نئی حد بندی بی جے پی کی سازش، اس کی حمایت کرنے والے تمل ناڈو کے ساتھ دھوکہ کر رہے: راہل گاندھی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے تمل ناڈو کے مہابلی پورم میں انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی سے متعلق میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی حد بندی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حد بندی کا مقصد لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا اور تمل ناڈو کے لوگوں کی سیاسی طاقت چھیننا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ بی جے پی کی سازش ہے۔ جو کوئی بھی حد بندی کی حمایت کرتا ہے، وہ تمل ناڈو اور اس کے مستقبل کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہے۔ ایسے لوگ آر ایس ایس و بی جے پی کو تمل ناڈو کے لوگوں اور ان کے مستقبل پر حملہ کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے ’ایٹپن‘ نامی شخصیت کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بھی آر ایس ایس-بی جے پی کی حمایت کر رہا ہے، وہ شخص اکیسویں صدی کا ’ایٹپن‘ ہے۔ کسی بھی تمل شخص کو حد بندی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ہر تمل شخص کو حد بندی کی مخالفت کرنی چاہیے۔ ہر تمل پارٹی اور ہر قومی پارٹی کو ایوان میں حد بندی کو شکست دینی چاہیے۔‘‘
واضح رہے کہ ’ایٹپن‘ تمل تاریخ کا ایک متنازعہ نام ہے۔ ایٹپن کو عام طور پر بہادر مجاہد آزادی ویر پانڈیا کٹبومن کے ساتھ دھوکہ کرنے والے شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں انگریزوں اور مقامی پالیکر حکمرانوں کے درمیان جنگ چل رہی تھی۔ تاریخ کے مطابق ایٹپن نے کٹبومن کی سرگرمیوں کی جانکاری انگریزوں کو دی، جس سے انھیں گرفتار کرنے میں مدد ملی۔ 1799 میں کٹبومن کو انگریزوں نے پھانسی دے دی۔ اسی وجہ سے تمل ثقافت میں ’ایٹپن‘ نام دھوکہ کا متبادل بن گیا ہے۔ حالانکہ اس بارے میں مورخین کے درمیان الگ الگ رائے موجود ہیں۔
’ملک پہلے، باقی سب بعد میں‘، قومی سلامتی مشیر اجیت ڈووال نے جین-زی کو دیا خاص پیغام
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈووال نے ہفتہ (یکم اگست) کے روز ملک کے نوجوانوں یعنی جین-زی سے اپیل کی کہ وہ قوم کے مفاد کو سب سے مقدم رکھتے ہوئے فرض، قربانی اور قومی خدمت کے جذبہ کے ساتھ آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا عزم اسی وقت حقیقت بنے گا جب ہر شہری اسے اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھے۔ پونے میں ’لوک مانیہ تلک نیشنل ایوارڈ 2026‘ حاصل کرنے کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈووال نے یہ بیان دیا۔ انھوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو صرف ملک کے مفاد میں کام کرنے کا عزم کرنا چاہیے اور اپنے چھوٹے اور مختصر مدتی مفادات کو نظر انداز کرنا چاہیے۔
ڈووال نے کہا کہ جین-زی طبقہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’آج کے نوجوانوں کو خود کو پوری طرح وقف کر دینا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ وہ صرف ملک کے مفاد کے لیے کام کریں گے۔ انہیں اپنے چھوٹے ذاتی مفادات کو چھوڑنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور اگر ایسی کوئی بات سامنے بھی آئے تو انہیں اسے نظر انداز کر دینا چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اپنی تاریخ کے ایک اہم دور سے گزر رہا ہے اور اسے موجودہ موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ہمارے ملک کی تاریخ میں موقع کی ایک کھڑکی ہے۔ ہم اسے کھونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ اس وقت ہماری ترجیح ملک بنانا ہے۔‘‘ ہندوستان کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ڈووال نے کہا کہ ملک اپنے مشن میں کامیاب ہوگا اور اپنی تاریخ میں ایک نیا باب لکھے گا۔
اجیت ڈووال نے نوجوانوں کی سوچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’نوجوان شاید سوچتے ہیں ہندوستان ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔ نوجوان شاید سوچتے ہیں کہ آزادی کا مطلب وہ کرنا ہے جو اُن کی مرضی ہو۔ حالانکہ آزادی کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے۔ آزادی صرف مہاتما گاندھی کے جواب میں نہیں ملی، بلکہ ان کی وجہ سے بھی ملی جنھوں نے آزادی کے لیے اپنی جان دی، جنہوں نے اس کے لیے جدوجہد کی... مثلاً لوک مانیہ تلک۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ایسے لوگوں میں درد تھا... وہ بولنا چاہتے تھے۔ تلک نے انہیں ایسا کرنے کی طاقت دی اور ان میں ایک نئی ’بیداری‘ پیدا کی۔‘‘
