ممبئی میئر کے طور پر ریتو تاوڑے کا انتخاب مراٹھی شناخت کے خلاف سازش: شیو سینا یو بی ٹی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ممبئی: شیو سینا ادھو بالاصاحب ٹھاکرے (یو بی ٹی) نے بی جے پی کی کارپوریٹر ریتو تاوڑے کے بلا مقابلہ برہن ممبئی مہانگر پالیکا کے میئر منتخب ہونے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ اقتدار پر قابض جماعت مراٹھی عوام کے بجائے صنعت کاروں اور دولت مند طبقے کے مفادات کو ترجیح دے گی اور بڑے کاروباری منصوبوں کے لیے زمین کے حصول کو آسان بنایا جائے گا۔
پارٹی کے ترجمان ’سامنا‘ میں شائع اداریے میں کہا گیا کہ ممبئی میں بی جے پی کا میئر آنا مہاراشٹر کے لیے سیاہ دن ہے۔ اداریے کے مطابق یہ صورتحال مراٹھی عوام کے طویل جدوجہد پر سیاہ سایہ ہے۔ الزام لگایا گیا کہ بی جے پی نے مراٹھی ووٹروں میں دراڑ ڈال کر اقتدار حاصل کیا اور میئر کے انتخاب کے لیے بے تحاشہ دولت خرچ کی۔ اگر شیو سینا یو بی ٹی کو بی ایم سی کی باگ ڈور ملتی تو شہر کو لوٹنے سے روکا جا سکتا تھا۔
اداریے میں دعویٰ کیا گیا کہ متحدہ مہاراشٹر تحریک کے دوران جس طرح مراٹھی عوام پر گولیاں چلائی گئیں، آج اسی طرز پر ممبئی کے حوصلے کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ خالص مراٹھی میئر کو روکنے کے لیے سازش رچی گئی۔
ریتو تاوڑے کی جانب سے ممبئی کو گڑھوں اور بدعنوانی سے پاک اور خواتین کے لیے محفوظ شہر بنانے کے دعووں کو اداریے میں مضحکہ خیز قرار دیا گیا۔ لکھا گیا کہ نیت اچھی ہو سکتی ہے مگر اختیارات اور عملی طاقت کے بغیر یہ وعدے پورے نہیں ہو سکتے۔ خواتین کی سلامتی سے متعلق بیان کو ریاستی وزارت داخلہ کی ناکامی کا ثبوت بھی بتایا گیا۔
اداریے میں چار برس تک انتظامیہ کے ذریعے بلدیہ چلائے جانے کے دوران بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ ٹھیکے داروں نے ہزاروں کروڑ روپے کے ایسے بل بنائے جو کام کیے بغیر منظور ہوئے۔ میئر سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان معاملات کی جانچ کرائیں، ورنہ بدعنوانی کے خلاف جدوجہد مضبوط اپوزیشن پر چھوڑ دیں۔
راجیہ سبھا میں تقریر کے حصے حذف کیے جانے پر ملکارجن کھڑگے برہم، بحال کرنے کا مطالبہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی: راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے ایوان میں اپنی تقریر کے کچھ حصے سرکاری ریکارڈ سے حذف کیے جانے پر شدید ناراضی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے خطاب پر بحث کے دوران انہوں نے جو تقریر کی تھی، اس کا ایک بڑا حصہ راجیہ سبھا کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ہے، حالانکہ انہوں نے تمام باتیں قواعد کے دائرے میں رہ کر کی تھیں۔
ملکارجن کھڑگے نے ایوان میں اعتراض اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حذف شدہ حصوں کو دوبارہ ریکارڈ میں شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حذف کیے گئے اقتباسات میں زیادہ تر وہ نکات شامل تھے جن میں انہوں نے موجودہ حکومت کے دور میں پارلیمانی کام کاج کی صورتحال پر مبنی تبصرے کیے تھے اور چند پالیسیوں پر وزیر اعظم پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پالیسیوں پر سوال اٹھائیں جنہیں وہ ملک اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی پارلیمانی زندگی پچاس برس سے زائد پر محیط ہے اور وہ ایوان کے ضوابط اور روایات سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے مطابق ان کی تقریر میں کوئی بھی ایسا لفظ شامل نہیں تھا جو غیر پارلیمانی یا توہین آمیز قرار دیا جا سکے۔ انہوں نے ضابطہ 261 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال صرف مخصوص حالات میں کیا جا سکتا ہے، جبکہ ان کی تقریر اس زمرے میں نہیں آتی۔ مزید برآں، آئین کے آرٹیکل 105 کے تحت اراکین کو ایوان کے اندر اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے، اس لیے تقریر کے بڑے حصے کو حذف کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن سے گزارش کی کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں ایوان کے اندر انصاف نہ ملا تو وہ عوام کے سامنے اپنی مکمل تقریر پیش کرنے پر مجبور ہوں گے۔
