منوج جرانگے پاٹل نے ختم کی بھوک ہڑتال، مطالبات تسیلم نہ ہونے پر اسمبلی الیکشن لڑنے کا اعلان
(قومی آوازبیورو)
مراٹھا ریزرویشن تحریک کے لیڈر منوج جرانگے پاٹل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا غیر معینہ بھوک ہڑتال ختم کر رہے ہیں۔ جمعرات (13 جون) کو مہاراشٹر حکومت کے ایک وفد نے منوج جرانگے سے ملاقات کی، جس میں سندیپان بھومرے اور سمبھوراجے دیسائی شامل تھے۔ جرانگے نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیا ہے۔ اگر حکومت نے ایک ماہ میں کام نہیں کیا تو وہ براہ راست اسمبلی الیکشن میں اتریں گے۔
منوج جرانگے پاٹل نے اپنی بھوک ہڑتال کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس 13 جولائی تک کا وقت ہے۔ ان سے ملاقات کے بعد وزیر سمبھوراجے دیسائی نے کہا کہ منوج جرانگے پاٹل کی جدوجہد کی وجہ سے مراٹھا برادری کو 10 فیصد ریزریشن ملا ہے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ ریاست میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد 2014 سے مراٹھا ریزرویشن تحریک میں شدت پیدا ہوئی ہے۔ 2014 میں اس وقت کی کانگریس-این سی پی حکومت نے مراٹھا برادری کو 15 فیصد ریزرویشن دیا تھا۔
ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بدھ (12 جون) کو منوج جرانگے پاٹل سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نے مراٹھا ریزرویشن تحریک کے دوران مراٹھا برادری کے خلاف درج کچھ مجرمانہ مقدمات کو ہٹانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ جرانگے نے او بی سی زمرے کے تحت مراٹھا برادری کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال شروع کیا تھا۔
نیٹ دھاندلی: ’طلبا کا مستقبل داؤ پر، امتحان مراکز اور کوچنگ سنٹر کا گٹھ جوڑ بن چکا ہے‘، ملکارجن کھڑگے کا سخت رد عمل
(قومی آوازبیورو)
نیٹ امتحانات کے معاملے میں کانگریس نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دھاندلی اور پیپر لیک کے الزامات عائد کیے ہیں۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے اسے مرکز کی مودی حکومت کا طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نیٹ میں صرف گریس مارکس کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس میں دھاندلی ہوئی ہے، بدعنوانی ہوئی ہے اور پیپر لیک ہوا ہے۔
کانگریس کے قومی صدر نے کہا ہے کہ مودی حکومت کے کارناموں کی وجہ سے نیٹ امتحان میں شامل ہونے والے 24 لاکھ طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ امتحانات کے مراکز اور کوچنگ سنٹرس کے درمیان ایک گٹھ جوڑ بن چکا ہے جس میں ’پیسے دو اور پیپر لو‘ کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ مودی حکومت این ٹی اے کے کندھوں پر اپنی کارگزاریوں کا دار و مدار رکھ کر اپنی جوابدہی سے نہیں بچ سکتی۔ کانگریس پورے نیٹ گھوٹالے میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیرجانبدارانہ جانچ کی مانگ کرتی ہے۔
کانگریس کے قومی صدر نے مزید کہا کہ جانچ کے بعد مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے اور لاکھوں طلبا و طالبات کو معاوضہ دے کر ان کا سال برباد ہونے سے بچایا جائے۔ گزشتہ 10 سالوں میں مودی حکومت نے پیپر لیک اور دھاندلی کی وجہ سے کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ جمعرات (13 جون) کو کانگریس نے نیٹ امتحان میں دھاندلی کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی لیڈر گورو گگوئی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 24 جون سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ اجلاس کے دوران اس مسئلہ کو بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مختلف ریکارڈنگ سنی ہیں کہ کس طرح لاکھوں روپے مانگے جا رہے ہیں۔
