نیٹ امتحان معاملہ: سپریم کورٹ نے سی بی آئی، این ٹی اے اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر مانگا جواب
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نیٹ-یو جی 2026 امتحان کے متعلق داخل عرضی پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن (ایف اے آئی ایم اے) اور یونائٹڈ ڈاکٹرس فرنٹ کی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت، این ٹی اے اور سی بی آئی کو نوٹس جاری کر جواب مانگا ہے۔ ان عرضیوں میں نیٹ کے دوبارہ امتحان کے عمل کو عدالتی نگرانی میں کرائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 29 مئی کو ہوگی۔
عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نیٹ-یوجی 2026 دوبارہ کرانے کے پورے عمل کی نگرانی کے لیے ایک ’ہائی پاورڈ کمیٹی‘ تشکیل دی جائے، جس کی صدارت سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کریں۔ اس کمیٹی میں ایک سائبر سیکورٹی ماہر اور ایک فارنسک سائنسداں کو بھی شامل کیے جانے کا مطالبہ ہے۔ عرضی میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جب تک نیا آزاد امتحانی ادارہ (این ای آئی سی) باقاعدہ طور پر قائم نہیں ہو جاتا، تب تک اسی عدالتی کمیٹی کی نگرانی میں نیٹ-یو جی 2026 کا دوبارہ امتحان کرایا جائے۔ عرضی میں نیٹ کے سنٹر وائز ریزلٹ عام کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی غیر معمولی پیٹرن یا بے ضابطگی کا شفاف طریقے سے پتہ لگایا جا سکے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے سبق نہیں سیکھا۔ سپریم کورٹ کا پہلے بھی فیصلہ آ چکا ہے۔ کمیشن نے سفارشات پیش کی تھیں اور ان کو تسلیم بھی کر لیا گیا، لیکن پھر بھی ایسا ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم این ٹی اے کو مانیٹرنگ کمیٹی کی سفارشات کے حوالے سے اسٹیٹس بتاتے ہوئے ایک حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ مانیٹرنگ کمیٹی کے چیئرمین کے رادھاکرشنن بھی ہائی پاور کمیٹی کی ہدایات پر عمل درآمد کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر حلف نامہ داخل کریں۔
قابل ذکر ہے کہ نیٹ کا امتحان 3 مئی کو ملک بھر میں گریجویٹ میڈیکل کورسز میں داخلے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ حالانکہ بعد میں یہ امتحان اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب ایسی خبریں سامنے آئیں کہ کچھ افراد نے مبینہ طور پر امتحان سے پہلے ہی سوالیہ پرچہ حاصل کر لیا تھا اور اسے پیسوں کے عوض امیدواروں میں تقسیم کر دیا تھا۔ تحقیقاتی ایجنسیوں نے اب تک اس معاملے میں 11 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس کیس کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کر رہی ہے۔
’ٹول نہیں وصولیں گے، لیکن بحری خدمات کے لیے لگے گا ماحولیاتی ٹیکس‘، آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا بیان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ معاہدے کو لے کر جاری قیاس آرائیوں کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز کو لے کر ایک اہم بیان دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر (25 مئی) کو کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کسی طرح کا ٹول ٹیکس نہیں وصولے گا، لیکن بحری اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق خدمات کے لیے ٹیکس وصولا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ایران کی جانب سے ٹول وصولی کے اشارے دیے گئے تھے اور امریکہ-ایران مذاکرات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’ایران اور عمان مل کر ایک نیا پروٹوکول تیار کر رہے ہیں۔ اس کے تحت آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ماحولیات کے تحفظ کے لیے بحری خدمات فراہم کی جائیں گی۔‘‘ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اسے ٹول کہنا غلط ہوگا، کیونکہ یہ ماحولیاتی تحفظ اور سمندری سیکورٹی سے منسلک ’انوائرنمنٹ ٹیکس‘ (ماحولیاتی ٹیکس) ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آبانئے ہرمز کا انتظام ساحلی ممالک کا حق ہے اور ایران-عمان اسے آزاد تجارت اور محفوظ بحری آمد و رفت کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسماعیل بقائی کے مطابق نائب وزیر خارجہ کا عمان دوررہ بھی اسی نئے سیکورٹی نظام اور محفوظ آمد و رفت کے نظام پر تبادلۂ خیال کے لیے ہوا ہے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سیکورٹی پوری دنیا کے لیے تشویش کا موضوع ہے، لیکن ایران اپنی سیکورٹی کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پہلے اس