’دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی ہو، انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے‘، کُلگام حملے پر کانگریس کا سخت ردعمل
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
جموں و کشمیر کے کلگام میں دہشت گردانہ حملے کے دوران 2 مزدوروں کی موت پر کانگریس کے سرکردہ لیڈران ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’جموں و کشمیر کے کلگام میں ہونے والا بزدلانہ دہشت گردانہ حملہ انتہائی قابل مذمت اور انسانیت کو شرمسار کرنے والا ہے۔ 2 بے قصور مزدوروں کی شناخت پوچھ کر ان کا بے رحمانہ قتل کرنا دہشت گردی کی وحشیانہ ذہنیت کی ایک گھناؤنی مثال ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’سوگوار خاندانوں کے ساتھ میری گہری تعزیت اور ہمدردی ہے۔ قصورواروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کو یقینی بناتے ہوئے انہیں قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔‘‘
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’جموں و کشمیر کے کلگام میں ہونے والے وحشیانہ دہشت گردانہ حملے میں ملک کے 2 مزدوروں کا قتل انتہائی افسوسناک ہے۔ میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’دہشت گردوں کے اس بزدلانہ حملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔ دہشت گردی کے خلاف ملک ہمیشہ متحد ہے۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’جموں و کشمیر کے کلگام میں ہونے والا بزدلانہ دہشت گردانہ حملہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے 2 مزدوروں کی شناخت پوچھ کر انہیں قتل کرنا بے حد گھناؤنا اور انسانیت سوز عمل ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’پورے ملک کی ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ اس معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے کلگام ضلع میں جمعہ کی دیر شام دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ دہشت گردوں نے 2 غیر کشمیری مزدوروں کو گولی مار دی۔ ایک مزدور کی موقع پر ہی موت ہو گئی تھی، جبکہ دوسرے مزدور کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی جان چلی گئی۔ دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے دونوں مزدور چھتیس گڑھ کے رہنے والے تھے۔
’بیرون ملک قوانین کی پیروی کرتے ہیں، ہندوستان میں کوڑا پھیلاتے ہیں‘ بامبے ہائی کورٹ کا شہریوں کے رویے پر اظہار ناراضگی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بامبے ہائی کورٹ نے ہندوستان میں عوام کے ذریعہ گندگی پھیلانے اور بیرون ممالک جا کر قوانین کی پیروی کرنے کی عادت پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس جی ایس کلکرنی اور جسٹس آرتی ساٹھے کی بنچ نے جمعہ کے روز کہا کہ ’’لوگ بیرون ملک میں چاکلیٹ کا ریپر بھی کوڑے دان میں ڈالتے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں لاپروائی کا عالم یہ ہے کہ سڑکوں پر کوڑا پھینک دیا کرتے ہیں۔‘‘ عدالت نے پوچھا کہ ’’کیا یہ آزادی اور جمہوریت کی قیمت ہے۔‘‘ کورٹ ’کانجرمارگ ڈمپنگ گراؤنڈ‘ کے قریب رہنے والے لوگوں کی صحت اور آلودگی سے متعلق عرضیوں پر سماعت کر رہا تھا۔
کورٹ نے کہا کہ ’’اگر کوئی شخص صاف ستھرا ماحول چاہتا ہے تو معاشرے کے تئیں اس کی بھی ذمہ داریاں بنتی ہیں کہ وہ صاف صفائی پر خصوصی توجہ دے۔‘‘ بنچ نے کہا کہ سول حکام کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ عدالت نے شہر کے ساحلوں پر پھیلے پلاسٹک کے کچرے کا بھی حوالہ دیا اور سوال اٹھایا کہ کیا ہم ایک مہذب معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ کورٹ نے کہا کہ ممبئی کی اہم سڑکوں اور گلیوں میں روزانہ کوڑا پھیلا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے صحت اور صاف صفائی سے متعلق سنگین پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں۔
