’میری عدالت میں بدتمیزی نہیں چلے گی‘، اڈانی-امبانی کا ذکر کرنے والے وکیل پر چیف جسٹس سوریہ کانت ہوئے ناراض


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت 23 فروری کو ایک معاملہ پر سماعت کے دوران سینئر وکیل میتھیوز نیدومپارا پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ سینئر وکیل کی بات پر وہ اس قدر برہم ہوئے کہ وکیل کو تقریباً ڈانٹتے ہوئے متنبہ کر ڈالا کہ ان کی عدالت میں یہ بدتمیزی نہیں چلے گی۔


دراصل سینئر وکیل میتھیوز نیدومپارا نے چیف جسٹس آف انڈیا کی بنچ کے سامنے کہا کہ ایک عرضی داخل کی گئی تھی، جس میں عدلیہ کے کالجیم سسٹم کو چیلنج پیش کیا گیا اور ججوں کی تقرری کے لیے نیشنل جیوڈیشیل اپوائنٹمنٹ کمیشن کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ جواب میں چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ایسی کوئی عرضی رجسٹر نہیں ہے۔ یہ سن کر ایڈووکیٹ نیدومپارا نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’اڈانی و امبانی کے لیے آئینی بنچ تشکیل دی جاتی ہے، اور عام لوگوں سے جڑے ایشوز پر سماعت ہی نہیں ہوتی۔‘‘ یہ سننا تھا کہ سی جے آئی سوریہ کانت سخت ناراض ہو گئے۔




’لائیو لاء‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق سینئر ایڈووکیٹ میتھیوز کی بات سے چیف جسٹس آف انڈیا اس قدر ناراض ہوئے کہ انھوں نے فوراً انھیں متنبہ کیا اور کہا کہ ’’مسٹر نیدومپارا، آپ میری عدالت میں جو کہہ رہے ہیں، اسے سوچ سمجھ کر بولیے۔ آپ نے چنڈی گڑھ میں بھی مجھے دیکھا ہے، دہلی میں بھی۔ یہ مت سوچیے کہ جیسے آپ دوسری بنچ کے ساتھ بدتمیزی کرتے رہے ہیں، ویسے ہی آپ میری عدالت میں بھی بدتمیزی کریں گے۔ میں آپ کو تنبیہ کرتا ہوں۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ 2024 میں سپریم کورٹ کے رجسٹری ڈپارٹمنٹ نے نیدومپارا کی عرضی کو رجسٹر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ رجسٹری ڈپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ پہلے ہی نیشنل جیوڈیشیل اپوائنٹمنٹ کمیشن پر فیصلہ ہو چکا ہے، ایسے میں اسی ایشو پر نئی عرضی سماعت کے لائق نہیں ہے۔ بہرحال، پہلی بار ایسا نہیں ہوا ہے کہ ایڈووکیٹ نیدومپارا کے تئیں کسی جج نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ گزشتہ سال اُس وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے بھی انھیں ایک معاملہ میں پھٹکار لگائی تھی۔ تب جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا تھا کہ ’’عدالت میں سیاسی تقریر مت کیجیے۔‘‘






’بی جے پی جہاں جہاں نفرت کی کھیتی کرے گی، ہم وہاں وہاں محبت کے گلاب لگائیں گے‘، سکھبیر جوناپوریا پر کانگریس کا حملہ


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ سکھبیر سنگھ جوناپوریا کے ذریعہ ایک مسلم فیملی کو کمبل دے کر واپس لیے جانے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ کانگریس نے بی جے پی لیڈر کی اس حرکت کو انتہائی شرمناک بتایا ہے کہ کمبل دینے کے بعد مسلم ہونے کی جانکاری ملتے ہی اس سے کمبل واپس لے لیا۔ اس معاملہ میں سماجی و سیاسی لیڈران سکھبیر جوناپوریا کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کے عمل کو ہندو-مسلم اتحاد کو نقصان پہنچانے والا قرار دے رہے ہیں۔ کانگریس نے تو اسے ’نفرت کا بازار‘ قرار دیا ہے۔


