’جلد از جلد جوہری معاہدہ کرو، ورنہ سنگین نتائج کے لیے تیار رہو‘، ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دی وارننگ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو وراننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد جوہری معاہدہ کرے، ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ نہیں ہوا تو حالات بہت دردناک ہو سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’’ہمیں معاہدہ کرنا ہی ہوگا، نہیں تو حالات بہت مشکل اور تکلیف دہ ہو جائیں گے۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن معاہدہ ضروری ہے۔‘‘
جب ڈونالڈ ٹرمپ سے وقت کی حد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ عمل زیادہ طویل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئندہ ایک ماہ کے اندر کوئی فیصلہ ہو جانا چاہیے اور ایران کو جلد ہی متفق ہو جانا چاہیے۔ امریکی صدر نے واضح لفظوں میں کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ اگر معاہدہ نہیں ہوا تو کہانی مختلف ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا اگر معاہدہ منصفانہ اور اچھا نہیں ہوگا تو ایران کو بہت مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ بیان اس میٹنگ کے ایک روز بعد آیا، جو ٹرمپ نے اسرئیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہماری میٹنگ اچھی رہی اور نیتن یاہو حالت کو سمجھتے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ میرے ہاتھ میں ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ وہ بات چیت روک دیں، تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ بات چیت تب تک جاری رکھیں گے جب تک انہیں مناسب لگے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر معاہدہ نہیں ہوا تو ’فیز 2‘ (دوسرا مرحلہ) شروع ہوگا، جو ایران کے لیے بہت مشکل ہوگا۔ حالانکہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ دوسرے مرحلے میں کیا قدم اٹھائی جائیں گے۔
ٹرمپ کے مذکورہ بیانات سے واضح ہے کہ امریکہ ایک طرف بات چیت جاری رکھنا چاہتا ہے، لیکن دوسری جانب ایران پر دباؤ بھی بنا رہا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام مغربی ایشیا میں ایک سنٹرل فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ کی پہلی مدت کار کے دوران امریکہ 2015 کی نیوکلیئر ڈیل سے ہٹ گیا تھا۔ اس کے بعد سے جوہری ایندھن کی افزودگی اور علاقائی سیکورٹی سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے لیے خلیجی خطے کا استحکام معاشی اور اسٹریجٹک طور پر بہت اہم ہے۔ ہندوستان اپنے خام تیل کا ایک بڑا حصہ مغربی ایشیا سے درآمد کرتا ہے اور اس خطے میں بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری بھی رہتے ہیں۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر تیل بازار اور علاقائی سیکورٹی پر پڑ سکتا ہے۔
بنگلہ دیش میں طارق رحمٰن کی جماعت بی این پی کی فتح، وزیر اعظم نریندر مودی نے دی مبارکباد
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بنگلہ دیش کے تیرہویں پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بڑی کامیابی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے طارق رحمن کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں اس کامیابی کو بنگلہ دیشی عوام کا ان کی قیادت پر اعتماد قرار دیا اور کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری، ترقی پسند اور ہمہ گیر بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط شراکت داری جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ پارلیمانی انتخابات میں فیصلہ کن کامیابی پر وہ طارق رحمن کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ جیت اس بات کی علامت ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام نے ایک بار پھر ان کی قیادت پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ملک مشترکہ ترقیاتی مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کریں گے اور خطے میں استحکام اور خوش حالی کو فروغ دیں گے۔
شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد یہ بنگلہ دیش کا پہلا بڑا انتخاب تھا۔ سترہ برس بعد طارق رحمن کی جماعت کی واپسی کو جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق تین سو رکنی قومی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے اتحاد نے دو سو نو نشستیں حاصل کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔
ادھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کارکنوں اور حامیوں سے جشن نہ منانے کی اپیل کی ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ فتح کا جشن منانے کے بجائے جمعہ کی نماز ادا کی جائے اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو یاد کیا جائے۔
ہندوستان کی جانب سے فوری مبارکباد کو نئی حکومت کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھنے کے واضح اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور معاشی تعاون کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔
جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی میٹنگ میں سابق چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے ’وَن نیشن، وَن الیکشن بل‘ کو آئینی قرار دیا
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
