وزیر اعلیٰ بننے کے بعد تھلاپتی وجے کی سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے پہلی باضابطہ ملاقات


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی سے باضابطہ ملاقات کی۔ دہلی کے دورے کے دوران ہونے والی یہ ملاقات سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ تمل ناڈو میں وجے کی حکومت کو کانگریس کی حمایت حاصل ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔


وجے بدھ کے روز دہلی پہنچے اور انہوں نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے ان کی رہائش گاہ 10 جن پتھ پر ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد کانگریس قیادت کے ساتھ یہ ان کی پہلی براہِ راست اور باضابطہ ملاقات مانی جا رہی ہے۔ اس سے قبل مئی میں ان کے دہلی دورے کے دوران ایسی کوئی ملاقات نہیں ہو سکی تھی، جس کے بعد سیاسی مبصرین اس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت اور تمل ناڈو کے نئے وزیر اعلیٰ کے درمیان رسمی رابطہ کب قائم ہوگا۔


سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات محض خیرسگالی تک محدود نہیں سمجھی جا رہی، بلکہ اسے تمل ناڈو اور قومی سیاست کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ کانگریس پہلے ہی وجے کی حکومت کی حمایت کر رہی ہے، اس لیے دونوں جانب سے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف سیاسی امور پر تبادلۂ خیال کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگرچہ ملاقات کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس کی سیاسی اہمیت پر مختلف حلقوں میں گفتگو جاری ہے۔




سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد وجے نے ملک کی اعلیٰ آئینی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے رسمی ملاقات کی، جو وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ان کی صدر سے پہلی ملاقات تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کے جانشین اور موجودہ نائب صدر سی پی رادھاکرشنن سے بھی ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔


وجے کا یہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد دوسرا دہلی دورہ ہے۔ وہ قومی سطح پر اپنی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں اور مختلف سیاسی و آئینی شخصیات سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ 11 جون کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والی نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کی میٹنگ میں بھی شرکت کریں گے، جس میں ملک کی مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے۔





ایران کی آئی اے ای اے سے اپیل، ’ایجنسی کو امریکہ کا سیاسی ہتھیار نہ بننے دیا جائے‘


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



نئی دہلی: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے اس جوہری نگران ادارے کو ایک مرتبہ پھر امریکہ کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے بچائیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے تیار کی گئی مجوزہ قرارداد کو سیاسی محرکات پر مبنی اور بدنیتی کا مظہر قرار دیا ہے۔


اسلامی جمہوریہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق عباس عراقچی نے بورڈ آف گورنرز میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جاری مباحثے کے دوران غیر جانبداری اور انصاف کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کا جون کا سہ ماہی اجلاس جاری ہے، جہاں ایران کے جوہری پروگرام پر غور کیا جا رہا ہے۔


عباس عراقچی نے اپنے خط میں کہا کہ موجودہ کشیدگی کی بنیادی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف گورنرز کو ایران کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کے جواز کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے رکن ممالک کو خبردار کیا کہ ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جو ادارے کی غیر جانبداری اور ساکھ کو نقصان پہنچائیں۔




ایرانی وزیر خارجہ نے جون 2025 میں منظور ہونے والی ایک قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے صرف چوبیس گھنٹے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی ان جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے جو آئی اے ای اے کی نگرانی میں تھیں۔ ان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں متعدد ایرانی شہری جان سے گئے تھے۔


انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ایک مرتبہ پھر آئی اے ای اے کو ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف جارحانہ اقدامات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ برس کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے متعدد حملے ہوئے، جبکہ ایرانی جوہری سائنس دانوں اور ان کے اہل خانہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول آئی اے ای اے کی تاریخ میں اس نوعیت کے واقعات کی مثال نہیں ملتی۔


انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں نے بین الاقوامی قانون، عالمی امن و سلامتی، جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام اور آئی اے ای اے کے نگرانی کے ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ عباس عراقچی کے مطابق امریکہ کی تیار کردہ مجوزہ قرارداد صرف حالیہ حالات کے نتائج پر توجہ دیتی ہے، جبکہ موجودہ بحران کی اصل وجوہات کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔


ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ بورڈ آف گورنرز کے آئندہ فیصلے نہ صرف ایران کے معاملے بلکہ آئی اے ای اے کی ساکھ، اس کی خودمختاری اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے مستقبل کے لیے بھی اہم ثابت ہوں گے





علی بابا اور بائیڈو کو امریکی محکمہ دفاع نے کیا بلیک لسٹ، چینی فوج کی مدد کا سنگین الزام عائد


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں ایک نہایت اہم اور بڑا موڑ آ گیا ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگن) نے چین کی مشہور اور بڑی کمپنیوں، ای کامرس کی ’علی بابا‘، الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی ’بی وائی ڈی‘ اور سرچ انجن کمپنی ’بائیڈو‘ کو اپنی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ بڑی کمپنیاں دراصل چینی فوج کی طاقت بڑھانے کا کام کر رہی ہیں۔


