پرینکا گاندھی کا حکومت پر سخت حملہ، ’طلبہ پر آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کیوں چلائی گئی؟‘
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی: لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں اور طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے جواب طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ طلبہ پر آنسو گیس، لاٹھی چارج، پیلٹ گن اور دیگر طاقت کے استعمال کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی۔
پرینکا گاندھی نے ایوان میں کہا کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھنا چاہتی ہیں کہ کیا احتجاج کرنے والے طلبہ دہشت گرد تھے، جن کے خلاف اتنی سخت کارروائی کی گئی؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ طلبہ پر پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کیا یہ فیصلہ وزیراعظم نے کیا یا وزیر داخلہ نے؟ انہوں نے کہا کہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورا ملک ان سوالات کے جواب کا منتظر ہے۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ چند روز قبل وہ دہلی کے رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) اسپتال گئی تھیں، جہاں احتجاج کے دوران زخمی ہونے والی ایک طالبہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں زیر علاج تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی آمد سے کچھ دیر پہلے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سمیت کئی رہنما بھی طالبہ سے ملنے اسپتال پہنچے تھے۔
پرینکا گاندھی کے مطابق جب وہ طالبہ کی والدہ سے ملیں تو وہ شدید صدمے میں تھیں۔ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ آنے پر شکریہ، لیکن وہ کسی سے ملنا یا بات کرنا نہیں چاہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح سے کئی بڑے رہنما آ رہے ہیں، ویڈیوز بنا رہے ہیں، مگر ان لوگوں کو بھی آنا چاہیے جو ان کی بیٹی کی اس حالت کے ذمہ دار ہیں۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ اس ماں کے چہرے اور لہجے سے اس کا درد صاف جھلک رہا تھا اور وہ غم سے کانپ رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس ماں کی تکلیف نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ایوان میں حکومت سے یہ سوال کریں کہ طلبہ کے خلاف اتنی سخت کارروائی کیوں کی گئی۔ ان کے مطابق طالبات کے ساتھ بدسلوکی، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال جیسے معاملات پر حکومت کو پارلیمنٹ اور ملک کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
پرینکا گاندھی نے حکومت کی تعلیمی اور روزگار سے متعلق پالیسیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں روزگار پیدا کرنے والے شعبوں کو مسلسل کمزور کیا گیا، جس کا براہ راست اثر نوجوانوں پر پڑا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کا امتحانی نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور بار بار ہونے والے پیپر لیک نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک میں 152 پیپر لیک کے واقعات پیش آئے، جن سے کروڑوں طلبہ متاثر ہوئے، لیکن اب تک پیپر لیک مافیا کے کسی اہم رکن کو سزا نہیں دی جا سکی۔ ان کے مطابق قانون سازی اور نئی کمیٹیاں تشکیل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ اصل ضرورت مؤثر کارروائی اور جوابدہی کی ہے۔
اپنی تقریر کے دوران پرینکا گاندھی نے 2024 میں منظور ہونے والے اینٹی پیپر لیک قانون کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ قانون نافذ ہونے کے باوجود آج تک کسی ملزم کو سزا نہیں ملی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے نام تو عام کیے جا رہے ہیں، مگر پیپر لیک کے ملزمان کے خلاف اسی شدت سے کارروائی نظر نہیں آتی۔
انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا اعتماد صرف ویڈیوز بنانے یا نئی کمیٹیاں قائم کرنے سے بحال نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ ان کے بقول وزیراعظم کو ’کیمرے کا زاویہ نہیں بلکہ دل کا زاویہ بدلنے‘ کی ضرورت ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ پولیس کی لاٹھیاں صرف طلبہ کی پیٹھ پر نہیں پڑیں بلکہ اس سے حکومت کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ انصاف کرے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں مختلف نوعیت کی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، لیکن سب سے بڑی ناانصافی اس وقت ہوتی ہے جب نوجوانوں کے خواب اور ان کا مستقبل چھین لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کا نوجوان مایوس ہو گیا تو یہ صرف اس کی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی شکست ہوگی، اس لیے حکومت کو طلبہ کے خدشات دور کرنے اور امتحانی نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
