پی ایم مودی کا ٹرمپ کی شرائط کے سامنے سرینڈر کرنا ہندوستانی ٹیکسٹائل کے لیے موت کا فرمان: راہل گاندھی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج ایوانِ زیریں میں بجٹ سے متعلق اپنی آراء پیش کرنے کے دوران مودی حکومت پر سخت ترین حملے کیے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ، ایپسٹین فائل اور ہندوستانی نوجوانوں کی بے روزگاری سمیت کئی اہم مسائل سامنے رکھے۔ لوک سبھا میں کی گئی ایک تقریر کی ویڈیو راہل گاندھی نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بنگلہ دیش نے نفع بخش تجارتی معاہدہ کیا ہے، جبکہ ہندوستان کو خسارہ ہی خسارہ ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کا منفی اثر ٹیکسٹائل سیکٹر پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ٹیکسٹائل کی ریس میں ہندوستان 18 فیصد ٹیرف کی بیڑیوں میں دوڑے گا اور بنگلہ دیش 0 فیصد کے کھلے میدان میں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم (مودی) کا ٹرمپ کی شرائط کے سامنے سرینڈر کا اعلان، ہندوستانی ٹیکسٹائل کے لیے موت کا فرمان ہے۔ کیا ہم ریس شروع ہونے سے پہلے ہی پیچھے نہیں چھوٹ رہے؟‘‘
راہل گاندھی نے اس سے قبل بھی ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جو آج لوک سبھا میں مکمل تقریر پر مبنی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ نے 140 کروڑ ہندوستانیوں کا مستقبل گروی رکھ دیا ہے۔ نوجوانوں کے روزگار داؤ پر، کسانوں کی فصل سمجھوتے کی میز پر، اور توانائی سیکورٹی بیرون ملکی شرطوں پر!‘‘ اس معاہدہ کو راہل گاندھی نے شدید دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’کوئی وزیر اعظم بغیر بھاری دباؤ کے ایسے گھٹنے نہیں ٹیکتا۔ ہندوستان سمجھتا ہے... یہ معاہدہ برابری کا نہیں، مجبوری کا ہے۔‘‘ اس پوسٹ میں راہل گاندھی نے ’ایپسٹین فائلز‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ایپسٹین فائلز سے ہو یا اڈانی کیس سے، مودی جی نے اپنا اقتدار بچانے کی قیمت قومی مفادات سے ادا کی ہے۔‘‘
کانگریس نے بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر راہل گاندھی کی تقریر کا ایک چھوٹا سا حصہ بشکل ویڈیو جاری کیا ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ جو ٹیکسٹ اپوزیشن پارٹی نے درج کیا ہے، اس میں بھی ’ایپسٹین فائلز‘ کا ذکر خاص طور سے موجود ہے۔ پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’جب مارشل آرٹ میں چوک لگاتے ہیں، تو چوک ہو رہے آدمی کی آنکھ میں ڈر نظر آتا ہے۔ اسی طرح یہاں نریندر مودی کی آنکھ میں ڈر نظر آتا ہے۔ وہ آنکھ میں آنکھ نہیں ملا پاتے ہیں۔ ایپسٹین کیس میں 3 ملین فائلیں ابھی آنی باقی ہیں۔‘‘ راہل گاندھی ’ایپسٹین فائلز‘ کا حوالہ دے کر مودی حکومت پر گزشتہ کچھ دنوں سے مستقل حملہ آور دکھائی دے رہے ہیں۔ آج انھوں نے لوک سبھا میں اسے خاص طور سے اپنی تقریر کا حصہ بنایا، جس پر برسراقتدار طبقہ کے لیڈران کئی بار اعتراض ظاہر کرتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔
بنگلہ دیش کی یونس حکومت نے ملک میں خوب مچائی لوٹ، 2 رپورٹس نے کیا انکشاف
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
18 ماہ کی مدت کار میں محمد یونس کی عبوری حکومت نے بنگلہ دیش میں خوب لوٹ مچائی ہے۔ اس بات کا انکشاف ڈھاکہ سے سامنے آئی 2 تازہ رپورٹ میں ہوا ہے۔ پہلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں 2025 میں بدعنوانی کا معاملہ بڑھا ہے، جو فکر انگیز ہے۔ بنگلہ دیش کو دنیا کے بدعنوان ممالک کی فہرست میں 13واں مقام حاصل ہوا ہے، جو کہ اس سے قبل بدعنوان ممالک کی فہرست میں 14ویں مقام پر تھا۔
