’ہندوستان واپس آئے بغیر وجے مالیہ کو کوئی راحت نہیں‘، بامبے ہائی کورٹ نے دیا آخری موقع
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ممبئی: بامبے ہائی کورٹ نے مفرور کاروباری شخصیت وجے مالیہ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر عدالت کی کارروائی سے بچ رہا ہو، وہ انصاف پر مبنی راحت کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر مالیہ ہندوستان واپس نہیں آتے تو ان کی عرضی پر سماعت ممکن نہیں ہوگی، تاہم منصفانہ اصولوں کے تحت انہیں اپنا موقف واضح کرنے کا ایک آخری موقع دیا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس چندرشیکھر کی سربراہی والی بنچ وجے مالیہ کی اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں انہوں نے مفرور معاشی مجرم قانون، 2018 کی آئینی حیثیت اور خود کو مفرور قرار دیے جانے کی کارروائی کو چیلنج کیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ وہ یہ درج کرنے کے حق میں ہے کہ عرضی گزار عدالت کے دائرہ اختیار سے بچ رہے ہیں، اس لیے وہ کسی بھی طرح کی راحت کے حقدار نہیں ٹھہرائے جا سکتے۔ عدالت نے کہا کہ پہلے واپس آئیں، پھر قانون کے مطابق اپنی بات رکھیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ حالات کے پیش نظر عرضی فوری طور پر خارج کی جا سکتی تھی، لیکن شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملہ ملتوی کیا جا رہا ہے تاکہ وجے مالیہ یہ واضح کریں کہ آیا وہ وطن واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔ آئندہ سماعت اگلے ہفتے مقرر کی گئی ہے۔
اس سے قبل وزارت خارجہ نے بھی اپنے موقف میں کہا تھا کہ حکومت معاشی جرائم میں ملوث افراد کو ہندوستان واپس لانے کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔ وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق اس عمل میں کئی قانونی مراحل شامل ہیں، تاہم حکومت وجے مالیہ اور للت مودی جیسے افراد کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
لوک سبھا میں وزیر مملکت برائے مالیات پنکج چودھری نے بتایا کہ 31 اکتوبر 2025 تک پندرہ افراد کو مفرور معاشی مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ ان میں سے نو افراد پر سرکاری بینکوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر مالی دھوکہ دہی کے الزامات ہیں، جن سے 26,645 کروڑ روپے کا اصل نقصان ہوا، جب کہ سود سمیت رقم 31,437 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اب تک 19,187 کروڑ روپے کی وصولی کی جا چکی ہے۔
وجے مالیہ اور للت مودی نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ وجے مالیہ نے حال ہی میں حکومت اور سرکاری بینکوں سے سوال اٹھایا تھا کہ وصول کی گئی رقم کے بارے میں مختلف بیانات کیوں سامنے آ رہے ہیں، اور انہوں نے اس معاملے کی جانچ کے لیے ریٹائرڈ جج کی تقرری کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنگلہ دیش انتخابات میں پولنگ کے دوران تشدد، بی این پی رہنما ہلاک، بم حملے میں تین افراد زخمی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں جمعرات کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے، جس کے نتیجے میں ایک سیاسی رہنما ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولنگ شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
کھُلنا ضلع کے عالیہ مدرسہ پولنگ اسٹیشن پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما محب الزمان کوچی ہنگامہ آرائی کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔ عینی شاہدین اور پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ جمعرات کی صبح بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے حامیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔
بتایا گیا ہے کہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب عالیہ مدرسہ کے پرنسپل پر جماعتِ اسلامی کے حق میں مہم چلانے کا الزام لگایا گیا۔ کھلنا صدر تھانہ کے سابق بی این پی تنظیمی سکریٹری یوسف ہارون مجنو کے مطابق صبح سے ہی مرکز پر تناؤ موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تلخ کلامی کے دوران دھکم پیل ہوئی، جس کے باعث محب الزمان کوچی درخت سے ٹکرا کر سر پر چوٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے۔
کھلنا سٹی میڈیکل کالج اسپتال کے ایمرجنسی میڈیکل آفیسر پارتھا رائے نے تصدیق کی کہ کوچی کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا۔ پولیس سب انسپکٹر خان فیصل رفیع، جو اس مرکز کے انچارج تھے، نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی فورس موقع پر پہنچی اور دونوں گروپوں کو الگ کر دیا گیا۔
