ہریانہ کے پلول میں ہیپاٹائٹس کا قہر! 15 دنوں میں 12 لوگوں کی موت، 400 افراد کی اسکریننگ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ہریانہ کے ضلع پلول کے گاؤں چھائنسا (علاقہ میوات) میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ گزشتہ 15 دنوں کے دوران گاؤں میں 12 افراد کی موت واقع ہو چکی ہے، جن میں اسکولی بچے بھی شامل ہیں۔ ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق 4 افراد کی موت ہیپاٹائٹس بی سے ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ دیگر اموات کی حتمی وجہ معلوم کرنے کے لیے میڈیکل جانچ جاری ہے۔ لگاتار اموات کے بعد گاؤں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے اور لوگ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
اطلاع ملتے ہی محکمہ صحت کی ٹیم نے گاؤں میں ڈیرہ ڈال دیا ہے اور بیماری کے اسباب جاننے کے لیے وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پلول سول اسپتال کی سول سرجن ڈاکٹر ستیندر وششٹ کے مطابق محکمہ صحت کو 31 جنوری کو اموات کی اطلاع ملی، جس کے بعد یکم فروری سے جانچ کا عمل تیز کر دیا گیا۔ متاثرہ گھروں سے خون کے نمونے لیے جا رہے ہیں اور اب تک تقریباً 400 افراد کے بلڈ سیمپل کی جانچ کی جا چکی ہے۔ ابتدائی نتائج میں بڑی تعداد میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے کیس سامنے آئے ہیں۔
ڈاکٹر وششٹ نے بتایا کہ بیماری کے پھیلاؤ کی اصل وجہ جاننے کے لیے چار خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں گھر گھر جا کر لوگوں کی اسکریننگ کر رہی ہیں اور مشتبہ مریضوں کو فوری طبی مشورہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ گاؤں کے 31 گھروں سے پانی کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا آلودہ پانی اس وبا کی ایک بڑی وجہ تو نہیں۔
گاؤں چھائنسا، جو مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، گزشتہ دو ہفتوں سے سوگ کی فضا میں ڈوبا ہوا ہے۔ مرنے والوں میں چار بچے- پائل، حفیظ، ساریکا اور ہما، شامل ہیں۔ اسی طرح پانچ بزرگ افراد- جمیلہ، آسیہ، اندراوتی، حسن اور ناصر بھی اس بیماری کا شکار ہو کر جان گنوا چکے ہیں، جبکہ تین نوجوان دلشاد، ہبو اور شمس الدین کی موت بھی اسی عرصے میں ہوئی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کی ابتدائی جانچ میں چار اموات کو ہیپاٹائٹس بی اور سی سے جوڑا گیا ہے، جبکہ تین معاملات میں ایک سے زائد اعضا کی ناکامی اور جگر کے شدید انفیکشن کو وجہ قرار دیا گیا ہے۔ دیگر اموات کی مکمل میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر ستیندر وششٹ کے مطابق تمام متوفیوں کے میڈیکل ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے تاکہ موت کی درست وجہ سامنے آ سکے۔ محکمہ صحت نے گاؤں کے مکینوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، صاف پانی استعمال کرنے اور مشتبہ علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر طبی مرکز سے رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ادھر دیہی عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں میں مستقل طبی کیمپ قائم کیا جائے اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے محکمہ صحت کی کارروائی تاحال جاری ہے۔
مغربی بنگال: الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی، ممتا حکومت کے 7 افسران معطل
الیکشن کمیشن، تصویر یو این آئیi
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے مغربی بنگال میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے 7 افسران کو معطل کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے دوران ان افسران کی جانب سے لاپرواہی برتنے کی بات سامنے آئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔
مانا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کئی دیگر افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ دراصل مغربی بنگال میں محض چند ہفتے بعد آئندہ اسمبلی انتخاب کا اعلان ہونے والا ہے۔ اس کے متعلق الیکشن کمیشن نے تیاری تیز کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ساتوں افسران کو معطل کرنے کے علاوہ چیف سکریٹری کو ان افسران کے خلاف ڈسپلنری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق مغربی بنگال کے 7 افسران نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا ہے۔ ان افسران نے آر پی ایکٹ 1950 کے سیکشن 13سی سی کے تحت خلاف ورزی کرتے ہوئے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے دوران کام میں لاپرواہی برتی ہے۔ اتنا ہی نہیں اپنی ڈیوٹی بھی ٹھیک سے نہیں نبھائی ہے۔ پورے ایس آئی آر عمل کے دوران قانونی اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔ تحقیقات میں الزام درست پائے جانے کے بعد ساتوں افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سےمغربی بنگال کے چیف سکریٹری کو بھی خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ معطل افسران کے خلاف بلا تاخیر ڈسپلنری کارروائی شروع کی جائے۔ یہ کارروائی ان کے متعلقہ کیڈر کنٹرولنگ اتھارٹی کے ذریعے کی جائے اور اس بارے میں الیکشن کمیشن کو جلد از جلد آگاہ کیا جائے۔
معطل افسران کے نام درج ذیل ہیں:
اے ای آر او ڈاکٹر سیف الرحمان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت، 56-سمشیر گنج اسمبلی نشست، ضلع مرشد آباد۔
اے ای آر او نیتیش داس، ریونیو آفیسر فرکا، 55-فرکا اسمبلی سیٹ۔
اے ای آر او دالیا رے چودھری، ویمن ڈیولپمنٹ آفس میناگڑی ڈیولپمنٹ بلاک، 16-میناگڑی اسمبلی حلقہ۔
اے ای آر او شیخ مرشد عالم، اے ڈی اے سوتی بلاک، 57-سوتی اسمبلی حلقہ۔
اے ای آر او ستیہ جیت داس، جوائنٹ بی ڈی او، ایف ای او 139-کیننگ پوربا اسمبلی حلقہ۔
اے ای آر او جوئے دیپ کنڈو، 139-کیننگ پوربا اسمبلی حلقہ۔
اے ای آر او دیباشیش بسواس، جوائنٹ بی ڈی او، 229-ڈبرا اسمبلی حلقہ۔
مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس پہنچے ہندوستان، امراوتی میں ہوا پرتپاک استقبال
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
دنیا کے امیر ترین ارب پتیوں میں شامل مائیکروسافٹ کے شریک بانی اورگیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس ہندوستان کے دورے پرپہنچے ہیں۔ وہ پیر کو آندھرا پردیش کے امراوتی پہنچے۔ یہاں کے گنورم ایئر پورٹ پر ریاستی وزیرنارا لوکیش نے ان کا پھولوں کے ساتھ پرتپاک استقبال کیا۔ بتایا جارہا ہے کہ ارب پتی بل گیٹس حیدرآباد میں ایک پروگرام میں شرکت کے لیے ہندوستان آئے ہیں اور وہ نئی دہلی میں آج سے شروع ہوئی ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ میں بھی شرکت کرسکتے ہیں۔
خبروں کے مطابق آندھرا پردیش کے وجے واڑہ پہنچنے پر بل گیٹس کو موسم کی خرابی کے سبب کچھ وقت ہوا میں ہی گزارنا پڑا۔ بتایا جارہا ہے کہ شدید کہرے کی وجہ سے بل گیٹس کے طیارے کو ہوائی اڈے پراترنے کی اجازت کی نہیں ملی جس کی وجہ سے ان کے طیارے کو کچھ دیرہوا میں ہی چکرکاٹنے پڑے۔ حالانکہ جیسے ہی ان کا طیارہ لینڈ ہوا تو ریاستی وزیر نارالوکیش، ضلع کلیکٹر، پولیس سپرنٹنڈنٹ اور کئی دیگر عوامی نمائندوں نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ بل گیٹس کے امراوتی پہنچنے پر آندھرا پردیش کے وزیراور تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے لیڈرنارا لوکیش نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘پرمعلومات اور تصاویر شیئر کیں۔ نارا لوکیش کے ساتھ وزیرداخلہ انیتھا گارو، وزیر زراعت اچنائیڈو گارو اور وزیر صحت ستیہ کمار گارو بھی موجود تھے۔
اس دوران ریاستی سکریٹریٹ پہنچنے پر وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو، نائب وزیراعلیٰ پون کلیان اور دیگر وزراء نے بل گیٹس اور ان کی ٹیم کا استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ نے خود انہیں اپنی حکومت کے وزرا سے تعارف کرایا۔ اس دوران بل گیٹس کو وزیراعلیٰ کے ساتھ سیکرٹریٹ کا دورہ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