دوسری رپورٹ محمد یونس اور ان کے وزراء سے متعلق آئی ہے۔ یہ رپورٹ بنگلہ دیش کی حکومت نے ہی جاری کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کے 18 وزراء کی ملکیت میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ ملکیت میں یہ اضافہ کس طرح ہوا۔ کچھ وضاحت نہ ہونے سے لوگوں کے شبہات میں اضافہ ہونا لازمی ہے۔
بہرحال، یونس کی عبوری حکومت نے جب بنگلہ دیش میں ذمہ داری سنبھالی تھی، تب بنگلہ دیش بدعنوان ممالک کی فہرست میں 14ویں مقام پر تھا۔ اب گلوبل ٹرانسپیرنسی کے مطابق بنگلہ دیش بدعنوان ممالک کی فہرست میں 13ویں مقام پر ہے۔ یعنی بنگلہ دیش میں بدعنوانی کے معاملے پہلے سے زیادہ بڑھے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ’گلوبل ٹرانسپیرنسی‘ بدعنوانی معاملہ پر ہر سال ایک رپورٹ جاری کرتا ہے۔ اس سال رپورٹ میں امریکہ اور یوروپ سے متعلق سنگین فکر کا اظہار کیا گیا ہے۔ یوروپ کے بیشتر ممالک میں امریکہ کی طرح بدعنوانی کے معاملوں میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ڈنمارک دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بدعنوانی نہ کے برابر ہے۔
ایک طرف جہاں بنگلہ دیش میں بدعنوانی کے معاملے بڑھے ہیں، وہیں یونس حکومت کے وزراء کی اوسط ملکیت میں 6 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ محمد یونس کی ملکیت میں بھی 1.6 کروڑ ٹکا سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مشیر عادل الرحمن اور بدھان رنجن رائے پودار کی ملکیت میں بھی کافی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ حکومت کی رپورٹ کے مطابق عادل الرحمن کی مجموعی ملکیت 98 لاکھ 22 ہزار 7 ٹکا سے بڑھ کر 2 کروڑ 52 لاکھ 99 ہزار 269 ٹکا ہو گئی ہے۔ اسی طرح بدھان رنجن پودار کی ملکیت میں بھی تقریباً 1.5 کروڑ ٹکا کا اضافہ ہوا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اضافہ شدہ یہ اعداد و شمار کچھ ترمیم کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ صحیح اعداد و شمار اس سے کئی گنا زیادہ ہیں۔
کینیڈا کے برٹش کولمبیا کے اسکول میں فائرنگ، 9 افراد ہلاک، 25 زخمی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے علاقے ٹمبلر رج میں واقع ٹمبلر رج سیکنڈری اسکول میں فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 25 دیگر زخمی ہو گئے۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس کے مطابق مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 1 بج کر 20 منٹ پر اسکول میں فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے فوراً بعد پولیس اور ہنگامی خدمات کے ادارے موقع پر پہنچ گئے۔ ابتدائی کارروائی کے دوران پولیس اہلکاروں نے اسکول میں داخل ہو کر خطرے کی تلاش کی اور متعدد متاثرین کو پایا۔ ایک شخص، جسے حملہ آور قرار دیا جا رہا ہے، موقع پر مردہ حالت میں ملا اور بظاہر اس کی موت خود کو پہنچائی گئی چوٹ کے باعث ہوئی۔
پولیس کے بیان کے مطابق اسکول کے اندر 6 مزید افراد مردہ پائے گئے جبکہ ایک زخمی راستے میں دم توڑ گیا۔ دو شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ تقریباً 25 دیگر افراد کو مقامی طبی مرکز میں طبی معائنہ اور علاج فراہم کیا جا رہا ہے، جن کی چوٹیں جان لیوا نہیں ہیں۔
رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ واقعے سے منسلک ایک دوسرے مقام کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ایک رہائشی مکان سے دو مزید افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ اس پہلو کی بھی تفتیش جاری ہے کہ آیا اس حملے میں کوئی اور شخص ملوث تھا یا نہیں! پولیس کے مطابق اسکول کے تمام طلبہ اور عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔
انتخابات سے قبل یوگی حکومت نے پیش کیا 9,12,696 کروڑ روپے کا بجٹ، دیہی ووٹروں کو خوش کرنے کی کوشش
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ملک میں عام بجٹ 2026 پیش ہونے کے بعد آج سب کی نظریں 25 کروڑ کی آبادی والے صوبہ اتر پردیش پر لگی ہوئی ہیں۔ بدھ کے روز صبح تقریباً11 بجے یوگی حکومت کے وزیر خزانہ سریش کھنہ نے یوپی اسمبلی میں اب تک کا سب سے بڑا 9,12,696 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا۔ اس دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہماری سابقہ اور موجودہ دونوں حکومتوں کے دور میں ریاست کے سبھی علاقوں میں ترقی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایس ڈی جی انڈیا انڈیکس میں اترپردیش کی درجہ بندی بہتر ہوکر 2024-2023 میں 18 ویں نمبر پر آ گئی ہے۔
اپنے بجٹ خطاب میں وزیرخزانہ نے دعویٰ کیا کہ اترپردیش ہندوستان کا سب سے بڑا موبائل فون مینوفیکچرنگ کا مرکز بن گیا ہے۔ ملک کی کل موبائل فون مینوفیکچرنگ کی 65 فیصد پیداوار ریاست میں ہوتی ہے۔ بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ سریش کمار کھنہ نے اہم شعبوں کے لیے مختص رقم کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے رقم الاٹمنٹ بالترتیب کل بجٹ کا 12.4 اور 6 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ زراعت اور متعلقہ خدمات کے لیے مختص رقم کل بجٹ کا 9 فیصد ہے۔
اپنی بجٹ تقریر میں وزیرخزانہ نے کہا کہ وزیراعظم کی رہنمائی اور وزیراعلیٰ کی قیادت میں ریاست میں جدید ٹیکنالوجی اورانفارمیشن ٹیکنالوجی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش مستقبل قریب میں ملک کا آئی ٹی ہب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے دیہی روزگار کو فروغ دینے کے لیے کھادی اور دیہی صنعتی سیکٹر میں بڑے التزامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ دیہی روزگار اسکیم کے تحت سال 27-2026 میں 800 نئی یونٹس قائم کی جائیں گی۔ اس کے لیے 40 کروڑ کے بینک قرض کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس سے 16,000 لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا ہدف ہے۔
اس کے علاوہ پنڈ دین دہال ولیج انڈسٹریز ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت دیہی اکائیوں کو بینک قرض پر سود سبسڈی فراہم کرنے کے لیے 10 کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ گورکھپور کے کھجنی واقع کمبل پروڈکشن سینٹر کو جدید بنانے کے لیے 7.50 کروڑ روپے کی ایک نئی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ ماٹی کلا کے روایتی کاریگروں کی بہبود کے لئے ’ماٹی کلا انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ پروگرام‘ کے لیے 13 کروڑ روپے کا بندوبست کیاگیا ہے۔
اسی طرح بجٹ میں کونسل اسکول کے اساتذہ اور کنٹریکٹ ملازمین کے لیے کیش لیس طبی دیکھ بھال کے لیے ایک نئی اسکیم شروع کی گئی ہے جس کے لئے 358 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ یوگی حکومت کے ان اعلانات پر سیاسی تجزیہ کاروںش کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اعلانات پنچایتی انتخابات سے عین قبل کیے گئے ہیں۔ حکومت کا مقصد دیہی ووٹروں کو راغب کرنا اور یہ ظاہر کرنا ہے کہ بی جے پی دیہی ترقی کے لیے سنجیدہ ہے۔