یوتھ کانگریس کارکنان نے اس مسلم فیملی کو آج اپنی طرف سے کمبل بطور تحفہ پیش کیا ہے اور یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے کہ مذہب کے نام پر تقسیم قطعی برداشت نہیں کی جائے گی۔ مسلم کنبہ کو کمبل دیے جانے کی ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے اور اس کے ساتھ لکھا ہے ’’نفرت کے بازار میں محبت کی دکان‘‘۔




اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’راجستھان میں سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ سکھبیر سنگھ جوناپوریا نے جس مسلم فیملی کو کمبل دینے سے منع کر دیا، ہمارے یوتھ کانگریس کے ساتھیوں نے اس مسلم فیملی کو کمبل دے کر نفرت کے خلاف محبت کا پیغام دیا ہے۔‘‘ کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بی جے پی جہاں جہاں بھی نفرت کی کھیتی کرے گی، ہم وہاں وہاں محبت کے گلاب لگائیں گے۔ ملک میں پھیل رہی نفرتی نظریات کو محبت و بھائی چارے سے مٹائیں گے۔






میکسیکو میں تشدد کے بعد ہندوستانی سفارت خانے نے ایڈوائزری جاری کی

نئی دہلی، 23 فروری (یواین آئی) ہندوستان نے میکسیکو میں رہنے والے اپنے شہریوں کو حفاظت کے بارے میں چوکس رہنے اور "قانونی سرگرمیوں کے آس پاس کے علاقوں" سے دور رہنے کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے یہ ایڈوائزری میکسیکو کی پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ میں ایک بدنام زمانہ ڈرگ مافیا کے مارے جانے کے بعد بھڑکے تشدد کے پشی نظر جاری کی گئی ہے مارے گئے ڈرگ مافیا کی شناخت نیمیسیو روبن اوسیگویرا سروینٹس عرف "ایل مینچو" کے طور پر ہوئی ہے، جو جلیسکو نیو جنریشن کارٹیل کا سرغنہ تھا۔ وہ فوجیوں کے ساتھ تصادم میں زخمی ہوا تھا۔ میکسیکو سٹی لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اس کے بعد کئی علاقوں میں پرتشدد واقعات کی اطلاع ملی۔

ہندستانی سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ ایڈوائزری میں ہندستانی شہریوں کو ان علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے کام کر رہے ہیں۔ اپنے اردگرد کے ماحول سے آگاہ رہیں، پناہ تلاش کریں، اور غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے، "فی الحال حفاظتی کارروائیاں جاری ہیں اور ان سے منسلک رکاوٹیں اور مجرمانہ سرگرمیاں سامنے آرہی ہیں۔ ریاست جالیسکو (پورٹو ولارٹا، چاپالا اور گواڈالہارا کے علاقے)، ریاست تمولیپاس (رینوسا اور دیگر میونسپلٹیز)، ریاست میچوآکان، ریاست گوریرو اور نیوو ریاست میں رہنے والے ہندوستانی شہری اگلے احکامات تک اپنی جگہ پر ہی رہیں۔"

ایڈوائزری میں لوگوں پر زور دیا گیا کہ وہ مقامی میڈیا سے باخبر رہیں، مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور ہنگامی صورت حال کی صورت میں 911 پر کال کریں۔ ہجوم سے بچیں اور خاندان اور دوستوں کو فون، ٹیکسٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی صورتحال سے آگاہ کرتے رہیں۔ مدد کے لیے ہندوستانی سفارت خانے سے 7539 4847 55 52 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2023 کے آخر تک میکسیکو میں ہندوستانی کمیونٹی کی تعداد 8,000 اور 10,650 کے درمیان ہے۔ 2020 کی مردم شماری میں 1,825 قانونی ہندوستانی تارکین وطن کی نشاندہی کی گئی تھی، حالانکہ سیاحت، کاروبار اور ٹرانزٹ ہجرت میں اضافے کی وجہ سے کل تعداد میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔







