راہل گاندھی نے لکھا وایناڈ کے لوگوں کو جذباتی خط، کہا- ’جب میرے ساتھ ہر روز بدسلوکی ہو رہی تھی تو آپ نے مجھے پناہ دی‘



(قومی آوازبیورو) 



کانگریس کے لیڈر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے وایناڈ کے لوگوں کو ایک جذباتی خط لکھا ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے وایناڈ کے لوگوں کے پیار اور محبت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جب روزآنہ بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا تو وایناڈ کے لوگوں کی غیر مشروط محبت نے ان کی حفاظت کی اور انہیں پناہ دی، وایناڈ کے لوگ ان کا گھر اور ان کا خاندان ہیں۔



کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے وایناڈ کے لوگوں کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا ہے کہ میں آپ کے لیے اجنی تھا پھر بھی آپ نے مجھ پر اعتماد کیا۔ آپ نے مجھے بے پناہ محبت اور پیار سے گلے لگایا۔ آپ نے اس کا کوئی لحاظ نہیں کیا کہ آپ کس سیاسی پارٹی کی حمایت کرتے تھے، کس برادری سے تھے، آپ کس مذہب کو مانتے تھے یا پھر آپ کون سی زبان بولتے تھے۔ راہل گاندھی نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ جب میں ہر روز بدسلوکی کا سامنا کر رہا تھا، آپ کی غیر مشروط محبت نے میری حفاظت کی۔ آپ نے مجھے پناہ دی، آپ ہی میرا گھر اور میرا خاندان تھے۔




راہل گاندھی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ مجھے ایک لمحے کے لیے بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ آپ کو مجھ پر شک ہے۔ اگر لوگ ان کی بہن پرینکا گاندھی کو موقع دیتے ہیں تو وہ نہایت عمدگی کے ساتھ وایناڈ کی نمائندگی کریں گی۔ راہل گاندھی نے یقین ظاہر کیا ہے کہ پرینکا بطور رکن پارلیمنٹ بہترین کام کریں گی۔ راہل گاندھی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ آپ نے میرے لیے جو کچھ کیا ہے اس کے لیے آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں۔ آپ نے مجھے پیار اور تحفظ دیا جب مجھے اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ آپ میرے خاندان کا حصہ ہیں اور میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گا۔ راہل گاندھی نے اپنے خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ بہادری، خوبصورتی اور اعتماد کو نہیں بھول سکتے جس کے ساتھ لڑکیاں ہزاروں لوگوں کے سامنے ان کی تقاریر کا ترجمہ کرتی تھیں۔


کیرالہ میں سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس کے لیڈر نے اپنے خط میں کہا ہے کہ میں نے سیلاب کے دوران جو دیکھا اسے کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔ اس دوران کئی خاندانوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا۔ انہوں نے مزید لکھا ہے میں آپ کے دیے ہوئے ان گنت پھولوں کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ آپ لوگوں کا مجھ سے گلے ملنا یاد رہے گا۔ پارلیمنٹ میں آپ کی آواز بننا واقعتاً خوشی اور فخر کی بات تھی۔ وایناڈ لوک سبھا سیٹ چھوڑنے کا مجھے دکھ ہے لیکن مجھے ایک اطمینان بھی ہے کہ میری بہن پرینکا آپ کی نمائندگی کے لیے وہاں موجود ہوں گی۔ مجھے اس بات کا بھی اطمینان ہے کہ رائے بریلی کے لوگوں کے درمیان میرا ایک پیارا خاندان ہے۔ آپ کے اور رائے بریلی کے لوگوں دونوں کے لیے میرا عہد ہے کہ ہم نفرت اور تشدد کے خلاف مضبوطی سے لڑیں گے۔




