ایتھنول ملاوٹ سے پٹرول سستا رکھنے کا حکومت کا دعویٰ، پرانی گاڑیوں پر ممکنہ اثرات کا بھی اعتراف
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ایک طرف دعویٰ کیا ہے کہ پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملاوٹ (ای-20) کی پالیسی نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ دوسری جانب مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ نتن گڈکری نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ اس ایندھن کے استعمال سے بعض پرانی گاڑیوں میں ربڑ کے کچھ پرزے تبدیل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے مطابق، اگر پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ نہ ہوتی تو خام تیل کی بلند قیمتوں کے باعث دہلی میں پٹرول تقریباً 125 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتا تھا، جبکہ صارفین نے 94.77 روپے فی لیٹر کی قیمت ادا کی کیونکہ پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول شامل تھا، جسے پہلے سے طے شدہ قیمتوں پر خریدا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے درآمدی خام تیل پر انحصار کم ہوا، زرمبادلہ کی بچت ہوئی، کاربن کے اخراج میں کمی آئی اور کسانوں کو بھی فائدہ پہنچا۔
تاہم راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا کہ بی ایس-3 معیار کی بعض پرانی گاڑیوں، جو تقریباً 2005 سے 2016 کے درمیان تیار ہوئیں، میں ای-20 پٹرول کے استعمال سے ربڑ کے کچھ پرزے، جیسے او-رِنگ، ربڑ سیل، فیول ہوز، گیسکیٹ اور فیول پمپ کے ربڑ کمپوننٹس وقت کے ساتھ متاثر ہو سکتے ہیں اور انہیں معمول کی سروسنگ کے دوران تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔
گڈکری نے واضح کیا کہ مختلف مطالعات میں ای-20 سے گاڑیوں کی مجموعی کارکردگی یا پائیداری پر کوئی بڑا منفی اثر سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ان گاڑیوں کے انجن میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، گاڑی کی مائلیج صرف ایندھن پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ ڈرائیونگ کا انداز، سڑکوں کی حالت، دیکھ بھال اور دیگر عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی کہا کہ ایتھنول کی تیاری کے لیے عوامی تقسیم کے نظام یا قومی غذائی تحفظ کے تحت مختص اناج استعمال نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف اضافی یا انسانی استعمال کے قابل نہ رہنے والا اناج استعمال کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور بعض ماہرین نے حکومت کے اس دعوے پر سوال اٹھایا ہے کہ ایتھنول ملاوٹ ہی پٹرول کی قیمت کم رکھنے کی واحد وجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹرول کی خوردہ قیمت پر مرکزی و ریاستی ٹیکس، خام تیل کی عالمی قیمت، ریفائننگ اور نقل و حمل کی لاگت بھی نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ای-20 سے پرانی گاڑیوں میں اضافی دیکھ بھال یا پرزوں کی تبدیلی کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کی لاگت بھی صارفین کو برداشت کرنا ہوگی۔
حکومت کا موقف ہے کہ ای-20 پروگرام طویل مدت میں توانائی کے شعبے میں خود انحصاری، درآمدی تیل پر انحصار میں کمی اور ماحول کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے فوائد کے ساتھ اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق صارفین کو بھی مکمل طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے۔
ہنگامہ کے درمیان لوک سبھا سے پیدائش و اموات رجسٹریشن ترمیمی بل منظور، نہیں ہو سکی کوئی بحث
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دسویں دن اپوزیشن نے دونوں ایوانوں میں طلبا پر پولیس کی بربریت معاملہ پر زبردست ہنگامہ کیا۔ اپوزیشن 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران طلبا پر ہوئی مبینہ پولیس کارروائی پر بحث اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے جوابدہی کا مطالبہ کرتا رہا، لیکن اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس دوران لوک سبھا نے ’پیدائش و اموات رجسٹریشن (ترمیمی) بل، 2026‘ کو منظوری دے دی۔ یہ بل بغیر کسی بحث کے ہی منظور ہو گیا۔
