’اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن بنے بغیر کیسے وزیر بنے ہوئے ہیں؟‘ دیپک پرکاش کی تقرری پر سپریم کورٹ سخت
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
سپریم کورٹ نے بہار حکومت سے پوچھا ہے کہ آخر کیسے ایک وزیر اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن بنے بغیر آئین میں طے شدہ 6 ماہ کی مدت سے زیادہ وقت تک عہدے پر برقرار ہے۔ ریاستی حکومت کو اس پر جواب دینا ہوگا۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ کے سامنے بہار کے پنچایتی راج کے وزیر دیپک پرکاش کے خلاف داخل عرضی کا ذکر کیا گیا۔ عرضی میں آئین کی دفعہ 164(4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی وزیر اگر تقرری کے 6 ماہ کے اندر اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن نہیں بنتا ہے تو وہ وزارت کے عہدہ پر نہیں رہ سکتا ہے۔
عرضی گزار کی جانب سے کہا گیا کہ 6 ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے، لیکن دیپک پرکاش اب بھی وزارت کے عہدے پر بنے ہوئے ہیں۔ بہار حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ معاملہ پہلے سے 27 اگست کو درج ہے اور اس پر فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیا گیا۔ اس پر سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ یہ مکمل طور سے قانون کا سوال ہے اور ریاستی حکومت کو یہ بتانا ہوگا کہ کوئی وزیر 6 ماہ سے زائد وقت تک بغیر منتخب ہوئے کیسے عہدے پر بنا رہ سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں دیپک پرکاش کو بغیر رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہی اس وقت کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی حکومت میں شامل کر لیا گیا تھا۔ جب سمراٹ چودھری کی قیادت میں نئی حکومت بنی تب 15 اپریل سے 6 مئی تک دیپک پرکاش کوئی وزارتی عہدہ یا سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا۔ اس کے بعد 7 مئی کو اسمبلی کا رکن نہ ہوتے ہوئے بھی انہیں پھر سے وزیر بنا دیا گیا۔ آئین کی دفعہ 164(4) کے مطابق بغیر رکن اسمبلی بنے وزیر بننے کے لیے 6 ماہ تک کا وقت ملتا ہے۔ پرکاش اس مدت میں سے پہلے ہی 4 مہینہ 26 دن مکمل کر چکے تھے۔
ایران پر حملوں میں امریکہ کا ساتھ دینے والے ممالک کو سخت جواب دیں گے: پاسداران انقلاب
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
تہران: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے ایران کے خلاف امریکی حملوں اور ان میں معاونت کرنے والے ممالک کو سخت نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو انہیں بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
آئی آر جی سی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں مغربی ایشیا اور اس سے باہر امریکہ کے اتحادی ممالک کو متنبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا سیاسی معاونت سے گریز کریں، بصورت دیگر انہیں ایرانی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران کے عزم اور دفاعی صلاحیت نے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں غیر محفوظ بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکروں میں دھماکے ہوئے، جن میں سے ایک میں آگ لگنے کے بعد دونوں جہاز واپس لوٹ گئے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس واقعے کے بعد بحری جہاز اپنا سفر جاری نہ رکھ سکے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی سرگرمیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آئی آر جی سی نے کہا کہ یہ اہم آبی گزرگاہ ایران کے دائرۂ اختیار میں ہے اور اس پر مکمل کنٹرول ایران کا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران ہزاروں کلومیٹر دور سے آنے والی کسی بھی بیرونی طاقت کو اس علاقے میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔
سپاہ پاسداران نے مزید کہا کہ جب تک سمندری سرگرمیوں میں امریکی حکام کی دھمکیوں اور مداخلت کا خاتمہ نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔ اس نے ایک بار پھر امریکہ کی حمایت کرنے والے ممالک کو خبردار کیا کہ اگر ان کا رویہ برقرار رہا تو انہیں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اسی راستے سے خلیجی ممالک کا بڑی مقدار میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، اس لیے یہاں کشیدگی عالمی توانائی کی ترسیل پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے بھی ایران کے خلاف نئے فوجی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوج پر ایران کی جانب سے مبینہ حملے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بتایا کہ کارروائی بدھ کی رات مشرقی امریکی وقت کے مطابق آٹھ بجے شروع ہوئی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم فضائی دفاعی نظام نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل خبردار کر چکے تھے کہ اگر امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔
شور شرابہ کے درمیان ’وندے ماترم بل‘ راجیہ سبھا کے بعد لوک سبھا میں بھی پاس
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کے نویں دن لوک سبھا نے ’وندے ماترم بل‘ کو منظوری دے دی۔ اس سے قبل یہ بل 29 جولائی کو راجیہ سبھا سے منظور ہو چکا تھا۔ اب دونوں ایوانوں سے منظوری ملنے کے بعد اس کے قانون بننے کی راہ صاف ہو گئی ہے۔ دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد یہ بل صدر جمہوریہ کو بھیجا جائے گا۔ صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد اس قانون کو ’گزٹ آف انڈیا‘ میں شائع کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی تاریخ سے یہ قانون پورے ملک اور جن علاقوں کے لیے نافذ کیا جائے گا، وہاں مؤثر ہو جائے گا۔