اترپردیش میں پنچایتی انتخابات اپریل اورجولائی 2026 کے درمیان ہونے والے ہیں۔ یہ انتخابات دیہی علاقوں میں انتہائی اہم مانے جاتے ہیں کیونکہ اس سے گاوؤں کی حکومت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ چنانچہ آج پیش کیے گئے یوپی بجٹ 27-2026 میں حکومت نے دیہی ترقی اور پنچایتوں کو کسی حد تک خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یوگی حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بجٹ میں پنچایتوں کی ترقی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پنچایتوں کے لیے 32 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پنچایت عمارتوں کی تعمیراوربہتری کے لیے 100 کروڑ روپے الگ سےمختص کیے گئے ہیں۔
ہند-امریکہ معاہدہ اور ایپسٹین فائل کو لے کر راہل گاندھی کا شدید حملہ، ’مودی جی، آپ نے ہندوستان کو بیچ دیا‘
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بدھ کے روز حکومت پر اب تک کا سب سے تیز حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ہندوستان کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیا گیا ہے اور ملک استحکام کی حالت سے نکل کر خطرناک عدم استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے ایپسٹین فائل، بڑے صنعت کاروں اور ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کا ذکر کیا جس پر ایوان میں کافی ہنگامہ ہوا۔
راہل گاندھی نے اپنی تقریر کا آغاز مارشل آرٹ کی مثال سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مارشل آرٹ میں پہلے گرفت بنتی ہے اور پھر چوک کے ذریعے حریف کو بے بس کیا جاتا ہے۔ سیاست میں بھی یہی ہوتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں گرفت دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان-امریکہ معاہدہ اسی ’چوک‘ کی مثال ہے۔ ان کے بقول، ’’ہم نے اپنی عوام کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیا۔‘‘
انہوں نے اقتصادی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا جیو پولیٹیکل ٹکراؤ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ چین، روس اور دیگر طاقتیں امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کر رہی ہیں۔ توانائی اور مالیاتی نظام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم اور قومی سلامتی کے مشیر کے اس بیان پر بھی انہوں نے سوال اٹھایا کہ جنگ کا دور ختم ہو گیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور دنیا غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین کی کشمکش میں سب سے قیمتی اثاثہ ہندوستانی ڈیٹا ہے۔ “اگر امریکہ کو سپر پاور بنے رہنا ہے اور ڈالر کا غلبہ برقرار رکھنا ہے تو اسے ہندوستانی ڈیٹا کی ضرورت ہے۔” ان کے مطابق آبادی بوجھ نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے، بشرطیکہ اس کے ڈیٹا کو محفوظ رکھا جائے۔
راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ کیا اب امریکہ طے کرے گا کہ ہندوستان کہاں سے تیل خریدے؟ اگر امریکہ یہ کہتا ہے کہ آپ فلاں ملک سے تیل نہیں خرید سکتے تو یہ توانائی شعبے کا ہتھیار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف تین فیصد سے بڑھ کر اٹھارہ فیصد ہو گیا، جو مالیاتی شعبے کے ویپنائزیشن کی مثال ہے۔ بنگلہ دیش کو زیرو ٹیرف ملنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت کو نقصان ہوا جبکہ امریکی برآمدات میں اضافہ ہوا۔
تقریر کے دوران راہل گاندھی نے ایپسٹین فائل کا ذکر کیا اور کہا کہ ایک مخصوص کاروباری شخصیت کا نام اس میں ہے، مگر کارروائی نہیں ہوئی۔ اس پر پارلیمانی امور کے وزیر کیرن ریجیجو نے سخت اعتراض کیا اور کہا کہ بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ روی شنکر پرساد نے بھی مخالفت کی۔ پیٹھاسین جگدمبیکا پال نے راہل گاندھی کو بجٹ پر محدود رہنے کی ہدایت دی اور بعض بیانات کو ریکارڈ سے خارج کرنے کی بات کہی۔