آج دوپہر 12 بجے ایوان کی کارروائی جب دوبارہ شروع ہوئی، تو بی جے پی رکن پارلیمنٹ دلیپ سیکیا کی صدارت میں بل کو بحث اور منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ اپوزیشن اراکین کی نعرے بازی کے درمیان اسے صوتی ووٹ سے منظور کر دیا گیا۔ اس دوران کئی اپوزیشن اراکین ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں موجودگی کا مطالبہ کرنے لگے۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پیدائش و اموات رجسٹریشن ترمیمی بل پر بحث میں حصہ نہ لینے پر اپوزیشن سے ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس اہم بل پر بحث چاہتی تھی۔ رجیجو نے کہا کہ ’’یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ مستقبل میں ایسا دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔ جن لوگوں نے آپ کو پارلیمنٹ بھیجا ہے، وہ آپ سے جواب مانگیں گے۔‘‘ انہوں نے اپوزیشن اراکین سے اپیل کی کہ وہ مستقبل میں بلوں پر بحث میں حصہ لیں، نہ کہ ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالیں۔ دلیپ سیکیا نے بھی کہا کہ اپوزیشن کے تعاون کے بغیر بل کا منظور ہونا بدقسمتی کی بات ہے۔ بل منظور ہونے کے فوراً بعد ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
قابل ذکر ہے کہ یہ بل ’پیدائش و اموات کے رجسٹریشن قانون، 1969‘ کی کچھ دفعات میں تبدیلی کرتا ہے۔ اس کا مقصد پیدائش اور موت جیسی اہم واقعات کی بروقت معلومات درج کرانے کو فروغ دینا ہے۔ بل میں تاخیر سے پیدائش اور موت کا اندراج کرانے کے قوانین کو سخت کیا گیا ہے۔ اب پیدائش یا موت کے 2 سال سے زیادہ عرصے بعد اندراج کرانے کے لیے فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ قانون میں ایک سال سے زیادہ تاخیر ہونے پر ضلع مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا مجاز ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے حکم کی ضرورت ہوتی ہے۔ نئے قانون میں 2 سال تک کی تاخیر کے لیے یہی انتظام برقرار رہے گا۔
مرکزی کابینہ نے 20 جولائی کو اس بل کو پیش کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس میں 2023 میں اصل قانون میں کی گئی تبدیلیوں کے بعد تاخیر سے اندراج کے طریقۂ کار میں مزید بہتری کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بل میں قانونی تعریفوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔
’آپریشن تھنڈر‘ نے امریکی بحریہ کو بنا دیا نابینا، ایران نے بحرین میں موجود نویگیشن سسٹم کو اڑانے کا کیا دعویٰ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں ایک اہم امریکی فوجی اڈہ پر کامیاب حملہ کیا ہے۔ تہران کے مطابق یہ حملہ ’آپریشن تھنڈر‘ کے تحت کیا گیا ہے۔ دراصل امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر بحرین میں ہے، اس لیے ایران کا دعویٰ عالمی سطح پر موضوع بحث بن گیا ہے۔ حالانکہ امریکہ نے ابھی تک ان دعووں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جنوبی ایران میں آئی آر جی سی کے درجنوں ٹھکانوں پر جوابی حملوں کا ذکر کیا ہے، جس سے حالات ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بحرین، اردن اور ایران کے کئی علاقوں میں حملوں کی خبروں نے پورے خطہ میں جنگ کا خوف پیدا کر دیا ہے۔ جو دعویٰ ایران نے کیا ہے، وہ محض فوجی دعویٰ نہیں ہے بلکہ طویل مدت سے جاری امریکہ-ایران کشیدگی کا نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔
ایرانی فوج کے ایک شعبہ کا کہنا ہے کہ ’عرش‘ نامی جدید ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایئر بیس بحرین میں موجود ہے، جو کہ امریکی فوج کے لیے بہت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ حملہ میں بجلی جنریٹر، نیویگیشن سسٹم اور ایڈمنسٹریٹو امدادی عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ کچھ رپورٹس اور سوشل میڈیا میں اس حملہ کو ’امریکی بحریہ کو نابینا کر دینے‘ اور نیویگیشن سسٹم کو تباہ کرنے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے، لیکن اصل ایرانی بیان میں عرش ڈرون کے ذریعہ ان اہداف کو نشانہ بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ ایران اسے حالیہ امریکی حملوں کا جواب قرار دے رہا ہے۔
