وقف بورڈ ہر مسلم مذہبی ادارے کو اپنی جائیداد نہیں مان سکتا: مدراس ہائی کورٹ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مدراس ہائی کورٹ نے وقف جائیداد کے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ کسی بھی مسلم مذہبی ادارے کو اس کے مذہبی کردار کی بنیاد پر وقف بورڈ اپنی جائیداد نہیں مان سکتا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ایسی کسی جائیداد پر بورڈ کا اختیار تبھی ہوگا جب سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس کی رجسٹری بورڈ کے نام پر ہو چکی ہو۔ عدالت نے یہ فیصلہ چنئی کے ٹرپلیکین علاقے میں ایک درگاہ سے منسلک معاملے پر سنایا ہے۔
تمل ناڈو وقف بورڈ نے چنئی کی ایک درگاہ کو اپنی سطح پر ہی ایک قرارداد پاس کر کے وقف کے نام کر لیا تھا۔ ایسے میں متعلقہ فریق نے مدراس ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ اس کے جواب میں عدالت نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ اس معاملے میں سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جس جائیداد (درگاہ) کو لے کر شکایت درج کی گئی تھی، وہ آفیشیل طور پر وقف کی جائیداد کے طور پر رجسٹر نہیں ہے۔ درگاہ کا وقف ایکٹ کے تحت سروے بھی نہیں کیا گیا تھا۔ جب کسی بھی طرح سے درگاہ کی جائیداد وقف بورڈ کے نام نہیں ہے تو صرف اپنی سطح پر ایک قرارداد پاس کر کے اس پر اپنا حق نہیں جتایا جا سکتا ہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ وقف بورڈ کو کسی بھی جائیداد پر حق جتانے کے لیے قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی درگاہ یا مسجد اپنے آپ ہی وقف کی جائیداد ہو جائے گی۔ ایسے ہر ایک معاملے میں ضروری دستاویز کی بنیاد پر یہ صاف ہونا چاہیے کہ جائیداد وقف کی ہے۔ اس سب کے لیے رجسٹریشن ہونا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ وقف جائیدادوں کے متعلق مدراس ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ وقف سے منسلک تمام جائیدادوں کے معاملے میں بھی کافی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے سے یہ صاف ہو گیا ہے کہ کسی بھی مسلم مذہبی ادارے کو وقف اپنی جائیداد نہیں مان سکتا ہے۔ اس کے لیے مقررہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔
یورپی یونین کے ایک فیصلہ سے ہندوستان اور چین سمیت دنیا کی 50 کمپنیوں کو جھٹکا، روس کے خلاف 21واں پابندی پیکیج منظور
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
یورپی یونین نے ہندوستان، چین سمیت دنیا کے کئی ممالک میں واقع 50 کمپنیوں کو جھٹکا دیا ہے۔ یورپی یونین نے منگل کے روز یوکرین پر حملے کی وجہ سے روس پر 21ویں پابندی پیکیج کا اعلان کر دیا۔ ان پابندیوں نے اچانک تقریباً 50 کمپنیوں کے سامنے بحران پیدا کر دیا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ہندوستان اور دیگر ممالک کی ان 50 کمپنیوں پر برآمدی اقدامات نافذ کئے جائیں گے جو روس کی فوج کے ساتھ براہ راست کاروبار کرتی ہیں۔
یورپی یونین کے اس اعلان کا اثر ہندوستان اور چین کے ساتھ ہی کرغستان، قزاخستان، متحدہ عرب امارات میں واقع کمپنیوں پر پڑے گا اور ان پر ایکسپورٹ پابندیاں لگائی جائیں گی۔ یورپی یونین نے یہ فیصلہ روس کی جنگی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے مقصد سے کیا ہے لیکن اس سے صرف روس ہی نہیں، تمام ممالک متاثر ہوں گے۔ نئی فہرست میں ڈرون مینوفیکچرنگ سے وابستہ کمپنیاں بھی شامل ہیں جن پر برآمدی پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔
مجوزہ 21ویں پابندی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کاجا کالس نے کہا کہ یہ اقدامات یوکرین میں اپنی فوجی مہم کو برقرار رکھنے اور مالی اعانت فراہم کرنے کی ماسکو کی صلاحیت پر لگام لگانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم آہستہ آہستہ روس کی جنگی معیشت کی بنیاد کو تباہ کر تے جا رہے ہیں، اب برسیلز 2 سال سے زائد عرصہ میں روس پر پابندیوں کی سب سے بڑی فہرست تیار کر رہا ہے۔
یورپی یونین کے مجوزہ پیکیج میں ان بینکوں، ہتھیار بنانے والوں، تیل کاروباریوں، ریفائنریوں اور کرپٹو آپریٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو تیسرے ممالک میں واقع ہیں اور ان پر روس کو موجودہ پابندیوں سے بچنے میں مدد کرنے کا الزام ہے۔ کالس کے مطابق تقریباً 90 بینکوں کے اثاثے ضبط کئے جاسکتے ہیں جبکہ روس اور دیگر ممالک کے 30 سے زائد بینکوں کے ساتھ لین دین پر مزید پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ 11 کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم پر بھی ٹرانزیکشن پابندی لگانے کی تیاری ہے۔ اس درمیان انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین روسی انرجی ایکسپورٹ سے ہونے والی آمدنی کو کم کرنے کے لیے روسی تیل کی قیمت کی حد پر عارضی پابندی لگانے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