پینٹاگن نے پیر کے روز اپنی اس فہرست کو اپڈیٹ کیا ہے جس میں چینی فوج سے وابستہ کمپنیوں کے نام درج کیے جاتے ہیں۔ یہ فہرست پہلی بار 2021 میں تیار کی گئی تھی۔ تازہاپ ڈیٹ کے بعد اس فہرست میں اب 188 کمپنیوں کے نام شامل ہو چکے ہیں، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 134 تھی۔ امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ علی بابا اور بائیڈو جیسی کمپنیاں چین کی ’ملٹری-سول فیوژن‘ حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ پینٹاگن کے مطابق ان کمپنیوں کے براہ راست روابط چین کے سرکاری اثاثہ جاتی نگرانی کمیشن اور وزارت صنعت و اطلاعاتی ٹیکنالوجی سے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد رواں ماہ کے اختتام سے یہ تمام بلیک لسٹیڈ کمپنیاں امریکہ کے کسی بھی دفاعی معاہدے کا حصہ نہیں بن سکیں گی۔




امریکہ کے اس فیصلے پر چین کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانہ نے اسے مکمل طور پر امتیازی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ قومی سلامتی کے نام پر اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے۔ دوسری جانب علی بابا نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے واضح کیا کہ وہ کسی فوجی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے، اور اس گمراہ کن اقدام کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ بائیڈو نے بھی خود کو فوجی کمپنی قرار دیے جانے کو مکمل طور پر بے بنیاد بتایا ہے۔ تاہم الیکٹرک گاڑیوں کی بڑی کمپنی بی وائی ڈی کی جانب سے اس معاملے پر فی الحال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ اس فیصلے کے اثرات صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں رہیں گے۔ ریپبلکن رکن کانگریس جان مولینار نے یہاں تک مطالبہ کر دیا ہے کہ امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں درج ان چینی کمپنیوں کو فوری طور پر ڈی لسٹ کر دیا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکی کمپنیوں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ان فرموں کے ساتھ فوراً کاروباری تعلقات ختم کر دینے چاہئیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بین الاقوامی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر ہلچل پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق اہلکار اور قومی سلامتی کے ماہر ڈینس وائلڈر کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی وسیع پابندیاں شاید عملی سطح پر مکمل طور پر مؤثر ثابت نہ ہوں۔ کئی امریکی کمپنیوں کے ان چینی برانڈز کے ساتھ گہرے کاروباری تعلقات ہیں، جنہیں وہ آسانی سے ختم کرنا نہیں چاہیں گی۔




یہ پوری سفارتی اور تجارتی کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی لیڈر شی جنپنگ کی بیجنگ میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس 2 روزہ سربراہی اجلاس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصہ سے جاری تجارتی جنگ کو کم کرنا تھا۔ لیکن اب علی بابا، بائیڈو اور بی وائی ڈی کے علاوہ روبوسینس ٹیکنالوجی اور یونٹری روبوٹکس جیسی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر کے امریکہ نے اپنے عزائم واضح کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال وی چیٹ کی مالک کمپنی ٹین سینٹ کو بھی امریکہ نے اسی طرح بلیک لسٹ کر دیا تھا۔





’دل بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘، نریندر مودی کے بلاتعطل 4399 دن وزیر اعظم رہنے والے ریکارڈ پر کانگریس کا طنز


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے 12 سال مکمل کر لیے ہیں، اور 10 جون کو بطور وزیر اعظم ان کے بلاتعطل 4399 دن بھی ہو گئے۔ اس طرح انھوں نے سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے بلاتعطل 4398 دن وزیر اعظم رہنے کے ریکارڈ کو توڑ دیا۔ اس بات کا جشن مودی حکومت کے وزراء اور بی جے پی کے سرکردہ لیڈران پورے جوش کے ساتھ منا رہے ہیں۔ لیکن کانگریس نے اس معاملہ میں وزیر اعظم مودی اور بی جے پی لیڈران پر طنز کیا ہے۔



کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک تصویر شیئر کر پی ایم مودی کے 12 سال اور بطور وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے 12 سال میں بہت بڑا فرق دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اس تصویر میں جواہر لال نہرو کھڑے ہوئے ہیں، اور ان کے سامنے پی ایم مودی کھڑے ہیں جو کہ انتہائی پستہ قد نظر آ رہے ہیں۔ پی ایم مودی کہہ رہے ہیں ’’نہرو جی، میں نے آپ کا ریکارڈ توڑ دیا!‘‘ اس تصویر کے ذریعہ طنزیہ انداز میں کانگریس نے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ نریندر مودی کا قد جواہر لال نہرو کے مقابلے انتہائی پستہ ہے۔ تصویر کے ساتھ کیپشن دیا گیا ہے ’’دل بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔‘‘