اس پر چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ چیئر کو ہدایت دینا مناسب نہیں اور یہ جمہوری روایت کے خلاف ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بھی قائد حزب اختلاف کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ 261 کے تحت اگر چیئرمین کو کوئی لفظ ہتک آمیز، غیر شائستہ یا ایوان کی وقار کے خلاف محسوس ہو تو وہ اسے حذف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ چیئر کا ہوتا ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے تاکہ ایوان کی وقار برقرار رہے۔
اب نئے دفتر سے چلے گی ملک کی حکومت، ’سیوا تیرتھ‘ سے وزیر اعظم مودی نے 4 اہم فائلوں پر کیا دستخط
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
وزیر اعظم نریند مودی نے جمعہ (13 فروری) کو اپنے نئے دفتر ’سیوا تیرتھ‘ کا افتتاح کیا۔ پی ایم او آج سے رائسینا ہل میں واقع ساؤتھ بلاک سے ’سیوا تیرتھ‘ میں منتقل ہو جائے گا۔ ’سیوا تیرتھ‘ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر کے علاوہ نیشنل سیکورٹی کاؤنسل سیکرٹریٹ (این ایس سی ایس) اور کابینہ سیکرٹریٹ بھی ہوں گے۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے ’سیوا تیرتھ‘ میں پہلی بار 4 اہم فائلوں پر دستخط کیے۔
وزیر اعظم مودی نے ’سیوا تیرتھ‘ میں منتقل ہونے کے بعد سب سے پہلے ’پی ایم ریلیف اسکیم‘ کو منظوری دی۔ یہ منصوبہ ہر شہری کے لیے لائف لائن ثابت ہوگا۔ سڑک حادثہ میں زخمی لوگوں کو 1.5 لاکھ روپے تک کیش لیس علاج ملے گا۔ اس کا مقصد یہ یقینی کرنا ہے کہ فوری طور پر طبی مدد نہ ملنے سے کوئی جان نہ جائے۔ یہ فیصلہ نوجوانوں اور عام شہریوں کے لیے بہت راحت دینے والا ہے۔
’لکھپتی دیدی‘ کا ہدف دوگنا کر کے 6 کروڑ کر دیا گیا۔ حکومت نے پہلے سے ہی 3 کروڑ ’لکھپتی دیدی‘ کا اعداد و شمار پار کر لیا ہے۔ یہ بنیادی ہدف مارچ 2027 سے ایک سال قبل مکمل ہو گیا۔ اب وزیر اعظم مودی نے نیا ہدف رکھا ہے، جس کے تحت مارچ 2029 تک 6 کروڑ ’لکھپتی دیدی‘ بنانا ہے۔ اس سے دیہی خواتین کی معاشی قوت میں مزید اضافہ ہوگا۔
وزیر اعظم مودی نے کسانوں کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لیے بھی بڑا قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے زرعی انفراسٹرکچر فنڈ کو دوگنا کر کے 2 لاکھ کروڑ روپے کر دیا ہے، جو پہلے ایک لاکھ کروڑ روپے کا فنڈ تھا۔ اس سے پیداوار سے لے کر اسٹوریج اور مارکیٹنگ تک پوری زرعی ویلیو چین مضبوط ہو جائے گی۔ کسانوں کو بہتر انفراسٹرکچر، اسٹوریج اور دیگر سہولیات ملیں گی۔
’اسٹارٹ اپ انڈیا فنڈ آف فنڈز 2.0‘ کو 1000 کروڑ روپے کا فنڈ فراہم کیا جائے گا۔ ہندوستان میں اختراع اور اسٹارٹ اپ دنیا کو نئی توانائی فراہم کرنے کے لیے یہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ خاص طور سے ڈیپ ٹیک، ابتدائی مرحلے کے آئیڈیاز، ایڈوانس مینوفیکچرنگ اور بریک تھرو ٹیکنالوجی پر توجہ دی جائے گی۔ اس سے نوجوانوں کو نئے خیالات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے فنڈنگ کے حصول میں آسانی ہوگی۔
گزشتہ 10 سالوں میں ججوں کے خلاف موصول ہوئیں 8360 شکایتیں، حکومت نے لوک سبھا میں دی جانکاری