ڈووال نے لوک مانیہ تلک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ نہ صرف ایک آزادی پسند تھے، بلکہ ایک سماجی مصلح اور فلسفی بھی تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جب پونے میں طاعون پھیلا اور ان کے 21 سالہ بیٹے کی موت ہو گئی تو تلک شہر چھوڑ کر نہیں گئے بلکہ وہیں رک گئے۔ ڈووال نے کہا کہ آج کل لوگ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے کہ اگر حقوق کا غلط استعمال کیا گیا تو ان لوگوں کو کتنا درد ہوگا جنہوں نے اس کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔ تلک نے صرف یہ نہیں کہا تھا کہ ’سوراج میرا پیدائشی حق ہے اور میں اسے لے کر رہوں گا‘، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ہر شہری بھی ایسی ہی سوچ رکھے۔
گزشتہ 3 سال کے دوران خلیجی ممالک میں 4124 ہندوستانیوں کی موت، حکومت نے پارلیمنٹ میں فراہم کی معلومات
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نوکری اور بہتر مستقبل کی تلاش میں ہر سال لاکھوں ہندوستانی سعودی عرب، یو اے ای، کویت، عمان، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ وہاں کام کر رہے ہندوستانی اپنے خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ملک کی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری جانب پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے تازہ ترین اعداد و شمار نے ایک سنگین تصویر پیش کی ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق 2023 سے 2025 کے درمیان بیرون ملک میں بڑی تعداد میں ہندوستانی شہریوں کی موت ہوئی ہے۔ ان میں خودکشی کے معاملات کی تعداد تشویشناک ہے اور ایسے معاملات میں سب سے زیادہ حصہ خلیجی ممالک کا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس مدت کے دوران خلیجی ممالک میں خودکشی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے مجموعی طور پر 4124 ہندوستانیوں کی موت ہوئی ہے۔ اسی طرح گزشتہ 3 سالوں میں بیرون ملک جان گنوانے والے ہندوستانیوں کی مجموعی تعداد 39 ہزار سے زائد رہی۔ فی الحال خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی رہ رہے ہیں۔
وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس کے دوران لوک سبھا میں بتایا کہ 2023 سے 2025 کے درمیان بیرون ملک ہندوستانی شہریوں کی جانب سے خودکشی کے مجموعی طور پر 1900 سے زائد واقعات درج کیے گئے۔ ان میں سے 70 فیصد سے زیادہ معاملات خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے وابستہ ہیں۔ اس کے بعد ملیشیا میں 131 اور امریکہ میں 62 کیسز درج کیے گئے۔ اٹلی، کناڈا اور برطانیہ میں بھی اسی مدت کے دوران 30 سے زائد معاملات سامنے آئے۔ حالانکہ حکومت نے ان واقعات میں اضافے کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے، لیکن ہندوستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا بھروسہ دلایا ہے۔
وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 3 سالوں میں خلیجی ممالک میں کل 1340 ہندوستانی شہریوں نے خودکشی کی۔ ان میں متحدہ عرب امارات میں 511، سعودی عرب میں 354، کویت میں 162، عمان میں 146، بحرین میں 101 اور قطر میں 66 واقعات درج کیے گئے۔ اسی مدت کے دوران، دیگر وجوہات کی بنا پر خلیجی ممالک میں 2784 ہندوستانیوں کی موت ہوئی۔ ان میں متحدہ عرب امارات میں 1092 اور سعودی عرب میں 1040 اموات درج کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ ستپال برہمچاری اور جے پرکاش کے سوال کے جواب میں لوک سبھا میں پیش کیے۔
حکومت کی جانب سے پہلے جاری کردہ اعداد و شمار کے موازنہ میں بیرون ملک رہنے والے ہندوستانیوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ 2022 میں وزارت خارجہ نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ 2014 سے 2022 کے درمیان بیرون ملک ہندوستانی شہریوں کی خودکشی کے 4005 معاملات سامنے آئے تھے۔
حکومت نے بتایا کہ بیرون ملک کام کرنے والے ہندوستانی مزدوروں کے تحفظ کے لیے پرواسی بھارتیہ بیمہ یوجنا (پی بی بی وائی) نافذ ہے۔ یہ منصوبہ ای سی آر کیٹیگری کے تمام کارکنان کے لیے لازمی ہے۔ اس کے تحت حادثاتی موت یا مستقل معذوری کی صورت میں 10 لاکھ روپے تک کا انشورنس کور ملتا ہے۔ یہ سہولت 2 سال کے لیے 275 روپے اور 3 سال کے لیے 375 روپے کے پریمیم پر فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر فوائد دیے جاتے ہیں۔
حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ بیرون ملک ہندوستانی شہریوں کی موت کی وجوہات میں قدرتی موت، کام کی جگہ پر حادثات، خودکشی، جرائم اور دیگر وجوہات شامل ہیں۔ کام کی جگہ پر ہونے والے حادثات کے معاملات میں بھی خلیجی ممالک سب سے آگے رہے۔ سعودی عرب میں 182 اور متحدہ عرب امارات میں 128 ہندوستانیوں کی موت کام کی جگہ پر ہوئی۔ اس کے علاوہ امریکہ، کناڈا، سنگاپور اور مالدیپ میں بھی کام کی جگہوں پر پیش آنے والے حادثات میں کئی ہندوستانیوں کی جانیں گئیں۔
حکومت نے کہا کہ بیرون ملک مقیم اور وہاں کام کرنے والے ہندوستانی شہریوں کے تحفظ، انشورنس اور مدد کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مختلف ممالک کے ساتھ تال میل بڑھا کر ہندوستانی کارکنوں کے مفادات کے تحفظ اور ان کی سیکورٹی کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
6 سال بعد ہندوستان-چین سرحد پر اتراکھنڈ کے لیپولیکھ درّے کے راستے تجارت دوبارہ شروع
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ہندوستان اور چین کے درمیان اتراکھنڈ کے لیپولیکھ درّے سے ہونے والی سرحدی تجارت 6 سال سے زائد عرصے کے بعد ہفتہ (یکم اگست) سے دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ افسران کے مطابق چین نے 20 ہندوستانی تاجروں کو پورانگ (تکلا کوٹ) جانے کی اجازت دی ہے۔ پہلے مرحلے کے لیے تبت میں چینی انتظامیہ کو تیاری کا جائزہ لینے اور اپنے موجودہ اسٹاک کی جانچ کرنے کے لیے جانے کی منظوری دی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل خارجہ سکریٹری وکرم مسری کے بیجنگ دورہ کے دوران ہندوستان اور چین نے دو فریقی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔ اس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جنپنگ کے اس مشترکہ وژن کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک ترقی میں شراکت دار ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ فریقین نے ہندوستان-چین سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں نئی دہلی اور بیجنگ نے اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ مشرقی لداخ سرحد پر 4 سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے تعطل کے دوران یہ تعلقات کافی کشیدہ ہو گئے تھے۔ گزشتہ سال اگست میں وزیر اعظم نریندر مودی سالانہ ایس سی او سربراہی اجلاس میں حصہ لینے کے لیے چین کے شہر تیانجن گئے تھے۔ ایس سی او اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور شی جنپنگ کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔
ہندوستان-چین سرحدی تجارت کے دوبارہ شروع ہونے سے سرحدی علاقے کی روایتی تجارتی سرگرمیوں کو ایک نئی رفتار ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی مقامی تاجروں، سرحدی علاقوں کے لوگوں کے روزگار اور علاقائی معیشت کو بھی اس سے نمایاں فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ اس تجارت کو دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے چلی آ رہی روایتی سرحدی تجارتی نظام کو آگے بڑھانے کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
رینکنگ میں امریکی پاسپورٹ 10 برسوں کی کم ترین سطح پر، ہندوستان کو 81واں مقام حاصل
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
دنیا کے سب سے طاقتور پاسپورٹ کی رینکنگ بتانے والے ’ہینلی پاسپورٹ انڈیکس 2026‘ میں امریکہ کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ اس سال امریکی پاسپورٹ گزشتہ 10 برسوں کی بہ نسبت اپنی سب سے کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اب 30 سے زیادہ ممالک کے پاسپورٹ امریکہ سے آگے نکل گئے ہیں۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکی پاسپورٹ کمزور ہو گیا ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے لیے بیشتر ممالک میں بغیر ویزا یا ’ویزا آن ارائیول‘ سفر کی سہولیات حاصل کر لی ہیں۔ ہندوستان کی بات کریں تو ’ہینلی پاسپورٹ انڈیکس 2026‘ میں ہندوستان 81ویں مقام پر ہے۔ ہندوستانی پاسپورٹ رکھنے والے لوگ 55 ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کر سکتے ہیں۔ گزشتہ برس ہندوستان 85ویں مقام پر تھا، یعنی اس بار ہندوستان کی رینکنگ میں بہتری آئی ہے۔ حالانکہ ’ویزا فری‘ ممالک کی تعداد 57 سے گھٹ کر 55 ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ کچھ ممالک کی ویزا کے حوالے سے تبدیل کی گئی پالیسی ہے۔