واضح رہے کہ لوک سبھا انتخابات میں رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کیرالہ کے وایناڈ اور اتر پردیش کے رائے بریلی لوک سبھا سیٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ قاعدے کے مطابق پارلیمنٹ میں صرف ایک سیٹ کی ہی نمائندگی کی جا سکتی ہے، اس لیے راہل گاندھی کو 14 دنوں کے اندر دونوں میں سے ایک سیٹ کو چھوڑنا ضروری تھا۔ راہل گاندھی نے رائے بریلی کی سیٹ اپنے پاس رکھی اور وایناڈ کی سیٹ چھوڑ دی۔ راہل گاندھی کی چھوڑی ہوئی وایناڈ سیٹ سے اب کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی ضمنی الیکشن لڑیں گی۔






غزہ میں شدید لڑائی "بہت جلد" ختم ہو جائے گی: نیتن یاہو



(یو این آئی) 

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کے خلاف شدید لڑائی ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ اسرائیلی نیوز چینل 14 ٹی وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بنجامن نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ رفح میں جنگ کا شدید مرحلہ ختم ہونے والا ہے اور اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں شدید لڑائی ختم کرنے کے راستے پر ہیں۔


نیتن یاہو نے کہا کہ "اس کا مطلب غزہ کی پٹی میں جاری تنازع کا خاتمہ نہیں ہے اور حماس کے ٹھکانوں کے خلاف لڑائی کے ساتھ کارروائیاں جاری رہیں گی۔" غزہ میں شدید لڑائی کے خاتمے کے بعد، ہم شمال کی جانب پیش قدمی جاری رکھیں گے۔


انہوں نے لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ کے خلاف مکمل جنگ شروع کرنے کے اسرائیل کے انتباہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل - لبنان کی سرحد پر جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی بھی معاہدہ، ہماری شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اس معاہدے پر رضامند ہوں گے جس میں غزہ کی پٹی میں حماس کو اقتدار سے ہٹادیا جائے گا اور تقریباً 100 یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا، جو اب بھی فلسطینی انکلیو میں بند ہیں۔






نیٹ پیپر لیک معاملے میں مہاراشٹر میں بڑی کارروائی، لاتور میں 3 ٹیچرس سمیت 4 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج



(قومی آوازبیورو) 



نیٹ پیپر لیک کے معاملے میں گجرات، بہار کے بعد مہاراشٹر کنکشن سامنے آیا ہے۔ اے ٹی ایس کی شکایت پر لاتور میں پولیس نے 4 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس ایف آئی آر میں اے ٹی ایس نے ان دو اساتذہ پر بھی الزام لگایا ہے جن سے اتوار کو تفتیش کی گئی تھی۔ پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 420 اور 120 (B) اور پبلک ایگزامینیشن (روک تھام اور غیر منصفانہ طریقے) کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔


واضح رہے کہ میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ یوجی کے پیپر لیک ہونے اور امتحان کے انعقاد میں بے قاعدگیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ اپوزیشن اس کے لیے مودی حکومت کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ نیٹ کے امتحان میں مبینہ دھاندلی پر طلباء میں حکومت کے خلاف زبردست ناراضگی ہے۔ طلبہ ملک بھر میں احتجاج کر رہے ہیں اور نیٹ کے نتائج کو رد کرکے نئے سرے سے امتحان کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان سب کے درمیان اتوار کو مرکزی وزارت ہدایت پر سی بی آئی نے نیٹ میں بے ضابطگیوں کی جانچ اپنے ہاتھ میں لے لی۔




دوسری جانب بہار میں پولیس کے مالیاتی جرائم یونٹ نے مزید پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس معاملے میں 18 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ نیٹ کا امتحان 5 مئی کو لیا گیا تھا۔ اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ حکومت کے سابقہ ​​موقف کو دہراتے ہوئے وزارت تعلیم نے ان واقعات کو مقامی اور چھٹپٹ قرار دیا ہے۔ جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ بھی پہنچا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ میں پہنچنے کے بعد 1563 طلبہ کے گریس مارکس منسوخ کردیئے گئے ہیں جن کے لیے اتوار کو دوبارہ امتحان ہوا جس میں صرف 813 امیدوار شریک ہوئے۔






راہل گاندھی نے پیش کیا مودی حکومت 3.0 کے 15 دنوں کا ’رپورٹ کارڈ‘، 10 محاذ پر ناکامی کا تذکرہ