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مرکزی وزارت قانون نے جمعہ (13 فروری) کو پارلیمنٹ میں بتایا کہ گزشتہ 10 سالوں میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے آفس کو موجودہ ججوں کے خلاف 8360 شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ معلومات جمعہ کو لوک سبھا میں دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کے رکن پارلیمنٹ متھیشورن وی ایس کے ایک سوال کے تحریری جواب میں دی گئی۔ پارلیمنٹ نے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف موصول بدعنوانی، جنسی زیادتی یا دیگر سنگین بے ضابطگیوں سے متعلق شکایتوں کی فہرست طلب کی تھی۔
سپریم کورٹ سے موصول ڈیٹا کے مطابق وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے جواب دیا کہ 2025-2016 کے درمیان 8360 شکایتیں موصول ہوئیں۔ متھیشورن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ان شکایتوں پر کوئی کارروائی کی گئی۔ حالانکہ وزارت قانون کے جواب میں اس پہلو پر توجہ نہیں دی گئی، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ شکایتوں پر کی گئی کارروائی کا کوئی ریکارڈ کیوں نہیں تھا۔
پارلیمنٹ میں ایک اور سوال یہ اٹھایا گیا کہ مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ کی طرف سے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف موصول بدعنوانی، جنسی زیادتی یا دیگر سنگین بے ضابطگیوں سے متعلق شکایتوں کا ریکارڈ یا ڈیٹا بیس بنائے رکھنے کے لیے استعمال کیے جانے والے کسی سسٹم کے بارے میں معلوم ہے۔ جواب میں صرف اتنا کہا گیا کہ ہندوستان کے چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اِن-ہاؤس پروسیزر کے حساب سے ججوں کے خلاف شکایتیں لینے کے قابل ہیں۔ ہائیر جوڈیشری کے اراکین کے خلاف سنٹرلائزڈ پبلک گریونس ریڈرس اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (سی پی جی آر اے ایم ایس) یا کسی اور طریقے سے موصول شکایتیں سی جے آئی یا متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجی جاتی ہیں۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے متھیشورن کے اس سوال کا بھی جواب نہیں دیا کہ کیا حکومت ہائیر جوڈیشری کے اراکین کے خلاف شکایتوں کی منظم ریکارڈنگ، مانیٹرنگ اورجوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے گائیڈلائن جاری کرنے یا اقدامات کرنے کا سوچ رہی ہے۔
’ایپسٹین فائلز‘ کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ، عرضی دہندہ نے کہا ’ہندوستانی لیڈران کی جانچ کیجیے‘
ع
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
’ایپسٹین فائلز‘ نے پوری دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے، اور اب یہ معاملہ ہندوستانی سپریم کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔ ایک عرضی کے ذریعہ عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’ایپسٹین فائلز‘ میں کئی ہندوستانی لیڈران کے نام آئے ہیں اور جو الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، اس تعلق سے عدالتی نگرانی میں جانچ کرائی جائے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ امریکہ کے محکمہ انصاف سے جاری مبینہ دستاویزات پر مبنی ہے، جنھیں ’جیفری ایپسٹین فائلز‘ کہا گیا ہے۔ یہ دستاویزات آنجہانی جیفری ایپسٹین سے منسلک بتائے جاتے ہیں۔
عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان فائلوں میں ای میل، رابطہ لسٹ، فلائی لاگ اور دیگر ریکارڈس شامل ہیں۔ ان ریکارڈس میں کچھ ہندوستانی ہستیوں کے نام مبینہ طور پر سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔ عرضی دہندہ نے ہندوستانی آئین کی دفعہ 32، 129 اور 142 کے تحت سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرضی میں گزارش کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی جج کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی یا خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو ان رپورٹس پر الزامات کی صداقت کی جانچ کر سکے۔
