وارانسی میں گوشت کی دکانوں پر مکمل پابندی سے تاجروں میں ناراضگی، ہندو صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



اتر پردیش کے وارانسی میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شہر کے اندر گوشت و مچھلی کی دکانوں پر پابندی لگنے اور شہر سے باہر منتقل کرنے کے حکم سے ہلچل مچی ہوئی ہے۔ اس حکم کو گوشت تاجر ناانصافی پر مبنی بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی نسلوں سے کیے جانے والے اس کاروبار کے علاوہ ان کے پاس کمائی کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ ایسے میں اگر حکومت ان کو شہر سے باہر کرتی ہے تو اس کا ان کے روزی روٹی پر برا اثر پڑے گا، جو کہ نظر بھی آنے لگا ہے۔


گوشت تاجروں نے بتایا کہ ان کے نصف سے زیادہ کسٹمر ہندو ہیں اور وہ بھی دکانوں کو شہر سے باہر منتقل کرنے کے فیصلہ سے ناراض ہیں۔ مقامی مسلمانوں نے بھی وارانسی میونسپل کارپوریشن کے فیصلہ کو غلط ٹھہرایا اور بتایا کہ بڑی گوشت کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے اس طرح کے فیصلے لیے گئے ہیں۔ ایک دیگر نے بتایا کہ اس سے نہ صرف پولیس کا استحصال بڑھے گا، بلکہ جگہ جگہ پر چیکنگ اور گائے کے گوشت کے نام پر وصولی بھی شروع ہو جائے گی۔




واضح رہے کہ حال ہی میں مذہبی اور روحانی شناخت والے کاشی شہر میں گوشت اور مچھلی کے کاروبار کو لے کر اہم فیصلہ لیا گیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے اجلاس عام کی میٹنگ میں شہر کے اندر چلنے والی ان دکانوں کو مرحلہ وار طریقے سے شہر کی سرحد کے باہر منتقل کرنے پر اتفاق قائم ہوا ہے۔ میداگن واقع ٹاؤن ہال میں میئر اشوک کمار تیواری کی صدارت میں منعقد میٹنگ کے دوران اس تجویز پر تفصیل سے غور و خوض کیا گیا۔ ایوان میں شہر کی ترقی، تجاوزات ہٹانے، صفائی نظام اور مفاد عامہ سے جڑے مختلف موضوعات پر بحث ہوئی، جن میں گوشت اور مچھلی مارکیٹ کو شہر کے باہری حصوں میں منظم کرنے کا ایشو اہم رہا۔


اس بارے میں سٹی کمشنر ناگ پال نے ایوان کو بتایا کہ منصوبہ کے پہلے مرحلہ کے تحت 5 مقامات کی شناخت کر لی گئی ہے۔ ان میں رام نگر، سوج آباد، گنیش پور، اولیش پور اور شیوپور علاقے شامل ہیں۔ یہ سبھی جگہ شہر کے باہر واقع ہیں، جس سے لوگو کو خریداری کے لیے کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔





مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان لبنان پر اسرائیل کا بڑا حملہ، ٹرمپ کی اپیل بے اثر


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک طرف جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو روکنے کے لیے ایک بڑے معاہدے کے بالکل آخری مرحلہ میں ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ایک جارح قدم نے اس پورے امن عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایران کے ساتھ بات چیت اور آپسی حملوں کو روکنے کی کوششوں کے درمیان اسرائیلی فوج نے اچانک لبنان کے جنوبی حصوں پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔


لبنان کے خلاف اسرائیل کے تازہ ترین حملوں کے بعد عالمی حلقوں میں یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ کیا نیتن یاہو ایک بار پھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امن سفارتکاری کے ایجنڈے اور ’گرینڈ ڈیزائن‘ کو بگاڑنے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ یہ پورا واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل دونوں ہی فریق ایک دوسرے پر براہ راست حملے روک کر جنگ کے میدان میں ایک نیا فارمولہ، ایک نیا سیکورٹی شیلڈ اور جنگ کے نئے اصول قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن پیر کی دیر رات اور منگل کی صبح اسرائیل کے ذریعہ لبنان کے صور شہر سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنائے جانے سے سفارتی بات چیت کے پس پردہ جاری کشیدگی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔




واضح رہے کہ فی الحال مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل فریق امن کے دعووں کے درمیان ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی حد اور عزم کا امتحان لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے جنگ بندی کی امیدیں فی الحال دھندلی نظر آ رہی ہیں۔ اس پورے تنازعہ کی جڑیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان سے منسلک ہیں، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے تاریخی معاہدے کے بے حد قریب پہنچ چکے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ثالثی کے باعث ہی گزشتہ کچھ دنوں میں ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کی سرزمین پر براہ راست میزائل حملے بند کر دیے تھے۔


قابل ذکر ہے کہ امریکہ اس جنگ کو علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے پردے کے پیچھے سے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا تھا۔ لیکن اس معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے سے عین قبل ایران نے ایک بہت ہی سخت اور دو ٹوک وارننگ جاری کر دی۔ تہران نے آفیشیل بیان میں واضح طور پر کہا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے کسی بھی طرح کی جارحیت یا دشمنانہ کارروائی جاری رہتی ہے، خاص طور سے جنوبی لبنان میں، تو ایران خاموش نہیں بیٹھے گا اور اس کے بعد اسرائیل کو کہیں زیادہ سنگین اور تباہ کن فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کے لیے لبنان اور حزب اللہ کی حفاظت اس کی اپنی خودمختاری جتنی ہی اہم ہے۔ وہ اسرائیل کو لبنان میں کھلی چھوٹ دینے کے حق میں ہرگز نہیں ہے۔





حادثہ یا حملہ! آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ کا اپاچے اٹیک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، ریسکیو کئے گئے 2 پائلٹ


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو

ایران-امریکہ اور اسرائیل تنازعہ کا مرکز بنے آبنائے ہرمز کے پاس امریکی فوج کا ایک اپاچے اٹیک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا۔ حالانکہ ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں پائلٹوں کو بہ حفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ ہیلی کاپٹر ایرانی حملے کا شکار ہوا، اس میں تکنیکی خرابی آئی یا کسی دوسری وجہ سے حادثہ ہوا۔ امریکی اخبار ’دی نیویارک ٹائمس‘ کی رپورٹ کے مطابق اس واقعہ سے باخبر 2 افسران نے حادثے کی تصدیق کی ہے۔ حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان یا تازہ ترین اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔


امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے بھی اس واقعہ پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ یہ حادثہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اس علاقے میں لگاتار کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے کئے ہیں۔ اس کے بعد حالات ’پر امن‘ ہوئے لیکن جنگ بندی جیسا ماحول ابھی بھی بہت کمزور مانا جا رہا ہے۔




جنگ شروع ہونے کے بعد کچھ امریکی طیارے بھی یا تو ایران کی کارروائی میں تباہ ہوئے یا غلطی سے لاپتا ہوگئے لیکن یہ پہلی بار ہے جب اس جنگ میں اپاچے ہیلی کاپٹر کے گرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ امریکی فوج اس علاقے میں کئی طرح کے ہتھیار اور طیارے استعمال کرتی رہی ہے۔ ان میں اپاچے ہیلی کاپٹر، ایم کیو-9 ریپر ڈرون اور ایف/اے -18 نیز ایف -35 جنگی طیارے شامل ہیں۔ ان کا استعمال ایران کی سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز میں اس کے اثرات کو روکنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے اب تک تقریباً 30 ریپر ڈرون مار گرائے ہیں۔


امریکی سینٹرل کمانڈ نے 4 مئی کو سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کی تھیں جن میں سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کو آبنائے ہرمز کے پاس اپاچے ہیلی کاپٹر میں پرواز کرتے دکھایا تھا۔ یہ اس وقت ہوا تھا جب امریکی بحریہ نے پروجیکٹ فریڈم شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد تجارتی جہازوں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد کرنا تھا لیکن یہ مہم زیادہ وقت نہیں چل سکی۔