(قومی آوازبیورو) 



نریندر مودی نے گزشتہ 9 جون کو وزیر اعظم عہدہ کا تیسری بار حلف لیا، یعنی مودی 3.0 کے 15 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ان 15 دنوں میں مودی حکومت کی کارکردگی پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ایک مختصر ’رپورٹ کارڈ‘ پیش کیا ہے۔ اس میں مودی حکومت کو 10 محاذ پر ناکام بتایا گیا ہے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ حکومت عوام کے لیے کام کرنے کی جگہ کسی طرح حکومت کو بچانے میں مصروف ہے۔



دراصل راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں انھوں نے نئی این ڈی اے حکومت کے پہلے 15 دنوں کے اہم واقعات کا تذکرہ کیا ہے۔ اس پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’این ڈی اے کے پہلے 15 دن! 1. خوفناک ٹرین حادثہ، 2. کشمیر میں دہشت گردانہ حملے، 3. ٹرینوں میں مسافروں کی حالت زار، 4. نیٹ امتحان گھوٹالہ، 5. نیٹ پی جی امتحان ملتوی، 6. یو جی سی نیٹ کا پیپر لیک، 7. دودھ، دال، گیس، ٹول مزید مہنگے، 8. آگ سے دھدھکتے جنگل، 9. آبی بحران، 10. ہیٹ ویو میں انتظام نہ ہونے سے اموات۔‘‘



اس پوسٹ میں راہل گاندھی نے مودی حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’نفسیاتی طور سے بیک فُٹ پر نریندر مودی صرف اپنی حکومت بچانے میں مصروف ہیں۔ نریندر مودی جی اور ان کی حکومت کا آئین پر حملہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔ اور یہ (حملہ) ہم کسی حال میں ہونے نہیں دیں گے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں ’’انڈیا کا مضبوط اپوزیشن اپنا دباؤ جاری رکھے گا، لوگوں کی آواز اٹھائے گا اور وزیر اعظم کو بغیر جوابدہی بچ کر نکلنے نہیں دے گا۔‘‘





پروٹیم اسپیکر کے انتخاب پر تنازعہ، تین ارکان پارلیمنٹ نے نہیں لیا حلف، اپوزیشن کا احتجاج



(قومی آوازبیورو) 



آج سے شروع ہوئے 18ویں لوک سبھا کے پہلے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کی حلف برداری ہوئی۔ پی ایم مودی نے لوک سبھا کے رکن کے طور پر حلف لیا۔ ان کے علاوہ مرکزی کابینہ کے وزراء بشمول وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امت شاہ، روڈ ٹرانسپورٹ کے وزیر نتن گڈکری نے بھی حلف لیا۔ مگر کانگریس کے رکن کے. سریش، ڈی ایم کے لیڈر کے. ٹی. بالو اور ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ سدیپ بندوپادھیائے نے حلف نہیں لیا۔ ان ارکان پارلیمنٹ نے بھرتری ہری مہتاب کے پروٹیم اسپیکر بنائے جانے پر اعتراض کیا ہے۔


دراصل پی ایم مودی کے بعد رادھا موہن سنگھ اور پھگن سنگھ کلستے نے رکن پارلیمنٹ کے طور پر حلف لیا۔ دونوں ارکان پارلیمنٹ آئندہ دو دنوں تک ایوان کی کارروائی چلانے میں پروٹیم سپیکر بھرتری ہری مہتاب کی معاونت کریں گے۔ اس کے علاوہ کے. سریش، کے. ٹی. بالو اور ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ سدیپ بندوپادھیائے کو بھی رادھا موہن سنگھ اور پھگن سنگھ کلستے کے ساتھ پینل آف چیئرمین کے لیے منتخب کیا گیا لیکن انہوں نے حلف نہیں لیا۔


کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں پروٹیم اسپیکر کے طور پر بھرتری ہری مہتاب کے انتخاب پر اعتراض کر رہی ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ اس عہدے پر منتخب کرنے کے لیے آٹھ بار کے رکن پارلیمنٹ سریش کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انڈیا الائنس کا کہنا ہے کہ کے. سریش، کے. ٹی. بالو اور سدیپ بندوپادھیائے بطور احتجاج پینل میں شامل نہیں ہوں گے۔




اس سے قبل اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ ایوان میں آئین کی کاپی لے کر پہنچے۔ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے آئین کی کاپی لے کر ایوان کے باہر مارچ بھی کیا۔ اس موقع پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑے نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے۔ جمہوری روایات کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ آئین کو بچانے کی ہم نے جو کوشش کی تھی اس میں ملک کی عوام ہمارے ساتھ ہے مگر نریندر مودی نے آئین کو توڑنے کی کوشش کی۔ اس لیے آج ہم یہاں متحد ہو کر احتجاج کر رہے ہیں۔ کھڑگے نے کہا کہ یہاں پر گاندھی جی کا مجسمہ تھا اور ہم یہیں پر احتجاج کر رہے ہیں۔





پی ایم مودی کے لیے تجاوزات ہٹ سکتے ہیں تو عوام کے لیے کیوں نہیں؟‘ ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو لگائی پھٹکار


(قومی آوازبیورو) 



بامبے ہائی کورٹ نے 24 جون کو سڑکوں و فُٹ پاتھ پر ناجائز قبضہ کو لے کر ریاستی حکومت کی سخت سرزنش کی۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت اور بی ایم سی کو پھٹکار لگاتے ہوئے پوچھا کہ جب ایک دن کے لیے وزیر اعظم اور دیگر وی وی آئی پی لوگوں کے لیے سڑکیں و فُٹ پاتھ صاف کرائے جا سکتے ہیں تو پھر ایسا عوام کے لیے روزانہ کیوں نہیں کیا جا سکتا؟



جسٹس ایم ایس سونک اور کمل کھاتا کی ڈویژنل بنچ نے کہا کہ عوام ٹیکس ادا کرتے ہیں اس لیے فُٹ پاتھ اور چلنے کے لیے محفوظ مقام ہونا ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور ریاستی افسران اسے مہیا کرانے کے لیے مجبور ہیں۔ بنچ نے مزید کہا کہ ریاست ہمیشہ صرف یہی نہیں سوچتا رہ سکتا کہ شہر میں فُٹ پاتھوں پر تجاوزات ہٹانے والوں سے کس طرح نمٹا جائے۔ اب اسے اس تعلق سے کچھ ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔


قابل ذکر ہے کہ بامبے ہائی کورٹ نے گزشتہ سال شہر میں ناجائز اور غیر قانونی طرح سے عوامی مقامات پر قبضہ کرنے والے پھیری والوں اور دکانداروں سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا۔ اب پیر کے روز بنچ نے کہا کہ اسے پتہ ہے کہ مسئلہ بڑا ہے، لیکن ریاست اور مقامی بلدیہ سمتی دیگر اتھارٹی اسے یوں ہی نہیں چھوڑ سکتے، اس کے لیے سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔



آج سماعت کے دوران عدالت نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ہم اپنے بچوں کو فُٹ پاتھ پر چلنے کے لیے کہتے ہیں، لیکن اگر چلنے کے لیے کوئی فُٹ پاتھ ہی نہیں بچے گا تو ہم اپنے بچوں کو کیا کہیں گے؟‘‘ ساتھ ہی بنچ نے یہ بھی کہا کہ افسران سالوں سے یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ اس مسئلہ پر کام کر رہے ہیں، لیکن اب ریاست کو کچھ ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے۔ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ افسران ہمیشہ صرف یہی سوچتے رہیں کہ کیا کرنا ہے، یا جواب دیتے رہیں کہ اس پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں عزائم کی کمی محسوس ہوتی ہے، کیونکہ جہاں عزم ہوتا ہے، وہاں ہمیشہ ایک راستہ نظر آتا ہے۔




