بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی حلف برداری17 فروری کو، ہندوستان اور پاکستان سمیت 13 ممالک کو بھیجا دعوت نامہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بنگلہ دیش میں ہوئے حالیہ عام انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں جیت کر اکثریت حاصل کرنے والی بی این پی کے رہنما طارق رحمان 17 فروری کی شام کو بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ نئی کابینہ کی تقریب حلف برداری کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں اور اسے بڑی سفارتی تقریب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے 13 ممالک کے سربراہان مملکت کو دعوت نامہ بھیجا ہے۔ اس اقدام کو بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی خارجہ پالیسی اورعلاقائی توازن کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تقریب حلف برداری کے موقع پر مدعو کیے گئے ممالک میں ہندوستان، چین، سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، ملائیشیا، برونائی، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان شامل ہیں۔ اس سلسلے میں جنوبی ایشیا سے لے کر مغربی ایشیا تک کے ممالک کا اجتماع اس تقریب کو سفارتی طور پر اہمیت دیتا ہے۔ بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ میں منعقد ہونے والی حلف برداری کی یہ تقریب محض رسمی پروگرام نہیں مانا جارہا ہے بلکہ اسے نئی حکومت کے بین الاقوامی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ہندوستان اور چین دونوں کو نیوطہ بھیجا جاناعلاقائی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نئی کابینہ کے ساتھ حلف لینے جارہے طارق رحمان کو ملکی سیاست کو مستحکم کرنے، معیشت کی بحالی اور بین الاقوامی تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کے مشکل چیلنج کا سامنا ہوگا۔ بتادیں کہ بنگلہ دیش کے انتخابات میں بی این پی نے 209 نشستیں حاصل کی ہیں، جب کہ جماعت اتحاد نے 68 نشستیں حاصل کیں۔ مجموعی طور پر299 نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے تھے۔
60 سالہ رحمان کا تعلق بااثر ضیا خاندان سے ہے، یہ وہی خاندان ہے جس نے کئی دہائیوں تک بنگلہ دیش کی سیاست پرغلبہ رکھنے والی پارٹی کی قیادت کی۔ ان کے والدین دونوں ہی ملک میں اعلیٰ رہنما کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ تاہم رحمان کا وزیر اعظم کے عہدے تک کا سفر آسان نہیں رہا۔ ان کا سیاسی کیریئر اپنے حریفوں کی جانب سے اقربا پروری اور بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ ان کے والد کو اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ نوعمر تھے، جس نے طارق کو طویل عرصے تک ملک سے باہر رہنے پر مجبور کیا اور متعدد تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی والدہ ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا کےانتقال کے کچھ ہی ہفتوں بعد طارق رحمان کو بی این پی کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ اس کے فوراً بعد بنگلہ دیش میں انتخابات ہوئے اور بالآخر ان کی پارٹی نے اکثریت حاصل کر لی۔
رحمان نے 2001 میں بی این پی میں ایک فعال کردار ادا کرنا شروع کیا، جب ان کی عمر تقریباً 35 سال تھی۔ خالدہ ضیاء نے پہلی بار 1991 سے 1996 تک وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کے والد ضیاء الرحمان آرمی چیف سے صدرمملکت بنے اور 1981 میں فوجی بغاوت کے دوران انہیں قتل کر دیا گیا۔ وہ بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے سرفہرست رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے 1978 میں بی این پی کا قیام کیا تھا۔
ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ: ’وزیر اعظم جھکے بھی ہیں اور تھکے بھی ہیں‘، پی ایم مودی کے انٹرویو پر کانگریس کا طنز
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ انٹرویو پر ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے سخت حملہ کیا ہے۔ کانگریس کے مطابق وزیر اعظم اس بات کو جانتے ہیں کہ رواں سال کا مرکزی بجٹ پوری طرح سے مایوس کرنے والا رہا ہے اور اس سے حکومت کی پالیسیوں میں تھکن کی سبھی علامتیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔
دراصل وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 فروری کو ملک کے مرکزی بجٹ 2026 اور ہند-امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ سے متعلق خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو انٹرویو دیا ہے۔ اس انٹرویو کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر اور جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ان پر طنز کستے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ اس پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ بڑھتے دباؤ اور تنقید کے درمیان وزیر اعظم اب ہیڈلائن مینجمنٹ کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔ وہ ملک کے لاکھوں لاکھ کسانوں اور دیگر طبقات کے لوگوں کی توجہ بھٹکانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔‘‘ انھوں نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے تعلق سے صاف لفظوں میں کہا کہ ’’اس معاہدہ میں حکومت نے ہندوستانیوں کے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے۔‘‘
جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی کا انٹرویو کوئی حقیقی انٹرویو نہیں تھا، بلکہ یہ بڑے احتیاط کے ساتھ لکھا ہوا اور منصوبہ بند پی آر ایکسرسائز ہے۔ وہ طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’موجودہ حالات میں وزیر اعظم جھکے بھی ہیں اور تھکے بھی ہیں۔‘‘ مرکزی بجٹ کے تعلق سے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’مرکزی بجٹ کو بازاروں سے منفی رد عمل ملا ہے اور سرمایہ کاروں پر بھی اس کا کوئی خاص مثبت اثر دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ اسی وجہ سے بجٹ پیش ہونے کے تقریباً 2 ہفتہ اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی طرف سے سخت تنقید کے کچھ دنوں بعد وزیر اعظم کو اس سلسلے میں انٹرویو دینا پڑا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم کا بیان ہمیشہ کی طرح صرف اثردار نظر آنے والے ’وَن لائنر‘ تک ہی محدود ہے، جس کا زمینی حقیقت سے رشتہ ’نہ کے برابر‘ ہے
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 6 دن بعد ملی لاپتہ ہندوستانی طالب علم کی لاش، کرناٹک کے رہنے والے تھے ساکیت
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکہ کے کیلیفورنیا میں تقریباً ایک ہفتہ قبل لاپتہ ہونے والے 22 سالہ ہندوستانی طالب علم کی لاش ملی ہے۔ کرناٹک کے رہنے والے ساکیت سری نواسیا 9 فروری کو لاپتہ ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کی جنگی پیمانے پر تلاش کی جارہی تھی۔ سان فرانسسکو واقع ہندوستانی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ پولیس نے ہندوستانی طالب علم کی لاش برآمد کرلی ہے۔ ساکیت سری نواسیا امریکہ میں رہ کرپوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے طالب علم تھے۔
سان فرانسسکو میں ہندوستانی سفارت خانے نے ’ایکس‘ پوسٹ میں بتایا کہ پولیس نے طالب علم کی لاش برآمد کر لی ہے۔ انہوں نے لاش کو جلد از جلد ہندوستان واپس بھیجنے کے لیے تمام ضروری مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی سفارتخانے نے لواحقین اور رشتہ داروں سے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کیا۔
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں ہندوستانی سفارت خانے نے لکھا ہے کہ یہ اطلاع دیتے ہوئے بہت افسوس ہے کہ مقامی پولیس نے لاپتہ ہندوستانی طالب علم ساکیت سری نواسیا کی لاش برآمد ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ ہم اس انتہائی مشکل وقت میں ان کے اہل خانہ اور چاہنے والوں کے ساتھ اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ سفارت خانہ لواحقین کو تمام ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں مقامی حکام کے ساتھ رابطہ کاری اور جلد از جلد لاش ہندوستان واپس بھیجنے کا انتظام کرنا شامل ہے۔ ہمارے اہلکار متاثرہ خاندان کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں اور تمام ضروری رسمی کارروائیوں اورخدمات میں ان کی مدد کریں گے۔