امریکی محصولات کے ہندوستانی معیشت پر اثرات کا اندازہ لگانا قبل از وقت : نرملا سیتارمن

نئی دہلی، 23 فروری (یو این آئی) وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پیر کے روز کہا کہ ہندستانی معیشت پر امریکی ٹیرف (محصولات) کے اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے، اور وزیر تجارت پیوش گوئل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں سیتارمن نے وفاقی دارالحکومت میں ریزرو بینک آف انڈیا (آربی آئی ) کے سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بجٹ کے بعد روایتی اجلاس سے خطاب کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ’’امریکی ٹیرف تبدیلیوں سے ہندوستانی معیشت پر پڑنے والے اثرات پر تبصرہ کرنا ابھی بہت جلدی ہے۔ وزیر تجارت اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ ان کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی منڈیاں امریکہ کے نئے ٹیرف اقدامات پر ردعمل دے رہی ہیں، جس سے مختلف معیشتوں کو اپنی تجارتی نمو اور ترقی کے منظر نامے پر نظر ثانی کرنی پڑ رہی ہے۔

خدشات کو دور کرتے ہوئے، آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے ہندوستان کے مالیاتی نظام کی لچک اور مضبوطی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ’’ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ نظام سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے،‘‘ جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مرکزی بینک عالمی غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں کسی وسیع مالیاتی تناؤ کا خطرہ نہیں دیکھ رہا۔

مالیاتی پالیسی کے حوالے سے گورنر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ شرح سود کے فیصلے ڈیٹا پر مبنی ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’شرح سود کا فیصلہ ترقی اور افراطِ زر (مہنگائی) کی بدلتی ہوئی صورتحال پر منحصر ہوگا۔ ہم تمام مارکیٹوں کو پائیدارنقدی فراہم کریں گے،‘‘ جو کہ استحکام کو یقینی بنانے کے لیے آر بی آئی کی آمادگی کا ثبوت ہے۔

بجٹ کے بعد ہونے والے اس اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ ایم پی چودھری اور آر بی آئی بورڈ کے ارکان نے شرکت کی، جس میں میکرو اکنامک حالات، مالیاتی شعبے کے استحکام اور یونین بجٹ کے بعد کے منظر نامے کا جائزہ لیا گیا۔

یواین






امریکہ کے ذریعہ ایران پر حملہ کی تیاریوں کے درمیان حکومت ہند نے اپنے شہریوں کے لیے جاری کی ایڈوائزری


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان سخت بیانات دے رہے ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے جنگ کبھی بھی شروع ہو سکتی ہے۔ امریکہ نے تو بڑی تعداد میں جنگی طیاروں کی تعیناتی بھی کر دی ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ تشویش ناک حالات کے درمیان ہندوستان کی وزارت خارجہ نے 23 فروری کو ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے۔ یہ ایڈوائزری ہندوستانی شہریوں کے لیے ہے۔



جاری کردہ ایڈوائزری میں حکومت ہند نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے فوراً ایران چھوڑ دیں۔ اس سے قبل وزارت خارجہ نے 14 جنوری کو بھی ایڈوائزری جاری کر سبھی شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن اب حالات مزید کشیدہ ہوتے نظر آ رہے ہیں، اس لیے از سر نو ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ وزارت خارجہ نے ایڈوائزری میں ایران میں مقیم ہندوستانی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ انتہائی احتیاط سے کام لیں، مظاہرے والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں اور ہندوستانی سفارت خانہ کے رابطہ میں رہیں۔




وزارت خارجہ نے ایڈوائزری میں کچھ خاص گزارشات بھی کی ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ شہری اپنے سفر اور امیگریشن سے متعلق دستاویزات، مثلاً پاسپورٹ اور شناختی کارڈ وغیرہ اپنے ساتھ رکھیں۔ ہندوستانی شہریوں کو ہندوستانی سفارت خانہ میں رجسٹریشن کرانے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ ایران میں مقیم لوگوں کے اہل خانہ بھی سفارت خانہ میں اپنے گھر والوں کے لیے رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔ سفارت خانہ نے ایمرجنسی حالات کے لیے ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیے ہیں، جو اس طرح ہیں: +989128109115, +989128109109, +989128109102, +989932179359۔






