ہیمنت بسوا کی متنازع تقریر کا معاملہ، سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار، درخواست گزار کو ہائی کورٹ سے رجوع کی ہدایت


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی متنازع تقریر اور پوسٹ کے خلاف داخل عرضی پر سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ اس دوران چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) نے کچھ سخت تبصرے بھی کیے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو لے کر ہائی کورٹ جانے میں کیا مسئلہ ہے، وہاں قابل جج بھی ہیں اور وکیل بھی۔ عرضی گزار نے جب کہا کہ یہ ایک طبقہ کو نشانہ بنانے کا معاملہ ہے، پورے ملک کا مسئلہ ہے اور سپریم کورٹ کو اسے سننا چاہیے تو سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ یعنی ملک کے ہر واقعہ پر سپریم کورٹ ہی سماعت کرے۔


ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ اگر اس معاملے کی سماعت عدالت میں نہیں ہو سکتی تو پھر کورٹ کو آرٹیکل 32 کی حدود متعین کرنی ہوں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ایس آئی ٹی کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایس آئی ٹی آسام کے باس کے خلاف کیا کر سکتی ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ وہ سیاسی پارٹیوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور آئینی اخلاقیات کی حدود میں رہنے کی تلقین کریں گے، لیکن یہ ایک نیا رجحان شروع ہو گیا ہے کہ جب بھی کسی ریاست میں انتخاب ہوتا ہے سپریم کورٹ سیاسی میدان جنگ بن جاتا ہے۔




ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ ہیمنت بسوا سرما بار بار ایسا کہہ رہے ہیں اور آرٹیکل 32 کے اختیارات کے تحت یہ ایک مثالی کیس ہے۔ یہاں بلقیس بانو اور ونود دُوا جیسے معاملے کو سپریم کورٹ نے براہ راست سنا ہے۔ اس پر سی جے آئی نے کہا کہ یہ ایسے معاملے تھے جہاں لوگوں کے خلاف تادیبی کارروائی ہوئی تھی۔ یہاں آپ کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، پھر ابھیشیک سنگھوی نے کہا کہ یہ بڑے عہدے پر بیٹھے شخص کا معاملہ ہے۔ عدالت نے عرضی گزار کو بار بار کہا کہ وہ ہائی کورٹ جانے کے بجائے سپریم کورٹ کیوں آئے ہیں۔






احمد آباد اور وڈودرا کے 17 اسکولوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکی، ای میل میں لکھا ’’گجرات بنے گا خالصتان...‘‘


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


 گجرات میں ایک بار پھر اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست کی راجدھانی احمد آباد اور وڈودرا کے17 اسکولوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ ان سبھی اسکولوں کو ای میل کے ذریعہ بم سے اڑانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ ای میلز میں لکھا ہے کہ ’’گجرات خالصتان بنے گا اور ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے‘‘۔ان دھمکی آمیز ای میلز کے بعد بڑے پیمانے پر کھلبلی مچ گئی ہے۔ پولیس تمام اسکولوں میں پہنچ گئی ہے اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسکول کے احاطے کی جانچ شروع کردی ہے۔ وڈودرا میں یہ واردات مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے دورے کے ٹھیک بعد سامنے آئی ہے۔


دھمکی آمیز ای میلز ملنے کے بعد بم اسکواڈ ٹیم اور پولیس کی جانب سے اسکول کے تمام احاطے میں سخت تلاشی مہم شروع کردی گئی ہے۔ اسکول کے گوشہ گوشے کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ پولیس نے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات اختیار کئے ہیں۔ اس دوران اسکولوں میں حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں اور معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔



احمد آباد کے جن اسکولوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکیاں ملی ہیں ان میں ڈی اے وی انٹرنیشنل اسکول، ایشیا اسکول، اے-ون اسکول، انکور انٹرنیشنل اسکول، سنت کبیر اسکول، سلور بیل اسکول اور ٹیولپ انٹرنیشنل اسکول شامل ہیں۔ وہیں دوسری طرف وڈودرا شہر اور ضلع کے 10 اسکولوں کو بھی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں ڈی آر امین (واسنا روڈ)، ارمی اسکول (سماسوالی روڈ)، نالندہ (واگھوڈیا روڈ)، بڑودہ ہائی اسکول (باغی خانہ)، نویگ انگلش میڈیم (سما)، جیون سادھنا (ناگرواڑہ)، ای ڈبلیو ایس (ڈبھوئی)، شانین (کھوڈیار نگر)، جی پی ایس (واگھوڈیا)، اور برائٹ ڈے (واسنا) شامل ہیں۔


اسکولوں کو موصول ہونے والی ای میل خالصتان دہشت گردوں کے نام سے بھیجی گئی ہے۔ اس سے قبل بھی احمد آباد اور وڈودرا کے اسکولوں کو اس طرح کے میل موصول ہو چکے ہیں۔ وڈودرا شہر کے پولس کمشنر نرسمہا کمار نے اسکولوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ پیر کو صبح سب سے پہلے 3 اسکولوں کو ای میل کے بارے میں معلومات ملی لیکن بعد میں یہ تعداد بڑھ کر 17 ہوگئی۔ جن اسکولوں کو دھمکیاں موصول ہوئی ہیں وہ شہر اور دیہی اضلاع میں واقع ہیں۔ میل میں دوپہر 1.11 بجے دھماکہ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ دھمکی ملنے پر انتظامیہ نے فوری طور پر اسکول بند کرکے پولیس کو اطلاع دی۔ وڈودرا شہر میں واقع ارمی اسکول کے ہاسٹل کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ اسکولوں میں پولیس کے اعلیٰ افسران موجود ہیں۔








یوکرین کے سابق وزیرِ توانائی سرحد پر گرفتار، ملک چھوڑنے کی کوشش ناکام


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


یوکرین کے سابق وزیرِ توانائی جرمن گالوشچینکو کو ملک چھوڑ کر فرار ہونے کی کوشش کے دوران سرحدی مقام پر حراست میں لے لیا گیا۔ یوکرین کے قومی انسدادِ بدعنوانی بیورو نے تصدیق کی ہے کہ اس کے اہلکاروں نے اتوار کے روز ایک اعلیٰ شخصیت کو ریاستی سرحد عبور کرتے وقت روکا، تاہم ابتدائی بیان میں نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں مقامی ذرائع ابلاغ نے گرفتار شخص کی شناخت جرمن گالوشچینکو کے طور پر کی۔


قومی انسدادِ بدعنوانی بیورو کے مطابق معاملے کی ابتدائی جانچ جاری ہے اور کارروائی قانون اور عدالتی تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ جلد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک پہلے ہی جنگی حالات اور توانائی بحران سے دوچار ہے۔




جرمن گالوشچینکو کئی برسوں تک وزیرِ توانائی کے عہدے پر فائز رہے۔ بدعنوانی کے الزامات عائد ہونے کے بعد انہوں نے گزشتہ برس نومبر میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ ان متعدد وزرا میں شامل تھے جنہوں نے 2025 کے دوران اپنے عہدے چھوڑے۔ تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں منی لانڈرنگ اسکیم بے نقاب ہوئی، جس میں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں اور نجی بچولیوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔


خصوصی انسدادِ بدعنوانی استغاثہ دفتر کے مطابق تحقیقات سو ملین ڈالر مالیت کی ایک متنازع ڈیل سے متعلق ہیں۔ الزام ہے کہ سرکاری جوہری توانائی آپریٹر سے منسلک معاہدوں میں قیمتیں بڑھا کر پیش کی گئیں اور غیر قانونی ادائیگیاں کی گئیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس اسکیم کا خاکہ کاروباری شخصیت تیمور مینڈیچ نے تیار کیا۔


تحقیقاتی حکام کا دعویٰ ہے کہ جرمن گالوشچینکو نے تیمور مینڈیچ کو توانائی کے شعبے میں غیر قانونی رقوم کے لین دین میں سہولت فراہم کی۔ یہ بھی الزام ہے کہ ٹھیکیداروں کو دس سے 15 فیصد تک رشوت دینے پر مجبور کیا گیا اور حاصل شدہ رقوم کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کے لیے منی لانڈرنگ کا سہارا لیا گیا۔


یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین روسی حملوں کے باعث شدید دباؤ میں ہے اور ملک کا توانائی ڈھانچہ بار بار نشانہ بن رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صدر وولودیمیر زیلینسکی پر اس کیس میں کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا، تاہم دیگر اہم شخصیات کے نام بھی تحقیقات میں سامنے آئے ہیں۔





مارکو روبیو نے دہرایا کہ ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدے گا


یو این آئی

یو این آئی


امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ ہندوستان نے روس سے تیل خریدنے سے انکار کیا ہے۔ مارکو روبیو نے ہفتہ کو میونخ سکیورٹی کانفرنس میں کہا کہ ہندوستان نے "واضح طور پر" اعلان کیا ہے کہ وہ روس سے خام تیل نہیں خریدے گا، جو کہ عالمی منڈیوں میں روس سے توانائی کی خریداری پر بین الاقوامی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کے درمیان ایک اہم فیصلہ مانا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام ہندوستان کی عالمی مشغولیت کی گہرائی اور یونائیٹڈ ڈیموکریٹک نیشنز کے ساتھ تعاون کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔


یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب توانائی کی عالمی سپلائی کی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے درمیان بڑے صارف ممالک کے ذریعہ متبادل توانائی کے ذرائع اور منڈیوں کی تلاش تیز ہو گئی ہے۔



قابل ذکر ہے کہ فروری کے شروع میں ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان نے روس سے خام تیل نہ خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کے بعد سے امریکہ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان روس سے تیل خریدنا بند کردے گا۔ جب مارکو روبیو سے روس یوکرین جنگ کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا۔

اس سے پہلے، ہندوستان نے کہا تھا کہ وہ خام تیل کی خریداری کے لیے متعدد ذرائع کو برقرار رکھے گا اور سپلائی چین میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مختلف طریقوں سے ان کا استعمال کرے گا۔





امریکہ ایران کشیدگی: جوہری معاہدے کے علاوہ بات چیت لڑاکا طیاروں اور تیل پر بھی ہوگی


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان کے درمیان تہران نے جوہری معاہدے کے حوالے سے مثبت رویے کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی سفارت کار نے کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے بات چیت کر رہا ہے جو دونوں فریقوں کے لیے اقتصادی طور پر فائدہ مند ہو گا۔ وزارت خارجہ میں اکنامک ڈپلومیسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حامد غنباری نے کہا کہ اس معاہدے کو طویل مدت تک نافذ العمل رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ کو ان شعبوں میں بھی فائدہ حاصل ہو جس سے اسے زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔


ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، غنباری نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں تیل اور گیس کے شعبے میں مشترکہ مفادات، کان کنی میں سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ طیاروں کی خریداری بھی شامل ہے۔ اگرچہ ایران کے مصالحانہ موقف سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں قدرے کمی آئی، ایران کے جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی نے تہران میں اپنی اقتدار میں واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے دنیا بھر کے بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کی کال دی۔




ایرانی سفارت کار حامد غنباری کے مطابق تیل اور گیس کے شعبوں میں مشترکہ مفادات، کان کنی میں سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ طیاروں کی خریداری دونوں ممالک کے مذاکرات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقت کے ساتھ 2015 کا جوہری معاہدہ امریکی اقتصادی مفادات کا تحفظ نہیں کرتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق سٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر سمیت ایک امریکی وفد منگل کو جنیوا میں ایرانی حکام سے ملاقات کرے گا۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے نمائندوں نے مذاکرات کے لیے عمان میں ملاقات کی تھی۔


ایران کے نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے امریکا کو شرائط پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن ایران پر سے پابندیاں ہٹانے پر بات کرنے پر آمادہ ہوا تو تہران امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہوگا۔ "اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے۔ انہیں ثابت کرنا ہے کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ اس میں سنجیدہ ہیں تو مجھے یقین ہے کہ ہم معاہدے کی طرف بڑھیں گے۔"