ایران سے معاہدہ نہ ہوسکا تو پھر نتائج کا انتظار کرنا ہوگا: ٹرمپ
واشنگٹن، 12 فروری (یو این آئی) امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات بہت مثبت رہی تاہم ایران سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان نہایت اچھی اور تعمیری گفتگو ہوئی ہے اور دوطرفہ شاندار تعلقات بدستور قائم ہیں رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ سے نیتن یاہو کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں اسرائیلی وزیراعظم کے کئی نمائندے بھی موجود تھے ملاقات میں ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ملاقات میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کو واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر معاہدہ ممکن ہوا تو یہی ہماری ترجیح ہوگی لیکن اگر معاہدہ نہ ہوسکا تو پھر نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ماضی میں ایران نے معاہدہ نہ کرنے کے فیصلے کو بہتر سمجھا تھا، جس کے بعد مڈنائٹ ہیمر حملہ کیا گیا ان کے مطابق یہ حملہ ایران کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ اس بار ایران زیادہ معقول اور ذمہ دار رویہ اختیار کرے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملاقات میں غزہ اور مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔
ہندوستان نے فرانس کے ساتھ 36 ارب ڈالر کے رافیل معاہدے کو مقامی پیداوار پر زور دیتے ہوئے آگے بڑھایا
جینت رائے چوہدری
نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) ہندوستان فرانس سے 114 اضافی رافیل ایف-4 لڑاکا طیارے حاصل کرنے کے لیے ملٹی بلین ڈالر کے معاہدے کو آگے بڑھا رہا ہے، جن میں سے 96 طیارے ناگپور میں ڈسالٹ ریلائنس ایروسپیس لمیٹڈ کے پلانٹ میں تیار کیے جائیں گے یہ اقدام فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کے آئندہ منگل کو ہندوستان کے دورے سے پہلے کیا جا رہا ہے اس معاہدے میں 18 طیارے براہِ راست فراہم کیے جائیں گے، جبکہ باقی ہندوستان میں تیار ہوں گے۔ دفاعی حصول کمیٹی، جس کی سربراہی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کر رہے ہیں، اس ہفتے اس معاہدے کو منظوری دے گی، جس کے بعد اسے کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ معاہدے کی مالیت تقریباً 2.5 لاکھ کروڑ سے 3.25 لاکھ کروڑ روپے کے درمیان ہوگی۔
ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ ہندوستانی فضائیہ کو درکار طاقت فراہم کرے گا، کیونکہ اس وقت اس کے اسکواڈرن کی تعداد زیادہ تر پرانے مگ-21 طیاروں کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے منظور شدہ 42 کے مقابلے میں کم از کم 10 اسکواڈرن کم ہے۔ حکام نے کہا کہ "ہندوستانی فضائیہ کو ہمیشہ دو محاذوں کے چیلنج کے لیے تیار رہنا چاہیے اور یہ خریداری کافی عرصے سے زیرِ التوا ہے۔"
یہ 114 طیارے ہندوستان کے ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ (ایم آر ایف اے) پروگرام کے تحت حکومت سے حکومت کے فریم ورک میں حاصل کیے جائیں گے، جن میں نئے میزائل سسٹمز اور جدید ایویونکس شامل ہوں گے۔ حکام نے مزید کہا کہ "اس میں بتدریج مقامی کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افراطِ زر کے مطابق قیمتوں کا تعین شامل ہوگا۔ ایم آر ایف اے پروگرام ایف-4/ایف-5 معیار پر مبنی ہوگا اور اس میں جدید میزائل سوئٹس شامل ہوں گی۔"
مقامی پیداوار کی شرائط کے مطابق طیاروں کے پرزے اور الیکٹرانکس ہندوستان میں تیار کیے جائیں گے۔ تقریباً دو درجن ہندوستانی کمپنیاں ڈسالٹ کے ساتھ شراکت داری کے لیے بات چیت کر رہی ہیں۔ ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز نے ڈسالٹ کے ساتھ رافیل کے ڈھانچے ہندوستان میں بنانے کے لیے معاہدہ کیا ہے، جبکہ مہندرا ڈائنامیٹک ٹیکنالوجیز بھی دیگر سسٹمز کے لیے بات چیت کر رہی ہیں۔
اسٹریٹجک طور پر رافیل پہلے ہی ہندوستان کی فضائی طاقت کا مرکزی حصہ ثابت ہوا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ نے 2016 میں کیے گئے معاہدے کے تحت 36 رافیل طیارے شامل کیے تھے، جبکہ بحریہ نے الگ سے بحری ورژن کا آرڈر دیا ہے۔ نئے معاہدے کے بعد ہندوستان کے پاس رافیل طیاروں کی تعداد 176 ہو جائے گی، جس سے وہ فرانس کے بعد اس پلیٹ فارم کا سب سے بڑا آپریٹر بن جائے گا۔