راہل گاندھی نے دفاعی بجٹ، اڈانی اور انیل امبانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ کمپنیوں پر امریکہ میں مقدمات ہیں اور حکومت وضاحت دے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ ہول سیل سرینڈر ہے، صرف وزیر اعظم کا نہیں بلکہ 140 کروڑ عوام کا سرینڈر ہے۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان پاکستان کے برابر نہیں ہے اور اسے اپنی حیثیت کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات ہوتے تو پہلی ترجیح ڈیٹا سکیورٹی، دوسری توانائی سلامتی اور تیسری کسانوں کا تحفظ ہونا چاہیے تھا۔ تقریر کے اختتام پر ایوان میں شور شرابہ جاری رہا، جبکہ حکومت کی جانب سے الزامات کو مسترد کیا گیا۔ تقریر کے اختتام پر حزب اختلاف کے ارکان نے حزب اقتدار کے تویہ پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
’آپریشن سندور کا ہیرو رافیل تھا‘، ایئرفورس کے وائس چیف ناگیش کمار کا اہم بیان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
’آپریشن سندور‘ کے دوران ہندوستان نے پوری دنیا کو دکھایا تھا کہ ہندوستان اپنے دشمنوں کو تباہ کرنے کے لیے کہیں بھی جا سکتا ہے۔ اس آپریشن میں ہندوستان نے پاکستان سرحد کے پیچھے بنے کئی دہشت گردانہ ٹھکانوں کو تباہ کیا تھا اور سینکڑوں دہشت گردوں کو موت کی نیند بھی سلا دی تھی۔ اس آپریشن کے بعد سے ہندوستانی فوج کی تعریف پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔ اب اس آپریشن سے متعلق ہندوستانی فضائیہ کے وائس چیف ایئر مارشل ناگیش کپور نے ایک اہم بیان میڈیا کے سامنے دیا ہے۔
ہندوستانی فضائیہ کے وائس چیف ایئر مارشل ناگیش کپور نے اس آپریشن کے ہیرو سے متعلق بات کرتے ہوئے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ’’رافیل آپریشن سندور کا ہیرو تھا، کئی دیگر ہیروز کے ساتھ۔‘‘ ناگیش کپور کا یہ بیان اس لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان بار بار دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے ہندوستان کا رافیل طیارہ مار گرایا ہے۔ ایئر مارشل نے رافیل کو آپریشن سندور کا ہیرو بتانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی مانا کہ کئی دیگر ہیروز نے بھی اس آپریشن میں اہم کردار نبھایا۔
پریس بریفنگ کے دوران کچھ دیگر باتوں سے متعلق بھی وائس ایئر مارشل ناگیش کپور نے جانکاری دی۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوستانی فضائیہ 27 فروری 2026 کو راجستھان کے پوکھرن فائرنگ رینج میں میگا ایکسرسائز ’وایو شکتی 2026‘ کا انعقاد کرے گی۔ اس نمائش کا مقصد ملک کو فضائیہ کی طاقت سے روشناس کرانا، جنگ کی تیاری کا مظاہرہ کرنا اور نوجوانوں کو ایئرفورس سے جڑنے کے لیے ترغیب دینا ہے۔ اس نمائش میں رافیل اور تیجس بھی حصہ لیں گے تاکہ آپریشن سندور میں فضائیہ کی کامیابی کی جھلک پیش کی جا سکے۔ فضائیہ کے افسر نے یہ بھی مطلع کیا کہ جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ٹرانسپورٹیشن طیارے سمیت 120 سے زیادہ طیارے اس نمائش میں حصہ لیں گے۔ فل ڈریس ریہرسل 24 فروری کو ہوگا، جبکہ 28 فروری کو اسٹینڈ بائی تاریخ رکھی گئی ہے۔ یہ تقریب شام 5.10 بجے سے رات 7.45 بجے تک چلے گی، جس میں دن، شام اور رات تینوں حالات میں آپریشن دکھائے جائیں گے۔
احمد آباد طیارہ حادثہ کے متاثرہ کنبوں کو ایئر انڈیا نے دیا خاص آفر، کیس واپس لینے پر ملیں گے 20 لاکھ روپے!