بتادیں کہ لاپتہ ہونے سے پہلے ساکیت کو آخری بار کیمپس سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر دیکھا گیا تھا، جس کے بعد جھیل انزا اور برکلے ہلز کے علاقے کے ارد گرد شہر بھر میں جنگی پیمانے پرتلاش شروع کی گئی۔ بعد میں اس کا پاسپورٹ اور لیپ ٹاپ پر مشتمل ایک بیگ کیمپس کے قریب ہی ٹلڈن ریجنل پارک کے قریب ایک رہائش گاہ کے پاس ملا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ساکیت سری نواسیا یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں پوسٹ گریجویشن کے طالب علم تھے۔ وہ پروڈکٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ڈی پی) میں ماسٹر آف سائنس کر رہے تھے اور کرناٹک کے تمکورو کے رہنے والے تھے۔ انہیں آخری بار انزا جھیل کے قریب دیکھا گیا تھا
این پی آر اور این آرسی کے بجائے اب ایس آئی آر کے ذریعہ شہریت چھیننے کی کوشش کررہی بی جے پی: اویسی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے مرکزی حکومت اور فرقہ پرست طاقتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی اب این پی آر (قومی آبادی رجسٹر) اور این آرسی (قومی شہریت قانون) کے بجائے ایس آئی آر (اسپیشل انٹینسیو رویژن) کے ذریعہ لوگوں کی شہریت چھیننے کی کوشش کررہی ہے۔
اے آئی ایم آئی ایم کے 68 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ہفتے کی رات دارالسلام، حیدرآباد میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت اور فرقہ پرست طاقتوں پر شدید حملہ کیا۔ بہار کے ممبران اسمبلی اور مہاراشٹر کے نو منتخب میونسپل کونسل ممبران کی موجودگی میں اویسی نے ایس آئی آرسروے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ بی جے پی اب این پی آر اور این آر سی کے بجائے ایس آئی آر کے ذریعے شہریوں کی شہریت چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔
اویسی نے اپنے خطاب کے آغاز میں عوام سے اپنے سیل فون کی لائٹ جلانے کی اپیل کی اور 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں شہید ہوئے 40 سی آر پی ایف جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان بہادر سپاہیوں کی شہادت کو یاد کرتے ہیں اور وزیر اعظم سے امید کرتے ہیں کہ وہ پڑوسی ممالک سے پھیلائی جارہی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
اویسی نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ آج ملک میں اپنے حقوق مانگنے والوں کو دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ امبیڈکر کے آئین میں یقین رکھنے والے دلت کو فرقہ پرست طاقتیں دشمن تصور کرتی ہیں۔ ایک قبائلی جو اپنی زمین کی حفاظت کی بات کرتا ہے یا روزگار کی تلاش میں بے روزگار نوجوان کو انتظامیہ کا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ ہماری ٹوپی، داڑھی اور بیٹیوں کے حجاب سے کچھ لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے۔ اویسی نے زور دے کر کہا کہ اس ملک کی خوبصورتی اس کے متنوع مذاہب اور ان کی عبادت گاہوں میں پنہاں ہے۔ انہوں نے اپنے بزرگوں کے اس خواب کا ذکر کیا جہاں مندر کے گھنٹوں کی آواز کے ساتھ مساجد سے’حی علی الفلاح‘ کی صدائیں گونجنی چاہئے۔
شہریت سے متعلق دستاویزات کے حوالے سے اویسی نے کہا کہ بہار کے بعد اب تلنگانہ اور مہاراشٹرا میں ایس آئی آر کو نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اپنے ’حقیقی‘ ناموں کا اندراج کروائیں۔ سپریم کورٹ کے ایک پرانے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس کسی کی شہریت ثابت کرنے کا اختیار نہیں ہے لیکن حکومت ای سی آئی کے ذریعے ایسا کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔
اے آئی-سربراہی اجلاس کے لیے ہندوستان موزوں ترین مقام: انتونیو گوٹیرس
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے ہندوستان کی ستائش کرتے ہوئے ملک کو ایک انتہائی کامیاب ابھرتی ہوئی معیشت قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی معاملات میں ہندوستان کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے، اس لیے اے آئی (آرٹیفیشیل انٹیلی جنس) پر ہونے والے آئندہ سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے ہندوستان سب سے موزوں مقام ہے۔
واضح رہے کہ ’انڈیا-اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے انعقاد سے قبل اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک خصوصی انٹرویو کے دوران انتونیو گوٹیرس نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پوری دنیا کو فائدہ پہنچنا چاہیے اور اسے صرف ترقی یافتہ ممالک یا 2 بڑی طاقتوں تک محدود مراعات نہیں بننا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان عالمی معاملات میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ رکھنے والی ایک ’انتہائی کامیاب‘ ابھرتی ہوئی معیشت ہے اور اے آئی سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے بہترین جگہ ہے۔