سمندری راستے کا استعمال ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے لیے کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایران آس پاس کے ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سیکورٹی اور علاقائی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ممکنہ امریکہ-ایران معاہدہ پر انہوں نے کہا کہ امریکہ کے وعدوں کی گوئی گارنٹی نہیں ہے اور ایران کسی بھی دھمکی کی پرواہ نہیں کرتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کی ثالثی ایک بڑی تبدیلی ہے اور لبنان تنازعہ کو ختم کرنے سے متعلق التزام بھی مذاکرات کا حصہ ہے۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال امریکہ-ایران بات چیت میں جوہری پروگرام اہم معاملہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق موجودہ بات چیت کی توجہ کشیدگی ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل اس پورے عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ہندوستان دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کو لے کر جلد کوئی بڑی خبر سامنے آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو معاہدہ نہیں ہو پایا، لیکن اسے ناکامی نہیں مانا جانا چاہیے۔ روبیو کے مطابق امریکہ نے ایران کے سامنے ایک مضبوط تجویز پیش کی ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر طے شدہ وقت کے اندر سنجیدہ مذاکرات شروع کرنے کی بات چیت شامل ہے۔
اپوزیشن کی زبردست مخالفت کے درمیان آسام اسمبلی میں یونیفارم سول کوڈ بل پیش، 27 مئی کو ہوگی بحث
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
آسام کابینہ سے منظوری کے 2 ہفتے بعد ریاستی حکومت نے پیر کے روز اسمبلی میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل پیش کر دیا ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر اتل بورا نے ایوان کی میز پر ’دی یونیفارم سول کوڈ آسام، بل، 2026‘ پیش کیا۔ اس بل پر 27 مئی کو بحث ہوگی جس کے بعد اسے پاس کئے جانے کا امکان ہے۔ حالانکہ اپوزیشن اراکین نے آسام اسمبلی میں یو سی سی بل پیش کئے جانے کی شدید مخالفت کی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بل کو پیش کرنے سے پہلے اس پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع بحث ہونی چاہئے۔
اس سے قبل 13 مئی کو وزیر اعلیٰ سرما کی دوسری میعاد کی پہلی کابینہ میٹنگ ہوئی تھی جس کے بعد حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 21 سے 26 مئی تک چلنے والے موجودہ اسمبلی اجلاس کے دوران یہ بل لایا جائے گا۔ کابینہ کے فیصلوں کی معلومات دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ کابینہ نے یونیفارم سول کوڈ کے مسودے کو منظوری دے دی ہے، جسے اجلاس کے آخری دن پیش کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کے مطابق اس بل کے مسودے کو آسام کی مخصوص آبادیاتی تنوع اور سماجی تانے بانے کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ یہ نیا قانون بنیادی طور پر سول سوسائٹی سے متعلق 5 بڑے مسائل کو منظم کرے گا۔
مجوزہ قانون کے مطابق ریاست میں کثرت ازواج پر پوری طرح قانونی پابندی عائد ہوگی۔ وہیں شادی کے لئے کم از کم قانونی عمر کا ایک مقررہ پیمانہ نافذ ہوگا۔ اس کے علاوہ طلاق اور شادی کا رجسٹریشن ہوگا جس کے مطابق سبھی شادیوں اور طلاق کا سرکاری ریکارڈ درج ہونا ضروری ہوگا۔ قانون میں بیٹیوں کو مساوی حقوق دیئے گئے ہیں یعنی آبائی جائیداد اور وراثت کے معاملات میں عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق حاصل ہوں گے۔ آخری اہم مسئلہ ’لیو ان ریلیشن شپ ‘ کا ہے جس میں بغیر شادی کے رہنے والے جوڑوں یعنی لیو ان ریلیشن شپ کے لیے سخت قانون اور رجسٹریشن لازمی ہوگا۔
اگر یہ بل پاس ہو جاتا ہے تو اتراکھنڈ اور گجرات کے بعد آسام ملک میں یوسی سی بل پاس کرنے والا تیسرا صوبہ بن جائے گا۔ حالانکہ ریاستی حکومت کو شروعات میں ہی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس بل کو لے کر اسمبلی کے اندر اور باہر زبردست ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ حکمراں پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے پہلے ہی اجلاس میں یو سی سی لاکر عوام سے کیا گیا اپنا سب سے بڑا وعدہ پورا کیا ہے وہیں دوسری طرف کانگریس، ٹی ایم سی اور دیگر اپوزیشن اراکین نے اس پر تلخ رد عمل کا ظہار کیا ہے۔ اپوزیشن نے قانون کو لانے کے وقت اور اس کے سماجی اثرات کو لے کر ایوان میں سخت احتجاج درج کرایا ہے۔
ایران اور امریکہ میں بن گئی بات، بغیر کسی ٹیکس کے آبنائے ہرمز پوری طرح کھولنے کا راستہ صاف!
