ایران میں پھنسے 10 ہندوستانی ملاحوں کی رہائی، جلد ہوگی وطن واپسی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ایران میں گزشتہ کئی ماہ سے پھنسے 10 ہندوستانی ملاحوں کو بالآخر راحت مل گئی ہے۔ حکومت ہند کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے اعلان کیا ہے کہ آئل ٹینکر ’ایم وی ہاربر فینکس‘ میں موجود تمام 10 ہندوستانی ملاحوں کو کامیاب سفارتی کوششوں کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ ملاح جولائی 2025 میں ایران کے جاسک پورٹ کے قریب جہاز روکے جانے کے بعد حراست میں لے لیے گئے تھے اور بعد میں انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔
تقریباً 9 سے 10 ماہ تک غیر یقینی صورت حال میں رہنے کے بعد اب ان ملاحوں کی رہائی ممکن ہو سکی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ مسلسل سفارتی رابطوں اور مختلف سرکاری اداروں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری معلومات کے مطابق تمام ہندوستانی ملاح اس وقت محفوظ ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے ملوا دیا گیا ہے اور اب جلد از جلد ان کی ہندوستان واپسی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ملاحوں کے اہل خانہ کافی عرصے سے ان کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے اور اب رہائی کی خبر سامنے آنے کے بعد ان میں خوشی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔
حکومت نے بتایا کہ وزارت خارجہ، وزارت بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہ، تہران میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ، جہاز کے انتظامی ادارے اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں نے مسلسل رابطہ اور سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔ انہی اقدامات کے نتیجے میں تمام ملاحوں کی محفوظ رہائی ممکن ہو سکی۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں خدمات انجام دے رہے ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت اور فلاح حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی مقصد کے تحت متعلقہ ادارے مسلسل صورت حال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، ’ایم وی ہاربر فینکس‘ ایک آئل ٹینکر ہے جو پلاؤ کے جھنڈے کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ جولائی 2025 میں ایران کے جاسک پورٹ کے قریب جہاز روکے جانے کے بعد یہ معاملہ پیچیدہ ہو گیا تھا۔ اس دوران حکومت ہند نے کھلے بیانات دینے کے بجائے خاموش سفارتی حکمت عملی اپنائی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ محتاط سفارتی رابطوں، مسلسل گفت و شنید اور مختلف سطحوں پر رابطے برقرار رکھنے کی پالیسی نے اس معاملے کے حل میں اہم کردار ادا کیا۔ اب تمام ملاحوں کو وطن واپسی کا انتظار ہے، جہاں ان کے اہل خانہ کئی مہینوں سے ان کا انتظار کر رہے ہیں۔
کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ وجین اور ان کی بیٹی کے گھر ای ڈی کی چھاپہ ماری، 10 ٹھکانوں پر ڈالی گئی ریڈ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
انفورسمنٹ ڈائریکوریٹ (ای ڈی) نے آج کیرالہ میں 10 مقامات پر چھاپہ ماری کی ہے، جن میں سابق وزیر اعلیٰ و کیرالہ اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد پینارائی وجین اور ان کی بیٹی وینا وجین کے ٹھکانے بھی شامل ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی مبینہ منی لانڈرنگ معاملے سے متعلق ہے، جس میں کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کی بیٹی اور ان کی کمپنی ایکسالوجک سولیوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کا نام سامنے آیا تھا۔ یہ معاملہ کوچی واقع کوچین منرلز اینڈ روٹائل لمیٹڈ (سی ایم آر ایل) سے جڑی مبینہ غیر قانونی ادائیگیوں اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔
اس چھاپہ ماری کی بنیاد اپریل 2025 میں ایس ایف آئی او (سیریس فراڈ انوسٹیگیشن آفس) کی جانب سے دائر کی گئی چارج شیٹ ہے۔ ایس ایف آئی او نے وینا وجین کی آئی ٹی کمپنی ایکسالوجک سولیوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ (ای ایس پی ایل) پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ الزام ہے کہ کمپنی کو کوچی واقع کوچین منرلز اینڈ روٹائل لمیٹڈ سے 19-2018 سے اگلے 3 برسوں تک کوئی خدمات فراہم کیے بغیر ’غیر قانونی ادائیگیاں‘ موصول ہوئیں۔ سال 2017 میں ایکسالوجک اور ’سی ایم آر ایل‘ کے درمیان سافٹ ویئر اور مارکیٹنگ خدمات کے لیے معاہدہ ہوا تھا، لیکن جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ طے شدہ خدمات سرے سے فراہم ہی نہیں کی گئیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس پورے تنازعہ کی جڑیں 2017 سے جڑی ہوئی ہیں، جب وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کی بیٹی وینا کی کمپنی ایکسالوجک نے کوچین منرلز اینڈ روٹائل لمیٹڈ کے ساتھ سافٹ ویئر اور مارکیٹنگ خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک باضابطہ معاہدہ کیا تھا۔ الزام ہے کہ اس معاہدے کی آڑ میں کوئی کام کیے بغیر کروڑوں روپے کے مشتبہ مالی لین دین کیے گئے۔ اس مبینہ مالی بے ضابطگی کا انکشاف سب سے پہلے 2019 میں ہوا تھا، جب محکمہ انکم ٹیکس (آئی ٹی) نے سی ایم آر ایل کے دفاتر پر ایک بڑی چھاپہ ماری کی تھی۔ محکمہ انکم ٹیکس نے اس تلاشی مہم کے بعد ایک تفصیلی جانچ رپورٹ پیش کی تھی، جس میں سابق وزیر اعلیٰ کی بیٹی کی کمپنی کو کی گئی مشتبہ ادائیگیوں کا پہلی بار باضابطہ ذکر کیا گیا تھا۔
تنازعہ مسلسل بڑھنے کے بعد مرکزی حکومت نے جنوری 2024 میں ایکسالوجک سولیوشنز، سی ایم آر ایل اور کیرالہ ریاستی صنعتی ترقیاتی کارپوریشن (کے ایس آئی ڈی سی) سے متعلق ان سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ کے لیے ایس ایف آئی او کو احکامات جاری کیے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس معاملے سے وابستہ پرائیویٹ کمپنی سی ایم آر ایل میں سرکاری ادارے کے ایس آئی ڈی سی کی مجموعی 13.4 فیصد حصہ داری ہے۔
ایس ایف آئی او کی جانچ اور محکمہ انکم ٹیکس کی رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکوریٹ (ای ڈی) نے آخرکار مارچ 2024 میں اس پورے مالی گھوٹالے میں منی لانڈرنگ کا ایک نیا مقدمہ درج کیا تھا۔ اسی معاملے میں اپنی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے ای ڈی نے اب وزیر اعلیٰ اور ان کی بیٹی کے ٹھکانوں پر یہ بڑی چھاپہ ماری کی ہے، جس کے بعد کیرالہ کی سیاست میں ہلچل اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔
شدید مخالفت کے درمیان آسام اسمبلی سے ’یو سی سی بل‘ ہوا پاس، سبھی مذاہب کے لیے ہوگا یکساں قانون
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
آسام اسمبلی نے شدید مخالفت کے درمیان ’یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) آسام بل، 2026‘ منظور کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آسام شمال مشرق کی پہلی اور ملک کی تیسری ریاست بن گئی ہے، جہاں یونیفارم سول کوڈ قانون نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت شادی، طلاق، گود لینا، جائیداد اور خاندانی معاملات سے متعلق قوانین تمام شہریوں کے لیے یکساں ہوں گے۔ یعنی مختلف مذاہب کے لیے الگ الگ پرسنل قوانین کی جگہ اب ایک مشترکہ قانون نافذ ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد تمام شہریوں کو یکساں حقوق دینا اور قانونی نظام کو آسان بنانا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اور بعض تنظیموں نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مذہبی اور ثقافتی روایات متاثر ہو سکتی ہیں۔ آسام سے پہلے اتراکھنڈ اور گوا میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کیا جا چکا ہے۔ اب آسام ایسا قانون بنانے والی تیسری ریاست بن گئی ہے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اسمبلی سے ’یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) آسام بل، 2026‘ پاس ہونے کو ریاست کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون مساوات اور انصاف کی سمت میں ایک بڑا فیصلہ ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ آسام کی تاریخ میں یہ ایک اہم لمحہ ہے کیونکہ اب آسام یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے والی ملک کی تیسری ریاست بن گئی ہے۔ یہ قدم ملک کے بانیوں کے نظریات اور آئین سازوں کی خواہشات کو آگے بڑھانے والا ہے۔
ہیمنت بسوا سرما کے مطابق یہ فیصلہ 3 اہم نکات کو پورا کرتا ہے، جن میں آئین کے آرٹیکل 44 کی روح، بی جے پی کے بنیادی نظریات اور بی جے پی آسام کے انتخابی وعدے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا ہے اور یہ قانون تمام شہریوں کے لیے یکساں نظام یقینی بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔
’امریکہ سے دوبارہ جنگ ہونے کا امکان کم‘، ایرانی پاسداران انقلاب کا مسرت آمیز بیان آیا سامنے
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ایران کی ’پاسداران انقلاب اسلامی کور‘ (آئی آر جی سی) کی بحریہ کے نائب سیاسی سربراہ محمد اکبرزادہ کے مطابق امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان اب بہت کم ہے۔ حالانکہ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کسی بھی نئے حملے کا جواب دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
تہران سے 27 مئی کو موصولہ رپورٹس کے مطابق ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے محمد اکبرزادہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’(دوبارہ) جنگ شروع ہو جانے کا امکان دشمن کی کمزوری کی وجہ سے کم ہے اور ایرانی مسلح افواج (اپنے اسلحوں کی) میگزینیں بھرے ہوئے بالکل تیار ہیں۔‘‘ نیوز ایجنسی نے یہ بھی مطلع کیا کہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی سربراہ اکبرزادہ نے ایران کے طویل جنوبی ساحلی علاقے کے دونوں سروں پر واقع اور اسٹریٹجک حوالے سے بہت اہم مقامات کا نام لے کر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم جارحیت کرنے والوں کے لیے چابہار سے لے کر ماہشہر تک کے علاقے کو ان کا قبرستان بنا دیں گے۔‘‘
ایرانی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ اہلکار محمد اکبرزادہ کا بدھ کے روز دیا جانے والا بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ امریکہ نے ایران جنگ میں تاحال جاری فائر بندی کے باوجود پیر اور منگل کی درمیانی شب ایران پر نئے فضائی حملے کیے تھے، جو امریکی فوج کی مرکزی کمان کے ترجمان کے مطابق اس لیے کیے گئے تھے کہ ایرانی میزائلوں کی لانچنگ سائٹس اور سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کیا جا سکے۔
قابل ذکر ہے کہ اس حملہ کے تعلق سے امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے 26 مئی کو کہا تھا کہ یہ حملے ’اپنے دفاع‘ کے لیے اس وجہ سے بھی کیے گئے کہ امریکی فورسز کو ایران کی وجہ سے لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔ ان نئے امریکی فضائی حملوں کے بارے میں، جو جنوبی ایرانی صوبے ہرمزگان میں منگل کو علی الصبح تک جاری رہے، ایرانی وزارت خارجہ نے کل کہا تھا کہ یہ ایران جنگ میں گزشتہ قریب 7 ہفتوں سے جاری فائر بندی کی ’شدید خلاف ورزی‘ تھے۔