دوسری جانب گوپال گنج صدر سب ڈویزن کے ایک پولنگ اسٹیشن پر کاک ٹیل بم حملے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔ ریشما انٹرنیشنل اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر نامعلوم افراد نے نہر کے پار سے بم پھینکے، جس سے ڈیوٹی پر موجود دو اہلکار اور ایک بچہ زخمی ہوا۔ دھماکے کے بعد ووٹروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ادھر جماعتِ اسلامی نے بھی ملک کے مختلف علاقوں میں اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کو ووٹنگ سے روکنے اور حملوں کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ جماعت کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان المحبوب زبیر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ باریسال، بھولا-۲، کومیلا-۸ اور ہاتیا سمیت کئی حلقوں میں ان کے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا اور ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن جانے سے روکا گیا۔
سہولت بنی جان لیوا! 2040 تک پلاسٹک سے انسانی زندگی کے 8.3 کروڑ صحت مند سال کم ہو نے کا انتباہ
پلاسٹک، تصویر آئی اے این ایسi
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
پلاسٹک روزمرہ کی زندگی کا سب سے عام حصہ بن چکی ہے لیکن یہی سہولت اب صحت کے لیے بڑے خطرے کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر پلاسٹک کی پیداواراوراستعمال کا موجودہ انداز جاری رہا تو سال 2040 تک دنیا بھرمیں انسانی زندگی کے 8.3 کروڑ صحت مند سال کم ہو سکتے ہیں۔ ماہرین اسے سست مگر خطرناک غیر مرئی وبائی بیماری قرار دے رہے ہیں۔
ممتاز طبی جریدے ’لینسیٹ پلینیٹری ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں پلاسٹک کے پوری زندگی کے دوران ہونے والے اثرات کی پیمائش کی گئی۔ اس تحقیق میں خام تیل اور گیس نکالنے سے لے کر پلاسٹک کی پیداوار، استعمال اور کچرے کو ٹھکانے لگانے تک ہر مرحلے کو شامل کیا گیا۔ اس تحقیق کی قیادت لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی ایک ٹیم نے کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کے خطرات صرف کچرے تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ پیداوار کے وقت سے ہی شروع ہوجاتے ہیں۔
محققین کے مطابق پلاسٹک کی پیداوار کے ہرمرحلے پر زہریلے عناصرخارج ہوتے ہیں۔ پیداوار کے دوران گیس اور کیمیکل ہوا میں جاتے ہیں. مائکرو پلاسٹک کے ذرات استعمال کے دوران خوراک اور پانی میں داخل ہوجاتے ہیں۔ کچرے کو جلانے یا گلانے سے زہریلا دھواں پھیلئتا ہے۔ یہ مرکبات سانس کی بیماریوں، ہارمونل عدم توازن اور کینسر جیسے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پلاسٹک کا اثرپیدائش سے لے کر بڑھاپے تک صحت پر پڑسکتا ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کے بہت چھوٹے ذرات جنہیں مائیکرو پلاسٹک کہا جاتا ہے، اب ہوا، پانی اور مٹی میں مل چکے ہیں۔ یہ ذرات جسم کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ جڑے کیمیکلز جسم کے خلیات اور ہارمونل سسٹم کو متاثر کر سکتے ہیں۔ طویل مدت میں، یہ دل، پھیپھڑوں اور تولیدی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ کئی کیمیکلز کو ممکنہ کینسر کی وجہ بھی مانا گیا ہے۔
پلاسٹک نہ صرف صحت کو براہ راست بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے ذریعے بھی متاثر کرتی ہے۔ پلاسٹک کی صنعت کا انحصار تیل اور گیس پر ہے جس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔ کچرے کو جلانے سے زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں، جس سے گرمی، آلودگی اور بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ماحولیاتی اور صحت کے خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ن حالات میں سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران ابھی روکا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے آدھے ادھورے اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ پلاسٹک کی پیداوار کو کم کرنا، محفوظ متبادل میں اضافہ اور کچرے کے انتظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ابھی سخت پالیسیوں پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں اس کا بوجھ صحت کے نظام پر بھاری پڑے گا۔
ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کا احتجاج، وزیر اعظم مودی پر کسانوں سے دھوکہ دہی کا الزام