لکھنؤ یونیورسٹی میں مسجد کا گیٹ بند کرنے پر تنازع، ہندو طلبہ نے دیا نمازیوں کا ساتھ


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


گنگا جمنی تہذیب اور ادب وآداب کے لیے مشہوراترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ایک بار پھر ہندو۔ مسلم کھائی کو پاٹنے کی کوشش کرکے ملک کا مستقبل کہلانے والے طلباء نے عبادت کا احترام کرنے کی شاندارمثال پیش کی ہے۔ اطلاع کے مطابق لکھنؤ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کے نام پر تاریخی لال بارہ دری اور اس کے اندر موجود قدیمی مسجد کے گیٹ کو سیل کر کے بیریکیڈ لگائے جانے سے ادارے میں کشیدگی پھیل گئی۔ اس کارروائی کے خلاف طلباء لیڈروں اور مسلم طلباء نے کیمپس میں شدید احتجاج کیا۔


اس سلسلے میں یونیورسٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اے ایس آئی کی محفوظ کردہ اس بوسیدہ عمارت سے ہونے والے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس کے جواب میں طلباء نے بیریکیڈ ہٹا دیئے اور مسجد کے باہر ہی نماز ادا کرنے لگے۔ اس دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال قائم کرتے ہوئے یونیورسٹی کے ہندو طلباء ڈھال بن کر کھڑے ہوگئے اور حفاظتی گھیرا بناکرنمازیوں کی حفاظت کی۔





معلوم ہوکہ لال بارہ دری تقریباً 200 سال پرانی تاریخی عمارت ہے جسے نواب ناصر الدین حیدر نے 1800 عیسوی میں تعمیر کرائی تھی۔ یہ عمارت یونیورسٹی کے قیام سے پہلے کی ہے اور اسے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے ذریعہ محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ طلباء کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے قدیمی مسجد کے حصے کو پیشگی اطلاع کے بغیر بند کر دیا۔ اس اچانک کارروائی سے مشتعل یونیورسٹی کے طلباء کی بڑی تعداد بارہ دری کے سامنے جمع ہوگئی اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔



احتجاج کے دوران یونیورسٹی کیمپس میں ایک دلچسپ منظر سامنے آیا۔ جب مسجد کا گیٹ بند کئے جانے کی وجہ سے مسلمان طلباء نے مسجد کے باہر ہی نماز ادا کرنا شروع کی تو ہندو ساتھی ان کے دفاع میں اترآئے۔ یونیورسٹی کے ہندو طلباء نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر نماز پڑھ رہے طلباء کے چاروں طرف ایک حفاظتی گھیرا (چین) بنالیا۔ اس پورے واقعہ کا ویڈیو اب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں طلباء مذہب کی دیوار کو توڑ کر ہم آہنگی کا پیغام دیتے نظر آرہے ہیں۔




ان حالات میں اپنی کارروائی کا جواز پیش کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ لال بارہ دری عمارت مکمل طور پر بوسیدہ ہوچکی ہے اور کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہے۔ رجسٹرار کے مطابق وہاں موجود بینک، کلب اور کینٹین کو بھی سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرخالی کرایا جانا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اے ایس آئی کو کئی خطوط لکھے لیکن کوئی جواب نہ ملنے کے بعد سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بیریکیڈنگ کی گئی۔ پولیس کی موجودگی میں طلباء کو سمجھانے کی کوشش کی گئی تاکہ حالات خراب نہ ہوں۔