گزشتہ 3 سال میں 71 ہزار ہیکٹر جنگلاتی زمین غیر جنگلاتی منصوبوں کے لیے منظور، حکومت نے لوک سبھا میں دی جانکاری
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
ہندوستان میں ترقیاتی منصوبے کے لیے مسلسل جنگلات کی زمین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ سڑک، ریلوے، کان کنی، بجلی اور آبپاشی جیسے منصوبوں کے لیے گزشتہ 3 سال میں 71 ہزار ہیکٹر سے زیادہ جنگل کی زمین کو غیر جنگلاتی کاموں کے لی منظوری دی گئی ہے۔ یہ معلومات مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں دی۔ حکومت کے مطابق یکم اپریل 2023 سے 31 مارچ 2026 کے درمیان ملک بھر میں مجموعی طور پر 71023.30 ہیکٹر جنگل کی زمین کو دوسرے کاموں کے لیے منظوری ملی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جتنی جنگل کی زمین کا استعمال ترقی کے کاموں میں ہوا ہے اس کی بھرپائی کے لیے بدلے میں شجرکاری کی بھی کی جا رہی ہے۔ گزشتہ 5 سال میں 178261.52 ہیکٹر رقبے پر شجر کاری کی گئی ہے۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ ان پودوں کے زندہ رہنے کی شرح مختلف ریاستوں میں 40 فیصد سے 100 فیصد کے درمیان ہے۔ لوک سبھا میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے یہ معلومات فراہم کیں۔
حکومت نے کہا کہ ملک میں جنگلات کا تخمینہ ہر 2 سال میں فارسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) کرتا ہے۔ اس کے لیے سیٹلائٹ تصاویر اور زمینی معائنوں دونوں سے مدد لی جاتی ہے۔ رپورٹ میں صرف جنگلات کا رقبہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ ان کے معیار کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے۔ جنگلات کو درختوں کی کثافت کی بنیاد پر 3 حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، انتہائی گھنے جنگلات، درمیانی گھنے جنگلات اور کھلے جنگلات۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وقتاً فوقتاً نئی ٹیکنالوجی اور بہتر سیٹلائٹ دیٹا کا استعمال کر کے رپورٹ کی درستگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ جنگل کی زمین مدھیہ پردیش میں غیر جنگلاتی کاموں کے لیے منظور کی گئی۔ یہاں 19432.14 ہیکٹر زمین ڈائیورٹ کی گئی۔ اس کے بعد اڈیشہ میں 8965.71 ہیکٹر، اروناچل پردیش میں 7334.87 ہیکٹر، جھارکھنڈ میں 5409.56 ہیکٹر اور چھتیس گڑھ میں 4218.95 ہیکٹر زمین کا استعمال دیگر منصوبوں کے لیے گیا۔ اتر پردیش میں بھی 3390.87 ہیکٹر جنگل کی زمین کو غیر جنگلاتی کاموں کے لیے منظوری ملی۔
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ جنگل کی زمین کان کنی کے لیے دی گئی۔ اس شعبے میں 16463.28 ہیکٹر جنگل کی زمین استعمال کرنے کی منظوری ملی۔ اس کے بعد ہائیڈل اور آبپاشی کے منصوبوں کے لیے 14294.41 ہیکٹر اور سڑک کی تعمیر کے لیے 12714.93 ہیکٹر جنگل کی زمین دی گئی۔ اس کے علاوہ بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں کے لیے 7711.55 ہیکٹر، دفاعی منصوبوں کے لیے 6276.01 ہیکٹر اور ریلوے منصوبوں کے لیے 3887.71 ہیکٹر جنگل کی زمین منظور کی گئی۔
سب سے کم جنگل کی زمین غیر جنگلاتی کاموں کے لیے چندی گڑھ میں منظور کی گئی، جہاں صرف 0.24 ہیکٹر زمین ڈائیورٹ کی گئی۔ اس کے بعد لداخ میں 0.94 ہیکٹر، ناگالینڈ میں 3.93 ہیکٹر اور انڈمان و نکوبار جزائر میں 4.79 ہیکٹر جنگلاتی زمین کو غیر جنگلاتی کاموں کے لیے منظوری دی گئی۔ بہار میں 27.99 ہیکٹر، گوا میں 50.48 ہیکٹر، تمل ناڈو میں 60.32 ہیکٹر، کیرالہ میں 62.42 ہیکٹر، میگھالیہ میں 62.44 ہیکٹر اور دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو میں 70.34 ہیکٹر جنگلاتی زمین ڈائیورٹ کی گئی۔ ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گزشتہ 3 سالوں کے دوران غیر جنگلاتی کاموں کے لیے سب سے کم جنگلاتی زمین منظور کی گئی۔
گزشتہ 3 سالوں میں کچھ منصوبوں کے لیے بہت کم جنگلاتی زمین کی ضرورت پڑی۔ سب سے کم ایئرپورٹ کے لیے صرف 0.09 ہیکٹر جنگل کی زمین منظور کی گئی، جبکہ بی آر او کے موجودہ پلوں کو چوڑا اور مضبوط کرنے کے لیے 0.20 ہیکٹر زمین دی گئی۔ اسی طرح غیر روایتی توانائی کے منصوبوں کے لیے 7.17 ہیکٹر، معدنی تیل کی تلاش کے لیے 11.25 ہیکٹر، ہسپتال اور ڈسپنسری کے لیے 17.91 ہیکٹر اور کمیونیکیشن پوسٹ کے لیے 20.08 ہیکٹر جنگل کی زمین منظور ہوئی۔