عرضی دہندہ نے ’ایپسٹین فائلز‘ میں مبینہ طور پر ہندوستانی سیاسی و سماجی لیڈران کے نام سامنے آنے پر فکر ظاہر کیا ہے۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مبینہ میٹنگوں اور رابطوں کے آفیشیل ریکارڈ منظر عام پر لائے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی خاص طور سے ہردیپ سنگھ پوری کے ضمن میں ایڈمنسٹریٹو کارروائی کرتے ہوئے عہدہ سے ہٹانے جیسی ہدایت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دستاویزات میں مذکور باتیں الزامات اور دعووں کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد کسی کو قصوروار ٹھہرانا نہیں بلکہ ایک آزادانہ اور شفاف جانچ کرانا ہے۔ عرضی دہندہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی جانچ آئین کے وقار، عوامی اخلاقیات اور قومی سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ خط کی شکل میں داخل کی گئی اس عرضی پر کیا رخ اختیار کرتا ہے اور آگے کس طرح کی کارروائی ہوتی ہے۔
’سچائی یہ ہے کہ ہندوستانی حکومت کو امریکہ میں بیٹھا ایک دلال چلا رہا تھا‘، ایپسٹین فائلز معاملہ پر کانگریس کا تلخ تبصرہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
’ایپسٹین فائلز‘ معاملہ پر کانگریس لگاتار مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کو ہدف تنقید بنا رہی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے۔ خاص طور سے ہردیپ سنگھ پوری کے جوابی حملوں اور ان کے بیانات کو سامنے رکھ کر کانگریس کے سرکردہ لیڈران ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کئی بار کر چکے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی ترجمان پون کھیڑا نے آج پریس کانفرنس میں ایک بار پھر ہردیپ سنگھ پوری سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، اور ان کے کئی بیانات کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔
پون کھیڑا نے کہا کہ ’’گزشتہ کچھ وقت سے ایپسٹین فائلز کو لے کر پوری دنیا میں بحث جاری ہے۔ اس معاملہ میں 7 ممالک کے لیڈران نے استعفے دیے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ نریندر مودی اور ہردیپ سنگھ پوری کا نام بھی اس میں شامل ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہردیپ سنگھ پوری نے اس بارے میں منھ کھولا، کچھ انٹرویوز دیے جن میں جم کر جھوٹ بولا۔ یہ وہی ہردیپ سنگھ پوری ہیں جنھیں بغیر رکن پارلیمنٹ بنے ہی نریندر مودی نے وزیر بنا دیا۔‘‘
ہردیپ سنگھ پوری کے کچھ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’ہردیپ سنگھ پوری نے کہا، جب وہ پہلی بار ایپسٹین سے ملنے جا رہے تھے تو انھیں پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں، کیونکہ انھیں کہا گیا تھا کہ ڈرائیور انھیں چھوڑ دے گا۔ یہ کتنا شرمناک ہے کہ ایسی بات ایک خارجہ سروس کا افسر کہہ رہا ہے، جو کہ امریکہ میں سفیر تھا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں ’’ہردیپ سنگھ پوری نے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ایپسٹین سے ملنے جاتے وقت اچھا محسوس نہیں کیا تو گوگل کیا کہ کہاں جا رہا ہوں، اور پھر آپس میں پوچھا کہ کیا ایپسٹین سے ملنے جانا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ سب ہوا تو کیا ہردیپ سنگھ پوری بچے تھے؟‘‘ پون کھیڑا نے مزید کہا کہ ’’ہردیپ پوری کہتے ہیں– ہم لوگوں میں سے کچھ کو ایپسٹین کے کریمنل ریکارڈ ہونے پر شبہ تھا۔ جبکہ 2008 میں ہی ایپسٹین نے عدالت میں اپنا گناہ قبول کر لیا تھا، اسے سزا ہو گئی تھی۔ ایپسٹین کے گناہ قبول کرنے کے بعد بھی 2014 میں ہمارے وزیر ہردیپ پوری کے من میں شبہ تھا۔ یہ وزیر ہیں، یہ ان کی اخلاقیات کا معیار ہے۔ ایسی صورت میں ہردیپ پوری کو کس طرح درست ٹھہرایا جا سکتا ہے؟‘‘