کاجا کالس نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر بھی ان پابندیوں سے متعلق معلومات شیئر کی۔ اس میں انہوں نے کہا کہ ہم روس کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کو سپورٹ کرنے والی تمام کمپنیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ نئی فہرست میں ڈرون مینوفیکچرنگ شعبہ سے وابستہ 30 سے زائد اداروں کو شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی 50 کمپنیوں پر نئے ایکسپورٹ کنٹرول اقامات نافذ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم روس کی پیداواری صلاحیت کو مزید محدود کرنے کے لیے اضافی برآمدی پابندیاں بھی لگائیں گے۔ ان میں نکل پاؤڈر، دھاتیں اور اعلیٰ کارکردگی والے مرکبات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نئی اشیاء کی درآمد پر بھی پابندی لگائی جائے گی جن میں آٹو پارٹس، کئی قیمتی دھاتیں اور کیمیکلز شامل ہیں۔
جنگ سے دنیا پریشان مگر امریکہ مالا مال! تیل فروخت کر کے توڑ دیئے کمائی کے تمام ریکارڈ، بھر گیا خزانہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
دنیا بھر کی نظریں اس وقت مغربی ایشیا کے حالات پر مرکوز ہیں لیکن اس جغرافیائی سیاسی بحران اور جنگ کے درمیان امریکی معیشت نے منافع کمانے کے معاملے میں بڑی چھلانگ لگائی ہے۔ اپریل میں امریکہ کی مجموعی برآمدات (ایکسپورٹ) اب تک کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے نئی چوٹی پر پہنچ گئی ہیں۔ اس چھپر پھاڑ کمائی کے پیچھے خام تیل اور بھاری مشینری سب سے بڑی طاقت بنے ہیں۔ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی آسمان چھوتی قیمتوں نے امریکہ کا خزانہ بھر دیا ہے جس سے اس کا تجارتی خسارہ بھی کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔
امریکی محکمہ کامرس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں امریکہ کی مجموعی برآمدات 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 327.1 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ برآمدات میں ہوئے اس زبردست اضافے کی وجہ سے امریکی تجارتی خسارہ 1.2 فیصد کم ہو کر 55.9 ارب ڈالر پر آ گیا ہے۔ تجارتی خسارہ کم ہونے کا مطلب ہے کہ ملک سے پیسہ باہر کم جا رہا ہے اور آمدنی زیادہ ہو رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ کے اعداد و شمار میں کافی بہتری آئی ہے۔ پہلے مارچ کا تجارتی خسارہ 60.3 ارب ڈالر بتایا گیا تھا جسے اب ترمیم کر کے 56.6 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صرف اشیا کی برآمدات میں 4.1 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے یہ تخمینہ 221.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
امریکہ کی اس ریکارڈ توڑ کمائی کے پیچھے سب سے بڑا عنصر پٹرولیم مصنوعات ہیں۔ فروری کے آخر میں شروع ہوئی مغربی ایشیا کی جنگ نے بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی پوری سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ اسی وجہ سے خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکہ دنیا کے ان چنندہ ممالک میں شامل ہے جو تیل کے خالص برآمد کنندہ ہیں، یعنی وہ اپنی ضرورت سے زیادہ تیل کی پیداوار اور برآمد کرتا ہے۔ اسی کا براہ راست فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ نے اپریل میں 36.7 ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات برآمد کیں۔ یہ تخمینہ مارچ کے 27.6 ارب ڈالر کے مقابلے کافی زیادہ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ منافع صرف تیل کی بلند ترین قیمتوں کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ امریکہ نے بھاری مقدار میں تیل کی سپلائی میں بھی اضافہ کر دیا۔
پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کے زبردست عالمی مطالبات نے امریکہ کی دیگر صنعتی مصنوعات کو بھی بڑا سہارا دیا ہے۔ صنعتی سپلائی اور اشیا کی برآمدات بھی بڑھ کر 89 ارب ڈالر کی نئی ریکارڈ سطح پر آگئی ہیں۔ امریکی پٹرولیم تجارتی سرپلس پچھلے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے 17.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو مارچ میں محض 9.4 ارب ڈالر تھا۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر برآمدات کی یہی مضبوط صورتحال آئندہ کچھ عرصے تک جاری رہی تو سال کی دوسری سہ ماہی میں امریکہ کی اقتصادی شرح ترقی کو نمایاں رفتار ملے گی۔
ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی ٹھکانوں پر کیا حملہ، آبنائے ہرمز سے شروع ہوئی کشیدگی جنگ میں تبدیل!