اے ایس-64 اپاچے ہیلی کاپٹر کو دنیا کے سب سے خطرناک اور طاقتور جنگی ہیلی کاپٹروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں ہیل فائر میزائلیں لگی ہوتی ہیں اور اس کا استعمال ڈرون کو گرانے اور چھوٹی کشتیوں کے حملوں سے بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں یہ ہیلی کاپٹر ایران کے نزدیکی علاقوں اور خلیجی خطے میں زیادہ سرگرم ہوئے ہیں۔ اپریل میں ایران نے امریکہ کے ایف -15اے اسٹرائیک ایگل طیارے کو مار گرایا تھا جس کے بعد امریکہ نے اپنے 2 کرو ممبرس کو ایران سے ریسکیو کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔





خان سر کو عدالت نے سنائی خوشخبری، پٹنہ سول کورٹ نے گرفتاری پر لگائی روک


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



خان سر کو آج عدالت نے ایک بڑی خوشخبری سنائی۔ پٹنہ سول کورٹ نے ان کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے۔ خان سر پر 2 جون کو اپنے کوچنگ سنٹر کے باہر مبینہ طور پر گولی باری کروانے کا الزام ہے۔ اس کے لیے ان کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا۔ گزشتہ کل، یعنی پیر کے روز انھوں نے پٹنہ کے سول کورٹ میں پیشگی ضمانت کی عرضی داخل کی تھی۔



قابل ذکر ہے کہ خان سر کے خلاف پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ میں ایف آئی آر درج ہے۔ ایک وائرل ویڈیو کی بنیاد پر خان سر کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ویڈیو 2 جون کی ہے۔ ویڈیو میں ان کے کوچنگ ادارہ کے 2 سیکورٹی گارڈ گولی باری کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ واقعہ کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو گئی۔ اس کے بعد پٹنہ پولیس نے خان سر کے دونوں سیکورٹی گارڈ کو حراست میں لیا اور بعد میں انھیں گرفتار کر لیا۔




دراصل 2 جون کی شب خان سر کے کوچنگ سنٹر کے باہر کچھ لوگوں نے توڑ پھوڑ اور مار پیٹ کا واقعہ انجام دیا تھا۔ اس دوران خان سر کوچنگ سنٹر کے پوسٹر بھی پھاڑے گئے اور ان کے گارڈ کے ساتھ مار پیٹ بھی ہوئی۔ خان سر نے شرپسندوں کے ذریعہ فائرنگ کا دعویٰ کیا تھا، حالانکہ بعد میں انھوں نے اسے غلط فہمی سے تعبیر کیا اور اپنا بیان واپس لے لیا۔ جب گارڈ سے فائرنگ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ خان سر کے کہنے پر اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔ اس کے بعد جانچ کا دائرہ بڑھ گیا اور پولیس نے خان سر کے خلاف آرمس ایکٹ کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی۔


اس کے بعد پٹنہ کی پولیس خان سر کی تلاش میں مصروف ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ گرفتاری کے خوف سے خان سر غائب ہو گئے۔ پیر کے روز ان کے وکیلوں نے پٹنہ سول کورٹ میں پیشگی ضمانت کی عرضی داخل کی۔ حالانکہ اس سے قبل ان کے عدالت میں خود سپردگی کرنے کی بھی خبریں آئیں، لیکن وہ عدالت نہیں پہنچے۔ اس کے بعد پیشگی ضمانت عرضی داخل کی گئی۔ آج، یعنی 9 جون کو پٹنہ سول کورٹ نے ان کی گرفتاری پر روک لگا دی۔





ٹرمپ جنگ کا جلد خاتمہ چاہتے ہیں اور نیتن یاہو ایران کوجنگ کے ذریعہ سبق سکھانا چاہتے ہیں!