’ایک تہائی وزیر اعظم کی حکومت نیٹ گھوٹالہ سے بچنے کی کوشش کر رہی‘، طلبا کے مستقبل کو لے کر کانگریس فکرمند
(قومی آوازبیورو)
نیٹ امتحان میں مبینہ گھوٹالہ کو لے کر کانگریس مودی حکومت پر پوری طرح حملہ آور دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس صدر کھڑگے نے جہاں نیٹ گھوٹالے کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں کرانے کا مطالبہ کیا ہے، وہیں کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گگوئی نے اس معاملے میں پی ایم مودی کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں۔ اس درمیان کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔
جئے رام رمیش نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’ایک تہائی وزیر اعظم کی حکومت نیٹ تنازعہ اور اس میں واضح طور سے ہوئے گھوٹالے سے بچنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ اس نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا ہے کہ 1563 طلبا کو دیے گئے گریس مارکس رد کر دیے جائیں گے۔ لیکن سوال اٹھتا ہے کہ پہلے گریس مارکس دیے ہی کیوں گئے؟‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’اس کی پہلی وجہ یہ معلوم پڑتی ہے کہ پیپر میں فیزکس کا ایک سوال تھا جس میں 4 متبادل دیے گئے تھے۔ این سی ای آر ٹی کے درجہ بارہویں کے نئے نصاب کے مطابق 4 میں سے ایک متبادل درست تھا۔ لیکن پرانے نصاب کی بنیاد پر دوسرے متبادل کو بھی درست مانا جا سکتا ہے۔ جن طلبا نے بعد والے پر نشان لگایا اور ان کے علاوہ جن طلبا کا وقت پیپر تقسیم کرنے میں تاخیر وغیرہ کے سبب برباد ہوا، انھیں گریس مارکس دیے گئے۔ ایسا ہونا ایک انتہائی گھٹیا حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) اور این سی ای آر ٹی دونوں کا کردار فکر انگیز ہے۔‘‘
جئے رام رمیش نے اس پوسٹ میں گریس مارکس دیے جانے کے علاوہ کچھ دیگر بے ضابطگیوں سے متعلق 4 سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ بی جے پی صدر جے پی نڈا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اس تعلق سے جواب دینا چاہیے۔ جو 4 سوال کانگریس جنرل سکریٹری نے پوچھے ہیں، وہ اس طرح ہیں:
کیا نیٹ کا سوالنامہ لیک ہو گیا تھا، جیسا کہ کئی میڈیا اور سوشل میڈیا رپورٹس و پٹنہ میں ایک طالب علم کے ذریعہ درج کرائی گئی ایف آئی آر سے اشارہ ملتا ہے؟
کیا نیٹ-یو جی پیپر کے ریزلٹ ممکنہ طور پر طے مدت سے 10 دن قبل (14 جون کی جگہ 4 جون کو) جاری کیا گیا تھا تاکہ وہ لوک سبھا انتخاب کے نتائج کے شور میں دب جائیں اور میڈیا کی کم توجہ جائے؟
2019 کے بعد سے نیٹ یو جی کے کسی بھی سال میں تین سے زیادہ ٹاپر نہیں رہے ہیں۔ یہ امتحان ملک کے سبھی ایم بی بی ایس پروگراموں میں انٹری کے لیے واحد داخلی دروازہ ہے۔ 2019 اور 2020 میں ایک ایک ٹاپر تھے۔ 2021 میں تین، 2022 میں ایک اور گزشتہ سال 2 ٹاپر تھے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ ایک یا دو نہیں بلکہ 67 طلبا نے 2024 میں 720 کا پرفیکٹ اسکور کس طرح حاصل کیا؟ ان میں سے 44 کو گریس مارکس سے فائدہ ہوا۔ اگر انھیں ہٹا دیں تو پھر بھی 23 ٹاپر بچتے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 گنا زیادہ ہے۔ اس سال آخر ایسا کیا بدل گیا؟
ایک ہی ریاست سے آنے والے کئی نیٹ-یو جی 2024 ٹاپرس کے رول نمبر ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں؟ کیا وہ ایک ہی امتحان مرکز سے تھے؟
’ایک تہائی وزیر اعظم کی حکومت نیٹ گھوٹالہ سے بچنے کی کوشش کر رہی‘، طلبا کے مستقبل کو لے کر کانگریس فکرمند
اس درمیان این ایس یو آئی (نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا) نے جنتر منتر پر چل رہے ’نیٹ ستیاگرہ‘ کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ نیٹ امیدواروں کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری نے اعلان کیا ہے کہ تنظیم غیر جانبدار امتحان نظام اور ضروری اصلاحات کے مطالبہ میں طلبا کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔
’پوسکو‘ معاملے میں بی ایس یدی یورپّا کے خلاف غیر ضمانتی گرفتاری وارنٹ جاری
(قومی آوازبیورو)
کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر بی ایس یدی یورپّا کے خلاف بنگلورو کی عدالت نے آج (13 جون) پوسکو معاملے میں غیرضمانتی گرفتاری وارنٹ جاری کیا ہے۔ ان کے خلاف ایک نابالغ لڑکی سے جنسی استحصال کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ عدالت نے یہ غیر ضمانتی گرفتاری وارنٹ اس کیس کی تفتیش کر رہی سی آئی ڈی کی درخواست پر جاری کیا ہے۔
پولیس کے مطابق یدی یورپا کے خلاف ایک 17 سالہ لڑکی کی والدہ کی شکایت کی بنیاد پر پوسکو اور تعزیرات ہند کی دفعہ 354A کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے رواں سال 2 فروری کو بنگلورو کے ڈالرس کالونی میں اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران اس کی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔
یدی یورپّا فی الوقت دہلی میں ہیں۔ ان پر درج مقدمے کی جانچ کر رہی سی آئی ڈی نے یدی یورپا کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی، جس پر یہ وارنٹ جاری ہوا ہے۔ اس سے قبل ریاست کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر سی آئی ڈی یدی یورپا کو گرفتار بھی کر سکتی ہے۔ سی آئی ڈی نے یدی یورپا کو اس معاملے میں 12 جون کو پیش ہونے کے لیے کہا تھا لیکن دہلی میں ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے 17 جون کو سی آئی ڈی کے سامنے پیش ہونے کی بات کہی تھی۔
واضح رہے کہ 14 مارچ کو ایک خاتون نے بنگلورو کے سداشیو نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی اور الزام لگایا تھا کہ یدی یورپا نے اس کی نابالغ بیٹی کے ساتھ اس وقت جنسی زیادتی کی تھی جب وہ دونوں کسی کام سے یدی یورپا کے گھر گئے ہوئے تھے۔ اس الزام کی سنگینی کے پیش نظر کرناٹک حکومت نے اس کی جانچ سی آئی ڈی کو سونپ دی تھی۔ بی ایس یدی یورپا اس معاملے میں ایک بار سی آئی ڈی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ 26 مئی کو شکایت کنندہ خاتون کی موت ہوگئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ کئی دنوں سے بیمار تھیں۔ اس کے بعد متاثرہ کے بھائی نے کرناٹک ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی اور یدی یورپا کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ بی ایس یدی یورپا نے اس کیس کو خارج کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ اب غیر ضمانتی گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے بعد ان کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
عیدالاضحیٰ اور قربانی سے متعلق مولانا ارشد مدنی کی مسلمانانِ ہند سے اپیل
(روزنامہ منصف)
نئی دہلی: ممتاز مسلم تنظیم جمعیت العلمائے ہند نے آج مسلمانوں سے درخواست کی کہ وہ عیدلاضحی کے موقع پر قربانی کرتے وقت سرکاری رہنمایانہ خطوط کی سختی کے ساتھ پابندی کریں اور ذبیحہ کئے گئے جانوروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں۔
عیدالاضحی پیر کے روز منائی جائے گی۔ جمعیت کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اسلام میں قربانی کا کوئی متبادل نہیں ہے اور یہ ہر صاحب ِ استطاعت مسلمان پر واجب ہے۔
مدنی نے کہا کہ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ مسلمان قربانی کرتے وقت احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں۔ تشہیر بالخصوص ذبیحہ جانوروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔
انہوں نے مسلمانوں سے خواہش کی کہ وہ قربانی کرتے وقت سرکاری رہنمایانہ خطوط کی سختی کے ساتھ پابندی کریں اور ممنوعہ جانوروں کی قربانی سے گریز کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی مقام پر شرپسند عناصر بھینس کی قربانی روک دیں تو چند باشعور اور بارسوخ افراد کو انتظامیہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے قائل کرنا چاہئے اور پھر قربانی کی جانی چاہئے لیکن اگر اس مذہبی فریضہ کی تکمیل کا کوئی راستہ نہ ہو تو کسی اور قریبی مقام پر قربانی کی جانی چاہئے جہاں کوئی دشواری نہ ہو۔
انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ عیدالاضحی کے موقع پر صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھیں۔
جانوروں کے فضلے کو سڑکوں اور نالوں میں نہیں پھینکا جانا چاہئے بلکہ اس انداز میں دفن کیا جانا چاہئے کہ اس سے بدبو نہ آئے۔ ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے کہ ہماری حرکتوں سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔
شرپسند عناصر کی اشتعال انگیزی کی صورت میں قریبی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی جانی چاہئے۔
مغربی بنگال میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والے سرکاری مدارس میں 2010سے تقرری نہ ہونے پر کلکتہ ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
(روزنامہ منصف) کولکتہ: مغربی بنگال میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والے سرکاری مدارس میں 2010سے تقرری نہ ہونے پر کلکتہ ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
سرکاری مدراس میں 3000ہزار آسامیاں خالی ہیں۔ گزشتہ 14 سالوں میں اس آسامی پر تقرری نہیں ہونے کے حوالے سے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ جمعرات کو اس معاملے میں ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی سخت سرزنش کی۔
دو ججوں کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ ریاستی حکومت کو بھرتی کے عمل میں تاخیر کے لیے کوئی اضافی وقت نہیں دیا جائے گا۔ ان تین ہزار آسامیوں پر بھرتی کا عمل آئندہ تین ماہ میں مکمل کیا جائے۔ اس کے علاوہ تقرری کے عمل میں تاخیر برتنے پر عدالت نے مدرسہ سروس کمیشن کو جرمانہ بھی ادا کیا ہے۔
جمعرات کو جسٹس ہریش ٹنڈن اور جسٹس پروسین جیت بسواس کی ڈویژن بنچ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے گزشتہ 14 سالوں سے خالی اسامی پر تقرری میں مدرسہ سروس کمیشن کی لاپرواہی کی نشاندہی کی دوسری جانب کمیشن نے کہا کہ وہ بھرتی کے عمل کو منسوخ کرکے نئے امتحان سے بھرتی شروع کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن اس تجویز کو ہائی کورٹ کے دو ججوں نے مسترد کر دیا۔ ڈویژن بنچ نے کہاکہ کمیشن کو بغیر کسی اضافی وقت کے تین ماہ کے اندر عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ اتنی دیر لگانے کے باوجود حکم کی تعمیل نہ کرنے پر دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
سال 2010 میں بائیں محاذ کے دور حکومت میں مدرسہ گروپ-D کے عہدہ پر عملہ کی تقرری کے لیے ٹسٹ لیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس بھرتی کے عمل میں 3000 کارکنوں کا تقرر کیا جائے گا۔ فریقین کے وکیل فردوس شمیم کے مطابق حکومت نوکریاں نہیں دینا چاہتی۔ چنانچہ وہ اس معاملے میں لاتعلق بنی ہوئی تھی۔
حکومت کی اس بے حسی کی وجہ سے تقرری نہ ہو سکی ہے۔درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ 2019 میں جسٹس راج شیکھر منتھا کی سنگل بنچ نے حکم دیا تھا کہ اس آسامی کو 14 دنوں کے اندر پُر کیا جائے۔ لیکن مدرسہ سروس کمیشن اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ڈویژن بنچ کے پاس اس معاملے کو رکھا۔