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ جدید دفاعی نظام اور مضبوط سیکورٹی کے باوجود اس کے ڈرون کامیاب رہے۔ شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو امریکی جاسوسی طیاروں کا اہم مرکز اور ہیلی کاپٹر و ڈرون رکھ رکھاؤ کا بڑا مرکز بتایا گیا ہے۔ یہ دعویٰ ’آپریشن تھنڈر‘ (یا تھنڈر بولٹ) کے 26ویں مرحلہ کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی ایرانی فوج اور آئی آر جی سی نے بحرین، اردن اور کویت کے امریکی ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کے کئی دعوے کیے تھے۔ ان دعووں میں ایندھن ٹینک، گودام، بیرک اور رڈار سسٹم کو نشانہ بنانے کی بات کہی جاتی رہی ہے۔ اس تعلق سے امریکہ یا بحرین نے کبھی بھی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں کی۔
تازہ ایرانی دعویٰ پر امریکہ نے براہ راست کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ سینٹ کام نے یہ ضرور کہا ہے کہ اس نے جنوبی ایران میں آئی آر جی سی کے کئی ٹھکانوں پر جوابی حملے کیے ہیں۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں، لیکن بڑے نقصانات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ کچھ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساحلی دفاعی نظام، میزائل ذخیرہ اور ڈرون ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف ایران مستقل اس خطہ میں امریکی فوج کی موجودگی کو غیر قانونی بتاتے ہوئے جوابی کارروائی کا دعویٰ کر رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑہ تعینات ہے، جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی سیکورٹی میں اہم کردار نبھاتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی تجارت کا اہم راستہ ہے۔ یہاں کسی بھی بڑی جنگ کا اثر عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ اس درمیان اردن اور دیگر خلیجی ممالک میں بھی حملوں کی خبریں آ رہی ہیں، جس سے علاقے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ کئی تجزیہ کار مانتے ہیں کہ دونوں فریقین محدود حملوں تک خود کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کوئی بھی غلط اندازہ بڑے جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
’آپ کی حکومت اپنی ہی زبان سے پلٹ گئی ہے‘، طلبا پر کارروائی کے خلاف کھڑگے نے پی ایم مودی پر کیا حملہ
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نوجوانوں کی تحریک کے دوران پولیس کارروائی اور اس کے بعد مظاہرین کے خلاف درج کیے جا رہے مقدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ کھڑگے نے وزیر اعظم مودی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو دبانے کے لیے لاٹھی، ڈنڈے اور پیلیٹ گن کے استعمال کے بعد اب ان کے خلاف جس طرح انتقامی کارروائی کر رہی ہے، وہ قابل قبول نہیں ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری تازہ پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی جی، 10 دن پہلے، آپ کی حکومت نے نوجوانوں کا لاٹھی، ڈنڈے اور پیلیٹ گن سے استحصال کیا۔ جب طلبا نے اپنی تحریک واپس لے لی تو اب حکومت بدلے کی نیت سے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا رہی ہے اور انہیں زبردستی حراست میں لے رہی ہے۔‘‘ کھڑگے نے وزیر اعظم سے کہا کہ نوجوانوں نے اس شرط پر اپنی تحریک واپس لی تھی کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، لیکن اب آپ کی حکومت اپنے ہی وعدے سے پلٹ گئی ہے۔ کانگریس صدر نے مزید الزام عائد کیا کہ حکومت نوجوانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کروا رہی ہے اور لڑکیوں کو ’ڈوکس‘ کیا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ڈوکسنگ سے مراد کسی شخص کی ذاتی معلومات کو اس کی اجازت کے بغیر عوامی طور پر ظاہر کرنا ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امت شاہ میں اتنا تکبر ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے ایوان میں قدم تک نہیں رکھا اور جوابدہی سے متعلق بیان دینے سے فرار اختیار کرتے رہے۔ کھڑگے نے اپنی پوسٹ میں حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب ’فیس سیونگ‘ اور ’امیج پروٹیکشن‘ کے حربے نہیں چلیں گے، کیونکہ نوجوان حکومت کی حقیقت جان چکے ہیں۔ وہ پی ایم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’تھوڑی سی بھی شرم بچی ہے تو امت شاہ کا استعفیٰ لیجیے۔‘‘