نارا لوکیش نے بتایا کہ بل گیٹس اور وزیراعلیٰ کے ساتھ بات چیت میں صحت، زراعت، تعلیم اور ٹیکنالوجی سے متعلق شراکت داریوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس ہوائی اڈے سے سیدھے سکریٹریٹ گئے جہاں انہوں نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو اور دیگر وزراء سے میٹنگ کی۔
جنیوا پہنچے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، کہا- ’دھمکیوں کے آگے جھکنا معاہدے کا حصہ نہیں‘
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ دوسرے مرحلے کی بالواسطہ بات چیت کے لیے جنیوا پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے کے لیے سنجیدہ تجاویز کے ساتھ آئے ہیں اور دھمکیوں کے آگے جھکنا کسی بھی معاہدے کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
جنیوا پہنچنے کے بعد عباس عراقچی نے بتایا کہ وہ پیر کو جوہری ماہرین کے ہمراہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے تفصیلی تکنیکی بات چیت کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ منگل کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے قبل عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے بھی ملاقات کریں گے۔
ایران کی سرکاری نشریاتی ایجنسی اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ کے مطابق عباس عراقچی ایک اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کے ساتھ اتوار کی دیر رات سوئٹزرلینڈ پہنچے۔ منصوبے کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو ہوگا جس میں عمان ایک بار پھر ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ اس سے قبل پہلا دور گزشتہ ہفتے مسقط میں ہوا تھا جسے دونوں فریقین نے اچھی شروعات قرار دیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران سوئس اور عمانی ہم منصبوں کے علاوہ متعدد بین الاقوامی عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ وہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس سے خطاب بھی کریں گے۔
جون میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ کئی ماہ بعد تہران اور واشنگٹن نے فروری میں دوبارہ بات چیت شروع کی۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کو مذاکرات کے لیے نامزد کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے سفارتی حل چاہتے ہیں لیکن تمام امکانات برقرار ہیں۔
ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم وہ ساٹھ فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو مشرق وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے۔
کانگریس کا دہرادون میں حکومت کے خلاف زبردست احتجاج، امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور ہلاکتوں پر حکومت کو گھیرا
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
اتراکھنڈ میں لا اینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی صورتحال، مہنگائی اور بدعنوانی کے معاملے کو لے کر کانگریس ریاستی حکومت کو گھیر رہی ہے۔ پیر (16 فروری) کو دہرادون میں کانگریس نے حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے راج بھون کی طرف مارچ کیا۔ اس دوران پوری ریاست سے سینئر لیڈران اور ہزاروں کارکنان نے راجدھانی دہرادون میں جمع ہو کر حکومت کے خلاف آواز اٹھائی۔ پارٹی نے ریاست میں جرائم، بے روزگاری، مہنگائی، لا اینڈ آرڈر، بدعنوانی، جنگلی جانوروں کے حملے، ہجرت، آفات سے متاثرہ لوگوں کو امداد اور معاوضہ، ناقص صحت کی خدمات اور کسانوں کو فصل کا نقصان ہونے پر معاوضہ نہ ملنے سمیت دیگر مسائل پر لوک بھون کا گھیراؤ کیا۔