ہندوستان کے شہری علاقوں کی خواتین کا ’ڈیجیٹل دنیا‘ میں قائم ہو رہا دبدبہ، مردوں سے 50 فیصد زیادہ رہتی ہیں آن لائن
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ہندوستان کے شہری علاقوں میں خواتین تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کی سب سے فعال صارف بنتی جا رہی ہیں۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق خواتین تفریح، میسجنگ، آن لائن شاپنگ اور کوئک کامرس جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مردوں کے مقابلے میں کافی زیادہ وقت گزارتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈیجیٹل مصروفیات کو بڑھانے میں خواتین کا کردار سب سے نمایاں رہا ہے۔
کنزیومر بیہیویئر اینالیٹکس پلیٹ فارم ’وی ٹی آئی او این‘ اور آئی اے ایم اے آئی کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق خواتین روزانہ اوسطاً 82.4 منٹ تفریحی مواد دیکھنے میں گزارتی ہیں۔ خاص طور پر 25 سے 34 سال کی خواتین میں سب سے زیادہ سرگرمی دیکھی گئی جو روزانہ تقریباً 86 منٹ تک تفریح سے منسلک مواد دیکھتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو اسٹریمنگ، شارٹ ویڈیو اور سوشل انٹرٹینمنٹ ایپس پر خواتین کی شراکت داری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ای-کامرس اور کوئک کامرس پلیٹ فارم پر بھی خواتین کی سرگرمی مردوں سے کافی زیادہ پائی گئی۔ بڑے شہروں میں رہنے والی 25 سے 34 سال کی خواتین روزانہ اوسطاً 35.2 منٹ آن لائن شاپنگ اور کوئک ڈیلیوری ایپس پر گزارتی ہیں، جبکہ مردوں کا اوسط 24.8 منٹ درج کیا گیا۔ اس اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہے کہ خواتین اب ڈیجیٹل خریداری کی سب سے بڑی طاقت بنتی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہندوستان کے شہری علاقے میں اے آئی ایپس کا استعمال انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان اے آئی ایپلیکیشن کیٹیگری میں 100 فیصد سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ شہری صارفین روزانہ اوسطاً 11.3 منٹ اے آئی پر مبنی ایپ پر صرف کر رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اے آئی ٹولز کا سب سے زیادہ استعمال 18 سے 34 سال کے نوجوان اور زیادہ آمدنی والے خاندانوں میں دیکھنے کو ملا۔ اب لوگ کسی پروڈکٹ یا برانڈ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کیے لیے براہ راست سرچ انجن یا شاپنگ ایپس پر جانے کے بجائے اے آئی ٹولز کا سہارا لینے لگے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بات چیت کرنے والے اے آئی پلیٹ فارم صارفین کے آن لائن فیصلوں کو تیزی سے متاثر کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 18 سے 24 سال کے نوجوان سوشل میڈیا کے سب سے بڑے صارف بن کر سامنے آئے ہیں۔ یہ طبقہ روزانہ تقریباً 120 منٹ سوشل میڈیا پر گزارتا ہے، جبکہ تمام صارفین کا اوسط تقریباً 98 منٹ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 35 سال سے زائد عمر کے لوگ تفریحی مواد دیکھنے میں سب سے زیادہ وقت دے رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ یہ رپورٹ ایک لاکھ سے زائد اسمارٹ فونز کے ڈیٹا پر مبنی ہے، جو ملک کے تقریباً 40.7 کروڑ شہری علاقوں میں رہنے والے ہندوستانیوں کی ڈیجیٹل عادات کو ظاہر کرتی ہے۔ رپورٹ سے واضح اشارے ملتے ہیں کہ ہندوستان میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا استعمال تیزی سے بدل رہا ہے اور اس میں خواتین کی شرکت مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔
مغربی ایشیا کی کوریج پر پھر ناراض ہوئے ٹرمپ، امریکی میڈیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کو کہہ دیا ’پاگل‘
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مغربی ایشیا جنگ کی کوریج کو لے کر امریکی میڈیا پر تلخ حملہ بولا ہے۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ کئی بڑے میڈیا ادارے ان کی حکومت اور امریکہ کے خلاف جانبدارانہ رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران پوری طرح خود سپردگی بھی کردے، تب بھی میڈیا اسے ایران کی جیت بتانے کی کوشش کرے گا۔ ٹرمپ نے یہ تبصرہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں دی نیویارک ٹائمس، دا وال اسٹریٹ جنرل اور سی این این جیسے میڈیا اداروں کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ میڈیا ادارے اور ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر ’پوری طرح راستہ بھٹک چکے ہیں‘ اور ’پاگل ہوگئے ہیں‘۔
اپنی طویل پوسٹ میں ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ایران خود سپردگی کردے، اس کی فوج ہتھیار ڈال دے اور قیادت ہار مان لے، تب بھی میڈیا یہ دکھائے گا کہ ایران نے امریکہ پر بڑی جیت حاصل کی ہے۔ حالانکہ ٹرمپ نے یہ صاف نہیں کیا کہ خاص رپورٹ یا خبر سے وہ ناراض تھے لیکن مانا جارہا ہے کہ مغربی ایشیا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور جنگ جیسے حالات پر میڈیا کوریج کو لے کر انہوں نے اس طرح کے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جب ٹرمپ نے اپنے ہی امریکی میڈیا پر حملہ بولا ہو۔ گزشتہ ماہ بھی انہوں نے نیو یارک ٹائمس اور وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹنگ کی تنقید کی تھی۔ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمس پر ایران کے حوالے سے ’فرضی خبریں‘ پھیلانے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ کہ اخبار کو امریکہ اور ان کے خلاف غلط رپورٹنگ کے لیے معافی مانگنی چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ میڈیا کی رپورٹوں کے باوجود ایران ’فوجی اور دیگر سطحوں پر پوری طرح تباہ‘ ہو چکا ہے۔ وہیں وال اسٹریٹ جنرل کے ادارتی بورڈ نے ٹرمپ کے ایران جنگ میں جلد جیت کا اعلان کرنے والے بیان کو ’ وقت سے پہلے‘ بتایا تھا جس پر ٹرمپ نے سخت رد عمل کا ٓاظہار کیا تھا۔
اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی فوج نے اتوار کو آبنائے ہرمز کے پاس ایرانی میزائل لانچ سائٹ اور کشتیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ’دفاعی کارروائی‘ کرنے کی بات کہی تھی۔ دعویٰ کیا کہ اس سے امریکہ اور’ دفاعی کارروائی‘ کرنے کی بات کہی تھی۔ دوسری طرف ایران نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکہ کی ’بے ایمانی اوراعتماد شکنی‘ بے نقاب ہوتی ہے۔ حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے لیکن حالیہ واقعات نے مغربی ایشیا میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔
حج 2026: 17 لاکھ سے زائد حجاج کرام نے مناسک حج ادا کیے، محکمہ شماریات نے جاری کیے اعداد و شمار
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے اسٹیٹسٹکس (محکمہ شماریات) نے اعلان کیا ہے کہ حج سنہ 1447ھ (2026ء) سیزن کے لیے حجاج کرام کی مجموعی تعداد 17 لاکھ 7 ہزار 301 رہی ہے، جن میں مختلف سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے سعودی عرب سے باہر سے آنے والے 15 لاکھ 46 ہزار 655 حجاج کرام شامل ہیں۔ اسی طرح سعودی شہریوں اور مملکت میں مقیم غیر ملکیوں پر مشتمل داخلی حجاج کی تعداد 1 لاکھ 60 ہزار 646 رہی۔