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاملے پر عبوری معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اب اس معاہدہ سے متعلق اعلان کی تیاری کی جا رہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایران کی جانب سے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اس پر جلد دستخط کر سکتے ہیں۔ عبوری معاہدے میں بغیر ٹیکس کے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی بات کہی گئی ہے۔ اب لوگ اس بارے میں جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ آخر آبنائے ہرمز کب کھلے گی؟ اس کا جواب 4 حقائق میں مضمر ہے، جو اس طرح ہیں:
آبنائے ہرمز میں پانی کے نیچے ایران کی جانب سے 12 تباہ کن بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔ اس راستے کو کھولنے کے لیے سب سے پہلے انہیں ہٹانا ہوگا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس میں کم از کم 30 دن کا وقت لگ سکتا ہے۔ ایران یہ کام خود کرنا چاہتا ہے۔ معاہدے کے بعد سپریم لیڈر کے حکم کے بعد یہ عمل شروع کیا جائے گا۔
ہائی فریکوئنسی اکنامکس کے چیف ماہر معاشیات کارل وینبرگ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی طے شدہ تاریخ نہیں بتائی جا سکتی۔ کیونکہ معاہدے کے بعد انہیں ہٹانے کا عمل شروع کرنے میں ایک ہفتے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ ایران امریکہ کو قابل اعتماد بھی نہیں سمجھتا۔ معاہدے کے باوجود اسے حملے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق خلیج فارس میں اس وقت 2000 مال بردار جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔ ان جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنا آسان نہیں ہے۔ جب تک جہازوں کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ آبنائے ہرمز میں اب کوئی خطرہ باقی نہیں رہا، تب تک انہیں باہر نہیں نکالا جائے گا۔
اپریل 2026 میں امریکی اراکین پارلیمنٹ کے سامنے آبنائے ہرمز کے حوالے سے وزارت دفاع پنٹاگون کے افسران پیش ہوئے تھے۔ امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق اس میں پنٹاگون کا کہنا تھا کہ چھوٹے ٹینکر تو جلد نکل جائیں گے، لیکن بڑے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کم از کم 6 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔
’سی این این‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدہ کے حوالے سے اصولی اتفاق قائم ہو چکا ہے۔ اس کے حتمی مسودے تیار کیے جا رہے ہیں، جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کھولے گا اور جوہری اسلحے نہیں بنائے گا۔ اس کے بدلے میں امریکہ اس پر حملہ نہیں کرے گا اور اس کے ضبط شدہ فنڈز واپس کرے گا۔ معاہدہ میں لبنان پر حملہ نہ کرنے کا بھی ذکر ہے۔ یعنی لبنان کی جنگ بھی اب مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کا داخلی دروازہ ہے، جسے 3 جزائر کے ذریعے ایران کنٹرول کرتا ہے۔ 34 کلومیٹر چوڑے اس راستے کے ذریعے دنیا بھر میں تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی کی جاتی ہے۔ جنگ سے پہلے یہ راستہ مکمل طور پر کھلا ہوا تھا، لیکن امریکی حملے کے بعد ایران نے اسے بند کر دیا۔
ایندھن کی قیمتوں میں 10 دنوں کے اندر چوتھی بار اضافہ، آج پٹرول 2.61 اور ڈیزل 2.71 روپئے فی لیٹر ہوا مہنگا
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ملک بھر میں ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام کو زوردار دھچکا دیا ہے۔ پیر کو تیل کمپنیوں نے پٹرول کی قیمت میں 2.61 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 2.71 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا۔ اس طرح گزشتہ 10 دنوں میں یہ چوتھی بار ہے جب ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی سے پریشان عام لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافہ کے بعد راجدھانی دہلی میں اب پٹرول 102.12 روپے اور ڈیزل 95.20 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ اس سے قبل ہفتہ کو بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 87 پیسے سے 91 پیسے تک کا اضافہ کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، روپے کی کمزوری اور بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت نے تیل کمپنیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ ریفائننگ مارجن میں تبدیلی بھی ایندھن کی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے۔ طویل عرصے تک قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے بعد اب سرکاری تیل کمپنیاں آہستہ آہستہ بڑھے ہوئے اخراجات کا بوجھ صارفین پر ڈال رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 10 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل تقریباً 5 روپے فی لیٹر تک مہنگے ہو چکے ہیں۔