بی ایم سی کی طرف سے پیش سینئر وکیل ایس یو کامدار نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ایسے دکانداروں اور پھیری والوں کے خلاف وقت وقت پر کارروائی کی جاتی ہے جنھوں نے فُٹ پاتھ اور سڑکوں پر ناجائز قبضہ کیا ہے، لیکن وہ پھر واپس آ جاتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بی ایم سی زیر زمین بازاروں کے متبادل پر غور و خوض کر رہی ہے۔ یہ سن کر عدالت نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ کارپوریشن حقیقی معنوں میں مسئلہ کو ’زیر زمین‘ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر بنچ کہتا ہے کہ میونسپل کارپوریشنوں کے ذریعہ ان دکانداروں اور پھیری والوں پر لگایا گیا جرمانہ اتنا نہیں ہے جتنا کہ ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ ان لوگوں کی روزانہ کی کمائی زیادہ ہوتی ہے اور ان پر لگایا گیا جرمانہ بہت کم ہے، ایسے میں وہ جرمانہ ادا کریں گے اور پھر چلے جائیں گے۔



سماعت کے دوران بامبے ہائی کورٹ نے بی ایم سی کو ایسے سبھی پھیری والوں کی شناخت کرنے کے لیے ایک ڈاٹا تیار کرنے کو کہا تاکہ وہ احکامات کی خلاف ورزی نہ کریں۔ بنچ نے کہا کہ ’’تلاشی مہم ہونے دیجیے۔ ایک گلی سے شروع کریں۔ سب سے بڑی پریشانی شناخت کی ہے۔ وہ واپس آتے رہتے ہیں، کیونکہ ان کی شناخت نہیں ہو پاتی ہے۔‘‘ عدالت نے اب اس معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 22 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔





اب بی جے پی کی حمایت نہیں، بلکہ صرف مخالفت ہوگی‘، مودی حکومت کے خلاف بی جے ڈی کا اعلانِ جنگ!



(قومی آوازبیورو) 



بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ مودی حکومت یعنی بی جے پی کی حمایت قطعی نہیں کرے گی۔ یعنی ایک طرح سے بی جے ڈی نے مودی حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا ہے۔ بی جے ڈی چیف نوین پٹنایک نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کو واضح لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ وہ ایوان میں مضبوط اپوزیشن کا کردار نبھائیں۔



قابل ذکر ہے کہ آج سے لوک سبھا کی کارروائی شروع ہو گئی اور 27 جون سے راجیہ سبھا کی کارروائی بھی شروع ہو جائے گی۔ اس سے قبل سبھی پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ نے ایوان میں اپنی اپنی بات رکھنے کی پوری تیاری کر لی ہے۔ اسی ضمن میں بی جے ڈی سربراہ نوین پٹنایک نے اپنی پارٹی کے 9 راجیہ سبھا اراکین کے ساتھ میٹنگ کی۔ انھوں نے میٹنگ میں سبھی اراکین پارلیمنٹ کو ایوان کی کارروائی کے دوران مضبوط اپوزیشن کی شکل میں اپنا کردار نبھانے کی ہدایت دی ہے۔



میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹنایک نے اپنے اراکین پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ ایوان میں کارروائی کے دوران اڈیشہ کے ایشوز زور و شور سے اٹھائیں۔ میٹنگ کے بعد بی جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن سسمت پاترا نے کہا کہ اس بار پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ خاموش نہیں رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس بار برسراقتدار بی جے پی سے اڈیشہ سے متعلق ایشوز کو لے کر سوال کریں گے۔ اڈیشہ کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کریں گے اور ریاست میں خراب موبائل نظام اور کم بینک شاخوں پر سوال پوچھے جائیں گے۔‘‘



جب سسمت پاترا سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا بی جے ڈی اب بھی بی جے پی کی قیادت والی حکومت کو حمایت دینے سے متعلق اپنے رخ پر قائم رہے گی؟ تو انھوں نے جواب میں کہا کہ ’’بی جے پی کی اب حمایت نہیں بلکہ صرف مخالفت ہوگی۔ ہم اڈیشہ کے مفادات کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔‘‘