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ سے متعلق چل رہی بات چیت ٹھنڈے بستے میں جاتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں امریکی ہیلی کاپٹر اپاچے پر حملہ نے ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، اور یہ کشیدگی اب جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اپاچے مار گرائے جانے کے بعد امریکہ اور تہران کے درمیان ایک بار پھر حملے شروع ہو گئے ہیں۔ امریکہ نے جنگی طیاروں سے ایران کے قشم اور اصفہان سمیت تقریباً 8 شہروں پر ایئر اسٹرائیک کی۔ تہران نے بھی ان حملوں پر جوابی حملہ کر دیا ہے۔ آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکہ کی پانچویں فلیٹ کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا ہے۔ ایران کے ذریعہ کویت اور اردن میں امریکی ٹھکانوں پر حملہ کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے ذریعہ ایرانی شہروں پر کیے گئے ایئر اسٹرائیک سے حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ قشم جزیرہ میں 6 دھماکے ہوئے ہیں، جبکہ سیریک جزیرہ پر پانی کے 2 پلانٹ تباہ ہو گئے ہیں۔ ہرمز خطہ میں بھی امریکی جنگی طیاروں سے حملہ کیا گیا ہے اور جسک شہر، بوشہر، اصفہان میں بھی حملے ہوئے ہیں۔ بندر عباس میں کئی دھماکے ہوئے ہیں اور اہواز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اہواز خزستان خطہ کا شہر ہے، جسے آئل کیپٹل کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس درمیان خبر رساں ایجنسی سنہوا نے ایرانی میڈیا کے حوالہ سے بتایا ہے کہ 10 جون کی علی الصبح جنوبی ایران کے بندر عباس، قشم جزیرہ، سیریک کاؤنٹی اور جسک کاؤنٹی میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، اور ایئر ڈیفنس سسٹم بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ سیریک، قشم جزیرہ اور جنوبی شہری میناب میں بھی 6 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ان سبھی علاقوں میں امریکی جنگی طیاروں نے حملے کیے ہیں۔
امریکہ کی اس کارروائی کے بعد ایران کی اسلامک ریوولوشنری گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل سے حملے کیے ہیں۔ کم از کم 4 بیلسٹک میزائلیں اور کئی ڈرون امریکی ٹھکانوں کی طرف داغے گئے۔ اس حملہ کے بعد پورے خلیجی خطہ میں ایئر ڈیفنس سسٹم فعال کر دیے گئے اور کئی مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
موصولہ اطلاع کے مطابق ایران نے سب سے بڑا حملہ بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ ہیڈکوارٹر پر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی آر جی سی کے مطابق مقامی وقت علی الصبح تقریباً 2.30 بجے ڈرون اور میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک میزائل امریکی فوجی اڈہ پر جا کر بھی گرا۔ حملہ کے عبد بحرین کی وزارت داخلہ کے ذریعہ پورے ملک میں سائرن بجنے کی جانکاری دی گئی۔ عام لوگوں سے محفوظ مقامات پر جانے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق بحرین میں 16 سے زیادہ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حالانکہ امریکی فریق نے ابھی تک کسی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔
آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ کویت پر بھی ڈرون داغے گئے ہیں۔ اس حملہ میں علی السلیم ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ امریکی فضائیہ کا ایک اہم ٹھکانہ مانا جاتا ہے۔ حملہ کے بعد کویتی فوج نے بیان جاری کر کہا کہ اس کے ایئر ڈیفنس سسٹم دشمن کے ہوائی اہداف کو انٹرسپٹ کر رہے ہیں۔ کویت میں بھی کئی دھماکوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ سرکاری ایجنسیوں نے لوگوں سے سیکورٹی ہدایات پر عمل کرنے کو کہا ہے۔ ایران کا الزام ہے کہ کویت میں موجود امریکی ٹھکانوں کا استعمال اس کے خلاف فوجی مہموں کے لیے کیا جا رہا ہے۔
اس درمیان اردن کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران سے داغی گئی 5 میزائلوں کو مار گرایا ہے، جو اردن کے الازراق علاقہ کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ فوجی افسران کے مطابق ایئر ڈیفنس سسٹم نے سبھی میزائلوں کو کامیابی کے ساتھ انٹرسپٹ کر لیا۔ حالانکہ اس کارروائی کے دوران میزائلوں کے کچھ ملبے اردن کی زمین پر گرے، لیکن کسی کے زخمی ہونے یا کسی طرح کے نقصان کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔
’محفوظ رہنا چاہتے ہو تو خلیج فارس سے نکل جاؤ‘، ایران کے وزیر خارجہ کی امریکہ کو وارننگ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مغربی ایشیا میں تقریباً ہر روز کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی دوران ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ محفوظ رہنا چاہتا ہے تو اسے خلیج فارس کو چھوڑ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر کے کہا کہ جنگ کے میدان میں ناکام رہنے کے بعد امریکہ نے ایران کے عزائم کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی طاقتور افواج کسی بھی حملے کو بغیر جواب دیئے نہیں چھوڑیں گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں وارننگ دی کہ خلیج فارس کی تاریخ میں باہری طاقتوں کے بُرے انجام کی کئی مثالیں ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکی فوج نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی فورسیز نے ایران کے خلاف اپنے دفاع میں حملے شروع کئے ہیں۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس واقعہ کے جواب میں کی گئی ہے جس میں ایران نے امریکی فوج کے اپاچے ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ سینٹ کام نے بتایا کہ صدر کے حکم پر منگل کی شام یہ حملے شروع کئے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ایران کی بلا جواز جارحیت کے خلاف متوازن اور محدود جوابی کارروائی ہے۔
