ڈر کی سیاست کا سہارا لے رہے ٹرمپ! ایران کے ساتھ جوہری ڈیل پر امریکی صدر کا بڑابیان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے جاری مذاکرات کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران میں حکومت تبدیل ہونا بہت ضروری چیز ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے ایران کی طرف ایک بہت بڑا کیریئر گروپ بھیجا ہے۔ میں معاہدہ کرنا چاہتا ہوں لیکن ان کے ساتھ ڈیل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ شمالی کیرولائنا میں امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کبھی کبھی ڈر ضروری ہوتا ہے، یہ واحد چیز ہے جو صورتحال کو بہتر بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پچھلی بارلگا تھا کہ یہ معاہدہ ہو جائے گا اورافسوس ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ یہی ہم نے مڈ نائٹ ہیمرمیں کیا تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوج ایران کے خلاف ایک ہفتے تک چلنے والے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔ دو امریکی افسران نے بتایا کہ اگر صدر ٹرمپ حملے کا حکم دیتے ہیں تو یہ اب تک کے مقابلے کہیں زیادہ بڑا تنازع ہو سکتا ہے۔ پینٹاگون نے مشرق وسطی میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی طیارے، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر اور ہزاروں اضافی فوجی بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
بتادیں کہ گزشتہ سال امریکہ نے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر شروع کیا تھا، جو تہران کی جوہری تنصیبات کے خلاف ایک محدود حملہ تھا۔ اس وقت اسٹیلتھ بمباروں نے امریکہ سے براہ راست پرواز کی، ایران کے جوہری مقامات کو نشانہ بنایا اور حملہ کرکے واپس لوٹ گئے تھے۔ بعد ازاں جوابی کارروائی کے تحت ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر محدود حملہ کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق ایران کے پاس میزائلوں کا مضبوط ذخیرہ ہے اور وہ کسی بھی امریکی حملے کا جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اگر حملہ ہوا تو دونوں ممالک کے درمیان جوابی حملوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس سے علاقائی جنگ بھڑک سکتی ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ اگر تہران پر حملہ ہوا تو وہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ بتادیں کہ امریکہ کے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ میں فوجی اڈے ہیں۔
امریکہ میں ایک اور ہندوستانی طالب علم لاپتہ، اہل خانہ پریشان، پولیس تفتیش میں مصروف، سفارتخانہ بھی سرگرم
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے گئے ہندوستانی طالب علم ساکیت سری نواسیا کے لاپتہ ہونے کی خبر سامنے آئی ہے اور پولیس نے اسے تلاش کرنے کے لیے لوگوں سے مدد طلب کی ہے۔ امریکہ میں یہ نیا معاملہ ہے کیونکہ طلبہ سے متعلق اس طرح کی وارداتیں کافی وقت سے سامنے آرہی ہیں اور ملک اس طرح کے واقعات سے پریشان ہے۔ 22 سالہ ساکیت سری نوسیا کو آخری بار برکلے پہاڑیوں میں واقع انزا جھیل کے قریب دیکھا گیا تھا۔ بتادیں کہ طالب علم 9 فروری 2026 سے لاپتہ ہے۔
سان فرانسسکو میں ہندوستانی قونصل خانے نے کرناٹک کے رہائشی اور برکلے یونیورسٹی میں پوسٹ گریجویشن کررہے طالب علم ساکیت سری نواسیا کے لاپتہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قونصل خانہ متاثرہ کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے اور طالب علم کا پتہ لگانے کے لیے متعلقہ مقامی حکام سے بھی رابطہ کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا ’ایکس‘ پرایک پوسٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قونصلیٹ جنرل طالب علم کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے اور اسے تلاش کرنے کے لیے متعلقہ مقامی حکام سے رابطہ کیا جارہا ہے۔ دریں اثنا، پولیس بھی لگاتار طالب علم کی تلاش میں مصروف ہے۔
سری نواسیا کے روم میٹ بنیت سنگھ نے لنکڈ ان پر پوسٹ کیا اور 22 سال کے طالب علم کو تلاش کرنے میں مدد کی درخواست کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’سبھی کو نمسکار‘،میرا روم میٹ ساکیت سری نواسیا پیر( 9 فروری) سے لاپتہ ہے۔ اسے آخری بار برکلے ہلز میں جھیل انزا کے قریب دیکھا گیا تھا۔ اگر میرے کسی جاننے والے کو اس علاقے میں ایسے لوگ پتہ ہوں جنہوں نے اسے حال ہی میں دیکھا ہو تو برائے مہربانی مجھے بتائیں۔ میں اسے تلاش کرنے کے لیے محکمہ پولیس کے ساتھ مل کرکام کر رہا ہوں، یہ ہمارے لیے بہت مشکل وقت ہے، براہ کرم کوئی بھی ایسی معلومات فراہم کریں جو مددگار ہو سکتی ہے۔‘‘