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ایئر انڈیا نے گزشتہ سال احمد آباد میں پیش آئے طیارہ حادثہ کے متاثرین کے خاندانوں کو 8,000 پاؤنڈ (تقریباً 10 لاکھ روپے) سے 16,000 پاؤنڈ (تقریباً 20 لاکھ روپے) تک اضافی معاوضہ دینے کی پیشکش کی ہے۔ اس کے لیے متاثرہ کنبوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ایئرلائن اور طیارہ ساز کمپنی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کریں۔ یہ اطلاع برطانوی اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ نے دی ہے۔ حادثہ کے بعد ایئر انڈیا نے شروعاتی معاوضہ کے طور پر متوفی کے کنبوں کو تقریباً 25 لاکھ روپے (20,215 پاؤنڈ) دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایئرلائن کے مالک ٹاٹا گروپ نے مزید 1 کروڑ روپے (80,850 پاؤنڈ) دینے کا وعدہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ 12 جون کو احمد آباد سے لندن جا رہی بوئنگ 8-787 ڈریم لائنر پرواز بھرنے کے چند ہی منٹ بعد حادثہ کا شکار ہو گیا تھا۔ طیارے میں 242 افراد سوار تھے۔ صرف ایک مسافر وشوکمار رمیش زندہ بچ پائے، جبکہ زمین پر موجود 19 افراد کی بھی موت ہوئی۔ حادثہ کی سرکاری جانچ ابھی جاری ہے۔ ایئر انڈیا اور بوئنگ کے خلاف کئی مقدمات چل رہے ہیں۔ ان مقدمات میں طیارے کی سیکورٹی میں کوتاہی اور ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ متوفیوں میں 53 برطانوی شہری تھے، اس لیے کچھ مقدمات برطانیہ میں بھی دائر کیے گئے ہیں۔
اب 130 متاثرہ خاندانوں کے لیے کیس لڑ رہی قانونی ٹیم نے بتایا کہ ایئر انڈیا انہیں حتمی اضافی معاوضہ دے رہا ہے۔ اس کے لیے انہیں ایک دستاویز پر دستخط کرنا ہوگا اور مستقبل میں کسی بھی دعوے کا حق چھوڑنا ہوگا۔ دستاویز میں لکھا ہے کہ معاوضہ لینے کے بعد یہ حق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ کچھ خاندانوں کو تقریباً 8,000 پاؤنڈ اور کچھ کو دوگنی رقم یعنی 16,000 پاؤنڈ کی پیشکش کی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہے کیونکہ جانچ ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور ذمہ داری طے نہیں ہوئی۔ اس حادثہ میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے تھے، جن کا علاج بھی جاری ہے۔ ان خاندانوں پر دباؤ ڈال کر ان سے اپنے حقوق چھوڑنے کے لیے کہنا درست نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ لندن میں کئی خاندانوں نے ذاتی چوٹ کے مقدمات دائر کیے ہیں۔ امریکہ میں 4 متوفی مسافروں کے خاندانوں نے بوئنگ اور ہنی ویل کے خلاف مقدمہ کیا ہے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ حادثہ کی وجہ خراب فیول سوئچ تھے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثہ کے 3 سیکنڈ بعد انجن کے فیول کٹ آف سوئچ غلطی سے بند ہو گئے تھے، جس سے طیارہ فوراً تھرسٹ کھونے لگا اور حادثہ پیش آیا۔
دوسری طرف ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ معاوضہ کی رقم مناسب اور شفاف ہے۔ ایئرلائن نے یہ بھی کہا ہے کہ سیکورٹی ان کی ترجیح ہے اور حادثہ کے بعد انہوں نے گہری جانچ، تربیت اور آپریشنل اصلاحات کی ہیں۔
0 تبصرے