قومی آواز تجزیہ

قومی آواز تجزیہ



امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے مل کر جو جنگ شروع کی تھی وہ اب اپنے راستے بدلتی نظر آتی ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہوکے درمیان جنگ کو لیکر اختلاف سامنے آ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خلاف جاری جنگ میں بیروت پر حملہ نہ کرے۔ تاہم اسرائیل نے ٹرمپ کے انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اتوار کو بیروت پر بمباری کی۔ اس کے جواب میں ایران نے اپریل میں جنگ بندی کے بعد پہلی بار اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے۔ ایران کی جوابی کارروائی کے بعد اسرائیل نے بھی ایران کے خلاف جوابی کارروائی کی۔


اسرائیل کے اس اقدام کو ٹرمپ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔ ٹرمپ کے انکار کے باوجود، اسرائیل نے حملہ کیا، جس سے نیتن یاہو کی کارروائی پر آمادگی واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے۔




ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اس تنازع کی بنیادی وجہ ان کے اپنے ممالک میں سیاسی معاملات ہیں۔ ٹرمپ اس وقت شدید سیاسی دباؤ میں ہیں۔ اس سال امریکہ میں انتخابات ہونے والے ہیں اور ٹرمپ کی پارٹی ان کا سامنا کر رہی ہے۔ چنانچہ ٹرمپ اس جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ مزید برآں، ٹرمپ دنیا بھر میں گیس اور ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب ایران کا واضح طور پر کہنا ہے کہ لبنان میں مکمل جنگ بندی کسی بھی معاہدے کے لیے ضروری شرط ہے۔


نیتن یاہو کی پوزیشن ٹرمپ سے بالکل مختلف ہیں۔ نیتن یاہو کو اس سال اپنے ہی ملک میں انتخابات کا بھی سامنا ہے۔ اس پر حزب اللہ کے حملوں کو مکمل طور پر روکنے اور عوام کے سامنے یہ ثابت کرنے کے لیے شدید دباؤ ہے کہ وہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف یہ جنگ جیت رہے ہیں۔




اسی وقت، نیتن یاہو کو اسرائیل کے سب سے بڑے حامی اور اتحادی (امریکہ) کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے ۔یہ مختلف سیاسی مجبوریاں اب دونوں لیڈروں کو مخالف سمتوں میں دھکیل رہی ہیں۔






عدالت نے H-1B ویزوں پر ٹرمپ کی ایک لاکھ ڈالر کی فیس کو مسترد کیا


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو



ایک امریکی عدالت نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نئے H-1B ویزا درخواستوں پر اضافی ایک لاکھ امریکی ڈالر فیس عائد کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس اتنی زیادہ فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ بوسٹن، میساچوسٹس میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج لیو سوروکین نے پیر کو یہ فیصلہ جاری کیا۔


یہ فیصلہ 20 ڈیموکریٹک ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کے دائر کردہ مقدمے کے بعد کیا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن قوانین کو سخت کرتے ہوئے گزشتہ ستمبر میں H-1B ویزا فیس میں خاطر خواہ اضافے کی تجویز پیش کی تھی۔ اگر لاگو کیا جاتا ہے، تو اس پالیسی سے H-1B ویزا حاصل کرنے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ H-1B ویزا امریکی کمپنیاں دوسرے ممالک سے خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ہنر مند پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔




ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی سے پہلے، نئی H-1B درخواست کے لیے کل سرکاری فیس عام طور پردو ہزار ڈالر سے چار ہزار ڈالر تک ہوتی تھی، حالانکہ یہ کچھ بڑی کمپنیوں کے لیے زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجوزہ ایک لاکھ ڈالر فیس موجودہ درخواست کی فیس سے تقریباً 25 سے 50 گنا زیادہ تھی اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں اور پیشہ ور افراد پر اس کا نمایاں اثر پڑے گا۔


H-1B ویزا سے متعلق زیادہ تر فیسیں عام طور پر اسپانسر کرنے والی کمپنی (آجر) ادا کرتی ہیں، ملازم نہیں۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایسی فیسیں عائد کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے ان کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے فیس کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس فیصلے کو ٹرمپ انتظامیہ کی ملازمت پر مبنی امیگریشن پالیسی کو سخت کرنے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