شنکر اچاریہ ایوی مکتیشورانند معاملے میں یوگی کا نیا انداز،’ قانون کی حکمرانی پرعمل کروانا بھی جانتے ہیں‘
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
الہ آباد کے پریاگ راج میلے کے دوران حال ہی میں شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند کے ساتھ ہوئی بدسلوکی پر مذہبی، سیاسی اور سماجی سطح پرسخت تنقید کا سامنا کرنے والی اترپردیش حکومت کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس معاملے پراسمبلی میں پہلی بارتفصیل سے بات کی۔ یوپی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران جمعہ کوایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے روایت، حدود اور امن و امان کے حوالے سے اپنی بات رکھی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آدی جگد گرو شنکراچاریہ نے لازمی قرار دیا ہے۔ جس پیٹھ کے لیے جو اہل امیدوار ہوگا اس کا منتر، بیان، آج کی عام بول چال میں تھیسیس، ودوت پریشد سے منظور ہوتا ہے۔ اس کے بعد ابھیشیک اور پھر اس روایت کے ذریعے اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہر کوئی شنکراچاریہ نہیں بن سکتا، ہر شخص ہر پیٹھ کے اچاریہ کے طورپر جاکر یہاں وہاں ماحول خراب نہیں کرسکتا ہے۔ ان حدود پر سبھی کو عمل کرنا چاہئے۔
اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’اگر وہ (ایوی مکتیشورانند) شنکراچاریہ تھے تو آپ نے وارانسی میں لاٹھی چارج کیوں کیا تھا؟ ایف آئی آر کیوں درج کی گئی تھی؟ آپ اخلاقیات کی بات کرتے ہیں!‘‘ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ساڑھے 4 کروڑ عقیدتمند جہاں آئے ہوں وہاں جو ایکزٹ گیٹ ہیں، جہاں س عقیدتمند اسنان کرکے باہر نکلتے ہیں، اس گیٹ، اس پنٹون، اس راستے سے کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اگر کوئی وہاں سے اندر جانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایک نئے اسٹیمپیڈ کو پیدا کرتا ہے۔ نئی بھگدڑ کی حالت پیدا کرتا ہے، وہ عقیدت مندوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سخت لہجے میں کہا کہ ایک ذمہ دار اور مہذب شخص کبھی اس طرح کا طرز عمل اختیار نہیں کرسکتا ہے۔ آپ کو پوچھنا ہے تو سبھا کے لوگوں سے پوچھیں۔ لیکن ہم لوگ حدود پر عمل کرنے والے لوگ ہیں۔ قانون کی حکمرانی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قانون کی حکمرانی پرعمل کرنا بھی جانتے ہیں اورعمل کروانا بھی جانتے ہیں۔ دونوں چیزوں کو ایک ساتھ نافذ کرنا جانتے ہیں لیکن اس کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنا بند کیجئے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران میں اقتدار کی تبدیلی ایک بہترین عمل!
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کل یعنی جمعہ کو کہا کہ ایران میں اقتدار میں تبدیلی "ایک بہترین عمل ہو سکتا ہے‘‘کیونکہ امریکی انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا تہران کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے۔ ٹرمپ نے یہ تبصرہ شمالی کیرولینا میں فوجیوں کے اڈےپر دورہ کرنے کے فوراً بعد کیا،اور اس کے بعدکیا جب اس نے پہلے دن میں اس بات کی تصدیق کی کہ وہ مشرق وسطی میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا ’’ایسا لگتا ہے کہ یہ سب سے بہتر چیز ہو سکتی ہے‘‘۔ ٹرمپ نے صحافیوں کے ساتھ ایک تبادلے میں جب ایران میں اسلامی علما کی حکومت کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالنے کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا، "47 سالوں سے، وہ بات کر رہے ہیں اور بات کر رہے ہیں اور بات کر رہے ہیں‘‘۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، جنہوں نے ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے لیے واشنگٹن کا سفر کیا، ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بے اثر کرنے اور حماس اور حزب اللہ جیسے پراکسی گروپوں کے لیے اس کی فنڈنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا ۔
ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ جون کی جنگ سے پہلے، ایران یورینیم کو 60 فیصد خالصتا تک افزودہ کر رہا تھا، جو کہ ہتھیاروں کے درجے کی سطح سے ایک مختصر، تکنیکی قدم دور تھا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکمرانی کے ممکنہ خاتمے کی وکالت کرنے والے ٹرمپ کے تبصرے صرف چند ہفتوں کے بعد سامنے آئے ہیں جب سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ایران میں اقتدار میں ممکنہ تبدیلی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کی انتظامیہ کی حالیہ کوششوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز، بحیرہ کیریبین سے مشرق وسطیٰ میں بھیجا جا رہا ہے تاکہ خطے میں امریکہ کے دیگر جنگی جہازوں اور فوجی اثاثوں میں شامل ہو سکے۔
خلیجی عرب ممالک نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی حملہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کی جنگ سے دوچار مشرق وسطیٰ میں ایک اور علاقائی تنازعہ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ دریں اثنا، ایرانی گزشتہ ماہ تہران کے ملک گیر مظاہروں کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن میں ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد کے لیے 40 روزہ سوگ کی تقریبات کا انعقاد شروع کر رہے ہیں، جس سے پابندیوں سے متاثرہ اسلامی جمہوریہ کو درپیش اندرونی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
ہندوستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں آئی بہتری، 56 ممالک میں بغیر ویزا ہو سکتا ہے داخلہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
اگر آپ بیرون ممالک گھومنے کے شوقین ہیں تو آپ کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ پوری دنیا میں اب ہندوستانی پاسپورٹ کی طاقت بڑھ گئی ہے۔ ’ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی پاسپورٹ نے عالمی سطح پر لمبی چھلانگ لگائی ہے۔ ہندوستان اب 10 درجے اوپر چڑھ کر 75ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ سال ہندوستان درجہ بندی میں 85ویں مقام پر تھا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اب ہندوستانیوں کے لیے دنیا کی سیر کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہونے والا ہے۔ اب آپ کو کئی ممالک کے سفر کے لیے ہفتوں پہلے ویزا کے لیے پریشان نہیں ہونا پڑے گا۔
پاسپورٹ کی اس نئی درجہ بندی کا سب سے بڑا فائدہ ہندوستانی مسافروں کو ملنے والا ہے۔ اب آپ بغیر کسی پریشانی کے دنیا کے 56 ممالک میں بے فکر ہو کر گھوم سکتے ہیں۔ ان ممالک میں یا تو آپ کو ویزا کی ضرورت نہیں ہوگی، یا پھر وہاں پہنچتے ہی آپ کو ویزا-آن-ارائیول اور ای-ویزا کی سہولت مل جائے گی۔ خواہ آپ کو کیریبیئن جزائر کے ساحلوں پر آرام کرنا ہو یا افریقہ اور ایشیا کے خوبصورت ممالک کی سیر کرنی ہو، اب آپ کا ہندوستانی پاسپورٹ آپ کے سفر کو مزید آسان بنا دے گا۔
واضح رہے کہ پوری دنیا میں ’ہینلے پاسپورٹ انڈیکس‘ کو پاسپورٹ کی مضبوطی کا سب سے قابل اعتماد پیمانہ مانا جاتا ہے۔ یہ انڈیکس انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے ڈیٹا کا استعمال کر کے یہ بتاتا ہے کہ کس ملک کا شہری کتنی آسانی سے بین الاقوامی سفر کر سکتا ہے۔ درجہ بندی جتنی بہتر ہوگی، اس ملک کے شہریوں کو دوسرے ممالک میں داخل ہونے کی اتنی ہی زیادہ آزادہ ہوگی۔
پاسپورٹ کی درجہ بندی میں سنگاپور ایک بار پھر پہلے مقام پر ہے، جہاں کے شہری دنیا کے 192 ممالک میں بغیر ویزا کے داخل ہو سکتے ہیں۔ دوسرے مقام پر جاپان اور جنوبی کوریا قابض ہیں، جن کے پاسپورٹ پر 187 ممالک میں بغیر ویزا سفر کیا جا سکتا ہے۔ تیسرے نمبر پر سویڈن اور یو اے ای نے اپنی جگہ بنائی ہے، جہاں کے مسافر 186 ممالک میں بغیر ویزا کے داخل ہو سکتے ہیں۔
چوتھے مقام پر یورپی ممالک کا دبدبہ نظر آتا ہے، جہاں بیلجیم، ڈنمارک، فنلینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، اسپین، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ اور ناروے جیسے 12 ممالک شامل ہیں۔ ان تمام ممالک کے شہریوں کو 185 ممالک میں فری داخلہ ملتا ہے۔ پانچویں مقام پر آسٹریا، یونان، مالٹا اور پرتگال ہیں، جن کے پاس 184 ممالک تک بغیر ویزا رسائی حاصل ہے۔ چھٹے سے دسویں مقام کے درمیان دنیا کے بڑے ممالک کا قبضہ ہے۔ اس میں نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، کناڈا، ملیشیا اور امریکہ جیسے مملک شامل ہیں۔ اگر امریکی پاسپورٹ کی بات کریں تو وہاں کے شہری بغیر ویزا کے دنیا کے 179 ممالک کا سفر کر سکتے ہیں۔
0 تبصرے