محکمہ شماریات نے اپنے شماریاتی نتائج میں واضح کیا ہے کہ اندرون اور بیرون ملک کے مجموعی حجاج میں سے مرد حجاج کی تعداد 8 لاکھ 93 ہزار396 تھی، جبکہ خواتین حجاج کی تعداد 8 لاکھ 13 ہزار905 رہی۔ یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ مملکت سے باہر سے آنے والے بیشتر حجاج کرام فضائی گزرگاہوں کے ذریعے پہنچے، جن کی مجموعی تعداد 14 لاکھ 85 ہزار 729 رہی، جبکہ 54 ہزار 429 حجاج زمینی راستوں سے اور 6 ہزار 497 حجاج بحری گزرگاہوں کے ذریعے پہنچے۔
عمومی مقتدرہ برائے شماریات نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے حج سنہ 1447ھ کے ڈاٹا اور انڈیکیٹرز کے اجراء کے لیے وزارت داخلہ کے ایڈمنسٹریٹو ریکارڈز پر انحصار کیا ہے جو کہ ڈاٹا کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسے متحد شماریاتی ماڈل کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد انتہائی درست اور قابل اعتماد ڈاٹا فراہم کرنا ہے، جو کہ گزشتہ 6 برسوں کے دوران اپنائے گئے شماریاتی طریقہ کار کا ہی تسلسل ہے۔
واضح رہے کہ عمومی مقتدرہ برائے شماریات مملکت سعودی عرب میں شماریاتی ڈاٹا اور معلومات کے لیے واحد اور سرکاری حوالہ ہے، جو منظور شدہ طریقہ کار اور معیارات کے مطابق قومی اشاریے اور اعداد و شمار جاری کرنے کی ذمہ دار ہے۔
(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)
’ترنمول کے 20 ایم پی اور 50 ایم ایل اے پارٹی بدلنے کو تیار‘، بی جے پی رکن پارلیمنٹ سومتر خان کا سنسنی خیز دعویٰ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اب اپنے ہی اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کی ناراضگی کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک دن قبل ہی وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی میٹنگ میں باراسات سے رکن پارلیمنٹ کاکولی گھوش دستیدار اور ٹی ایم سی کے 6 اراکین اسمبلی پہنچے تھے۔ اب بی جے پی کے سینئر لیڈر اور بانکوڑا سے رکن پارلیمنٹ سومتر خان نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔
سومتر خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ترنمول کانگریس کے تقریباً 50 اراکین اسمبلی اپنی پارٹی سے ناراض ہیں، اور 20 اراکین پارلیمنٹ بی جے پی میں شامل ہونے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی بی جے پی کے رابطے میں ہیں اور اعلیٰ قیادت سے منظوری ملتے ہی پارٹی بدلنے کو راضی ہیں۔ سومتر خان نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت اگر ایک بار کہہ دے تو ترنمول کانگریس نام کی کوئی پارٹی ہی نہیں بچے گی۔ ایسا اس لیے کیونکہ ہر کوئی بی جے پی میں شمولیت کو تیار بیٹھا ہے۔
سومتر خان نے ترنمول لیڈر ابھشیک بنرجی پر بھی تلخ حملہ کیا۔ انھوں نے ابھشیک کو گنہگار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ گنہگاروں کو جیل جانا ہی پڑتا ہے۔ سومتر کا کہنا ہے کہ آج ان کے گھر کے سامنے بلڈوزر کھڑا ہے، انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ 2021 میں انھوں نے بی جے پی کارکنان کے گھر تڑوائے تھے۔ گنہگاروں کو فوراً سزا ملنی چاہیے، ان کو جہنم میں جانا چاہیے۔
بہرحال، سومتر خان کے ذریعہ ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی سے متعلق کیے گئے دعویٰ کو ترنمول کانگریس نے خارج کر دیا ہے۔ ترنمول رکن پارلیمنٹ سوگت رائے کا کہنا ہے کہ ’’یہ پوری طرح سے غلط ہے۔ سومتر خان اور بی جے پی غلط باتیں پھیلا رہے ہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا۔‘‘ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں ترنمول کانگریس کے کئی اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی نے کھل کر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔
0 تبصرے