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی: ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف آج پارلیمنٹ کے احاطے میں حزب اختلاف کے ارکان نے زبردست احتجاج کیا۔ نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دروازہ پر جمع اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے بھارت بند کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر عوامی مفادات سے سمجھوتہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
کانگریس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حزب اختلاف کے ارکان ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کی ان شقوں کی مخالفت کر رہے ہیں جو عوام اور خاص طور پر کسانوں کے مفاد کے خلاف ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ہندوستان کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور تجارتی معاہدے دباؤ میں نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے ہونے چاہئیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے کسانوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے آج لیبر یونینیں ہڑتال پر ہیں اور اپوزیشن ان کی حمایت کر رہی ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت چاہے راہل گاندھی کے خلاف استحقاق نوٹس لائے یا مقدمہ درج کرے، اس سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ کسانوں اور مزدوروں کے حق کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔
اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے امریکہ کے دباؤ میں آ کر ملک کے وقار اور کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاہدے پر نظر ثانی نہیں کی گئی تو اس کے اثرات زرعی شعبے اور دیہی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
دریں اثنا ملک بھر میں کسان تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں کی اپیل پر بھارت بند کا اثر مختلف ریاستوں میں دیکھا گیا۔ کئی مقامات پر کسانوں اور مزدوروں نے ریلیاں نکالیں اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے، نئے لیبر قوانین اور دیگر مجوزہ بلوں کے خلاف ہے جنہیں وہ عوام مخالف قرار دے رہی ہیں۔
حزب اختلاف نے واضح کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ اس معاملے کو اٹھاتی رہے گی اور کسانوں و مزدوروں کے مطالبات کی حمایت جاری رکھے گی۔
ایران سے جوہری مذاکرات جاری رہنا چاہیے: ٹرمپ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے پر اصرار کیا لیکن خبردار کیا کہ اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا تو وہ تہران کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ رہنماؤں کی ملاقات وائٹ ہاؤس میں اس وقت ہوئی جب پورے مشرق وسطیٰ میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو روکنے کے لیے بات چیت تیز ہو رہی ہے۔
نیتن یاہو سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ایک ایسےمعاہدے پر عمل درآمد کریں جس سے نہ صرف ایران کی یورینیم کی افزودگی روک دی جائے گی بلکہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور حماس اور حزب اللہ جیسے پراکسی گروپوں کی حمایت میں بھی کمی آئے گی۔
ایران نے تجویز دی ہے کہ وہ پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے دیگر مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اجلاس سے قبل، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے خبردار کیا کہ ان کا ملک "ان کے ضرورت سے زیادہ مطالبات تسلیم نہیں کرے گا"۔
نتن یاہو کا یہ دورہ ٹرمپ کے دفتر میں واپسی کے بعد سے امریکہ کا ان کا چھٹا دورہ ہے جو کسی بھی دوسرے عالمی رہنما سے زیادہ ہے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا کہ رہنماؤں کے درمیان ملاقات "بہت اچھی" رہی۔ انہوں نے کہا کہ "اس کے علاوہ کوئی حتمی بات نہیں ہوئی جس پر میں نے اصرار کیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے ۔"
منگل کو واشنگٹن پہنچنے کے بعد نیتن یاہو نے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ان دونوں نے "گزشتہ جمعہ کو ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کی پیش رفت فراہم کی"۔
نیتن یاہو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام ہو جاتا ہے اور مظاہرین کو مارنا بند نہیں کرتا تو اس کے انجام سنگین ہوں گے۔‘‘
ایران کے اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر بدھ کے روز تہران میں ایک ریلی سے خطاب میں پیزشکیان نے کہا"ہمارا ایران جارحیت کے سامنے نہیں جھکے گا، لیکن ہم خطے میں امن و سکون کے قیام کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنی پوری طاقت کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔"