کھڑگے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹ پیپر لیک اور امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف ملک بھر میں نوجوانوں کی تحریک کے دوران پولیس کارروائی کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں طلبا کے خلاف پولیس کارروائی، مبینہ گرفتاریوں، ایف آئی آر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف اقدامات پر حکومت سے جواب طلب کر رہی ہیں۔
غزہ سے اسرائیلی فوج بھی ہٹے گی اور حماس اسلحہ بھی چھوڑے گا، ٹرمپ نے تاریخی معاہدہ کا کیا اعلان
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جنگ کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ سے متعلق تاریخی معاہدے کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے غزہ میں امن لانے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کی بات کی ہے، جس میں غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی اور حماس کے اسلحہ چھوڑنے کا ذکر شامل ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے اس منصوبے پر حماس نے تو رضامندی ظاہر کر دی ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو ٹرمپ کے اس منصوبے کو مانیں گے؟
وائٹ ہاؤس کا یہ اعلان جمعرات کو امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تقریباً 9 ماہ بعد آیا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان بات چیت کافی حد تک دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کو لے کر رکی ہوئی تھی، جس میں حماس کا اسلحہ چھوڑنا اور غزہ کی تعمیر نو میں شامل ہونا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ معاہدہ احتیاط سے طے کیے گئے مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جیسے ہی اسلحہ چھوڑنے کا عمل مکمل ہو جائے گا، اسرائیلی فوج بھی پیچھے ہٹ جائے گی، اور انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر غزہ کو وہاں کے باشندوں اور پڑوسیوں کے لیے محفوظ بنانے کی ذمہ داری سنبھالے گی۔‘‘
ڈونالڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی جنگ بندی منصوبے میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم سے اپنے اسلحے حوالے کرنے اور سرنگوں کے اپنے وسیع نیٹورک کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، ایک نئی ٹیکنوکریٹک فلسطینی حکومت کا قیام، ایک اسٹیبلائزیشن فورس کی تعیناتی اور 2 سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد بری طرح متاثرہ فلسطینی علاقے کی تعمیر نو بھی شامل ہے۔ لیکن حماس نے اپنے اسلحوں پر بات چیت کرنے سے پہلے ابتدائی مرحلے پر عمل درآمد پر زور دیا تھا۔ گروپ کے بانی منشور میں اسرائیل کے خلاف اسلحوں کے ساتھ جنگ کی بات کی گئی ہے۔ حماس اپنے اسلحوں کے ذخیرے، جس میں راکٹ، اینٹی ٹینک میزائل اور دھماکہ خیز مواد شامل ہیں اور جو اس کی شناخت کا اہم حصہ ہیں، کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ تاہم حماس نے اس ماہ کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ میں اپنی حکومت تحلیل کر دی ہے اور جنگ بندی معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ایک تکنیکی کمیٹی کو اقتدار سونپنے کی تیاری کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ہدایات کے تحت نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو معاہدے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے امریکہ اور ’بورڈ آف پیس‘ کے حکام نے معاہدے کا انتہائی مثبت جائزہ پیش کیا۔ یہ جائزہ ویسا ہی ہے جیسا ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ معاونین نے اس وقت پیش کیا تھا جب ’بورڈ آف پیس‘ (غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک بین الاقوامی تنظیم) کا پہلی بار قیام کیا گیا تھا۔