’ہینلی پاسپورٹ انڈیکس 2026‘ دنیا کی سب سے معروف پاسپورٹ رینکنگ میں سے ایک ہے۔ اس میں 199 ممالک کے پاسپورٹ اور 277 سفری مقامات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ رینکنگ اس بنیاد پر طے ہوتی ہے کہ کسی ملک کے شہری پہلے سے بغیر ویزا لیے یا ’ویزا آن ارائیول‘ کی سہولیات کے ساتھ کتنے ممالک میں جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں کئی ممالک نے نئے معاہدے کیے ہیں اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کیے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے شہریوں کو زیادہ ممالک میں ویزا فری سفر کی سہولت ملی ہے۔ اسی وجہ سے کئی ممالک امریکہ سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ اب امریکی شہریوں کو پہلے کی بہ نسبت زیادہ تر ممالک کے سفر کے لیے پہلے سے ویزا یا ٹریول آتھرائزیشن لینا پڑتا ہے۔ یہ رینکنگ کسی ملک کی معاشی طاقت یا سیاسی اثر و رسوخ کی عکاسی نہیں کرتی، بلکہ صرف سفر کی آزادی کی عکاسی کرتی ہے۔
اس سال بھی سنگاپور کا پاسپورٹ دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں۔ جبکہ سویڈن تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ بیلجیم، ڈنمارک، فن لینڈ، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، نیدرلینڈ، ناروے اور اسپین بھی مضبوط پاسپورٹ رکھنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ، نیوزی لینڈ، کناڈا، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور یونان بھی ٹاپ 10 ممالک میں اپنی جگہ بنائے ہوئے ہیں۔ ’ہینلی پاسپورٹ انڈیکس 2026‘ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آج کے وقت میں کسی ملک کے شہریوں کو کتنے ممالک آسانی سے سفر کی سہولت ملتی ہے۔ یہ اس کی عالمی رسائی کا ایک بڑا پیمانہ بن گیا ہے۔ امریکہ کا پاسپورٹ اب بھی دنیا کے مضبوط پاسپورٹس میں شامل ہے۔ لیکن دوسرے ممالک نے ویزا فری سفر بڑھانے کی سمت میں تیز رفتاری سے ترقی کی ہے۔
’آوارہ مویشیوں کی وجہ سے حادثہ ہو تو معاوضہ دیا جائے‘، سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو دی ہدایت
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
سڑکوں پر آوارہ مویشیوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات پر سپریم کورٹ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو ایسے حادثات میں معاوضے کی ادائیگی کے لیے میکنزم تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ جسٹس سنجے کرول اور این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے کئی اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’ان مویشیوں کے مالکوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنائیں کہ مویشی ہر روز دن ختم ہونے پر اپنے رہنے والے یا بتائے گئے مقام پر واپس لوٹ جائے۔‘‘
بنچ نے کہا کہ ’’سبھی ریاستیں جنہوں نے مویشیوں سے متعلق قانون بنایا ہے، انہیں اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا چاہئے۔ پیدل چلنے والوں یا ڈرائیوروں دونوں زمروں میں مویشیوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں معاوضے کی ادائیگی کا طریقہ کار تیار کرنے کے لیے ضروری ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ یا پھر مجاز اتھارٹی کی جانب سے مناسب سمجھے جانے والے قواعد شامل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘ سپریم کورٹ نے سبھی مویشیوں کی ٹیگنگ لازمی قرار دیے جانے کا حکم دیا۔ اس سے مویشیوں کی نگرانی کرنے، مویشیوں کی صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنانا، ویٹرنری چیک اپ اور ویکسینیشن سے رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ ہدایت پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ایک حکم کو چیلنج دینے والی ایک خاتون کے ذریعہ دائر اپیل پر سماعت کرتے ہوئے آئی۔ ہائی کورٹ نے خاتون کو ملنے والا 29.32 لاکھ روپے کا معاوضہ منسوخ کر دیا تھا۔ خاتون کے شوہر کو سڑک پر چلنے کے وقت ایک آوارہ سانڈ نے ٹکر مار دی تھی اور سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی۔ شوہر کی موت کے بعد خاتون نے مناسب معاوضے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔ سنگل جج بنچ نے قرار دیا کہ متوفی کی آمدنی، عمر اور دیگر متعلقہ عوامل کی بنیاد پر موٹر وہیکل ایکٹ 1980 کے تحت معاوضے کے گرانٹس کو کنٹرول کرنے والے اصولوں کو نافذ کرکے معاوضے کا تخمینہ لگایا، اور معاوضہ دیے جانے کا حکم جاری کیا۔ حالانکہ ڈویژن بنچ نے سنگل جج بنچ کے حکم کو ایک طرف رکھ دیا تھا
0 تبصرے