’ون نیشن، ون الیکشن‘ یعنی ایک ملک اور ایک انتخاب سے متعلق بل پر جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کی جمعرات کو اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی نے کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف واضح لفظوں میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’وَن نیشن، وَن الیکشن بل‘ آئین کے بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے وفاقی ڈھانچے اور جمہوری نظام پر کوئی اثر پڑے گا۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ سے صرف انتخابات کرانے کے طریقۂ کار میں ایک بار تبدیلی ہوگی۔
سابق سی جے آئی جسٹس بی آر گوئی کا کہنا ہے کہ ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ سے انتخابی ڈھانچہ اور ووٹرس کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔ پارلیمنٹ کو ایسی ترمیمات لانے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک جیسے التزامات برقرار رہیں گے اور حکومت کی جوابدہی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بی آر گوئی نے ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ کو آئینی طور پر قابل عمل اور ممکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں 1967 تک لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات ایک ساتھ ہوا کرتے تھے۔
اس سے قبل دسمبر میں منعقدہ جے پی سی کی میٹنگ میں ماہرین نے معیشت پر اس کے اثرات کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا تھا۔ آئی ایم ایف کی سابق ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر گیتا گوپی ناتھ نے کہا تھا کہ ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ سے انتخابات کی تعداد کم ہوگی، جس کا معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔ میکرو اکنامک نقطۂ نظر سے یہ ایک مثبت اصلاح ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے انتخابی برسوں میں نجی سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور اس میں تقریباً 5 فیصد تک کمی آتی ہے، جس کی مکمل تلافی بعد کے برسوں میں نہیں ہو پاتی۔ انتخابات کی تعداد کم ہونے سے غیر یقینی صورتحال میں کمی آئے گی اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ ایک ساتھ انتخابات ہونے سے سرکاری اخراجات کی کارکردگی اور ساخت دونوں میں بہتری آ سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ ایک ایسی تجویز ہے جس کے تحت ملک میں لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کا مشورہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے پیچھے دلیل یہ ہے کہ اس سے انتخابی اخراجات میں کمی آ سکتی ہے۔ 2 ستمبر 2023 کو اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاکہ اس پر فعال طور پر کام کیا جا سکے۔ اس کمیٹی کا چیئرمین سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی رپورٹ بھی پیش کر دی ہے جس میں ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کی حمایت کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے 2009 کا اہم ماحولیاتی فیصلہ کیا منسوخ، اوباما کی سخت تنقید
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نیویارک: ڈونالڈ ٹرمپ نے 2009 میں کیے گئے ایک اہم ماحولیاتی فیصلے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے، جو اب تک امریکہ میں ماحولیاتی ضابطوں کی قانونی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ اسی فیصلے کی بنیاد پر موٹر گاڑیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں پر قواعد نافذ کیے گئے تھے اور برقی گاڑیوں کے فروغ کی پالیسیاں ترتیب دی گئی تھیں۔
ٹرمپ نے یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے سربراہ لی زیلڈن کے ہمراہ کیا۔ انہوں نے اسے امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ضابطہ ختم کرنے والی کارروائی قرار دیا۔ پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ وہ نام نہاد ’اینڈینجرمنٹ فائنڈنگ‘ کو ختم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اوباما دور کی ایک ناقص پالیسی تھی جس نے امریکی آٹو صنعت کو نقصان پہنچایا اور صارفین کے لیے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔
سنہ 2009 میں جاری کی گئی “گرین ہاؤس گیس اینڈینجرمنٹ فائنڈنگ” میں کہا گیا تھا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر چار گرین ہاؤس گیسیں انسانی صحت اور فلاح کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس فیصلے کو گاڑیوں کے اخراج کے معیارات اور فوسل فیول کمپنیوں کے لیے اخراج کی رپورٹنگ جیسے ضابطوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نہ تو ٹھوس سائنسی شواہد پر مبنی تھا اور نہ ہی مضبوط قانونی بنیاد رکھتا تھا۔ ان کے مطابق حیاتیاتی ایندھن نے نسلوں تک لاکھوں جانیں بچانے اور دنیا بھر میں اربوں لوگوں کو غربت سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
دوسری جانب براک اوباما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہی فیصلہ گاڑیوں کے دھوئیں اور بجلی گھروں سے پیدا ہونے والی آلودگی پر قابو پانے کی بنیاد تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے عوام کم محفوظ اور کم صحت مند ہوں گے اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد مزید دشوار ہو جائے گی۔ اوباما نے الزام لگایا کہ اس فیصلے کو ختم کرنے کا مقصد صرف فوسل فیول صنعت کو فائدہ پہنچانا ہے۔
فوجی افسران کو کتاب کی اشاعت سے قبل وزارت دفاع کی لینی ہوگی منظوری، حکومت نئے قوانین بنانے میں مصروف!