انٹرویو کے دوران انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ ’’میں اس سربراہی اجلاس کے انعقاد پر ہندوستان کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ اے آئی کی ترقی ہر کسی کے فائدے کے لیے ہو اور ’گلوبل ساؤتھ‘ کے ممالک بھی اس کے فوائد میں حصہ دار بنیں۔‘‘ واضح رہے کہ 16 سے 20 فروری تک منعقد ہونے والا یہ اعلیٰ سطحی پروگرام ’گلوبل ساؤتھ‘ میں منعقد ہونے والا پہلا ’اے آئی سمٹ‘ ہوگا، جو کہ ’عوام، سیارہ اور ترقی‘ کے 3 رہنما اصولوں پر مبنی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ’انڈیا-اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ میں دنیا بھر کے قائدین اور ٹیکنالوجی کی معروف شخصیات شرکت کریں گی۔ رپورٹس کے مطابق 20 سربراہان مملکت اور 45 ممالک کے وزارتی وفود اس اجلاس میں حصہ لیں گے۔ ان میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں، برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا ڈی سلوا سمیت کئی ممالک کے سربراہان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیک دنیا کی ممتاز شخصیات میں سندر پچائی (گوگل)، شانتنو نارائن (ایڈوبی) اور ڈاریو اموڈئی (انتھروپک) بھی اس اجلاس کا حصہ ہوں گے۔
ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو راہل گاندھی نے ’دھوکہ‘ سے تعبیر کیا، مرکزی حکومت سے پوچھے 5 سوالات
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے خلاف لگاتار آواز بلند کر رہے ہیں۔ 15 فروری کو انھوں نے ایک بار پھر اس معاہدہ معاملہ پر مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کیا ہے، جس میں کہا ہے کہ ’’یہ معاہدہ ہندوستانی کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ یہ معاہدہ کسانوں کو بہت نقصان پہنچا سکتا ہے اور ملک کی زرعی خود مختاری کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘‘ اس معاہدہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی سے 5 آسان سوالات کے جواب دینے کی گزارش بھی کی ہے۔ راہل گاندھی نے جو سوالات پی ایم مودی کے سامنے رکھے ہیں، وہ اس طرح ہیں:
ڈی ڈی جی امپورٹ (DDG Import) کرنے کا حقیقتاً کیا مطلب ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی مویشیوں کو جی ایم امریکی مکئی سے بنے ڈسٹلرز گرین کھلائے جائیں گے؟ کیا اس سے ہماری دودھ کی مصنوعات مؤثر طور پر امریکی زرعی صنعت پر منحصر نہیں ہو جائیں گی؟
اگر ہم جی ایم سویا تیل کی درآمد کی اجازت دیتے ہیں، تو مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان اور ملک بھر کے ہمارے سویا کسانوں کا کیا ہوگا؟ وہ قیمتوں کے ایک اور جھٹکے کو کیسے برداشت کر پائیں گے؟
جب آپ ’ایڈیشنل پروڈکٹس‘ کہتے ہیں، تو اس میں کیا کیا شامل ہے؟ کیا یہ وقت کے ساتھ دال اور دیگر فصلوں کو امریکی درآمدات کے لیے کھولنے کے دباؤ کا اشارہ ہے؟
نان ٹریڈ بیریئرز ہٹانے کا کیا مطلب ہے؟ کیا مستقبل میں ہندوستان پر جی ایم فصلوں پر اپنے مؤقف کو نرم کرنے، پروکیورمنٹ کو کمزور کرنے یا ایم ایس پی اور بونس میں کمی کرنے کا دباؤ ڈالا جائے گا؟
ایک بار یہ دروازہ کھل گیا، تو ہر سال اسے مزید کھلنے سے ہم کیسے روکیں گے؟ کیا اس کی روک تھام ہوگی، یا ہر بار معاہدے میں بتدریج مزید فصلوں کو میز پر رکھ دیا جائے گا؟
مذکورہ بالا سوالات پیش کرنے کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ کسانوں کو اس بارے میں وضاحت ضرور ملنی چاہیے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ صرف آج کی بات نہیں ہے، یہ مستقبل کی بھی بات ہے۔ وہ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا ہم کسی دوسرے ملک کو ہندوستان کی زرعی صنعت پر طویل مدت کی گرفت بنانے دے رہے ہیں؟
واضح رہے کہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں، کسان تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں نے 12 فروری کو ملک گیر بند کا اعلان کیا تھا۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اس معاملہ میں پارلیمنٹ میں بھی زبردست احتجاج کیا تھا۔ اپوزیشن اراکین نے حکومت سے معاہدے کی مکمل معلومات عام کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
0 تبصرے