یہ جیت بنگلہ دیش، جمہوریت اور عوامی امیدوں کی ہے: طارق رحمٰن


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخاب میں شاندار کامیابی کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمٰن نے پہلی بار میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیابی کو ملک، جمہوریت اور عوامی امیدوں کی جیت قرار دیا۔


اپنے بنگلہ خطاب میں طارق رحمٰن نے کہا کہ یہ کامیابی صرف کسی جماعت کی نہیں بلکہ پورے بنگلہ دیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے جمہوریت کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو عبور کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی رائے اور حق حکمرانی کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔


انہوں نے سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئین اور جمہوری نظریات کو نظر انداز کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق نئی حکومت ملک بھر میں قانون کی مضبوط حکمرانی اور مؤثر سلامتی نظام کو یقینی بنائے گی تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔


طارق رحمٰن نے کہا کہ براہ راست ووٹنگ کے ذریعے عوام کے سامنے جوابدہ پارلیمان اور حکومت دوبارہ قائم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کوئی بھی طاقت دوبارہ ملک میں آمریت مسلط نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کو کسی بھی صورت کمزور یا محتاج ریاست نہیں بننے دیا جائے گا اور اس کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے۔




انہوں نے کہا کہ بی این پی پر عوام کے اعتماد سے واضح ہے کہ شہری پارٹی کی قیادت پر مکمل بھروسا رکھتے ہیں۔ اسی اعتماد کو بنیاد بنا کر حکومت تمام بنگلہ دیشیوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلاف رائے کے باوجود قومی مفاد میں سب کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔


طارق رحمٰن نے غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو میں اپنی والدہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ملک آج بھی انہیں شدت سے یاد کرتا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے عوامی مینڈیٹ قرار دیا۔ واضح رہے کہ 12 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخاب میں 297 نشستوں کے نتائج سامنے آئے، جن میں بی این پی نے 209 نشستیں حاصل کیں جبکہ اتحادیوں سمیت اسے 212 نشستوں کی حمایت ملی، یوں پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کر رہی ہے۔







’آگے کنواں پیچھے کھائی‘ راہل گاندھی نے امریکہ تجارتی معاہدہ کپاس کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کے لیے تباہ کن قرار دے دیا


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ مرکز کی مودی حکومت نے کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کے مفادات کو نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوراندیش حکومت ایسا معاہدہ کرتی جو دونوں شعبوں کے تحفظ اور ترقی کو یقینی بناتا لیکن موجودہ حکومت نے اس کے برعکس قدم اٹھایا ہے۔


راہل گاندھی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے ٹیرف کے فرق کو اصل مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کو امریکہ میں گارمنٹس کی برآمد پر صفر فیصد ٹیرف کی سہولت دی جا رہی ہے، بشرطیکہ وہ امریکی کپاس درآمد کرے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی مصنوعات پر 18 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے، جس سے ملک کی برآمدی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی رعایت حاصل کرنے کے لیے امریکہ سے کپاس منگوانا لازمی ہے تو یہ شرط عوام سے کیوں چھپائی گئی۔




کانگریس کے رہنما نے کہا کہ اگر ہندوستان امریکی کپاس درآمد کرتا ہے تو مقامی کسانوں کی پیداوار متاثر ہوگی اور انہیں قیمتوں میں گراوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب اگر یہ شرط قبول نہیں کی جاتی تو ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو عالمی منڈی میں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورت حال ’آگے کنواں پیچھے کھائی‘ جیسی ہے، جہاں دونوں راستے مشکلات کی طرف لے جاتے ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں کپاس کی کاشت اور ٹیکسٹائل صنعت کروڑوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ ایسے میں کسی بھی غیر متوازن معاہدے کا اثر لاکھوں خاندانوں کی معاشی حالت پر پڑ سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی کابینہ نے ایسا سمجھوتہ کیا ہے جو طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔



ادھر حکومت کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا ہے کہ اپوزیشن کسانوں کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا رہی ہے اور معاہدے کی تفصیلات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔


یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا جب بنگلہ دیش کو دی جانے والی مبینہ رعایتوں کا ذکر سامنے آیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ شرائط یکساں نہیں ہیں تو اس سے ملکی صنعت کو نقصان ہوگا۔ جبکہ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ میں مکمل تفصیلات پیش کرے اور کسانوں کے تحفظ کی واضح ضمانت دے۔