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروَنے (ریٹائرڈ) کی غیر مطبوعہ کتاب ’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘ کے متعلق اٹھنے والے تنازعہ کے درمیان اب وزارت دفاع ایک اہم قدم اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ وزارت دفاع فوجی خدمات میں مصروف اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کے ذریعہ لکھی جانے والی کتابوں کے لیے نئی گائیڈ لائنز تیار کر رہی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق حال ہی میں اس تعلق سے ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں نئے قوانین کا مسودہ تیار کرنے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ مجوزہ ہدایات میں موجودہ سروس رولز اور آفیشیل سیکرٹس ایکٹ (او ایس اے) کے التزامات کو کو شامل کیا جائے گا۔
اگر کسی کتاب میں فوج کے آپریشن، حکمت عملی یا حساس معلومات کا ذکر ہوگا، تو اسے پہلے وزارت دفاع کو بھیجنا ہوگا۔ وزارت اس مواد کی جانچ کرے گی اور اس کے بعد ہی اس کی اشاعت کی اجازت دی جائے گی۔ فی الحال ریٹائرڈ افسران کے لیے کتاب لکھنے کے حوالے سے کوئی ایک واضح اور یکساں قانون موجود نہیں ہے۔ لیکن آفیشل سیکرٹس ایکٹ (او ایس اے) کے تحت خفیہ معلومات کو عام کرنا جرم ہے۔ یہ قانون ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نافذ رہتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اپنی جگہ ہے، لیکن قومی سلامتی سے وابستہ معلومات کا تحفظ سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس لیے مستقبل میں تنازعات سے بچنے کے لیے واضح قوانین بنائے جا رہے ہیں۔
نئے قوانین کیا ہوں گے؟
یہ ہدایات حاضر سروس اور ریٹائرڈ دونوں اہلکاروں پر نافذ ہوں گی۔
کتاب کی اشاعت سے قبل مسودے کی منظوری کے لیے ایک واضح طریقہ کار طے کیا جائے گا، جس میں وزارت دفاع یا آرمی ہیڈ کوارٹر سے اجازت لینا شامل ہوگا۔
موجودہ سروس رولز اور آفیشل سیکرٹس ایکٹ (او ایس اے) کی دفعات کو شامل کیا جائے گا، تاکہ خفیہ معلومات، آپریشنل تفصیلات، اندرونی طریقہ کار، آلات کی صلاحیت، انٹیلی جنس اِن پٹ یا قومی سلامتی اور غیر ملکی تعلقات سے وابستہ معاملات کو ظاہر کرنے سے روکا جا سکے۔
ریٹائرڈ اہلکاروں کے لیے بھی حساس معلومات پر مبنی کتابوں کو تصدیق اور اجازت کے لیے وزارت دفاع کے پاس جمع کرانا لازمی ہوگا۔
فرضی کہانیوں (فکشن) میں بھی حقیقی حساس معلومات کا استعمال ممنوع رہے گا۔
یہ قوانین قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور خفیہ معلومات کے تحفظ کے لیے لائے جا رہے ہیں، کیونکہ فی الحال ایسی کوئی واحد تفصیلی گائیڈ لائن موجود نہیں ہے جو خاص طور پر ریٹائرڈ افسران کی کتابوں کی نگرانی کرتی ہو۔
پہلے کے اصول سے کتنا مختلف ہوگا؟
آرمی رولز 1954 کی دفعہ 21 کے تحت حاضر سروس اہلکاروں کے لیے سیاسی مسائل، سروس کے معاملات یا پیشہ ورانہ معلومات سے متعلق کسی بھی مواد کی اشاعت سے قبل مرکزی حکومت کی پیشگی اجازت لینا لازمی ہے۔
سروس رولز اور دفاعی خدمات کی ریگولیٹری باڈی کے تحت چین آف کمانڈ سے تحریری اجازت لینا لازمی ہے۔
ریٹائرڈ اہلکاروں پر آرمی ایکٹ نافذ نہیں ہوتا، لیکن آفیشل سیکرٹس ایکٹ زندگی بھر نافذ رہتا ہے، جو خفیہ معلومات کو ظاہر کرنے کو جرم قرار دیتا ہے۔
پنشن رولز میں 2021 کی ترمیم کے تحت انٹیلی جنس یا سیکورٹی اداروں میں کام کرنے والے ریٹائرڈ افسران کو اپنی تنظیم سے متعلق معلومات شائع کرنے سے پہلے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ ان کی پنشن روکی جا سکتی ہے یا واپس لی جا سکتی ہے۔
حالانکہ ریٹائرڈ اہلکاروں کے لیے کوئی واضح سروس رولز موجود نہیں ہیں اور وہ ذاتی صوابدید پر منحصر رہتے ہیں۔ عوامی سطح پر دستیاب معلومات یا ذاتی رائے (جیسے سیاست یا قومی سلامتی پر) شائع کی جا سکتی ہے، لیکن حساس معاملات میں اجازت ضروری ہے۔
