’4 بچے ہونا اچھی بات ہے‘، جی ڈی پی کے حوالے سے آر ایس ایس لیڈر کا دلچسپ مشورہ



(قومی آوازبیورو) 



اپنے بیانات کے لیے مشہور آر ایس ایس کے لیڈران میں سے ایک ستیش کمار نے زیادہ بچے پیدا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ آر ایس ایس پرچارک ستیش کمار کا واضح لفظوں میں کہنا ہے کہ لوگوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے چاہئیں۔ انہوں نے بڑے خاندان کی وکالت بھی کی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں آبادی پر قابو پانے کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔


’انڈیا ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق جے پور میں ایک پروگرام کے دوران سودیشی جاگرن منچ کے سہہ سنگٹھک (معاون منتظم) ستیش کمار نے یہ بیان جی ڈی پی کے حوالے سے دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن ممالک میں نوجوانوں کی تعداد کم ہے وہاں جی ڈی پی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس لیے ہمارے ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے۔ آر ایس ایس لیڈر نے مزید کہا کہ جب ہندوستان 2047 میں ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا تو اس وقت ہمیں اسے (اپنی آنے والی نسل کو) نوجوان آبادی والا ملک سونپنا ہوگا۔


ستیش کمار نے کہا کہ خاندان چھوٹا نہیں ہونا چاہیے بلکہ بڑا اور خوشحال ہونا چاہیے۔ میں اس بات کی وکالت نہیں کر رہا کہ 5 یا 6 بچے پیدا کیے جائیں لیکن میں یہ ضرور کہہ رہا ہوں کہ دو یا تین بچے ضرور ہونے چاہئیں۔ چار بچے ہونا اچھی بات ہے۔ میں اپنی باتیں تحقیق کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’سودیشی سنستھان‘ نے چار بچوں پر کئی ممالک میں مطالعہ کیا ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جہاں نوجوان کم ہیں وہاں جی ڈی پی بھی کم ہو جاتی ہے۔





آر ایس ایس لیڈر نے کہا کہ 2047 تک ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہونی چاہئے۔ ہم 2047 میں سب سے بڑی معیشت بننے جا رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں نوجوانوں کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ’سودیشی سنستھان‘ کے ذریعے آبادی پر دو بڑی تحقیقیں کی گئی ہیں جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے۔ دنیا میں شرح پیدائش کا اوسط 2.1 ہے۔ ہمارے یہاں یہ 1.9 فیصد ہے، جبکہ اسے 2.2 فیصد ہونا چاہئے۔ ستیش کمار نے مزید کہا کہ ہم 2047 میں ایک ترقی یافتہ ہندوستان بننے جا رہے ہیں۔ تب تک ہمیں بوڑھوں کا ملک نہیں بننا ہے۔ ہماری آبادی نوجوان ہونی چاہیے۔ ہمارے یہاں اس گھر کو اچھا سمجھا جاتا ہے جہاں بچے، جوان، بوڑھے سبھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2047 میں ہم ایک متحرک آبادی والا ہندوستان چاہتے ہیں۔ ہم ترقی یافتہ ہندوستان بننے پر 2047 میں بوڑھوں کا ملک بن کر نہیں جانا چاہتے۔






چنئی میں پونے جیسا واقعہ، راجیہ سبھا رکن کی بیٹی نے ایک شخص کو کار سے کچلا اورضمانت بھی مل گئی



(قومی آوازبیورو) 



پونے پورش کار حادثہ کی طرح چنئی میں بھی ایک ہائی پروفائل ہٹ اینڈ رن کیس کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس میں بھی بالکل ویسا ہی ہوا ہے جیسا پونے کے کیس میں ہوا تھا۔ چنئی میں پیش آنے والے حادثے میں راجیہ سبھا کے ایک رکن کی بیٹی نے فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے ایک شخص کو اپنی بی ایم ڈبلیوکار سے روند کر بھاگ گئی۔ یہ حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ اس شخص کی موت ہو گئی۔ پولیس نے راجیہ سبھا رکن کی بیٹی کو گرفتار بھی کیا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے پولیس اسٹیشن سے ضمانت بھی مل گئی۔



نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ کے مطابق یہ واقعہ پیر (17 جون) کی رات دیر گئے اس وقت پیش آیا جب وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی بیدا مستان راؤ کی بیٹی مادھوری اپنی بی ایم ڈبلیو کار سے تیز رفتاری سے جا رہی تھی۔ اس کے ساتھ اس کی ایک خاتون دوست بھی تھی۔ مادھوری نے اپنی کار چنئی کے بسنت نگر میں فٹ پاتھ پر سو رہے 24 سالہ پنٹر سوریہ چڑھا دی۔ پولیس افسران کے مطابق مادھوری اس حادثے کے بعد فوراً موقع سے فرار ہوگئی۔ حادثے کے بعد اس کی سہیلی گاڑی سے اتر کر وہاں جمع لوگوں سے جھگڑنے لگی اور کچھ دیر بعد وہ خود بھی وہاں سے چلی گئی۔ جائے حادثہ پر جمع لوگوں نے سوریہ کو اسپتال پہنچایا لیکن تب تک اس کی موت ہوچکی تھی۔




معلومات کے مطابق مرنے والے شخص سوریہ کی شادی کو ابھی آٹھ ماہ ہی ہوئے تھے۔ سوریہ کے رشتہ دار کار سے روندنے والے کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے شاستری نگر پولیس اسٹیشن جے- 5 پر جمع ہوگئے۔ پولیس نے جب سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی تو اسے پتہ چلا کہ کار بی ایم آر گروپ کی ہے اور پڈوچیری میں رجسٹرڈ ہے۔ اس کے بعد مادھوری کو گرفتار کر لیا گیا لیکن اسے تھانے سے ہی ضمانت مل گئی۔ واضح رہے کہ بیدا مستان راؤ 2022 میں راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ بنے تھے۔ وہ ایم ایل اے بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی کمپنی بی ایم آر گروپ سی فوڈ انڈسٹری میں مشہور ہے۔






عدالت کی این آئی اے کو ہدایت، انجینئر راشد کو رکن پارلیمنٹ کے طور پر حلف لینے کی تاریخ پر جواب داخل کرے



(قومی آوازبیورو) 



دہلی کی عدالت نے 18 جون کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو ہدایت دی کہ شیخ عبدل راشدعرف انجینئر راشد کو رکن پارلیمنٹ کے طور پر حلف لینے کی تاریخ پر اپنا جواب داخل کرے۔



عدالت کی یہ ہدایات جموں و کشمیر کی بارہمولہ لوک سبھا سیٹ جیتنے والے انجینئر راشد کی طرف سے دائر عبوری ضمانت کی عرضی کی سماعت کے دوران آئیں، جس میں انجینئر راشد نے پارلیمنٹ میں حلف لینے کے لیے ضمانت کی درخواست کی ہے ۔عدالت نے این آئی اے کو جواب داخل کرنے کا وقت دیا ہے۔ نومنتخب ارکان پارلیمنٹ کے حلف اٹھانے کی طے شدہ تاریخیں 24، 25 اور 26 جون ہیں۔



ایڈیشنل سیشن جج (اے ایس جے) چندر جیت سنگھ نے انجینئر راشد کا معاملہ 22 جون تک زیر التوا رکھا ہے۔ عدالت نو منتخب رکن پارلیمنٹ انجینئر راشد کی پارلیمنٹ میں حلف اٹھانے کے لیے عبوری ضمانت کی درخواست پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے حلف لینے کے لیے عبوری ضمانت یا حراستی پیرول کی درخواست کی ہے۔ وہ بارہمولہ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں جنہوں نے بارہمولہ لوک سبھا سیٹ سے عمر عبداللہ کو شکست دی ہے اور وہ این آئی اے کے ایک کیس میں حراست میں ہیں۔


این آئی اے نے وقت مانگا تھا کہ اگر اسے ضمانت مل جاتی ہے تو اسے پارلیمنٹ میں لے جانے کا طریقہ کار طے کیا جائے۔ تاہم، دفاعی وکیل نے راؤس ایونیو کی عدالت کی طرف سے اے اے پی کے ایم پی سنجے سنگھ کے کیس میں منظور کیے گئے حکم پر انحصار کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انجینئر راشد عدالتی حراست میں ہیں اس لیے انہیں پارلیمنٹ میں لے جانے میں این آئی اے کا کوئی رول نہیں ہے۔


انجینئر راشد کو 2016 میں این آئی اے نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی فنڈنگ ​​کے ایک معاملے میں گرفتار کیا تھا اور وہ اس وقت تہاڑ جیل میں بند ہیں۔(انپٹ دی ہندو و دیگر ایجنسی)




برج خلیفہ دنیا کی بلند ترین عمارت، ہندوستانی عمارتیں ٹاپ 10 میں شامل نہیں



(قومی آوازبیورو) 



دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی 10 بلند ترین عمارتیں کون سی ہیں؟ اور کیا ان ٹاپ 10 عمارتوں میں کسی ہندوستانی عمارت کا نام شامل ہے یا نہیں؟واضح رہےکہ دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں ہندوستانی عمارتیں ٹاپ 10 تو دور ٹاپ 100 میں بھی شامل نہیں ہیں ۔ دنیا کی بلند ترین عمارتوں کی بات کریں تو چین کی پانچ اور ملائیشیا، سعودی عرب، امریکہ اور جنوبی کوریا کی ایک ایک عمارت ٹاپ 10 میں شامل ہے۔


کونسل آن ٹال بلڈنگز اربن ہیبی ٹیٹ کے مطابق برج خلیفہ کو دنیا کی بلند ترین عمارت تصور کیا جاتا ہے۔ جو متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں موجود ہے۔ ملائیشیا کی مرڈیکا 118 بلند ترین عمارتوں میں دوسرے نمبر پر ہے یہ عمارت 118 منزلہ ہے جس کی اونچائی 678.9 میٹر ہے۔ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر چین کی شنگھائی ٹاور بلڈنگ کا نام آتا ہے۔ اس عمارت میں 128 منزلیں ہیں اور اس کی اونچائی 632 ہے۔





اس کے بعد سعودی عرب میں موجود رائل کلاک ٹاور کا نام آتا ہے۔ اس 120 منزلہ عمارت کی اونچائی 601 میٹر ہے۔ چین کا پنگ این فنانس سینٹر اس فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے۔ اس عمارت میں 115 منزلیں ہیں اور اس کی اونچائی 599.1 میٹر ہے۔ اس کے بعد چھٹے نمبر پر لوٹے ورلڈ ٹاور کا نام آتا ہے جو کہ جنوبی کوریا کی ایک عمارت ہے۔ اس 123 منزلہ عمارت کی اونچائی 541.3 میٹر ہے۔ امریکہ کی بلند ترین عمارت ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا نام اس فہرست میں ساتویں نمبر پر آتا ہے اور اس 94 منزلوں والی عمارت کی اونچائی 541.3 میٹر ہے۔


اس فہرست میں چین کے گوانگژو سی ٹی ایف فنانس سینٹر کا نام آٹھویں نمبر پر ہے۔ نویں نمبر پر چین کی ہی عمارت، تیانجن سی ٹی ایف فنانس سینٹر ہے۔ اس کے بعد چین میں موجود سی آئی ٹی آئی سی ٹاور کی عمارت کا نام اس فہرست میں دسویں نمبر پر آتا ہے جس کی اونچائی 527.7 میٹر ہے اور اس عمارت کی 109 منزلیں ہیں۔







آسام میں سیلاب کا قہر جاری، اب تک 26 افراد کی موت، 15 اضلاع کے 1.61 لاکھ سے زائد لوگ متاثر



(قومی آوازبیورو) 



آسام میں سیلاب کی صورت حال مزید خوفناک بنی ہوئی ہے۔ 15 اضلاع کے 1.61 لاکھ سے زائد افراد اس سیلاب سے متاثر ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے مزید 6 لوگوں کی موت ہو گئی ہے جس کے بعد مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 26 ہو گئی ہے۔ کریم گنج ضلع کے بدر پور علاقہ میں لینڈ سلائڈنگ میں 3 نابالغوں سمیت 5 افراد کی موت واقع ہو گئی ہے۔ آسام ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق ہیلاکانڈی ضلع میں سیلاب کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص کی موت ہو گئی ہے۔



سیلاب کے سبب کریم گنج میں حالات انتہائی تکلیف دہ دکھائی دے رہے ہیں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ پارتھ پروتم داس نے بتایا کہ سیلاب کی حالت اب بھی سنگین ہے۔ اے ایس ڈی ایم اے کی ڈیلی فلڈ رپورٹ کے مطابق بکسا، بارپیٹا، درانگ، دھیماجی، گولپارہ، کریم گنج، ناگاؤں اور نلباڑی ضلعوں میں سیلاب کے سبب 1 لاکھ 5 ہزار 700 سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔




موصولہ اطلاع کے مطابق صرف کریم گنج میں ہی سیلاب سے تقریباً 95300 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ناگاؤں ضلع میں تقریباً 5000 افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ دھیماجی میں 3600 لوگ سیلاب کے پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اے ایس ڈی ایم اے نے ..کہ فی الحال 309 گاؤں پانی میں ڈوب چکے ہیں اور ریاست بھر میں 1005.7 ہیکٹیر علاقہ میں فصل متاثر ہوا ہے۔




حج 2024 مکمل : ہندوستانی حُجاج نے بخیر و عافیت اور سکون و اطمینان سے فریضہ حج ادا کیا



(یو این آئی) 



دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج کا حج 2024 انتہائی کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا۔ امسال 5 روزہ ایامِ حج میں موسم شدید گرم رہا، درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ مشاعر مقدسہ میں حکومت ہند اور وزارتِ اقلیتی امور کی جانب بھیجے گئے ڈیپوٹیشنسٹ اور دیگر سرکاری عملہ چاک و چوبند اور پوری مستعدی کے ساتھ منیٰ کے خیموں، عرفات کے ٹینٹ، مزدلفہ کے صحرا اور مکہ سے ان مقامات تک پہچنے کے لیے میٹرو و بسوں کے انتظامات میں حجاج کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف رہے ۔ مشاعر مقدسہ میں تمام ہندوستانی ہسپتال اور ڈسپینسریاں 24 گھنٹے ہندوستانی حجاج کے ساتھ غیر ممالک کے حجاج کی بھی خدمت کرتے رہے۔



سعودی حکومت کے قانون کے مطابق مشاعر مقدسہ میں ہندوستانی ایمبولنس جانے کی اجازت نہیں تھی اس حالت میں ہمارے ملک کی طبی اور امدادی ٹیمیوں نے بیمار، ضرورت مند ، عمر رسیدہ اور منیٰ و عرفات میں گمشدہ حُجاج کو اپنی پشت پر لے جاکر اسپتالوں اور خیموں میں پہنچایا ہے۔ ان سب خدمات اور اعمال کی نگرانی مشاعر مقدسہ میں موجود حج کمیٹی آف انڈیا کے سی، ای، او ڈاکٹر لیاقت علی آفاقی ۔ آئی - آر ایس اور حج کمیٹی آف انڈیا کی ٹیم نے ذاتی طور پر کی۔



ڈاکٹر آفاقی نے کہا بعض اخبارات اور سوشل میڈیا میں ایسی خبریں شائع ہوئی ہیں کہ جیسے مشاعر مقدسہ میں ہندوستانی حجاج کا زبردست جانی نقصان ہو رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ویڈیو پرانی ہیں یا وہ حُجاج غیر مُلکی ہیں۔ ڈاکٹر آفاقی نے کہا کہ بغیر تصدیق کے ویڈیو نشر کرنا حجاج کی بے حُرمتی اور حکومتِ ہند کو بدنام کرنے کی نا کام کوشش ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ حج کمیٹی آف انڈیا نے حجاج کی صحت و سلامتی کو اولیت قرار دیتے ہوئے حجاج کے لیے ہدایتی مشورے اور اُن کا حل پیش کیا ہے ۔ مملکتِ سعودیہ عربیہ نے اپنی گائیڈ لائن میں حجاج کو 11 بجے سے شام 4 بجے تک خیمے کے اندر رہنے اور سڑکوں پر نہ نکلنے کا مشورہ دیا تھا. 



انہوں نے مزید کہا کہ نقصان اُن ہی حجاج کو اٹھانا پڑا ہے جنھوں نے سعودی حکومت اور ہماری ہدایت و مشوروں کو بالکل نظرانداز کیا۔ سی، ای، او حج کمیٹی آف انڈیا نے فون پر مزید بتایا کہ منیٰ کے قیام کے حوالے سے یہ بے بنیاد خبریں بھی پھیلانے کی سازش رچی گئی ہے کہ وہاں کوٹے سے کم خیمے لیے گئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلے آنے والے حُجاج دو دو ، تین تین بستر گھیر لیتے ہیں، جس سے بعد میں آنے والے حُجاج کو تکلیف ہوتی ہے۔ ویڈیو میں کچھ حجاج کو باہر کھڑے اور ٹھہرے دکھایا گیا ہے۔ یہ وہی حجاج ہیں جو بعد میں آئیں ہیں ۔ اگرچے ان حجاج کو بعد میں ان کی جگہ دلوادی گئی۔ واضح رہے کہ حلقہ منیٰ محدود ہے اور مملکتِ سعودیہ عرب تمام ممالک کو ان کے کوٹے کے مطابق انتہائی محدود رقبہ دیتی ہے۔ تاکہ تمام حجاج سکون سے فریضہ حج ادا کر سکیں۔ ڈاکٹر آفاقی نے بتایا کہ امسال اللہ رب العزت کا ہندوستانی حجاج پر یہ بھی خصوصی کرم رہا کہ شدید گرمی کے باوجود شرحِ اموات گزشتہ سالوں کی نسبت کم رہا ۔ یاد رہے گزشتہ سالوں میں حج 200 سے 250 تک حجاج فوت ہوئے ہیں ۔ اللہ کا کرم ہے امسال یہ تعداد کُل70 ہے اور دو ایک کو چھوڑ کر سب فطری اموات ہیں جن کی آخری رسومات پورے احترام سے ادا کی گئیں ہیں۔