انڈیگو فلائٹ کو کولکتہ ایئرپورٹ پر ملی بم کی دھمکی، ٹوائلٹ میں نوٹ ملنے پر طیارہ گراؤنڈ


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


کولکتہ ہوائی اڈے پرآج صبح اس وقت افراتفری مچ گئی جب شیلانگ جانے والی انڈیگو کی ایک پرواز کے ٹوائلٹ میں بم کی دھمکی پر مشتمل ایک مشکوک نوٹ ملنے کی خبر سامنے آئی۔ احتیاط کے طور پر پرواز کو فوری طور پر کسی دوسرے مقام کی طرف لے جایا گیا اور سکیورٹی ایجنسیوں نے باریک بینی سے تحقیقات شروع کر دیں۔


کولکتہ سے شیلانگ جانے والی انڈیگو کی فلائٹ6 ای 7304 کے ٹوائلٹ سے مشکوک نوٹ برآمد ہوا۔ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اس نوٹ میں بم ہونے کی دھمکی دیئے جانے کا اندیشہ ہے۔ صبح 9:15 پر روانہ ہونے والی پرواز کو سیکیورٹی پروٹوکول کے مطابق مسافروں سے دورآئسولیشن بے میں لے جاکر کھڑا کردیا گیا۔ اس کے بعد بم اسکواڈ اور دیگرسیکیورٹی ایجنسیوں کی ٹیموں نے طیارے کی مکمل تلاشی شروع کردی۔



افسران کے مطابق تمام مسافروں کو جہاز سے بحفاظت اتار لیا گیا ہے۔ ہوائی اڈے کی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ اس دوران انڈیگو نے کہا ہے کہ تمام ضروری سیکورٹی طریقہ کار پرعمل کیا جا رہا ہے اورسیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ پورا تعاون کیا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ مزید فلائٹ آپریشنز کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ فی الحال سیکورٹی چیک جاری ہے اور پورے معاملے کو سنجانڈیگو کی فلائٹ میں بم کی دھمکییدگی سے لیا جا رہا ہے۔



واقعے کے بعد سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے اہلکاروں کی بڑی تعداد میں تعیناتی کی گئی۔ آئیسولیشن زون کے اردگرد سیکیورٹی اہلکار تعینات کردیئے گئے۔ ہوائی اڈے کی خصوصی گاڑیاں، جیسے فائر بریگیڈ کی گاڑی بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ ہائی ویبلٹی جیکٹس پہنے ہوئے گراؤنڈ اسٹاف کو پورے آپریشن کو مربوط کرتے دیکھا گیا۔ طیارے کا سامان بھی اتار کر رن وے پر رکھ دیا گیا، جہاں ڈاگ اسکواڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ خصوصی معائنہ کر رہے تھے۔ ہوائی اڈے کے حکام نے فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا کوئی مشکوک چیز ملی ہے یا نہیں۔






عطاپور میں ایڈوکیٹ محمد قدیر کا بہیمانہ قتل، علاقہ میں سنسنی




رنگا ریڈی : عطاپور کے سلیمان نگر علاقے میں ایک سنسنی خیز واردات پیش آئی، جہاں نامور ایڈوکیٹ محمد قدیر کو ان کے ذاتی دفتر میں نامعلوم افراد نے چاقوؤں سے بے رحمی کے ساتھ قتل کر دیا۔ حملہ آوروں نے مقتول پر متعدد وار کیے، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔



ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم سے دل تقسیم نہین ہوتے۔

واردات کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی عطاپور پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور حالات کا جائزہ لیا۔ کلوز ٹیم کو طلب کر کے شواہد جمع کیے گئے۔



پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں خاندانی تنازعات کے پہلو کو مدنظر رکھا جا رہا ہے اور مقتول کے بعض قریبی رشتہ داروں پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ خصوصی ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔



علاقے میں قتل کی واردات کے بعد خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔






شنکراچاریہ کے خلاف نازیبا کلمات لفظی تشدد اور گناہ، اکھلیش یادو کا سی ایم یوگی پر حملہ