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے ’سوچھ ممبئی، سندر ممبئی، آپلی ممبئی‘ لوگو کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ’’اس کا مقصد واضح ہے۔ لیکن شہریوں کی لاپروائی اور انتظامیہ کی تساہلی سے یہ مقصد پورا نہیں ہو پا رہا ہے۔ اس کے لیے ہر وارڈ میں صفائی کے نظام کو اثردار بنانا اشد ضروری ہے، تاکہ سڑکوں کو کوڑا پھینکنے کی جگہ نہیں بنایا جائے۔‘‘ بنچ نے راجا بائی ٹاور اور ہائی کورٹ بلڈنگ جیسے تاریخی مقامات کے قریب میونسپل کارپوریشن کے کوڑے والے ٹرکوں کی لاپروائی پر بھی فکر کا اظہار کیا۔ کورٹ نے کہا کہ ’’ان جگہوں پر آنے والے غیر ملکی سیاحوں کو بھی سڑکوں پر بکھرا ہوا کوڑا نظر آتا ہے۔‘‘ کورٹ نے میونسپل کارپوریشن کو ایک ہفتے کے اندر ٹھوس کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ورانہ کورٹ خود حکم جاری کرتے گا۔
سیوٹا مہاجر بحران: اٹلی کے بعد فرانس نے بھی اسپین کے ساتھ سرحدی نگرانی سخت کر دی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے کہا ہے کہ مراکش کے شمال میں واقع ہسپانوی علاقے سیوٹا میں بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد کے بعد فرانس نے اسپین کے ساتھ سرحدی کنٹرول بڑھا دیا ہے۔ فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’سیوٹا میں شینگن علاقے کی طرح آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت نہیں ہے۔ تاہم میں نے کل وزیر داخلہ سے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسپین سے متصل ہماری سرحد پر کنٹرول مزید سخت کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے پولیس کی 4 موبائل یونٹس، ایک طیارہ اور ڈرونز تعینات کیے گئے ہیں۔‘‘
سیوٹا کے مقامی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 60000 تارکین وطن زمینی اور سمندری راستوں سے غیر قانونی طور پر سیوٹا میں داخل ہوئے ہیں۔ نیوز ایجنسی ’سنہوا نے ہسپانوی روزنامے ’ایل پائیس‘ کے حوالے سے بتایا کہ تیر کر اس علاقے میں پہنچنے کی کوشش کے دوران 57 تارکین وطن کی موت ہو گئی۔ ہسپانوی حکومت نے بتایا کہ جمعہ کی دوپہر تک تقریباً 48000 تارکین وطن مراکش واپس جانے کے لیے ہسپانوی علاقے کو چھوڑ چکے تھے۔
اس دوران اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے جمعہ کی شام کو کہا کہ روم اٹلی کی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعظم میلونی کے اس فیصلے میں اسپین کے ساتھ شینگن ایریا کو معطل کرنا بھی شامل ہے۔ وزیر اعظم میلونی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک مشترکہ بیان میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’سیوٹا سے آنے والی تصاویر حیران کن ہیں اور ایک بار پھر یہ دکھاتی ہیں کہ بغیر کنٹرول والی غیر قانونی امیگریشن یورپ کی سرحدوں کی سیکورٹی کے لیے ایک یقینی خطرہ ہے۔ میں نے وزیر داخلہ ماٹیو پیانٹیدوسی سے بات کی ہے۔ اٹلی خاموش کھڑا ہو کر نہیں دیکھے گا۔‘‘
وزیر اعظم میلونی نے مزید کہا کہ ’’ہم متعلقہ محکمے کو بلا رہے ہیں، اور ان اجلاسوں کے بعد ہم سرحد کے تحفظ اور شہریوں کی سیکورٹی کے لیے خاص اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہیں، جس میں اسپین کے ساتھ شینگن ایریا کو معطل کرنا بھی شامل ہے۔ غیر قانونی امیگریشن پر ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ سرحدوں کی حفاظت کرنا، انسانی اسمگلنگ کو روکنا اور مؤثر طریقے سے لوگوں کو واپس بھیجنا اس حکومت کی بنیادی پالیسی رہے گی۔‘‘