کانگریس ریاستی صدر گنیش گودیال کی قیادت میں پریڈ میدان میں ہزاروں کارکنان جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ کانگریس لیڈران نے 15 دنوں میں 5 قتل کے معاملے پر ریاستی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔ لیڈران نے وارننگ دی ہے کہ اگر ریاست میں لا اینڈ آرڈر میں بہتری نہیں آئی اور جرائم پر لگام نہیں لگا تو کانگریس آج سے بھی زیادہ شدید احتجاج کرے گی۔
دوسری جانب احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سیکورٹی کے پختہ انتظام کر رکھے تھے، لوک بھون کی جانب جانے والے روٹس پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ 4 سطحوں میں بیریکیڈنگ کی گئی تھی تاکہ مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔ لوک بھون کی طرف مارچ کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا۔ اس دوران کانگریس کارکنان 2 بیریکیڈنگ پار کرنے میں کامیاب رہے، جس کی وجہ سے کچھ دیر تک حالات کشیدہ رہے۔ ساتھ ہی پولیس کو بھیڑ کو کنٹرول کرنے میں سخت مشقت کرنی پڑی۔
کانگریس لیڈران نے ریاستی حکومت پر لا اینڈ آرڈر کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہنے، مہنگائی پر قابو نہ کر پانے اور بدعنوانی کے معاملوں میں سست روی کا الزام عائد کیا۔ ساتھ ہی پارٹی نے ریاستی حکومت کو وارننگ دی ہے کہ اگر حکومت نے جلد ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تو احتجاج میں مزید تیزی لائی جائے گی۔
’یہ مضبوط سرکار ہے یا مجبور سرکار‘، ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر کانگریس نے پھر کیا طنز
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن رندیپ سنگھ سرجے والا نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے پر حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدہ میں ہندوستانی کسانوں، انرجی سیکورٹی اور ڈیجیٹل فریڈم کی قربانی دی گئی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے سینئر لیڈر نے ’آتم نربھر بھارت‘ (خود کفیل ہندوستان) کے نعرے پر ہی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یو ایس ڈیل کے خدشات کے درمیان ہندوستان ’امریکہ نربھر‘ (امریکہ پر منحصر) بن رہا ہے۔ اس تجارتی معاہدے میں مودی حکومت نے کسانوں اور زرعی زمین کے مالکان کی قربانی دی ہے۔
رندیپ سرجے والا نے ڈیجیٹل فریڈم اور ڈیٹا پرائیویسی پر بھی سنگین سوال کھڑے کیے ہیں۔ ہندوستانی مفادات کے تحفظ کو مضبوط کرنے کے بجائے ایک مضبوط حکومت نے ہندوستان کی آزادی اور ڈیٹا پرائیویسی سے سمجھوتہ کیا ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ’’یہ ایک مضبوط سرکار ہے یا ایک کمزور سرکار ہے؟ کیا آتم نربھر بھارت (خود کفیل ہندوستان) ہے یا امریکہ نربھر (امریکہ پر منحصر) ہندوستان ہے؟‘‘
کانگریس لیڈر نے کہا کہ مجھے یہ جان کر افسوس ہوا کہ جب ہمارے وزیر خارجہ سے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ معاملہ دوسرے محکمہ کا ہے۔ جب ہمارے وزیر خارجہ کو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے کی سمجھ اور معلومات کی کمی ہے تو مجھ سے ایسے جواب سے مطمئن ہونے کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ امریکی پراسیس شدہ پھلوں اور اضافی مصنوعات کے لیے مقامی بازار کھول کر ہندوستانیوں کی روزی روٹی کو تباہ کر دے گی۔
راجیہ سبھا رکن رندیپ سرجے والا کے مطابق 334 ملین ڈالر کی موجودہ کارٹن امپورٹ (کپاس کی درآمد) سے گھریلو قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پوچھا کہ کیا اس میں دودھ، گیہوں اور ڈیری مصنوعات ’زیرو ٹیرف کنسیشنل‘ میں شامل ہیں؟ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے عبوری تجارتی معاہدہ کے لیے ایک فریم ورک کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ہندوستان امریکی صنعتی سامان اور خشک میوہ جات سمیت کئی مصنوعات پر ٹیرف ختم کرنے یا کم کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔
0 تبصرے