پون کھیڑا بات کو اتنے پر ہی ختم نہیں کرتے ہیں۔ ہردیپ پوری کی کئی باتوں کو وہ جھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ’’ہردیپ پوری نے ایک انٹرویو میں کہا– میری ایپسٹین سے زیادہ بات نہیں ہوئی۔ ایک دو ای میل ہوئے اور تین چار بار ملاقات ہوئی۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ ہردیپ پوری نے مزید ایک انٹرویو میں کہا– میں نے کبھی اپوائنٹمنٹ نہیں مانگا۔ یہ بات بھی جھوٹ ہے، کیونکہ ہردیپ پوری خود پوچھتے تھے ’جیف، کیا میں آپ سے ملاقات کر سکتا ہوں؟‘، ’جیف، کیا آپ شہر میں ہیں؟‘ جب ہردیپ پوری نے کبھی اپوائنٹمنٹ نہیں مانگا، تو پھر یہ سب کیا تھا۔ کیا آپ پر مودی کا دباؤ تھا کہ جائیے اور ایپسٹین سے ملیے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ’’16-2014 کے درمیان ہندوستان کے 3 سفیر امریکہ میں رہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کس کی ہدایت پر ریٹائر ہو چکے ہردیپ سنگھ پوری کو ایپسٹین سے ملنے بھیجا جاتا تھا؟‘‘
کانگریس ترجمان نے ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کا ذکر بھی پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’13 نومبر 2014 کو ریڈ ہاف مین کو ایپسٹین نے ایک میل بھیجا، جس میں وہ ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کی جانکاری دے رہا تھا۔ جبکہ ’ڈیجیٹل انڈیا‘ جولائی 2015 میں شروع ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہردیپ پوری نے ہندوستان کے شہریوں سے پہلے ہی ایپسٹین کو ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کی جانکاری دے دی تھی۔‘‘ تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے پون کھیڑا نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم سوچ رہے تھے اس ملک کی حکومت کو ایک ’مائی کا لال‘ چلا رہا تھا، جبکہ سچائی یہ ہے کہ امریکہ میں بیٹھا ’ایک دلال‘ چلا رہا تھا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ہردیپ پوری کہہ رہے ہیں– میں ایپسٹین کو ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کی جانکاری دے رہا تھا۔ اب سوال ہے کہ ہردیپ پوری کو یہ جانکاری کہاں سے ملی، وہ تو حکومت کا حصہ نہیں تھے۔‘‘
ان باتوں کو سامنے رکھنے کے بعد پون کھیڑا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے کچھ چبھتے ہوئے سوالات رکھ دیے۔ انھوں نے پوچھا کہ ’’آپ ہردیپ پوری کے ذریعہ سے ملک کی جانکاری کسے اور کیوں دلوا رہے تھے؟ آخری مودی جی، ہردیپ پوری اور ایپسٹین کا کیا رشتہ ہے؟‘‘ پھر وہ واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’ہردیپ پوری صرف ریڈ ہاف مین کے میل کی باتیں بتا رہے ہیں اور باقی سب چھپانا چاہتے ہیں۔ ہردیپ پوری صرف جھوٹ بول رہے ہیں کہ میری ایپسٹین سے بات ہی نہیں ہوتی تھی۔ سچائی یہ ہے کہ کافی پینے آپ جاتے تھے، ’ہیو فَن‘ آپ لکھتے تھے... یعنی آپ سب کچھ جانتے تھے۔‘‘
پریس کانفرنس کے آخر میں بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’زانیوں کو پیرول دلوا کر مالائیں پہنانا، انھیں ایم پی-ایم ایل اے بنانا بی جے پی کی پرانی عادت رہی ہے۔ لیکن میڈیا کا معیار دیکھیے کہ وہ بھی ایپسٹین کو دفاع کر رہا ہے۔ ہمیں یہ دیکھ کر صدمہ لگا ہے، ایسی صحافت پر لعنت ہے۔‘‘ انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’ایپسٹین فائلز‘ میں ایسا کیا ہے جو نریندر مودی پہلے جیسے نہیں رہے؟ طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’جنھوں نے اپنی تشہیر ’گھر گھر مودی‘ سے شروع کی تھی، وہ آج ’تھر تھر مودی‘ ہو گئی ہے۔‘‘
0 تبصرے