اب کیا فرق آئے گا
نئے قوانین زیادہ جامع اور واضح ہوں گے، جو ریٹائرڈ اہلکاروں کو بھی سختی سے اپنے دائرہ کار میں لائیں گے، جہاں پہلے قانونی طور پر حالات غیر واضح تھے (کوئی واحد قانون موجود نہیں)۔
اس عمل کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا، جیسے مسودہ جمع کرانے کا طریقہ، جبکہ پہلے مختلف طریقوں سے دیکھا یا پرکھا جاتا تھا جس میں غلطی کا امکان زیادہ تھا۔
توجہ زیادہ تر قومی سلامتی پر مرکوز ہوگی، اور تضادات کو دور کر کے یکساں طریقہ کار نافذ کیا جائے گا۔
حاضر سروس اہلکاروں کے لیے زیادہ تبدیلیاں نہیں ہوں گی، لیکن ریٹائرڈ افسران کے لیے اجازت کا عمل سخت ہو جائے گا، خاص طور پر ایسی کتابوں کے لیے جن میں آپریشنل یا حساس تفصیلات شامل ہوں۔
ان نئی ہدایات کو ابھی حتمی شکل دی جا رہی ہے اور حال ہی میں ایک میٹنگ میں ان پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ یہ متنازع کتابوں کے معاملات میں ابہام کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کا قہر: زیرِ علاج نرس دم توڑ گئی، دوسری کی حالت تشویشناک
یو این آئی
یو این آئی
مغربی بنگال کے ضلع شمالی 24 پرگنہ کے باراسات میں واقع ایک اسپتال میں زیرِ علاج نیپاہ وائرس سے متاثرہ نرس جمعرات کے روز دم توڑ گئی۔ ریاست میں اس مہلک وائرس سے ہلاکت کا یہ پہلا معاملہ ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق، متاثرہ نرس طویل عرصے سے کریٹیکل کیئر یونٹ میں داخل تھی، تاہم پھیپھڑوں میں دوبارہ انفیکشن ہونے کی وجہ سے اس کی حالت بگڑ گئی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔
اسی اسپتال میں نیپاہ سے متاثرہ ایک اور نرس بھی زیرِ علاج ہے جسے ماہر ڈاکٹروں کی سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ریاستی محکمہ صحت نے اس سے قبل نیا کیس سامنے نہ آنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ان دو کیسز کی تصدیق کے بعد حکام نے متاثرہ نرسوں کے رابطے میں آنے والے افراد کی بڑے پیمانے پر 'کانٹیکٹ ٹریسنگ' شروع کر دی ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اب تک جن افراد کے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے تھے، ان کی رپورٹس منفی آئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس مزید نہیں پھیلا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق نیپاہ ایک 'زونوٹک' بیماری ہے جس کا بنیادی ذریعہ 'فروٹ بیٹ' (پھل کھانے والے چمگادڑ) ہیں۔ یہ وائرس چمگادڑوں کے جھوٹے پھلوں یا ان کے فضلے سے آلودہ اشیاء کے استعمال سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق خنزیر بھی اس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ انسانی سطح پر یہ وائرس متاثرہ شخص کے زیرِ استعمال بستر، کپڑوں یا دیگر اشیاء کے ذریعے دوسرے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔
اگرچہ اس کے ابتدائی علامات عام وائرل بخار جیسی ہوتی ہیں، لیکن اس کی شرحِ اموات 50 سے 60 فیصد تک ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ بیماری کی شروعات تیز بخار، سر درد اور الٹی سے ہوتی ہے، جو شدت اختیار کرنے پر دماغی ورم، دورے پڑنے اور سانس لینے میں شدید دشواری کا باعث بنتی ہے۔ سنگین صورتحال میں مریض 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر کومہ میں جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ نیپاہ وائرس کا تاحال کوئی مخصوص علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے اور مریضوں کا علاج صرف علامات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
0 تبصرے