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے شنکراچاریہ تنازع کو لے کر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شنکراچاریہ کے بارے میں سخت نازیبا کلمات کہنا لفظی تشدد ہے اور یہ گناہ بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا بیان دینے والے کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی برابر کے قصوروار ہیں جو خوشامد میں میزیں تھپتھپاتے رہے۔


سوامی اویمکتیشورانند سے متعلق سی ایم یوگی کے اس بیان کہ ہر شخص شنکراچاریہ نہیں ہوسکتا، پر ردعمل دیتے ہوئے اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طنزیہ تبصرہ کیا کہ کوئی کیسا بھی چولا پہن لے، اس کی زبان اس کی حقیقت ظاہر کر دیتی ہے۔


انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین اسمبلی جب ایوان سے باہر نکل کر عوام کے درمیان جائیں گے تو عوام سڑک پر ہی ان کا ایوان لگا دے گی۔ اکھلیش یادو نے مہاکمبھ کی اموات کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت نے صحیح اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ نقد معاوضہ دے کر اس میں بھی بدعنوانی کی گنجائش نکالی گئی اور جن متاثرین تک معاوضہ نہیں پہنچا، ان کی رقم کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔




سی ایم یوگی کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنے خلاف درج مقدمات ہٹواتے ہیں، انہیں کسی اور کے مذہبی منصب پر سوال اٹھانے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انسان کے بجائے انا بولتی ہے تو اقدار متاثر ہوتی ہیں اور ایسا شخص سماج میں اپنا احترام کھو دیتا ہے۔


اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ متنازع فلم کو بغیر نام بدلے ریلیز کرنے اور اسے ٹیکس فری کرنے کی بات بھی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخاب میں متعلقہ سماج ہر ووٹ کے ذریعے اس کا جواب دے گا اور حکومت کو بدل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ شنکراچاریہ کے بارے میں دیا گیا بیان ایوان کی کارروائی میں درج ہو چکا ہے اور اس کی مذمت کے لیے الفاظ بھی ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔





متھرا: ہولی پر مسلم دکانداروں کو رنگ و گلال فروخت کرنے سے روکنے کا مطالبہ، وزیر اعلیٰ کو خط


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


متھرا: اتر پردیش میں ہولی کے تہوار سے پہلے مذہبی اور سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، دریں اثنا، شاہی عیدگاہ مسجد-شری کرشن جنم بھومی اور تنازعہ معاملے کے اہم درخواست گزار دنیش شرما، جو پھلاہاری مہاراج کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ہولی کے موقع پر مسلم دکانداروں کو رنگ اور گلال فروخت کرنے سے روکا جائے۔


پھلاہاری مہاراج نے اپنے خط میں الزام عائد کیا ہے کہ بعض ہندو مخالف عناصر ہولی کی پاکیزگی کو متاثر کرنے کے لیے رنگوں میں شیشہ کے ٹکڑے یا دیگر ناپاک اشیا ملا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے سے بچانے کے لیے مسلم برادری کے افراد کو ہندو تہواروں سے متعلق کاروبار سے دور رکھا جانا چاہیے۔




خط میں انہوں نے یہ اپیل بھی کی ہے کہ شری کرشن جنم بھومی اور دیگر اہم مندروں کے اطراف مسلم تاجروں کو اسٹال لگانے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے ان سرگرمیوں کو مبینہ طور پر لو جہاد جیسی سازشوں سے بھی جوڑا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ ہندوؤں کے مقدس تہوار سے متعلق سامان صرف سناتنی تاجروں کے ذریعے فروخت ہونا چاہیے۔


دنیش شرما اپنے سخت عزم کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ گزشتہ چار برس سے اناج ترک کیے ہوئے ہیں اور صرف پھلوں پر گزارا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک جنم بھومی احاطے سے مسجد مکمل طور پر نہیں ہٹائی جاتی، وہ معمول کا کھانا قبول نہیں کریں گے اور ان کا یہ احتجاج بدستور جاری ہے۔


پھلاہاری کے اس مطالبے کے بعد ایک بار پھر معاشی بائیکاٹ کی بحث زور پکڑ گئی ہے۔ ایک طبقہ اسے تحفظ اور مذہبی پاکیزگی کا مسئلہ قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے سماجی ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کے منافی سمجھتا ہے۔