بات چیت اچھی اور حوصلہ افزا رہی ہے۔ یوروپی یونین کے کچھ افسران اس منصوبہ کو لے کر پُرجوش ہیں، لیکن فی الحال ان کی ترجیحات سپلائی چین کو مضبوط کرنا اور تجارت میں تنوع لانا ہے۔ یوروپی کے تجارتی ادارے، مثلاً ’جرمن چیمبر آف کامرس‘ (ڈی آئی ایچ کے) اور ’برٹش چیمبر آف کامرس‘ اس معاہدہ کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر اصول سہل اور یکساں ہوں تو یوروپی کمپنیوں کو بڑا فائدہ ہوگا۔ اس صورت میں مستقبل میں مزید ممالک بھی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں۔




’ہندوستان-فرانس بنائیں گے ایوریسٹ کی اونچائی تک اڑنے والا دنیا کا پہلا ہیلی کاپٹر‘، پریس کانفرنس میں پی ایم مودی کا اعلان

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو

فرانسیسی صدر امینوئل میکروں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان کے سب سے پرانے اسٹریٹجک پارٹنرس میں فرانس شامل ہے اور ان دونوں ممالک کے درمیان کوئی باؤنڈری نہیں ہے۔ پی ایم مودی نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ آج ہم اپنے تعلقات کو اسپیس، گلوبل، اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی شکل میں مضبوطی عطا کر رہے ہیں۔ یہ گلوبل اسٹیبلٹی اور پروگریس کی پارٹنرشپ ہے۔ صدر میکروں کے ساتھ مل کر ہم نے اس اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو بے مثال گہرائی اور توانائی دی ہے۔

اس پریس کانفرنس میں پی ایم مودی نے ایچ-125 ہیلی کاپٹر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں فخر ہے کہ ہندوستان اور فرانس مل کر ماؤنٹ ایوریسٹ کی اونچائی تک پرواز بھرنے والا دنیا کا پہلا ہیلی کاپٹر ہندوستان میں بنائیں گے۔ اسے ہم پوری دنیا میں برآمد کریں گے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہندوستان اور فرانس کے درمیان کوئی باؤنڈری نہیں ہے۔ کچھ ہی دن قبل ہم نے یوروپی یونین سے مفت تجارتی معاہدہ کیا، یہ مفت تجارتی معاہدہ ہندوستان اور فرانس کے رشتوں میں بھی بے مثال رفتار لائے گا۔‘‘

پی ایم مودی نے فرانسیسی صدر کی موجودگی میں دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اینوویشن آئسولیشن سے نہیں، بلکہ کولیبوریشن سے ہوتا ہے۔ ہر شعبہ میں ہم اپنی انڈسٹری اور اینوویشن کو کلیکٹ کریں گے۔ ہم اپنے طلبا اور ریسرچر کو بھیجنے اور بلانے کو آسان بنائیں گے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آج دنیا مشکل دور سے گزر رہی ہے، ہم انٹرنیشنل سولر الائنس، آئی ایم ای سی کے ذریعہ خوشحالی کو طاقت دیتے رہیں گے۔‘‘

اس مشترکہ پریس کانفرنس میں پی ایم مودی نے دہشت گردی اور دنیا کے الگ الگ خطوں میں نظر آ رہی جنگ کی آہٹ کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یوکرین، مغربی ایشیا یا انڈو پیسفک، ہم ہر خطہ میں امن کی سبھی کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔ دہشت گردی کی ہر شکل اور شبیہ کو جڑ سے مٹانا ہمارا مشترکہ عزم ہے۔ ہم جلد ہی فرانس میں سوامی وویک آنند کلچر کھولنے جا رہے ہیں۔ آج ہم مل کر ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔‘‘ پی ایم مودی نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم ہیلتھ میں اے آئی کے لیے انڈو-فرنچ سنٹر، ڈیجیٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لیے انڈو-فرنچ سنٹر اور ایروناٹکس میں اسکلنگ کے لیے نیشنل سنٹر آف ایکسیلنس لانچ کریں گے۔ یہ مستقبل کی تعمیر کے لیے پلیٹ فارم ہیں۔



’40 روپے کا انجکشن 1000 روپے میں، ڈرگ مافیا کی گرفت میں ہریانہ‘، منشیات کے استعمال پر رندیپ سرجے والا کا سخت تبصرہ

قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو

کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا رکن رندیپ سرجے والا نے ہریانہ کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہریانہ میں ’نشے کے زہر‘ کی وجہ سے کہرام مچا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کی نسلیں برباد ہونے لگی ہیں، ڈرگس کے معاملوں میں 81 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، لیکن بی جے پی حکومت غائب ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ڈرگ مافیاؤں نے پورے ہریانہ پر قبضہ جما لیا ہے۔ حکومت آخر کیا کر رہی ہے؟ دوا کی دکانوں سے کھلے عام ’میڈیکل نشہ‘ فروخت ہو رہا ہے۔‘‘

ریاست میں نشے کے لیے انجکشن لیتے نوجوانوں کی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے سرجے والا نے بی جے پی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کی ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ ’’پورے ہریانہ کو نشے کا ناسور کھوکھلا کرتا جا رہا ہے اور حالات مسلسل سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن حکومت ناکام اور ڈرگس اسمگلر بے لگام ہو گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نئے سال کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ میں منشیات کی سپلائی کے جرائم میں 81 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔‘‘


کانگریس لیڈر کے مطابق ہریانہ میں حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ اپنے ہی ہاتھوں یا نسوں سے نکالے خون میں نشے کی گولیاں گھول کر نوجوان انجکشن لے رہے ہیں۔ میڈیکل نشہ سپلائی کرنے والوں کے بارے میں جانکاری ہونے کے باوجود پولیس انتظامیہ آخر کس دباؤ میں کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ کھلے عام فروخت ہو رہے نشے کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’دوا کی دکانوں سے کھلے عام میڈیکل نشہ فروخت ہو رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ 40 روپے والا انجکشن اب 1000 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے اور 10 ایم ایل کا ڈوز سیٹ 100 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔‘‘

نشے کو روکنے میں سرکار کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے سرجے والا نے کہا کہ ’’ریاست میں مسلسل بڑھتی ہوئی منشیات کی اسمگلنگ اور اس کی لت پر قابو پانے کی تمام کوششیں صرف کاغذوں تک ہی محدود ہیں اور حکومت کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہریانہ کے حال و مستقبل کو برباد کرتے نشہ مافیاؤں اور بی جے پی حکومت میں بیٹھے ان کے سفید پوش آقاؤں پر کارروائی کب ہوگی؟‘‘

کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’ریاست میں بی جے پی کی نااہلی کے سبب پھیلی ہوئی ’منشیات کی وبا‘ نوجوانوں کی زندگیاں اور خاندانوں کا سہارا ختم کرتی جا رہی ہے۔ ہر گھر میں ماتم اور بے بسی چھائی ہے، مگر ’اقتدار کی مدہوشی‘ میں ڈوبی نائب حکومت بے ہوش پڑی ہے۔‘‘