ڈویژن بنچ نے اگلے سال سنگل بنچ کے حکم کو برقرار رکھا۔ لیکن اس کے بعد بھی ان کی تقرری نہیں ہوئی۔ اس وقت کمیشن نے کوویڈ کی صورتحال کے پیش نظر حکم پر عمل درآمد کے لیے عدالت سے چھ ماہ کا وقت مانگا تھا۔ اس کے بعد چھ ماہ کے بعد کوویڈ کی وجہ بتا کر مزید چھ ماہ کا وقت لیا جاتا ہے۔
اس طرح مدرسہ سروس کمیشن کئی بار وقت لینے کے باوجود گروپ ڈی کے 3000 عہدوں پر تقرر نہیں کر سکا۔جمعرات کو دونوں فریقوں کے بیانات سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ مدرسہ سروس کمیشن کو کئی بار عدالت کے حکم پر عمل نہیں کرنے اور بعد میں بھی حکم کی تعمیل نہیں کرنے پر دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔
آتشزدگی واقعہ کے متاثرین کو بھرپور مدد کا تیقن : کویتی وزیر خارجہ
(روزنامہ منصف) دُبئی/ کویت سٹی: کویت کے وزیر خارجہ عبداللہ علی الیحییٰ نے جمعرات کے روز تیقن دیا کہ ایک اپارٹمنٹ میں جہاں ملک کے بیرونی ورکرس مقیم تھے‘ مہیب آتشزدگی میں متاثر ہندوستانیوں کی مکمل مدد کی جائے گی اور عہد کیا کہ اس المیہ کی فوری تحقیقات کرائی جائیں گی جس میں تقریباً 40 ہندوستانیوں سمیت 49 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
کویتی وزیر نے مملکتی وزیر خارجہ کیرتی وردھن سنگھ کو یہ تیقن دیا جو راحت اور بچاؤ کارروائی کی نگرانی اور زخمیوں سے ملاقات کے لئے یہاں آئے ہوئے ہیں۔
کویت میں قائم ہندوستانی سفارت خانہ نے ایکس پر پوسٹ کیا ”مرکزی مملکتی وزیر خارجہ کیرتی وردھن سنگھ ایم پی گونڈہ نے کویت کے وزیر خارجہ ایچ ای عبداللہ علی الیحییٰ سے کویت میں ملاقات کی۔ وزیر خارجہ نے اس المناک واقعہ پر ان سے اظہارِ تعزیت کیا۔
انہوں نے طبی نگہداشت‘ نعشوں کی جلد واپسی اور اس واقعہ کی تحقیقات میں بھرپور تعاون کا تیقن دیا۔سنگھ نے جمعرات کے روز مہیب آتشزدگی واقعہ میں زخمی چند ہندوستانیوں سے بھی ملاقات کی اور ان سب کو حکومت ِ ہند کی جانب سے ہرممکن مدد کا تیقن دیا۔
انڈین مشن نے ایکس پر پوسٹ کیا ”وزیراعظم نریندر مودی جی کی ہدایت پر مملکتی وزیر خارجہ کے وی سنگھ ایم پی گونڈہ کویت پہنچے اور فوری جابر ہاسپٹل روانہ ہوئے تاکہ کل کے آتشزدگی حادثہ میں زخمی ہندوستانیوں کی کیفیت دریافت کرسکیں۔
انہوں نے ہاسپٹل میں شریک 6 زخمیوں سے ملاقات کی۔ وہ سب محفوظ ہیں۔ مشن نے کہا کہ سنگھ نے کویت میں مبارک الکبیر ہاسپٹل کا بھی دورہ کیا جہاں 7 زخمی ہندوستانی شریک ہیں۔ وزیر خارجہ نے ان کی کیفیت دریافت کی اور انہیں حکومت ِ ہند کی جانب سے ہرممکن مدد کا تیقن دیا۔
انہوں نے ہندوستانیوں کی اچھی دیکھ بھال کرنے پر ہاسپٹل کے حکام‘ ڈاکٹروں اور نرسوں کی ستائش کی۔ کویتی حکام اس حادثہ میں جو جنوبی کویت کے منقف علاقہ میں پیش آیا‘ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کا ڈی این اے ٹسٹ کرارہے ہیں۔ حادثہ میں ہلاک ہونے والے ہندوستانیوں کی لاشیں واپس لانے ہندوستانی فضائیہ کے ایک طیارہ کو تیار رکھا گیا ہے۔
تلبیہ کی گونج میں لاکھوں عازمین حج منی کی جانب روانہ، روح پرور مناظر
(روزنامہ منصف) ریاض: سعودی عرب میں حج انتظامات کو وزارت حج و دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹیں مکہ مکرمہ کے داخلی راستوں پرمکمل طور پر فعال کردی گئیں۔
سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مکہ مکرمہ میں پرمٹ کے بغیر کسی کوداخل ہونے کی اجازت نہیں۔ مکہ مکرمہ جانے والوں کے پرمٹ کی چیکنگ کا عمل جاری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مکہ مکرمہ شہر کے مرکزی مقامات کے علاوہ منی جانے والے راستوں پر متعدد چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔
شہر کے ممنوعہ علاقوں میں عام ٹریفک کا داخلہ بند کردیا گیا ہے، جبکہ صرف پرمٹ رکھنے والی گاڑیوں کو ہی مکہ مکرمہ میں داخل ہونے دیا جارہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے مختلف شعبوں کی جانب سے اضافی عہدیداروں کو مکہ مکرمہ کے تمام علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے۔