کانگریس نے مزید ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں پی ایم مودی کے دور کو ملک کے لیے مایوس کن قرار دیا ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ ’’12 سال میں نریندر مودی نے پیپر لیک، امتحان کی چوری، ٹنڈر میں دھاندلی کو تحفظ دے کر اسے منظم جرم کا سنڈیکیٹ بنا دیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’جب تک ہے مودی حکومت- تب تک ہوتا رہے گا نوجوانوں کا مستقبل نیلام، تب تک چلتا رہے گا پیپر لیک کا کاروبار۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں لکھا گیا ہے ’’ہندوستان کا نوجوان اور ’جین زی‘ بہت مایوس اور ناراض ہے۔ اب وہ اپنی زندگی سے کھلواڑ برداشت نہیں کرے گا۔ کانگریس پارٹی سڑک سے پارلیمنٹ تک ان کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘ 





پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملہ، 11 معصوم بچوں سمیت 13 جاں بحق


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر جاری کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ رات پاکستانی فوج کے جنگی طیاروں نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ پاکستانی فوج نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں واقع عام شہریوں کے گھروں کو ہدف بنا کر شدید بمباری کی ہے۔ اس فضائی حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کئی شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔


افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق پاکستانی حملہ آور فوج نے کل رات ایک بار پھر افغانستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی جنگی طیاروں نے افغانستان کے 3 اہم صوبوں کنڑ، خوست اور پکتیکا میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ان علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کی گئی، جس سے کئی گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس غیر انسانی جرم اور حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘‘




اس حملے میں جان و مال کا شدید نقصان ہوا ہے۔ بمباری میں مجموعی طور پر 13 لوگ مارے گئے ہیں، جنہیں افغان انتظامیہ نے شہید قرار دیا ہے۔ مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ اس حملے میں 11 بچے، ایک خاتون اور ایک ضعیف شخص جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ حملے میں 14 لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں کئی لوگوں کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس حملے کے بعد کی کچھ دردناک تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، جن میں متاثرہ بچوں کی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔



افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے افغانستانی فضائی حدود کی پاکستان کی جانب سے خلاف ورزی اور صوبہ کنڑ، خوست اور پکتیکا میں بچوں اور خواتین کی ہلاکت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سابق صدر نے شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان اپنی غیر دانشمندانہ پالیسیوں اور خطے میں دشمنانہ اقدامات کے نتائج بھگت رہا ہے، اور اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ان پالیسیوں پر قائم رہ کر اور ان پر عمل کر کے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ وہ افغانستان کے خلاف جنگ اور تباہی کی پالیسی ترک کرے اور اس کے بجائے اچھے ہمسایہ تعلقات اور مہذب باہمی روابط کو اختیار کرے۔





ممتا بنرجی کو پھر ملی بری خبر، سشمتا دیو نے راجیہ سبھا رکنیت سے دیا استعفیٰ، ترنمول کو بھی کہا خیر باد


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



مغربی بنگال میں اسمبلی انتخاب ہارنے کے بعد سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بری خبر ملنے کا جو سلسلہ شروع ہوا، تو وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا رکن سشمتا دیو نے راجیہ سبھا رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ساتھ ہی سشمتا نے پارٹی کو بھی خیر باد کہہ دیا ہے۔ ممتا بنرجی کی قریبی تصور کی جانے والی سشمتا نے آج ہی آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما سے ملاقات کی ہے، جس نے سیاسی ہلچل کو بہت بڑھا دیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ وہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کر سکتی ہیں۔ امکان یہ بھی ہے کہ بی جے پی انھیں آسام سے راجیہ سبھا بھیج سکتی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ سشمتا دیو آسام کے سلچر کی رہنے والی ہیں۔ وہ 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں کانگریس کی ٹکٹ پر سلچر سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ کانگریس نے انھیں مہیلا کانگریس کا صدر بھی بنایا تھا۔ سشمتا سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے مشہور لیڈر سنتوش موہن دیو کی بیٹی ہیں۔ 2021 میں وہ کانگریس چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئی تھیں۔ اس کے ایک ماہ بعد ہی ممتا بنرجی نے انھیں راجیہ سبھا بھیج دیا تھا۔ وہ پارلیمنٹ کی کئی اہم کمیٹیوں میں بھی شامل تھیں اور خواتین کے ایشوز پر کھل کر اپنی بات رکھتی تھیں۔




واضح رہے کہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس پوری طرح بکھر گئی ہے۔ پہلے ہی ترنمول کے 58 اراکین اسمبلی باغی رخ اختیار کر چکے ہیں اور انھوں نے ممتا بنرجی کو چیلنج پیش کرتے ہوئے اسمبلی میں اپنا قائد حزب اختلاف رتبرت بنرجی کو بنوایا ہے۔ ترنمول کے تقریباً 20 لوک سبھا اراکین نے بھی ایک الگ گروپ بنا لیا ہے۔ ان اراکین پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کے گھر میٹنگ کی، جس میں بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری بھی موجود تھے۔ اس کے بعد راجیہ سبھا میں بھی ترنمول کانگریس ٹوٹ کا سامنا کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ پہلے شکھیندو شیکھر رائے نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دیا، اب سشمتا دیو نے بھی ایسا ہی قدم اٹھا کر ممتا کو شدید دھچکا دیا ہے۔ راجیہ سبھا میں ٹی ایم سی کے 13 اراکین موجود تھے، لیکن اب یہ تعداد گھٹ کر 11 ہو گئی ہے۔