اپوزیشن کے شور شرابے کے درمیان وندے ماترم بل کو منظوری ملنے کے ساتھ ہی لوک سبھا کی کارروائی اگلے دن یعنی 31 جولائی تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے لوک سبھا میں ’قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل، 2026‘ کو غور و خوض اور منظوری کے لیے پیش کیا تھا۔ ووٹنگ کے بعد اس بل کو منظوری ملی۔ اس بل کے ذریعے ’قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام ایکٹ، 1971‘ میں مزید ترمیم کی گئی ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے یہ بل مانسون اجلاس کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں پیش کیا تھا۔ اس پر بحث کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے اسے منظور کر لیا تھا۔ بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ قومی علامات کا احترام ایسا موضوع ہے جو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ یہ بل کسی فرد یا کسی نظریے کے خلاف نہیں بلکہ قوم کے وقار اور ہماری مشترکہ قومی شعور کے حق میں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بل کے قانون بننے کے بعد ’وندے ماترم‘ گیت کو بھی قومی ترانے جیسا قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔ اب تک اس قانون کے تحت صرف قومی پرچم، آئین اور قومی ترانے ’جن گن من‘ کو قانونی تحفظ حاصل تھا۔ اب ’وندے ماترم‘ کو بھی اسی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد ’وندے ماترم‘ کی توہین ایک قابل سزا جرم ہوگی۔ ’وندے ماترم‘ گانے سے روکنا یا اس کی گائیکی کے دوران رکاوٹ ڈالنا بھی جرم شمار ہوگا۔ اس بل کے تحت اگر کوئی شخص ایسا جرم کرتا ہے تو اسے 3 سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ یہی سزا اس وقت قومی ترانے کی توہین پر بھی دی جاتی ہے۔
پیپر لیک اور گھوٹالوں نے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا: شیو سینا یو بی ٹی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ممبئی: شیو سینا یو بی ٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپر لیک، بدعنوانی اور غیر قانونی تقرریوں کے باعث ملک کا تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ مہاراشٹر اس نظامی بدعنوانی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست بن گیا ہے۔
پارٹی کے ترجمان ’سامنا‘ کے جمعرات کو شائع ہونے والے اداریے میں ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی تعلیمی پالیسیوں پر سخت تنقید کی گئی۔ اداریے میں کہا گیا کہ امتحانی پرچوں کے مسلسل لیک ہونے، معیار پر پورا نہ اترنے والے وائس چانسلروں کی غیر قانونی تقرریوں اور بڑے مالی گھوٹالوں نے تعلیمی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
اداریے کے مطابق حالیہ عرصے میں مہاراشٹر میں ایک ماہ کے اندر 10 سے زائد امتحانات کے پرچے لیک ہوئے، جن میں مہاراشٹر کامن انٹرنس ٹیسٹ (سی ای ٹی) بھی شامل ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) نے کہا کہ دن دہاڑے پرچے لیک ہو رہے ہیں اور امتحانی نتائج میں بھی دھاندلی کی جا رہی ہے، جس سے عوام کا پورے نظام پر اعتماد متزلزل ہو گیا ہے۔
اداریے میں کہا گیا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اگر یہی بنیاد کمزور ہو جائے تو پورا معاشرہ اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ ریاست کی جامعات اور تعلیمی ادارے اب میرٹ کے بجائے سیاسی اور نظریاتی مفادات کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔
شیو سینا یو بی ٹی نے چند بدعنوانی کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے پربھنی زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے متعلق کروڑوں روپے کے مالی گھوٹالے کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ جلگاؤں سے بی جے پی رہنما سنجے گروڑ کی 160 کروڑ روپے کے ’شالارتھ آئی ڈی‘ گھوٹالے میں گرفتاری کا حوالہ بھی دیا گیا۔
اداریے میں مرکزی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اس نے تاریخ کی نصابی کتابوں میں ایسی تبدیلیاں کیں جن سے آزادی کی جدوجہد میں کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں اور سوشلسٹ رہنماؤں کے کردار کو کم کر کے پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ غیر سائنسی نظریات کو فروغ دینے کے دباؤ کے باعث کئی محققین اور سائنس دان اہم قومی اداروں، بشمول اسرو، کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
شیو سینا یو بی ٹی نے معاشی طور پر کمزور طلبہ اور خوشحال طبقے کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اداریے میں کہا گیا کہ متوسط طبقے کے والدین اپنے بچوں کو مہنگی کوچنگ دلانے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں، جبکہ صاحبِ حیثیت افراد لیک شدہ پرچے خرید کر یا مخصوص امتحانی مراکز میں اثر و رسوخ استعمال کر کے کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔
پارٹی نے دعویٰ کیا کہ پونے، جو کبھی تعلیم اور علم کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اب پیپر لیک کے واقعات کی وجہ سے بدنام ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی مہاراشٹر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات نافذ کرنے کے بجائے ہر معاملے میں خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے تک محدود ہے۔
طلبہ کے خلاف مظالم برداشت نہیں، تحقیقات کے لیے بنے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی: راہل گاندھی
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
پارلیمنٹ احاطے میں جمعرات کو اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے شدید احتجاج کیا۔ یہ احتجاج 2 مسائل کو لے کر کیا گیا۔ پہلا نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کا مبینہ وحشیانہ تشدد، اور دوسرا ایودھیا کے رام مندر میں عطیات کی چوری۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کو انصاف ملنا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک آزاد اور اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ دوسری جانب کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے کہا کہ طلبہ پر وحشیانہ تشدد کے معاملے میں وزیر داخلہ امت شاہ کو ایوان میں آ کر جواب دینا چاہیے۔
واضح رہے کہ پرینکا گاندھی واڈرا سمیت کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ ہاؤس کے ’مکر دوار‘ کے سامنے اکٹھا ہوئے اور حکومت کے خلاف زوردار نعرے بازی کی۔ اراکین پارلیمنٹ نے ’چڑھاوا چور، گدی چور‘، ’وزیر داخلہ ایوان میں آؤ‘ اور ’کس نے حکم دیا‘ جیسے نعرے لگائے۔ احتجاج کے دوران اراکین پارلیمنٹ اپنے ساتھ ایک ’دان پیٹی‘ (چندہ کا ڈبہ) بھی لے کر آئے تھے۔ اپوزیشن لیڈران اس ڈبے میں پیسے ڈالتے ہوئے نظر آئے، تاکہ علامتی طریقے سے رام مندر میں ہوئی مبینہ عطیات چوری کی طرف سب کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔
احتجاج میں پرینکا گاندھی کے علاوہ سماجوادی پارٹی کے دھرمیندر یادو، ٹی ایم سی کی ساگریکا گھوش اور جے ایم ایم کی مہوا ماجی سمیت کئی دیگر اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ بھی شامل ہوئے۔ تمام اراکین پارلیمنٹ ایک بینر کے پیچھے قطار میں کھڑے ہوئے تھے، جس پر لکھا ہوا تھا ’کس نے حکم دیا‘۔ یہ سوال براہ راست اس حکم کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کے تحت نیٹ پیپر لیک کے خلاف حال ہی میں ہوئے طلبہ تحریک کے دوران سیکورٹی فورسز کو طلبہ کے خلاف سخت اور مہلک طاقت استعمال کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ اراکین پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ آخر یہ حکم کس نے دیا، اس کا جواب حکومت کو دینا ہی ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ انڈیا بلاک نے واضح کر دیا ہے وہ حکومت کو 2 معاملوں پر گھیرنے کی تیاری میں ہے۔ پہلا رام مندر میں عطیات کی مبینہ چوری ہے اور دوسرا گزشتہ ہفتہ طلبہ کے احتجاج کے دوران ان پر کی گئی مبینہ وحشیانہ کارروائی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ان دونوں معاملوں میں حکومت کو جواب دینا ہوگا اور جو بھی قصوروار ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
سدارمیا کا پرہلاد جوشی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ، تقرری کو آر ایس ایس کی نظریاتی سوچ سے جوڑا
یو این آئی
یو این آئی
کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا نے بدھ کے روز مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سوچ آر ایس ایس کے نظریے سے متاثر ہے اور بلقیس بانو معاملے کے مجرموں کے بارے میں ان کا سابقہ مؤقف انتہائی تشویشناک رہا ہے۔
سدارمیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں پرہلاد جوشی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کو اس بات پر خوشی منانی چاہیے تھی کہ ریاست کے ایک رکن پارلیمنٹ کو وزارتِ تعلیم جیسی اہم ذمہ داری ملی ہے، لیکن اس کے برعکس ان کی تقرری سے ’’کنڑ بولنے والے خود کو شرمندہ محسوس کر رہے ہیں۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ پرہلاد جوشی صرف سابق وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کا چہرہ بدلنے کے مترادف ہیں، ان کی نظریاتی سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنما آر ایس ایس سے وابستہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) سے وابستہ رہے ہیں اور خواتین، دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور غریبوں کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بھی آر ایس ایس کی فکر سے متاثر ہے۔
سدارمیا نے کہا، "صرف چہرہ بدلا ہے، سمت وہی ہے۔ وہ بھی آر ایس ایس کے اشاروں پر ہی کام کریں گے۔" انہوں نے بلقیس بانو کیس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پرہلاد جوشی نے ’’حسنِ سلوک‘‘ کی بنیاد پر مجرموں کی رہائی کے گجرات حکومت کے فیصلے کا دفاع کیا تھا۔ ان کے مطابق اس طرح کا مؤقف اس بات پر سنگین خدشات پیدا کرتا ہے کہ ان کی قیادت میں ملک کا تعلیمی نظام کس سمت میں جائے گا۔
سدارمیا نے کانگریس رہنماؤں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے لوک سبھا میں پرہلاد جوشی کو بے نقاب کیا اور ’’ملک کے سامنے حقیقت پیش کی۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ کے اندر آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن "ملک کے کروڑوں عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔"
0 تبصرے