حکام حماس یا غزہ میں سرگرم دیگر گروپوں، جیسے ’فلسطینی اسلامک جہاد‘، کے اسلحہ چھوڑنے کے لیے کوئی خاص مدت نہیں بتا سکے، لیکن انہوں نے کہا کہ غزہ پولیس فورس اگلے 2 ہفتوں میں ’بورڈ آف پیس‘ کی حمایت یافتہ غزہ انتظامیہ کے حوالے ہتھیار کر دے گی۔ تاہم حکام کے مطابق غزہ پولیس فورس میں حماس کے زیادہ تر جنگجو شامل نہیں ہیں۔ ساتھ ہی معاہدے کے اس حصے میں بھاری اسلحے بھی شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ ’بورڈ آف پیس‘ سے وابستہ ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس کے بجائے بھاری اسلحہ حوالے کرنے اور حماس کی سرنگوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کا کام بعد میں ہوگا، جس میں 7 ماہ سے زیادہ یعنی 200 سے 350 دن لگ سکتے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ مذاکرات کے ہر مرحلے میں اسرائیل سے مشورہ کیا گیا تھا، جو حماس کے اسلحہ چھوڑنے یا کم از کم غزہ پر پس پردہ اپنا کنٹرول چھوڑنے کی خواہش کو لے کر بہت شکوک میں تھا۔
امریکہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ کے لیے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کو آگے بڑھنے نہیں دیتا ہے تو وہ بہت مایوس ہوں گے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے جمعرات کو پہلے کہا تھا کہ یہ تجویز اسرائیل کے مطالبات پورے نہیں کرتی، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ یروشلم اسے آگے نہیں بڑھنے دے گا۔ امریکہ کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اسرائیل سے ایسا کچھ کرنے کے لیے نہیں کہہ رہے ہیں جو اس 20 نکاتی منصوبے میں نہیں ہے، جس پر وہ ابتدا میں متفق ہوئے تھے اور اس لیے ہمیں پورا یقین ہے کہ وہ اس پر عمل کریں گے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو صدر ٹرمپ بہت زیادہ مایوس ہوں گے۔‘‘ عہدیدار نے مزید کہا کہ ’’ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اس اصل معاہدے پر قائم رہیں جس سے ان کے یرغمالی گھر واپس آئیں اور جنگ ختم ہو۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ اس میں ایک اچھے شراکت دار بنے رہیں گے اور معاہدے پر عمل کریں گے۔‘‘
شیخ حسینہ کو ہتھیار ڈالنے کا موقع نہیں دیا جائے گا: بنگلہ دیشی وزیر قانون
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
بنگلہ دیش کے وزیر قانون ایم اسد الزماں نے کل یعنی30 جولائی کو کہا کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش میں قدم رکھتے ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ کو ہندوستان سے واپسی کے بعد براہ راست عدالت میں سرنڈر کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ شیخ حسینہ نے ایک دن پہلے نیوز ایجنسی کو انٹرویومیں یہ کہا تھا کہ اپنی جان کو لاحق خطرات کے باوجود وہ دسمبر تک اپنے ملک واپس آنے کے لیے پرعزم ہیں۔
شیخ حسینہ نے کہا تھا، "مجھے قتل کیا جا سکتا ہے، مجھے گرفتار کیا جا سکتا ہے، مجھے جیل بھیجا جا سکتا ہے... میں اپنے انجام سے پوری طرح واقف ہوں۔" پھر بھی، میں واپس جانا چاہتی ہوں کیونکہ میرے لوگ مجھے بلا رہے ہیں۔' اس ماہ کے شروع میں، اس کے مزید انٹرویوز منظر عام پر آئے، جن میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ اس سال کے آخر تک اپنی پارٹی کے ساتھیوں کے ساتھ بنگلہ دیش واپسی کے امکان پر بات کر رہی ہیں۔
اسد الزماں نے کہا کہ شیخ حسینہ کو واپس آنے کا حق ہے لیکن قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور ہم قانون کی خلاف ورزی پر کچھ نہیں کریں گے۔ وزیر ایم اسد الزماں نے کہا، 'موت کی سزا سنائے جانے کے باوجود، اگر وہ وطن واپس آنا چاہتی ہے اور قانون کے مطابق بنگلہ دیشی شہری کے طور پر ہتھیار ڈالنا چاہتی ہے، تو اسے ایسا کرنے سے پہلے ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ہم قانون کی طرف سے ہمیں دیا گیا حق استعمال کریں گے‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ عبوری حکومت کی جانب سے ان کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کے بعد وہ کیسے واپس آسکتی ہیں، وزیر اسد الزمان نے کہا، 'یہ ان کا مسئلہ ہے، میرا نہیں۔' انہوں نے مزید کہا، 'جب بھی وہ علاقے میں داخل ہوں گی، میں قانون کے ذریعے مجھے دیا گیا حق استعمال کروں گا۔' شیخ حسینہ کی حکومت اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں طلباء کی زیرقیادت سڑکوں پر ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد گر گئی، جس کے بعد حسینہ ہندوستان فرار ہوگئیں۔
0 تبصرے