ہندوستانی حکام نے بارہا رافیل کی اعلیٰ سروس ایبلٹی ریٹ (تقریباً 90 فیصد) اور اس کے اسپیکٹرا الیکٹرانک وارفیئر سوئٹ کو اجاگر کیا ہے، جو عملی آپریشنز میں کامیابی سے آزمائے جا چکے ہیں۔
یواین آئی ظ ا
غیر ملکی دباؤ میں کیے گئے معاہدے ملک کے مفاد کے خلاف ہیں: کھڑگے
نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے نے مرکز کی حکومت پر سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی دباؤ میں کیے گئے معاہدے ملک کے مفاد کے خلاف ہیں اور حکومت کی پالیسیاں کروڑوں محنت کش کسانوں، مزدوروں اور کارکنوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں کھڑگے نے نئے لیبر قوانین اور منریگا کو کمزور کرنے کے الزامات پر مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ملک بھر میں ٹریڈ یونینیں، کسان اور مزدور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت کی پالیسیاں کروڑوں محنت کش کسانوں، مزدوروں اور کارکنوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی دباؤ میں کیے گئے معاہدے ملک کے مفاد کے خلاف ہیں اور اس سے عام شہریوں کی زندگی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ چھوٹے تاجر، مزدور اور عام لوگ اس مبینہ عوام مخالف ڈیل کی سب سے زیادہ مخالفت کر رہے ہیں۔
کانگریس صدر نے یہ بھی کہا کہ پارٹی اس مسئلے پر سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے حکومت سے کسانوں اور مزدوروں کے مفادات کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا۔
ہندوستانی معیشت اس وقت غیر معمولی متوازن ہے: سیتارمن
نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ ہندوستان معیشت اس وقت غیرمعمولی متوازن ہے جہاں بلند اقتصادی ترقی کے ساتھ افراطِ زر طویل عرصے تک نچلی سطح پر چل رہا ہے محترمہ سیتارمن نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں بجٹ 2026-27 پر چار روزہ عمومی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بے روزگاری کی شرح بھی نچلی سطح پر ہے اور پچھلے ایک عشرے میں ٹیکس دہندگان کی تعداد دوگنی ہو کر 12 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ بحث کے دوران اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اس بات کو مسترد کیا کہ اس وقت متوسط طبقہ دباؤ میں ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ صرف اس بنیاد پر یہ کہنا غلط ہے کہ متوسط طبقہ مہنگائی اور بلند ٹیکس کے درمیان پس رہا ہے کیونکہ ذاتی انکم ٹیکس کی وصولی کارپوریٹ ٹیکس سے زیادہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں متوسط طبقہ کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ سال 2013-14 سے 2024-25 کے درمیان انکم ٹیکس ریٹرن بھرنے والے اور ٹیکس دینے والے افراد کی تعداد 5.26 کروڑ سے بڑھ کر 12.13 کروڑ ہو گئی ہے۔ ذاتی انکم ٹیکس وصولی میں پچھلے سات برسوں سے سال بہ سال 7.9 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ "اگر مڈل کلاس دباؤ میں ہوتا تو وہ ٹیکس دینے نہ آتا۔" وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پچھلے بجٹ میں 12 لاکھ روپے سالانہ تک کی ذاتی آمدنی پر چھوٹ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تنخواہ داروں پر 12.75 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس نہیں لگتا، معیاری کٹوتی بھی بڑھا دی گئی ہے، نئے ٹیکس ڈھانچے کو آسان بنایا گیا ہے، جی ایس ٹی میں پچھلے سال ستمبر میں کیے گئے اصلاحات سے زندگی گزارنے کی لاگت کم ہوئی ہے اور افراطِ زر تاریخی طور پر کم ترین سطح پر ہے۔
ترکیے کی پارلیمنٹ ’فائٹ کلب‘ میں تبدیل، وزیرِ انصاف کی تقرری معاملہ پر اراکین پارلیمنٹ متصادم، ویڈیو منظر عام پر