دوسری جانب تھرمل پاور (41.66 ہیکٹر)، ہوا اور شمسی توانائی/پاور سب اسٹیشن (75.72 ہیکٹر)، نہروں کے منصوبوں (115.02 ہیکٹر)، اسکول اور تعلیمی اداروں (213.93 ہیکٹر) اور آپٹیکل فائبر و ٹیلی کام لائنوں (232 ہیکٹر) کے لیے بھی نسبتاً کم جنگلاتی زمین ڈائیورٹ کی گئی۔ ایکسپلوریشن اینڈ سروے کے لیے اس مدت کے دوران کسی بھی جنگلاتی زمین کو منظوری نہیں دی گئی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی جنگل کی زمین کو غیر جنگلاتی کاموں کے لیے منظوری دینے سے پہلے قانون کے تحت عمل پورا کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے میں معاوضہ جاتی شجرکاری کرائی جاتی ہے۔ یعنی جتنی جنگل کی زمین کا استعمال ترقیاتی کاموں میں ہوتا ہے، اس کی بھرپائی کے لیے دوسری جگہ پودے لگائے جاتے ہیں۔ حکومت کے مطابق گزشتہ 5 سالوں میں 1.78 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر ایسی شجرکاری کی گئی ہے۔
حکومت نے بتایا کہ فاریسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) پورے ملک میں سیٹلائٹ ڈیٹا اور زمینی معائنے کی بنیاد پر جنگلات کا سروے کرتا ہے۔ رپورٹ میں درختوں کی کثافت کی بنیاد پر جنگلات کو 3 زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جن علاقوں میں درختوں کی کثافت 70 فیصد یا اس سے زیادہ ہوتی ہے انہیں بہت گھنا جنگل، 40 فیصد سے 70 فیصد کے درمیان والے علاقوں کو درمیانی گھنا جنگل اور 10 فیصد سے 40 فیصد تک کثافت والے علاقوں کو کھلا جنگل مانا جاتا ہے۔
بی جے پی نے پردھان کو ہٹا کر ’پردھان منتری‘ کو بچا لیا، جن سے چندہ چوری نہ رکی، وہ پیپر لیک کیا روکیں گے؟ اکھلیش یادو
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے لوک سبھا میں لوک امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پر بحث کے دوران مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ہٹا کر دراصل ’پردھان منتری‘ کو بچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’جن سے چندہ چوری نہ رکی، وہ پیپر لیک کیا روکیں گے؟‘
اکھلیش یادو نے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک نے ثابت کر دیا کہ جب نوجوان متحد ہو جائیں تو حکومت کو بھی اپنے فیصلے بدلنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل مبارک باد کی مستحق ہے کیونکہ اس نے حکومت کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ ان کے مطابق یہ پہلا ایسا احتجاج تھا جس میں طلبہ کے ساتھ ان کے والدین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان جب استعفے کے بعد پارلیمنٹ پہنچے تو ان کا استقبال کیا گیا، جس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک وزیر کو ہٹا کر وزیراعظم کو سیاسی دباؤ سے بچانے کی کوشش کی گئی۔
اکھلیش یادو نے ایودھیا کے رام مندر میں مبینہ چندے کی چوری کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ چندے کی چوری نہیں روک سکے، وہ پیپر لیک کیسے روکیں گے؟‘‘ ان کے مطابق حکومت نے صرف قانون میں ترمیم پیش کی ہے، جبکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے اور ذمہ داروں کو سزا دینے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے ملک میں بار بار سامنے آنے والے پیپر لیک کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ریاست سے وزیراعظم منتخب ہو کر آتے ہیں، وہاں بھی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جو پورے نظام پر سوالیہ نشان ہیں۔
انہوں نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں آؤٹ سورسنگ کے نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہیں پوری حکومت ہی آؤٹ سورس نہ کر دی جائے۔ ان کے مطابق امتحانی نظام جیسے حساس شعبے میں مستقل اور جوابدہ عملہ ہونا چاہیے، نہ کہ عارضی انتظامات۔
اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ حکومت تعلیم اور تعلیمی اداروں کو ایک مخصوص نظریے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایک لاکھ سے زائد پرائمری اسکول بند کیے گئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ اتر پردیش میں بند ہوئے۔ اگر یہ اعداد و شمار غلط ہیں تو حکومت کو پارلیمنٹ میں اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔
انہوں نے اتر پردیش کے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف جاری کارروائی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے مجاہد مولانا محمد علی جوہر کے نام پر قائم اس ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ نفرت کی سیاست ملک کو آخر کس سمت لے جا رہی ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت کو نوجوانوں کے غصے اور بے چینی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ان کے مطابق صرف قانون میں ترمیم کافی نہیں، بلکہ امتحانی نظام کو شفاف بنانے، پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے، تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
’ثبوت ملے تو ملزم کی جائیداد ضبط کرنے کا التزام ہو‘، ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ پر بولے سی جے آئی سوریہ کانت
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
آج کل ’ڈیجیٹل اریسٹ اسکیم‘ سے منسلک معاملے ملک بھرمیں بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کو لے کر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ ہم معاملے میں کل تک ہدایات جاری کریں گے۔ ایمیکس کیوری نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ یہ معاملہ صرف واٹس ایپ تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام چیٹ ایپس پر عائد ہوتا ہے۔ اگر ان پلیٹ فارمز کا استعمال فراڈ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے تو ایک مقررہ وقت کے بعد ’کِل سوئچ‘ (کنکشن کاٹنے کی سہولت) ہونا چاہیے۔
ایمیکس کیوری نے کہا کہ ’’یہ وقت ایک یا 2 گھنٹے کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ جیسا کہ واٹس ایپ کا اے آئی تجویز کر رہا ہے، ہماری تجویز ایسی نہیں ہے۔ تجویز یہ ہے کہ صحیح وقت کی حد طے کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پہلا مرحلہ کال کے دوران پاپ-اپ وارننگ ہو سکتا ہے، جو صارف کو باخبر کرے کہ وہ کسی فراڈ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دوسرا مرحلہ اصل ’کِل سوئچ‘ ہو سکتا ہے، جو کال کو کاٹ دے تاکہ ممکنہ متاثرہ شخص کو رکنے، صورتحال کو سمجھنے اور دوسروں کو مداخلت کرنے کا موقع مل سکے۔‘‘
اس دوران سپریم کورٹ نے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کے لیے قانون میں ایک الگ تعریف مقرر کرنے کی تجویز دی، تاکہ اسے ایک علیحدہ جرم کے طور پر قانونی حیثیت دی جا سکے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے پوچھا کہ کیا کوئی اعلیٰ سطح کی ایجنسی اس معاملے کو نہیں دیکھ سکتی؟ دوسری بات یہ ہے کہ کیا آپ کو مجرمانہ قوانین میں ڈیجیٹل اریسٹ کے معاملات کو باضابطہ طور پر واضح کرنے کی ضرورت ہے؟ اس میں جبراً وصولی اور لوٹ جیسی باتیں شامل ہیں۔ کیا آپ کو اسے سنگین نتائج والے ایک الگ جرم کے طور پر متعین کرنے کی ضرورت ہے؟ ساتھ ہی ایسا التزام بھی ہو کہ جب کسی ملزم کے خلاف کچھ پایا جائے تو اس کی جائیداد ضبط کر لی جائے۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے جسٹس باغچی نے کہا کہ اب ہمارے پاس ’ڈیپ فیک‘ ہے، جس کا استعمال دھوکہ دہی اور کسی اور کی شکل اختیار کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ آپ موجودہ قوانین کے ساتھ لڑتے تو ہیں، لیکن آپ کو ان میں بہتری لانے یا تبدیلی کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت ہم کسی جرم کی تعریف نہیں کر سکتے
راہل گاندھی کا نئے وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی پر سخت حملہ، ’عصمت دری کے مجرموں کا محافظ‘ قرار دیا
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے نئے مرکزی وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی کی تقرری پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں ریپسٹوں یعنی عصمت دری کے مجرموں کا محافظ قرار دیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے احتجاج کے بعد ایسے شخص کو وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری دینا حیران کن اور افسوسناک فیصلہ ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک بھر میں تعلیمی نظام اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا، متعدد طالبات پر لاٹھی چارج کیا گیا، لیکن حکومت نے نوجوانوں کے خدشات دور کرنے کے بجائے ایسے شخص کو وزیرِ تعلیم بنایا جو ریپسٹوں کا دفاع کرتا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، ’’اس سے زیادہ گھٹیا بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ کوئی شخص ریپسٹوں کو تحفظ دینے کی بات کرے۔ آج ہندوستان کے وزیرِ تعلیم ایسے شخص ہیں۔ وزیرِ اعظم کی کابینہ میں کئی لوگ موجود تھے، وہ کسی اور کو یہ ذمہ داری دے سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسے شخص کا انتخاب کیا جو عصمت دری کے مجرموں کا دفاع کرتا ہے۔ یہ واقعی حیران کن ہے۔‘‘