بلدیہ کی جانب سے شہر کی صفائی کے انتظامات پرخاص توجہ مرکوز کی گئی ہے، صفائی کے لیے اضافی کارکنوں کو مکہ مکرمہ کے علاوہ منی کی عارضی خیمہ بستی میں بھی تعینات کردیا گیا ہے۔
وزارت صحت کی خاص ہدایات کے مطابق مشاعر مقدسہ میں قائم ہسپتال اور طبی مراکز میں اسٹاف پہنچ گیا ہے۔ شہری دفاع کے اہلکاروں نے بھی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ رضاکاروں کے متعدد گروپس کو منی میں پہنچا دیا گیا جہاں انہیں حجاج کی رہنمائی کے لیے عارضی خیمہ بستی کے نقشے فراہم کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ حج 2024 کے لیے پانچ روزہ مناسک حج کی ادائیگی کا آغاز کل (جمعہ) 14 جون سے ہوگا۔ لاکھوں عازمین حج منیٰ کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔
مناسک حج کا آغاز کل جمعہ سے ہو رہا ہے جب کہ رکن اعظم وقوف عرفات ہفتہ 15 جون کو ہوگا۔ فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے لاکھوں عازمین حج لبیک الھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے منی کی جانب روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ منیٰ میں قیام کے دوران عبادات کریں گے اور ہفتہ 15 جون کی صبح وقوف عرفات کے لیے میدان عرفات روانہ ہوں گے۔
ہفتے کے روز عرفات میں حج کے خطبہ کے بعد ظہر اور عصر کی نماز ملا کر ادا کی جائے گی جب کہ مغرب سے پہلے حجاج کرام مزدلفہ کی طرف روانہ ہوں گے جہاں وہ مغرب اور عشا کی نماز اکٹھی پڑھیں گے۔
حجاج کرام مزدلفہ میں ہی شیطان کو کنکریاں مارنے کے لئے کنکریاں اکھٹی کریں گے اور یہیں رات قیام بھی کریں گے جہاں وہ آرام کرنے کے ساتھ رات عبادت اور اللہ تعالیٰ کی مناجات کرتے ہوئے مغفرت کے طالب ہوں گے۔
اتوار 16 جون کی صبح حجاج کرام منیٰ واپس روانہ ہوں گے جہاں وہ رمی جمرات کریں گے۔ پھر حجاج کرام اللہ کی راہ میں جانور قربان کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی عازمین کا فریضہ حج مکمل ہو جائے گا جس کے بعد وہ اپنا سر منڈوا کر احرام کھول کر عام لباس پہنیں گے جب کہ خواتین اپنے چوتھائی سر کے بالوں کا انگلی کی ایک پور برابر بال کٹوائیں گی۔
حجاج کرام 16 جون کو ہی بیت اللہ کے طواف کے لئے مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔ سترہ جون بروز پیر حجاج کرام ایک بار پھر رمی جمرات کریں گے اور سارا دن اور رات عبادت میں گزاریں گے۔ 18 جون منگل کو آخری بار تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے بعد حجاج کرام مغرب ہونے سے پہلے منیٰ کی حدود سے نکل جائیں گے۔
ملک کے کئی حصوں میں مسلمانوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ: اسدالدین اویسی
(روزنامہ منصف)حیدرآباد: اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے جمعرات کے روز الزام عائد کیا کہ حالیہ لوک سبھا انتخابات کے بعد ملک کے کئی حصوں میں مسلمانوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا پلاٹ فام ”ایکس“ پر پوسٹ کرتے ہوئے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے استفسار کیا کہ کہیں سنگھ پریوار مسلمانوں سے انتقام تو نہیں لے رہا ہے؟۔
اویسی نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد ملک کے کئی حصوں میں مسلمانوں پر حملوں کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ اتر پردیش میں دو علماء کا قتل کردیا گیا۔
اکبر نگر میں مسلمانوں کے مکانات کو مسمار کردیا گیا۔ چھتیس گڑھ میں دو مسلمانوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مجلس کے سربراہ نے مزید کہا کہ ”کہیں سنگھ پریوار، مسلمانوں سے بدلہ تو نہیں لے رہا ہے؟“۔
0 تبصرے