اٹلی کے نائب وزیر اعظم انٹونیو تاجانی نے بھی ایسی ہی اپیل کی۔ تاجانی نے اسپین حکومت کے 500000 سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن کو ہسپانوی اور یورپی شہریت دینے کے فیصلے کو بہت غلط بتایا اور اسپین کے لیے شینگن ایریا بند کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’’میں اسپین کے لیے شینگن ایریا بند کرنے کے حق میں ہوں، اور مجھے وزیر پیانٹیدوسی پر پورا بھروسہ ہے۔ غیر قانونی اور بے لگام امیگریشن قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ سیوٹا سے آنے والی تصاویر یہ دکھاتی ہیں کہ میڈرڈ حکومت کا 500000 سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن کو ہسپانوی اور اس کے نتیجے میں یورپی شہریت دینے کا فیصلہ کتنا غلط ہے اور یہ انسانی اسمگلنگ کو فروغ دیتا ہے۔
’گمراہ بچوں کو سزا نہیں، انہیں صحیح راستہ دکھانا ہمارا کام‘ وزیر اعظم مودی نے جین-زی کو کیا معاف
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ جس میں ’جنتر منتر‘ پر ہوئے احتجاجی مظاہرے پر رد عمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر پر جو کچھ بھی ہوا ہے، اسے پورے ملک اور دنیا نے دیکھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’کچھ شرارتی بچوں نے انتہائی نازیبا اور غیر مہذب الفاظ کا استعمال کیا، جو کہ کسی بھی مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتا۔‘‘ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’انہیں ذاتی طور پر گالیاں دی گئیں اور ان کی آنجہانی والدہ کے لیے بھی انتہائی قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے گئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’واقعہ کی نوعیت انتہائی افسوسناک ہے۔ لیکن وہ اس معاملے پر کسی سے تلخی کے ساتھ نہیں، بلکہ اصلاح اور مثبت فکر کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’بچپن میں غلطی ہونی فطری ہے اور بچپن کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ اس میں غلطیوں کے ازالہ کا موقع ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کے اندر اس واقعے کو لے کر جو غصہ ہے، اسے وہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک ’کلچرل شاک‘ ہے کہ ملک کی بیٹیاں اس قسم کے الفاظ کا استعمال کر سکتی ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’یہ وقت ان بچوں کو گلے لگا کر انہیں صحیح راستہ دکھانے کا ہے۔ یہ گمراہ بچے ہیں اور انہیں صحیح راستہ دینا پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ان بچوں کو سزا دینا، عدالتوں کے چکر کٹوانا یا معاشرے میں ہراساں کرنے سے حالات نہیں بدل سکتے ہیں۔‘‘
وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’’میں انہیں معاف کرنا چاہتا ہوں۔ معاشرہ بھی میرے ان احساسات کو قبول کرے۔ کیونکہ میرے دل میں صرف ایک احساس ہے۔ کبھی کبھی دانتوں تلے ہماری زبان آجاتی ہے، خون بھی نکل جاتا ہے۔ لیکن ہم دانت نہیں توڑتے، کیوں کہ دانت بھی ہمارے ہیں، زبان بھی ہماری ہے اور بچے بھی ہمارے ہیں۔‘‘ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’گمراہ لوگوں کو صحیح راستہ دکھانا آسان کام نہیں ہوتا ہے، لیکن مشکل کاموں کو کرنے کا ہی قصد کرنا چاہئے۔‘‘ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھیں، کچھ نیا سیکھیں اور ملک کی ترقی کے سفر میں معاون بنیں۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’بچوں آؤ ہم ملک کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھیں۔ اپنی غلطیوں سے بھی سیکھیں، اور اپنے خوابوں کو لے کر آگے بڑھیں۔ ملک بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور آگے ہی بڑھنے والا ہے۔ میرا خواب ہے کہ آپ کا مستقبل روشن ہو۔ میں آپ کے لیے جیتا ہوں اور آپ کے روشن مستقبل کے لیے مسلسل جد وجہد کر رہا ہوں۔‘‘ اپنے پیغام کے آخر میں وزیر اعظم مودی نے ہم وطنوں خصوصاً نوجوانوں سے متحد ہو کر قوم کی تعمیر میں تعاون دینے کی اپیل کی۔
ایران پر شدید حملے کی تیاری میں ڈونالڈ ٹرمپ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ تھمتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس ہفتے کے اختتام تک ایران پر ایک نیا حملہ کرے۔ یہ پیش رفت ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں انہوں نے تہران کے ساتھ جاری سفارتی بات چیت کے بارے میں غیر یقینی کا اظہار کیا تھا۔ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ میں جمعہ کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد شدید فوجی جوابی کارروائی کی وارننگ دی تھی۔