مسجد کے سیل ہونے اور طلباء کے احتجاج کا معاملہ اب طول پکڑنے لگا ہے۔ احتجاجی طلباء نے اس مسئلہ پر کانگریس لیڈرعمران پرتاپ گڑھی سے فون پر بات کی۔ انہوں نے اپنے تحفظات اور مطالبات کو تفصیل سے بتایا۔ عمران پرتاپ گڑھی نے انہیں یقین دلایا کہ وہ مناسب فورم پر ان کی آواز اٹھائیں گے اور اس معاملے میں ان کی مکمل حمایت کریں گے۔ فی الحال طلباء اپنے مطابات پر مصر ہیں کہ جب تک گیٹ نہیں کھولا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔





مہنگائی، ٹیرف اور خارجہ پالیسی پر تشویش: ٹرمپ کی قیادت سے 60 فیصد سے زائد امریکی غیر مطمئن


قومی آواز بیورو

قومی آواز بیورو


ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے زیادہ تر امریکی خوش نہیں ہیں، یہ بات ایک نئے سروے میں سامنے آئی ہے۔ سروے کے مطابق تقریباً 2 تہائی امریکی مہنگائی سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقے سے ناخوش ہیں۔ 60 فیصد لوگوں کو غیر ملکی اشیاء پر عائد کیے گئے ٹیرف پسند نہیں ہیں۔ 62 فیصد لوگوں نے خارجہ پالیسی سنبھالنے کے طریقے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ 58 فیصد لوگ امیگریشن پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں۔ 57 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ معیشت کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکتا تھا۔ ان تمام مسائل پر ٹرمپ واضح اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔



حالانکہ لوگ ڈیموکریٹس پر بھی مکمل بھروسہ نہیں کر رہے۔ جب پوچھا گیا کہ ملک کے بڑے مسائل کون بہتر طریقے سے حل کر سکتا ہے، تو 33 فیصد لوگوں نے ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا، 31 فیصد نے کانگریس میں ڈیموکریٹس کا نام لیا اور 31 فیصد نے کہا کہ وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ لوگ دونوں فریق سے مایوس ہیں۔ یہ سروے اے بی سی نیوز، واشنگٹن پوسٹ اور ایپوس نے مل کر کیا ہے۔ یہ سروے ایپوس کے ’نالج پینل‘ کے ذریعے کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ سروے ٹیرف پر امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے سے ٹھیک پہلے کیا گیا تھا۔




سروے میں شامل ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرس میں ٹرمپ کی ریٹنگ سب سے کم رہی۔ زیادہ تر نے ان کی کارکردگی کو ہر معاملے میں ناپسند کیا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات نظر آئے۔ جو لوگ میک امریکہ گریٹ اگین (ماگا) مہم کی حمایت کرتے ہیں، وہ ٹرمپ کے حق میں ہیں، لیکن وہ ریپبلکن جو خود کو ’ماگا‘ سے نہیں جوڑتے، وہ مہنگائی اور خارجہ پالیسی جیسے مسائل پر زیادہ تنقید کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی عوامی سطح پر مسترد کیے جانے کی شرح تقریباً 60 فیصد ہے۔ یہ ان کے دوسرے دور اقتدار کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہے اور 2021 میں عہدہ چھوڑتے وقت کے اعداد و شمار کے برابر ہے۔


معیشت کے حوالے سے بھی لوگوں کی رائے منفی ہے۔ تقریباً نصف لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ تقریباً 3 میں سے ایک شخص نے کہا کہ حالات بہتر ہوئے ہیں۔ صرف 22 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ معاشی طور پر پہلے سے بہتر ہیں، جبکہ باقی نے اپنی صورتحال کو ویسا ہی یا پہلے سے بدتر بتایا۔ سروے میں ان کی ذہنی اور جسمانی فٹنس پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ نصف سے زیادہ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان میں صدر کے لیے ضروری ذہنی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ تقریباً نصف لوگوں نے کہا کہ وہ جسمانی طور پر بھی مکمل فٹ نہیں ہیں۔ اگرچہ ریپبلکن نے اس سے اختلاف کیا، لیکن ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرس نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