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کر رہے ایک امریکی اپاچے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر میں موجود دونوں پائلٹ محفوظ ہیں اور انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ اس حملے کا جواب دے گا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ انہیں فوج سے پتہ چلا ہے کہ ایران نے ایک جدید ترین اپاچے ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پائلٹ محفوظ ہیں، لیکن امریکہ کے لیے اس حملے کا جواب دینا ضروری ہے۔
غور طلب ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان لگاتار حملے اور جوابی حملے ہو رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق اسرائیل نے ایران کے پیٹرو کیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا جبکہ ایران کی جانب سے اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر حملے کئے گئے۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتا ٹکراؤ پورے مغربی ایشیا میں حالات کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے قریب تین ایرانی اڈوں پر امریکی حملے
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے، امریکا نے منگل کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی۔ دوسری جانب ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا نہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس واقعے کو ایران پر حملے کے بہانے کے طور پراستعمال کر رہا ہے۔ فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے اور امن مذاکرات کے امکانات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
امریکی فوج نے ایران کے خلاف اپنی جوابی فوجی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈنے کہا کہ یہ آپریشن خود دفاعی آپریشن تھا، جو 9 جون کو صدر کے حکم پر کیا گیا۔ ایک روز قبل امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈکے مطابق، امریکی فضائیہ اور بحریہ کے لڑاکا طیاروں نے درست ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنس اور نگرانی کے ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔
امریکہ نے کہا کہ یہ حملے اس کے فوجیوں اور اس علاقے سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈنے کہا کہ امریکی افواج مکمل چوکس ہیں اور کسی بھی ایرانی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ حالیہ حملے ایران کو وارننگ کے طور پر کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں سے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات پر اثر انداز ہونے کے امکان نہیں ہیں۔ ادھرایران نے امریکی اڈوں پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے بعد ٹرمپ برہم، ایران کا انکار
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تازہ دعوے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ ایران نے کل رات آبنائے ہرمز میں گشت کے دوران امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں پائلٹ محفوظ اور ان میں سے کوئی بھی زخمی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس حملے کا ضرور جواب دے گا۔ اس بیان سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان حالات بدستور کشیدہ ہیں۔
ٹرمپ کے اس دعوےکی ایران نے تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ ان پر دوبارہ حملہ کرنے کا بہانہ تلاش کر رہا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ ماجد روانچی نے غیر ملکی میڈیا الجزیرہ کو بتایا کہ ہرمز پر امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر پر حملے کے پیچھے تہران کا ہاتھ نہیں تھا۔ دریں اثناء ایران کے سرکاری میڈیا نے فوجی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہرمز میں کوئی جارحانہ فضائی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ دشمن (امریکہ) امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر حادثے کی آڑ میں دوبارہ دشمنی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا کسی بھی صورت میں ’’فیصلہ کن جواب‘‘ دیا جائے گا۔
واضح رہےایک روز قبل صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے میزائل حملوں کا جواب نہ دیں، انتباہ دیا تھا کہ اس سے تین ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے جاری امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد ٹرمپ نے نیتن یاہو سے بات کی اور انہیں تحمل سے کام لینے پر زور دیا۔ ٹرمپ نے ایران پر بھی زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آجائے۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکہ معاہدے کے بہت قریب ہے اور امید ظاہر کی کہ اسے جلد حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ میزائل حملے بند کرے اور مذاکرات کے ساتھ آگے بڑھے۔ فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے کسی بھی معاہدے کو قبول کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کشیدگی میں اضافہ امن کی کوششوں کو مکمل طور پر پٹری سے اتار سکتا ہے۔
0 تبصرے