کانگریس رہنما کا یہ بیان پرہلاد جوشی کے 2022 کے اس مؤقف کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو انہوں نے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کیس کے 11 سزا یافتہ مجرموں کی قبل از وقت رہائی کے بعد اختیار کیا تھا۔ اس وقت پرہلاد جوشی نے کہا تھا کہ مجرموں کی رہائی قانونی ضابطوں کے مطابق عمل میں آئی ہے اور قانون کے تحت سزا کا مقررہ عرصہ مکمل ہونے کے بعد رہائی کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔
بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی رہائی پر ملک بھر میں شدید عوامی اور سیاسی ردِعمل سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجرموں کی رہائی اختیارات کے غلط استعمال کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے ہفتے کے روز پرہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری سونپی تھی۔
ان کی تقرری اس وقت عمل میں آئی جب دھرمیندر پردھان نے وزارتِ تعلیم سے استعفیٰ دیا۔ پردھان کے استعفے سے قبل ملک کے مختلف حصوں میں پیپر لیک کے معاملات، امتحانی نظام میں شفافیت اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کو لے کر طلبہ کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا گیا تھا۔ حکومت اور طلبہ کے نمائندوں کے درمیان متعدد دور کی بات چیت کے بعد احتجاج ختم ہو گیا، تاہم اپوزیشن اب بھی حکومت پر نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ اور امتحانی نظام میں شفافیت برقرار رکھنے میں ناکامی کا الزام عائد کر رہی ہے۔
ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن مسلط کی گئی تو پوری طاقت سے دفاع کریں گے: محمد رضا عارف
قومی آواز بیورو
قومی آواز بیورو
تہران: ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی ملک کے ساتھ جنگ یا تصادم کا خواہاں نہیں، بلکہ اختلافات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ تاہم اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو ملک اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے پوری طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق محمد رضا عارف نے یہ بات منگل کے روز تہران میں قومی مہارت ہفتہ اور قومی یومِ صنعت کاری و فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران اسرائیل اور امریکہ کی قیادت میں سرگرم قوتیں اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ان کے بقول اس کی بنیادی وجہ ایرانی عوام کی ہزاروں سال پرانی تہذیب، قومی اتحاد، عزم اور استقامت ہے، جس نے ہر مشکل وقت میں ملک کو مضبوط رکھا۔
محمد رضا عارف نے کہا، ’’ہم جنگ یا محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام مسائل اور اختلافات کا حل بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے، لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم پوری قوت کے ساتھ اپنا دفاع کریں گے۔‘‘
انہوں نے اپنی تقریر میں 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی 8 سالہ جنگ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ کی قیادت میں بعض طاقتوں نے خطے کے چند عرب ممالک کے وسائل کی مدد سے نو قائم اسلامی جمہوریہ ایران پر جنگ مسلط کی تھی، لیکن اس جنگ کے نتائج پوری دنیا کے سامنے ہیں اور اس کے باوجود مخالف قوتوں نے اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔
نائب صدر نے کہا کہ ایران گزشتہ کئی برسوں سے مختلف بین الاقوامی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، تاہم ایرانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ ان مشکلات کا مقابلہ کرنے اور ان پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام مضبوط اعصاب کے مالک ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی پابندی، دباؤ یا زبردستی سے خوفزدہ ہونے والے نہیں۔ ان کے مطابق پابندیوں اور معاشی ناکہ بندی سے وقتی مشکلات ضرور پیدا ہوتی ہیں، لیکن طویل مدت میں ایسے اقدامات خود انہیں نافذ کرنے والوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
محمد رضا عارف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی خارجہ پالیسی جاری رکھے گا، تاہم قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا۔
0 تبصرے