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ترکیے کی پارلیمنٹ میں بدھ کے روز اس وقت ’فائٹ کلب‘ جیسا نظارہ دیکھنے کو ملا جب برسراقتدار طبقہ اور اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے درمیان شدید ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ کابینہ میں رد و بدل کے تحت وزیرِ انصاف کے عہدہ پر ایکن گرلیک کو حلف دلایا جا رہا تھا، جس کی اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے سخت مخالفت کی جا رہی تھی۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے ایکن گرلیک کو حلف برداری سے روکنے کی کوشش کی، جس پر برسراقتدار ’اے کے پارٹی‘ کے اراکین ناراض ہو گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین میں تیز بحث شروع ہو گئی۔ چند ہی لمحوں میں یہ زبانی تکرار پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہو گئی اور اراکین پارلیمنٹ ایک دوسرے پر حملہ آور ہو گئے۔ اس دوران لات گھونسے بھی چلے اور ایوان میں شدید ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اس واقعہ کی ویڈیو بھی منظر عام پر آ چکی ہے، جس میں اراکین پارلیمنٹ کو ایک دوسرے سے الجھتے دیکھا جا سکتا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ایکن گرلیک کو ایک متنازعہ شخصیت سمجھا جاتا ہے اور انہیں صدر رجب طیب اردوان کا قریبی تصور کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ گرلیک نے ماضی میں اپوزیشن لیڈران کے خلاف ہائی پروفائل مقدمات کی سماعت کی اور ان کے فیصلے سیاسی طور پر متاثر تھے۔ تاہم حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ ہنگامہ آرائی کے بعد پارلیمنٹ کی کارروائی تقریباً 15 منٹ کے لیے معطل کر دی گئی۔ بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود ایکن گرلیک نے وزیر انصاف کے عہدے کا حلف لے لیا۔
قابل ذکر ہے کہ ایکن گرلیک نے استنبول کے میئر اور صدر اردوان کے بڑے سیاسی حریف اکرم امام اوغلو کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی۔ امام اوغلو پر بدعنوانی اور منظم جرائم سے متعلق 142 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کی بنیاد پر انہیں مجموعی طور پر 2000 سال سے زائد قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ امام اوغلو کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات سیاسی انتقام کا حصہ ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
بہرحال، ترکیے کی پارلیمنٹ میں پیش آنے والا یہ واقعہ ملکی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ جو حالات بدھ کے روز دیکھنے کو ملے، اس سے آنے والے دنوں میں سیاسی گرمی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مودی حکومت عوام کے لیے نہیں بلکہ عوام کے خلاف کام کر رہی ہے: پرینکا گاندھی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے ایک بار پھر مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ کو جاری یونین بجٹ 2026 کے اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’نریندر مودی حکومت نے پہلے لیبر کوڈ لا کر مزدوروں کے حقوق پر حملہ کیا، پھر امریکہ کے دباؤ میں کسانوں کے مفادات سے سمجھوتہ کر لیا۔ امریکی تجارتی معاہدہ میں جس طرح کی شرائط رکھی گئی ہیں، اس سے ہندوستانی کسانوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔‘‘
پرینکا گاندھی نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’اس سے پہلے بھی یہ حکومت کسانوں کے خلاف قانون لا چکی ہے، جس نے 750 کسانوں کی جان لے لی تھی۔ مودی حکومت عوام کے لیے نہیں بلکہ عوام کے خلاف کام کر رہی ہے۔ ان کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف کانگریس پارٹی ڈٹ کر کھڑی ہے۔ ہم ہمارے مزدور کسان بھائیوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
کانگریس نے اپنے آفیشل ’ایکس‘ ہینڈل سے بھی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں پرینکا گاندھی پارلیمنٹ احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ پرینکا گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ہونے والی ٹریڈ ڈیل سے کسانوں کو بہت نقصان ہونے والا ہے۔ اسی وجہ سے آج لیبر یونین ہڑتال پر ہیں اور ہم ان کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت چاہے راہل جی کے خلاف پریویلیج نوٹس لائے یا ایف آئی آر کرے..انہیں فرق نہیں پڑتا۔‘‘
واضح رہے کہ سنیوکت کسان مورچہ اور ملک کی 10 سے زائد کسان تنظیموں کے ساتھ کئی مرکزی ٹریڈ یونین آج ’بھارت بند‘ کا اعلان کرتے ہوئے ملک گیر ہڑتال پر ہیں۔ کئی اپوزیشن جماعتیں بھی اس احتجاج کی حمایت کر رہی ہیں۔ کسان اور مزدور تنظیمیں ہند-امریکہ عبوری تجارتی معاہدے، نئے لیبر کوڈ، بجلی بل 2025، بیج بل 2025 اور وی بی جی رام جی قانون 2025 کے خلاف سڑکوں پر نکلی ہیں۔
0 تبصرے