نئی قیمتوں کے مطابق دہلی میں پٹرول کی قیمت 2.61 روپے اضافے کے ساتھ 102.12 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ وہیں کولکاتا میں پٹرول کی قیمت 113.51 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جہاں 2.87 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ممبئی میں پٹرول کی قیمت 111.21 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے جب کہ چنئی میں یہ 107.77 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے خاص طور پر متوسط طبقے اور روزانہ گاڑی استعمال کرنے والوں میں بڑی تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسی طرح ڈیزل کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دہلی میں ڈیزل 2.71 اضافے کے بعد اب 95.20 روپئے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کولکاتا میں ڈیزل کی قیمت 99.82 روپے فی لیٹر اور ممبئی میں 97.83 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ ڈیزل کی اونچی قیمتوں کا نقل و حمل اور مال برداری پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مانا جا رہا ہے کہ پٹرول-ڈیزل مہنگا ہونے کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا۔ مال برداری مہنگی ہونے سے پھل، سبزی، دودھ اور روزمرہ کی دوسری تمام اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ڈیزل مہنگا ہونے سے کھیتی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں آنے والے دنوں میں مہنگائی بڑھنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ نے متوسط طبقے اور روزانہ سفر کرنے والے لوگوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایران کسی قسم کے جھکنے کے موڈ میں نہیں ہے، جب کہ ٹرمپ سمجھوتے کی امید کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
28 فروری 2026 کو مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے نے ایران اور پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاہم تہران کی جوابی کارروائی نے تنازعہ کو مزید دلچسپ بنا دیا۔ اس حملے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز تک رسائی روک دی جس سے کئی ممالک اقتصادی بحران میں ڈوب گئے۔ مذاکرات جاری ہیں، پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم ابھی تک کوئی ٹھوس نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران اپنی جوہری طاقت برقرار رکھے جب کہ ایران نے امریکہ کی شرائط کو یک طرفہ قرار دیا ہے۔
ایران کسی قسم کے جھکنے کے موڈ میں نہیں ہے، جب کہ ٹرمپ سمجھوتے کی امید کر رہے ہیں۔ یہ خبر اتوار کو منظر عام پر آئی، جس کی تفصیلات اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے شیئر کی۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے گزشتہ رات صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے اور ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی تصفیہ کے لیے آئندہ ہونے والے مذاکرات کے بارے میں بات کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ اور وہ اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے کے لئے ایران کو جوہری خطرے کو ختم کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی جوہری افزودگی کی جگہوں کو ختم کرنا اور اس کے افزودہ جوہری مواد کو اپنی سرزمین سے ہٹانا ہے۔ صدر ٹرمپ نے لبنان سمیت ہر محاذ پر خطرات کے خلاف اپنے دفاع کے اسرائیل کے حق کی بھی توثیق کی۔ نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ میں شائع خبر کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری میدان جنگ میں ثابت ہوئی۔‘ نیتن یاہو نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی طرح ان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
0 تبصرے