ٹرمپ نے جمعہ کو میری لینڈ میں کیمپ ڈیوڈ پریسیڈنشیل ریٹریٹ میں کابینہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ ’’ہم ان پر بہت زوردار حملہ کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایک وقت ایسا آئے گا جب وہ کہیں گے کہ اب وہ اسے مزید برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘ دوسری طرف سی بی ایس نے رپورٹ دی ہے کہ واشنگٹن ایران کے انرجی سنٹرز، جیسے کہ بجلی گھروں اور پٹرولیم ریفائنریوں پر ممکنہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کی وکالت کرنے والی تنظیموں نے کہا ہے کہ عام شہریوں کے زیر استعمال سہولیات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم ہو سکتا ہے۔ سی بی ایس کی رپورٹ کے بعد جمعہ کی دوپہر کو سیٹلمنٹ کے بعد کی ٹریڈنگ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلوی ٹی آئی) خام تیل کی قیمتیں 86 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں۔
ان رپورٹوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ’’ایران کو تب تک قیمت چکانی پڑے گی جب تک وہ اس طریقے سے بات چیت کے لیے تیار نہیں ہو جاتا، جسے صدر ٹرمپ درست سمجھتے ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے پہلے بھی کئی بار بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی وارننگ دی ہے، مسلسل جنگ کے باعث امریکی فوجی ذخائر کافی کم ہو گئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فوجی حملوں کے بعد پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر عدم استحکام پھیل گیا ہے۔ اس کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ اس وجہ سے خام تیل، قدرتی گیس اور کھاد کی اہم سمندری ترسیلات کو گزرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹرمپ نے پھر کیا دعویٰ، ٹیرف کی دھمکی نے ہند پاک ایٹمی جنگ کو ٹالا
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آپریشن سندور کے دوران جنگ کو بڑھنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتی دباؤ اور ٹیرف کے خطرے نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایٹمی جنگ کو ٹالا۔
کیمپ ڈیوڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف کے خطرے نے آٹھ میں سے پانچ جنگوں کو روکا، جن میں گزشتہ سال ہندوستان اور پاکستان تنازع بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ "ٹیرف کی دھمکی نے ہندوستان اور پاکستان کو جوہری جنگ میں جانے سے روکا"۔
'آپریشن سندور‘ کا حوالہ دیتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا، "ہم نے ہند پاک جنگ ختم کی۔" اس وقت 11 طیارے مار گرائے گئے اور صورتحال انتہائی سنگین تھی۔ میں نے ٹیرف کا استعمال کیا اور کہا کہ اگر آپ جنگ میں جائیں گے تو 250 فیصد ٹیرف لگا دیا جائے گا۔ اس پر دونوں ممالک بہت ناراض ہوئے لیکن اگلے دن انہوں نے فون کیا اور کہا کہ وہ جنگ نہیں کریں گے۔‘
تاہم، ہندوستانی حکومت نے ہمیشہ صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو واضح طور پر مسترد کیا ہے ۔ ہندوستان کے مطابق پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی روکنے اور امن کے قیام میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی نہیں تھی۔ واضح رہے کہ اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں 26 عام شہری مارے گئے تھے۔ اس کے جواب میں ہندوستان نے گزشتہ سال 7 مئی کو 'آپریشن سندور' شروع کیا تھا۔ اس کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان چار روز تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
0 تبصرے