’انتخابی نتائج پہلے سے طے ہیں‘: شیخ حسینہ کے بیٹے سجیب واجد کا بیان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بنگلہ دیش میں آج ہونے والے عام انتخابات سے عین قبل سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے صاحبزادے سجیب واجد نے انتخابی عمل اور موجودہ سیاسی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی سے ’آج تک ‘کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں واجد نے انتخابات کو دھوکہ دہی قرار دیا اور بنگلہ دیش کے عوام سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی نتائج پہلے سے طے ہیں اور بڑے پیمانے پر دھاندلی ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جماعت اسلامی برسراقتدار آئی تو بنگلہ دیش میں انتہا پسندی، شرعی قانون اور دہشت گردی بڑھ سکتی ہے۔
انٹرویو میں سجیب واجدنے کہا کہ بنگلہ دیش کی سب سے پرانی اور سب سے بڑی جماعت عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی لیگ تاریخی طور پر ہر الیکشن میں 30 سے 40 فیصد ووٹ حاصل کرتی رہی ہے لیکن اس بار اس پر سرکاری طور پر پابندی لگائی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نہ صرف عوامی لیگ بلکہ تمام ترقی پسند سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیسری سب سے بڑی پارٹی ’جاتیہ پارٹی ‘پر سرکاری طور پر پابندی نہیں ہے لیکن اس کے کئی رہنماؤں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے، ان کے دفاتر اور گھروں کو جلا دیا گیا ہے، اور انہیں انتخابی مہم چلانے سے روک دیا گیا ہے۔ اس سے انتخابات مکمل طور پر یک طرفہ ہو گئے ہیں جس کا فائدہ حزب اختلاف کی جماعت بی این پی اور جماعت اسلامی کو ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابات جمہوری حکومت کی بین الاقوامی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے محض رسمی طور پر کرائے جا رہے ہیں۔ یہ محض دھوکہ ہے۔ ان کے مطابق اس الیکشن کا بنیادی مقصد جماعت اسلامی کو اقتدار میں لانا یا اسے پارلیمنٹ میں مضبوط پوزیشن دینا ہے۔ سجیب واجد نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں عوامی لیگ کے 500 سے زائد کارکنوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 سے زائد کارکن پولیس حراست میں ہلاک ہوئے اور ہزاروں سیاسی مخالفین کو قید کیا گیا ہے۔ بہت سے رہنما ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں، اور انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔
انٹرویو میں سجیب واجد نے جماعت اسلامی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کا بیان کردہ ہدف شریعت کا نفاذ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اقتدار میں آئی تو خواتین پر پابندیاں لگ سکتی ہیں اور اقلیتوں پر حملے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بنگلہ دیش کو دہشت گردی کے مرکز میں تبدیل کر سکتا ہے جس سے پڑوسی ممالک خاص طور پر ہندوستان متاثر ہو گا۔
سجیب واجدنے کہا کہ ان کی والدہ شیخ حسینہ سے انتخابات کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ ان انتخابات سے سخت مایوس ہیں اور بنگلہ دیش کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ خاص طور پر جماعت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور دہشت گردی کے خطرے سے پریشان ہیں۔
سجیب واجد نے بنگلہ دیش کے نوجوانوں سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن میں پہلے ہی دھاندلی ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جعلی ووٹنگ کی سہولت کے لیے پہلی بار پوسٹل بیلٹ سسٹم متعارف کرایا گیا تھا۔ کویت اور بحرین سے ہزاروں پوسٹل بیلٹ پر مہر لگنے کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ انتخابی بیلٹ پیپرز جماعتی رہنماؤں کے گھروں میں چھاپے جا رہے ہیں اور کئی جگہوں پر ووٹنگ سرکاری آغاز سے پہلے شروع ہو گئی ہے۔
انٹرویو کے دوران سجیب واجد نے کہا کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کی واپسی اسی صورت میں ممکن ہے جب عالمی برادری ان انتخابات کو غیر قانونی قرار دے کر حکومت پر دباؤ ڈالے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں بہت سے قانون سازوں اور سیاسی تجزیہ کاروں نے بنگلہ دیش کے انتخابات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقلیتوں کے تحفظ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں
0 تبصرے